TaazaPulse — UrduRead in English
کرکٹ — ہانگ کانگ سکسز

یو اے ای نے دفاعی چیمپئن پاکستان کو ایک وکٹ سے ہرا دیا: ہانگ کانگ سکسز میں بڑا اپ سیٹ

تازہ پلس کرکٹ ڈیسک | 30 اکتوبر 2026
ہانگ کانگ سکسز میں پاکستان کی بیٹنگ

جمعہ کی صبح مانگ کوک میں وہ ہوا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی: دفاعی چیمپئن پاکستان ہانگ کانگ سکسز 2026 کے اپنے پہلے میچ میں متحدہ عرب امارات سے ہار گیا۔ پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے چھ اوورز میں 106 رنز بنائے، کپتان عباس آفریدی کی 13 گیندوں پر 53 رنز کی طوفانی اننگز کے باوجود، اور یو اے ای نے آخری گیند پر 107 رنز کا ہدف پورا کر لیا۔ یو اے ای کے کپتان خالد شاہ نے 20 گیندوں پر 71 رنز کی وہ اننگز کھیلی جو اس ٹورنامنٹ کی یادگار اننگز میں شمار ہوگی، اور زاہد علی نے ناقابل شکست 22 رنز بنا کر جیت کی مہر لگائی۔ ایک وکٹ سے شکست، صفر گیندیں باقی — اس سے قریب کوئی میچ ہو ہی نہیں سکتا۔

یہ شکست اس لیے بھی بڑی ہے کہ ہانگ کانگ سکسز کا فارمیٹ غلطی کی گنجائش نہیں دیتا۔ 12 ٹیمیں چار گروپوں میں ہیں، ہر گروپ میں صرف تین ٹیمیں، اور ہر گروپ سے صرف پہلی ٹیم کپ سیمی فائنل میں جاتی ہے۔ گروپ سی میں بھارت، پاکستان اور یو اے ای ہیں۔ اب یو اے ای کے دو پوائنٹس ہیں، پاکستان کے صفر۔ پاکستان کا بھارت سے میچ، جو اسی جمعہ کو بعد میں کھیلا جا رہا ہے، اب صرف روایتی مقابلہ نہیں رہا — وہ ٹائٹل کی بقا کا میچ بن گیا ہے۔ اس رپورٹ کی اشاعت کے وقت وہ میچ جاری تھا، پاکستان نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ چنی تھی، اور اس کا حتمی نتیجہ الگ رپورٹ میں آئے گا۔

پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، اور شروع میں یہ فیصلہ درست لگا۔ عباس آفریدی نے کپتانی کی وہ اننگز کھیلی جو چھ اوور کے میچ میں میچ کا رخ بدل دیتی ہے: 13 گیندوں پر 53 رنز، ایک چوکا اور آٹھ چھکے۔ 106 رنز کا مجموعہ، یعنی تقریباً 18 رنز فی اوور، عام طور پر سکسز میچ جیتنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ مگر یو اے ای کے پاس بھی ایک کپتان تھا جو اسی موڈ میں تھا۔ خالد شاہ نے 20 گیندوں پر 71 رنز بنائے — تین چوکے، نو چھکے، 355 کا اسٹرائیک ریٹ — اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ وہ 71 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو یو اے ای کا اسکور چھٹے اوور میں 99 رنز پر 5 وکٹ تھا، اور میچ کا دوسرا ہیرو سامنے آیا۔

ہانگ کانگ کا کرکٹ گراؤنڈ، پیچھے شہر کی عمارتیں

آخری گیند تک گیا میچ

زاہد علی نے وہ کام کیا جو بڑے میچوں میں یاد رہتا ہے: 8 گیندوں پر ناقابل شکست 22 رنز، دو چوکے اور دو چھکے، اور آخری گیند پر جیت۔ یو اے ای نے 109 رنز 5 وکٹ پر بنائے۔ پاکستان کی بولنگ میں عباس آفریدی نے دو اوورز میں 33 رنز دے کر ایک وکٹ لی، عرفان خان نے ایک اوور میں 23 رنز دے کر ایک وکٹ لی، اور عبدالصمد نے بھی ایک وکٹ حاصل کی — مگر وہ آخری وکٹ نہ مل سکی جو دفاع بچا لیتی۔ یہ ہار اس لیے بھی چبھتی ہے کہ کارکردگی بری نہیں تھی: کپتان کی 13 گیندوں پر ففٹی، 106 کا مجموعہ، چھ اوور کی دفاع میں تین وکٹیں — کسی عام دن یہ سب جیت کے لیے کافی ہوتا۔ جمعہ عام دن نہیں تھا۔

ٹورنامنٹ کا پس منظر بھی اس شکست کو بڑا بناتا ہے۔ 2026 کا ایڈیشن 30 اکتوبر سے یکم نومبر تک مشن روڈ گراؤنڈ میں کھیلا جا رہا ہے، جس میں 12 ٹیمیں ہیں: گروپ اے میں آسٹریلیا، ہانگ کانگ اور انگلینڈ؛ گروپ بی میں بنگلہ دیش، اسکاٹ لینڈ اور سری لنکا؛ گروپ سی میں بھارت، پاکستان اور یو اے ای؛ گروپ ڈی میں افغانستان، جنوبی افریقہ اور عمان۔ پاکستان کی ٹیم میں عباس آفریدی کے ساتھ عبدالصمد، احمد دانیال، محمد عرفان خان، خواجہ نافع، محمد شہزاد اور سعد مسعود شامل ہیں — اور سکسز فارمیٹ میں وکٹ کیپر کے سوا ہر کھلاڑی کو بولنگ کرنا ہوتی ہے۔ شہزاد پچھلے ایڈیشن میں پاکستان کے سب سے کامیاب بولر تھے، سات وکٹوں کے ساتھ۔ مگر چھ اوور کی کرکٹ میں ایک برا اوور پانچ اچھے اوورز پر بھاری پڑ جاتا ہے، اور شاہ کی اننگز اور زاہد کی فنشنگ نے یو اے ای کو وہ دو لمحے دے دیے جو میچ جیتنے کے لیے کافی تھے۔

