بین ڈکٹ نے جمعرات کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں اپنے ون ڈے کیریئر کی بہترین اننگز کھیلی — 132 گیندوں پر 167 رنز، 24 چوکے اور ایک بھی چھکا نہیں — اور انگلینڈ نے سہ ملکی سیریز کے آخری لیگ میچ میں سری لنکا کے سامنے 387 رنز کا ہدف رکھا۔ یہ میچ بظاہر بے معنی تھا: سری لنکا پہلے ہی ہفتے کے فائنل میں پہنچ چکی تھی اور انگلینڈ تین لگاتار شکستوں کے بعد باہر ہو چکی تھی۔ مگر ڈکٹ نے اسے سیریز کی سب سے بڑی انفرادی کارکردگی میں بدل دیا۔
یہ ڈکٹ کی چھٹی ون ڈے سنچری ہے اور قذافی اسٹیڈیم میں ان کی فارم حیران کن ہے: اس میدان میں چار اننگز میں یہ ان کی تیسری سنچری ہے، اور لگاتار دوسری۔ ان کا پچھلا بہترین اسکور بھی 165 تھا جو انہوں نے گزشتہ سال چیمپئنز ٹرافی میں آسٹریلیا کے خلاف اسی میدان میں بنایا تھا۔ سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا — دن بھر کے میچ میں شام کی اوس کے پیش نظر فیصلہ قابل فہم تھا، مگر ڈکٹ نے اسے مہنگا ثابت کر دیا۔
ڈکٹ اور ٹام بینٹن نے پہلی وکٹ کے لیے 163 رنز جوڑے۔ بینٹن نے 75 گیندوں پر 74 رنز بنائے جن میں 8 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے، اور وہ اننگز کے وسط میں داسن شناکا کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد ڈکٹ اور کپتان ہیری بروک نے صرف 75 گیندوں میں 107 رنز کی شراکت بنائی۔ بروک نے 34 گیندوں پر 44 رنز بنائے اور 38ویں اوور میں اسیتھا فرنینڈو کی گیند پر انہی کو کیچ دے بیٹھے۔
ڈکٹ کی اننگز 42ویں اوور میں ختم ہوئی جب وہ ایشان ملنگا کی سست فل ٹاس کو اسکوپ کرنے کی کوشش میں شارٹ فائن لیگ پر اسیتھا فرنینڈو کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ اختتامی اوورز میں سیم کرن نے 12 گیندوں پر ناقابل شکست 21، ول جیکس نے 21 گیندوں پر 30 اور جوزف کاکس نے 27 گیندوں پر 43 رنز بنائے — کاکس اننگز کی آخری گیند پر آؤٹ ہوئے۔ انگلینڈ نے آخری 10 اوورز میں 92 رنز جوڑے اور اسکور 386 تک پہنچایا۔
سری لنکا کے باؤلرز کے لیے دن بھاری رہا۔ ایشان ملنگا نے 10 اوورز میں 101 رنز دے کر سیریز کی مہنگی ترین باؤلنگ کی، اگرچہ انہیں ڈکٹ کی قیمتی وکٹ ملی۔ دلشان مدوشنکا نے 64 رنز دے کر ایک اور دونیپاتھ ویلالاگے نے 75 رنز دے کر کوئی وکٹ نہ لی۔ سب سے کامیاب اسیتھا فرنینڈو رہے جنہوں نے 63 رنز کے عوض بروک اور جیکس کی دو وکٹیں لیں۔
