یہ خبر اب قیاس نہیں رہی — بائنانس نے خود تسلیم کر لیا ہے کہ اس سے تقریباً 6.3 ارب ڈالر کی کرپٹو چوری ہوئی ہے، جو کرپٹو کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری ہے۔ جمعرات کی رات کے بیان میں ایکسچینج نے کہا کہ اس کی ابتدائی تحقیق ایک ڈیو آپس انجینئر کے لیپ ٹاپ کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس سے حملہ آور نے سروس کنٹینر تک رسائی حاصل کی اور غیر مجاز ودڈرال کروائیں۔ اب تک تقریباً 3 ارب ڈالر منجمد کیے جا چکے ہیں، اور بائنانس کا کہنا ہے کہ تمام نقصان اس کے سیفٹی فنڈ اور کمپنی کے فنڈز سے پورا کیا جائے گا۔ مگر صارفین کے لیے سب سے اہم بات وہی ہے جو بدلی نہیں: بائنانس ڈاٹ کام پر ودڈرال اور ڈپازٹ اب بھی بند ہیں، اور بحالی کا کوئی وقت اعلان نہیں ہوا۔
یہ فالو اپ اس لیے ضروری ہے کہ ہماری پہلی رپورٹ میں تینوں بڑی باتیں غیر تصدیق شدہ تھیں: بائنانس صرف 'ممکنہ سیکیورٹی مسئلے' کی بات کر رہا تھا، اس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ صرف یہ کہہ رہے تھے کہ 'ایسا لگتا ہے کہ ہیک ہوا ہے'، اور نقصان کا ہر عدد باہر کے اندازوں پر مبنی تھا — 2 ارب ڈالر سے لے کر 5.8 ارب ڈالر تک۔ اب بائنانس نے خود تینوں باتیں طے کر دی ہیں: پیمانہ (تقریباً 6.3 ارب ڈالر)، مشتبہ راستہ (انجینئر کا لیپ ٹاپ)، اور منجمد رقم (تقریباً 3 ارب ڈالر، جو جمعرات کی شام 2.54 ارب ڈالر تھی)۔ جو باتیں اب بھی طے نہیں ہوئیں وہ بھی اتنی ہی اہم ہیں: حملہ آور کا نام بائنانس نے نہیں بتایا، مکمل تکنیکی رپورٹ ابھی آنی ہے، اور ودڈرال کب بحال ہوں گے، یہ کوئی نہیں جانتا۔ اور شمالی کوریا کا ذکر جو سرخیوں میں ہے، وہ تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے، بائنانس یا کسی حکومت کا اعلان نہیں — اس فرق کو اس رپورٹ میں صاف رکھا گیا ہے۔
واقعہ جمعرات کی شام 29 اکتوبر کو غیر معمولی رفتار سے ہوا۔ پاکستان کے وقت کے مطابق جمعہ کی صبح ایک بج کر 24 منٹ پر بلاک چین ٹریکرز نے دیکھا کہ 'بائنانس 14' نام کے والیٹ سے ایک ہی ٹرانزیکشن میں تقریباً 167,464 ایتھر — یعنی لگ بھگ 38 کروڑ 80 لاکھ ڈالر — کے ساتھ تقریباً 1.615 ارب یو ایس ڈی ٹی اور 60 سے زیادہ دوسرے ٹوکن نکل گئے۔ چند منٹ میں دو مزید بائنانس والیٹس سے بھی رقم اسی سمت گئی، جن میں تقریباً 28,000 ایتھر اور تقریباً 82 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے یو ایس ڈی سی شامل تھے۔ تجزیاتی کمپنی آرخم کے مطابق وصول کرنے والے والیٹس میں ایک وقت میں 5.7 ارب ڈالر سے زیادہ کی کرپٹو تھی، جن میں تقریباً 1.5 ارب ڈالر بٹ کوائن، تقریباً 90 کروڑ ڈالر ایتھر، تقریباً 1.5 ارب ڈالر یو ایس ڈی ٹی اور 80 کروڑ ڈالر سے زیادہ یو ایس ڈی سی شامل تھے۔ چین ایلائسز نے اپنا اندازہ بڑھا کر چوری کے وقت تقریباً 5.9 ارب ڈالر کر دیا ہے، اور کہا ہے کہ جمعرات کی رات امریکہ کے مشرقی وقت کے مطابق ساڑھے آٹھ بجے تک کم از کم 5.912 ارب ڈالر چوری کی تصدیق ہو چکی تھی — بٹ کوائن، ایتھیریم، ٹرون، رپل اور کئی لیئر ٹو نیٹ ورکس پر۔