ٹی ٹوئنٹی میچ میں بڑا شاٹ کھیلتا بلے باز

اب آگے کیا؟

اب سب کچھ بھارت کے میچ پر منحصر ہے۔ پاکستان جیتا تو گروپ سی ہفتے کے یو اے ای۔بھارت میچ تک زندہ رہے گا، اور سیمی فائنل کی جگہ پوائنٹس اور رن ریٹ سے طے ہوگی۔ پاکستان ہارا تو کپ کا دفاع پہلے ہی دن ختم ہو جائے گا، اور ٹیم باقی ویک اینڈ پلیٹ یا باؤل مقابلے میں کھیلے گی۔ کسی بھی صورت میں جمعہ کی صبح نے گروپ کا نقشہ بدل دیا ہے: اب یو اے ای وہ ٹیم ہے جسے ہرانا ہے، پاکستان وہ نہیں رہا۔ اور یہی اس اپ سیٹ کی اصل قیمت ہے — دفاعی چیمپئن زخمی ہے، گروپ کھلا ہوا ہے، اور بھارت سے میچ اب صرف مقابلہ نہیں، بچاؤ کی جنگ بھی ہے۔

پاکستانی شائقین کے لیے یہ صبح اس لیے بھی تکلیف دہ ہے کہ ہار کا مارجن صفر تھا۔ آخری گیند، ایک وکٹ — چھ اوور کی کرکٹ میں اس سے قریب ہار ممکن نہیں۔ خالد شاہ نے ٹورنامنٹ کی بڑی اننگز کھیلی، زاہد علی نے ٹھنڈے دماغ سے فنش کیا، اور دفاعی چیمپئن نے اس فارمیٹ کا پرانا سبق پھر سیکھا: چھ اوور میں کوئی مجموعہ محفوظ نہیں ہوتا، جب تک آخری گیند نہ ہو جائے۔ جمعہ کی صبح مانگ کوک میں آخری گیند پاکستان کے خلاف گئی۔

سبز کٹ میں پاکستان کا بولر گیند کرتے ہوئے

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

پاکستان اور یو اے ای کے میچ میں کیا ہوا؟

یو اے ای نے ہانگ کانگ سکسز 2026 کے گروپ سی میچ میں دفاعی چیمپئن پاکستان کو ایک وکٹ سے ہرا دیا۔ پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے چھ اوورز میں 106 رنز بنائے، یو اے ای نے آخری گیند پر 109 رنز بنا کر میچ جیت لیا۔ یہ میچ جمعہ 30 اکتوبر 2026 کو مانگ کوک کے مشن روڈ گراؤنڈ میں کھیلا گیا۔

میچ کے ہیرو کون رہے؟

یو اے ای کے کپتان خالد شاہ نے 20 گیندوں پر 71 رنز بنائے، جن میں تین چوکے اور نو چھکے شامل تھے، اور وہ میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ زاہد علی نے 8 گیندوں پر ناقابل شکست 22 رنز بنا کر جیت مکمل کی۔ پاکستان کی طرف سے کپتان عباس آفریدی نے 13 گیندوں پر 53 رنز بنائے، جن میں ایک چوکا اور آٹھ چھکے شامل تھے۔

اس شکست کا گروپ سی پر کیا اثر پڑے گا؟

یو اے ای کے دو پوائنٹس ہو گئے ہیں اور پاکستان کے صفر۔ ہر گروپ سے صرف پہلی ٹیم کپ سیمی فائنل میں پہنچتی ہے، اس لیے پاکستان کے لیے بھارت کے خلاف میچ جیتنا لازمی ہو گیا ہے۔ یو اے ای کا بھارت سے میچ ہفتے کو ہوگا، اور وہ میچ بھی گروپ کی قسمت کا فیصلہ کرے گا۔

ہانگ کانگ سکسز کا فارمیٹ کیا ہے؟

چھ کھلاڑیوں کی ٹیمیں، ہر ٹیم چھ اوورز بیٹنگ کرتی ہے، اور ایک میچ تقریباً 45 منٹ میں ختم ہو جاتا ہے۔ 12 ٹیمیں چار گروپوں میں تقسیم ہیں، ہر گروپ میں تین ٹیمیں۔ گروپ جیتنے والی ٹیم کپ سیمی فائنل کھیلتی ہے اور فائنل اتوار یکم نومبر کو ہوگا۔

پاکستان اور بھارت کا میچ کب ہوگا اور اس کی خبر کہاں ملے گی؟

پاکستان اور بھارت کا گروپ سی میچ اسی جمعہ کو بعد میں کھیلا جا رہا ہے — اس رپورٹ کی اشاعت کے وقت پاکستان نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا اور میچ جاری تھا۔ اس کا حتمی نتیجہ الگ رپورٹ میں شائع ہوگا، ادھورے اسکور سے نتیجہ نکالنا درست صحافت نہیں۔

مزید پڑھیں

انگریزی میں مکمل رپورٹ  |  کرکٹ کی خبریں  |  اردو ہوم پیج

حوالہ جات