387 رنز کا ہدف اسی سیریز کے معیار سے بھی بڑا تھا — مگر یہ وہی سری لنکا ہے جس نے گزشتہ ہفتے راولپنڈی میں انگلینڈ کے 429 رنز کا تعاقب کر کے 430 بنا لیے تھے۔ تعاقب میں کامینڈو مینڈس صرف 4 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، مگر اویشکا فرنینڈو اور کپتان کوسل مینڈس نے 83 رنز کی شراکت سے اننگز سنبھالی۔ کوسل مینڈس نے 71 گیندوں پر 89 اور پاون رتنائیکے نے 77 گیندوں پر 118 رنز بنائے، مگر رتنائیکے کے آؤٹ ہوتے ہی اننگز بکھر گئی — سری لنکا کی پوری ٹیم 45.1 اوورز میں 331 رنز پر آؤٹ ہو گئی اور انگلینڈ نے 55 رنز سے میچ جیت لیا، جو سیریز میں اس کی پہلی اور آخری فتح تھی۔ سری لنکا کے لیے اس میچ کی اصل اہمیت نتیجے سے زیادہ فائنل کی تیاری بھی تھی: ان کے بیٹرز کو اسی پچ پر وقت گزارنا تھا جہاں ہفتے کو انہیں پاکستان کا سامنا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ ہفتہ یادگار رہا ہے۔ اتوار کو انگلینڈ کے خلاف 154 پر 9 وکٹیں گرنے کے بعد شاداب خان کی ناقابل شکست 113 رنز کی اننگز اور حارث رؤف کے ساتھ آخری وکٹ کی 89 رنز کی شراکت نے پاکستان کو ایک وکٹ سے فتح دلائی تھی — اسی میچ کے واقعے پر آئی سی سی نے حارث رؤف کو جرمانہ بھی کیا۔ منگل کو سری لنکا نے پاکستان کو 110 پر آؤٹ کر کے 8 وکٹوں سے شکست دی تھی۔ اب ہفتہ 31 اکتوبر کو قذافی اسٹیڈیم میں فائنل ہوگا — اور بابر اعظم سمیت پوری ٹیم کے پاس رینکنگ کی گراوٹ کا جواب دینے کا یہی موقع ہے۔ مکمل انگریزی رپورٹ یہاں پڑھیں۔
یہ پاکستان میں جاری تین ملکی ون ڈے سیریز کا چھٹا اور آخری لیگ میچ تھا جو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا گیا۔ اس میچ سے پہلے ہی سری لنکا فائنل میں پہنچ چکی تھی اور انگلینڈ باہر ہو چکی تھی، اس لیے یہ مقابلہ رسمی نوعیت کا تھا — مگر بین ڈکٹ کی اننگز نے اسے یادگار بنا دیا۔
بین ڈکٹ نے 132 گیندوں پر 167 رنز بنائے جن میں 24 چوکے شامل تھے اور کوئی چھکا نہیں تھا۔ یہ ان کے ون ڈے کیریئر کی بہترین اننگز ہے؛ اس سے پہلے ان کا بہترین اسکور 165 تھا جو انہوں نے گزشتہ سال چیمپئنز ٹرافی میں آسٹریلیا کے خلاف اسی میدان میں بنایا تھا۔
انگلینڈ نے 50 اوورز میں 5 وکٹوں پر 386 رنز بنائے۔ ڈکٹ کے علاوہ ٹام بینٹن نے 74، جوزف کاکس نے 43 اور کپتان ہیری بروک نے 44 رنز بنائے۔ سری لنکا کی طرف سے اسیتھا فرنینڈو نے 2 وکٹیں لیں۔
فائنل ہفتہ 31 اکتوبر کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوپہر 1 بجے کھیلا جائے گا۔ پاکستان نے انگلینڈ کو ایک وکٹ سے ہرا کر فائنل میں جگہ بنائی تھی۔
گزشتہ ہفتے راولپنڈی میں انگلینڈ نے ہیری بروک کے 202 رنز کی بدولت 429 رنز بنائے تھے، مگر سری لنکا نے 49.5 اوورز میں 8 وکٹوں پر 430 رنز بنا کر میچ 2 وکٹوں سے جیت لیا تھا — یہ اس سیریز کی سب سے بڑی کہانی تھی۔
انگریزی میں مکمل رپورٹ | کرکٹ کی مزید خبریں | اردو ہوم پیج