بائنانس نے اپنے بیان میں کہا ہے: 'ابتدائی تحقیق سے لگتا ہے کہ یہ واقعہ ایک ڈیو آپس انجینئر کے لیپ ٹاپ سے جڑا ہو سکتا ہے، جس سے حملہ آور نے سروس کنٹینر تک رسائی حاصل کی اور غیر مجاز ودڈرال کی ٹرانزیکشنز جمع کروائیں۔ ہمیں والیٹ کی پرائیویٹ کیز لیک ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔' ڈیو آپس انجینئر وہ عملہ ہوتا ہے جو سافٹ ویئر کو پروڈکشن تک پہنچانے والے نظام سنبھالتا ہے، اور سروس کنٹینر ایکسچینج کے اندر چلنے والا سافٹ ویئر کا ایک پیکج ہوتا ہے۔ اگر یہ وضاحت درست ہے تو حملہ آور کو بائنانس کے خزانے توڑنے یا ماسٹر چابیاں چرانے کی ضرورت نہیں پڑی — ایک انجینئر کی مشین تک رسائی ہی کافی تھی کہ ودڈرال کا حکم دینے والی سروس تک پہنچا جا سکے۔ بائنانس نے وعدہ کیا ہے کہ تحقیق مکمل ہوتے ہی تفصیلی رپورٹ شائع کرے گا؛ اس وقت تک لیپ ٹاپ والی وضاحت کو ایکسچینج کا ابتدائی مفروضہ سمجھنا چاہیے، ثابت شدہ کہانی نہیں۔ محققین نے پہلے ایتھیریم کی ای آئی پی-7702 خصوصیت کا بھی ذکر کیا تھا، جو مئی 2025 میں آئی تھی اور جس سے ایک عام والیٹ عارضی طور پر اسمارٹ کانٹریکٹ کو کنٹرول سونپ سکتا ہے۔ بائنانس نے اس پہلو کی تصدیق یا تردید نہیں کی، اور دونوں وضاحتیں ایک ساتھ بھی درست ہو سکتی ہیں — لیپ ٹاپ رسائی کا راستہ ہو، اور ڈیلی گیٹڈ والیٹ رقم نکالنے کا طریقہ۔ صارفین کے لیے اصل بات یہ ہے جو بائنانس نے صاف کہی ہے: پرائیویٹ کیز لیک ہونے کا ثبوت نہیں ملا، یعنی یہ معاملہ غلط استعمال شدہ رسائی کا ہے، چوری شدہ چابیوں کا نہیں — اگر یہ بات قائم رہی۔
جمعرات کی رات کے بعد سب سے زیادہ تبدیلی منجمد رقم میں آئی ہے۔ بائنانس کا کہنا ہے کہ بلاک چین پارٹنرز کی مدد سے اب تک تقریباً 3 ارب ڈالر آن چین منجمد کیے جا چکے ہیں۔ کوائن ڈیسک کے خلاصے کے مطابق اس میں تقریباً 2.3 ارب ڈالر یو ایس ڈی ٹی اور یو ایس ڈی سی ہیں۔ اسٹیبل کوائن جاری کرنے والوں نے خود اپنے اعداد بتائے: ٹیتھر کے چیف ایگزیکٹو پاؤلو آرڈوینو نے کہا کہ کمپنی نے اس واقعے سے منسلک 1.567 ارب ڈالر سے زیادہ یو ایس ڈی ٹی منجمد کیے، اور سرکل کے شریک بانی جیرمی ایلیئر نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر 800 ملین ڈالر سے زیادہ یو ایس ڈی سی منجمد کیے گئے۔ شریک چیف ایگزیکٹو یی ہی نے بتایا کہ رپل نے 200 ملین ڈالر کی منتقلی روکنے میں مدد کی، اور ورلڈ لبرٹی فنانشل نے بٹ گو کے ساتھ مل کر 27 ملین ڈالر اسٹیبل کوائنز اور تقریباً 20 لاکھ ڈالر کے اپنے ٹوکنز منجمد کروائے۔ اسٹیبل کوائن اس لیے منجمد ہو سکتے ہیں کہ انہیں مرکزی ادارے جاری کرتے ہیں اور وہ کسی ایڈریس کو بلیک لسٹ کر سکتے ہیں؛ ایتھر اور بٹ کوائن کا ایسا کوئی سوئچ نہیں۔ اس لیے منجمد 3 ارب ڈالر کے باوجود تقریباً 3.3 ارب ڈالر کا فرق باقی ہے — بائنانس کے 6.3 ارب ڈالر کے عدد اور اب تک پکڑی گئی رقم کا فرق — اور یہی حصہ، زیادہ تر ایتھر اور بٹ کوائن، واپس لانا سب سے مشکل ہوگا۔ ماضی کی چوریوں میں حملہ آور منجمد ہو سکنے والے اسٹیبل کوائنز کو ایسی کرپٹو میں بدلنے کی کوشش کرتے ہیں جسے کوئی ادارہ روک نہ سکے، اور آرخم کے ڈیٹا کے مطابق اس کیس میں بھی رقم ڈی سینٹرلائزڈ ایکسچینج یونی سواپ اور قرض دینے والے پلیٹ فارم آوے سے گزری ہے۔ حرکت کا مطلب یہ نہیں کہ رقم ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے نکل گئی، مگر ہر گھنٹہ ٹریس کرنا مشکل تر کرتا جاتا ہے۔
اب وہ سوال جس کا جواب سب مانگ رہے ہیں: یہ کس نے کیا؟ محتاط جواب یہ ہے کہ کئی معتبر بلاک چین کمپنیاں ایک ہی سمت اشارہ کر رہی ہیں، مگر کسی سرکاری ادارے نے تصدیق نہیں کی۔ ٹی آر ایم لیبز کا کہنا ہے کہ اس نے حملے کو شمالی کوریا کے گروپ ٹریڈر ٹریٹر سے جوڑا ہے، بلاک چین ٹرانزیکشنز اور دیگر انٹیلی جنس کی بنیاد پر، اور اسے اس اندازے پر 'زیادہ اعتماد' ہے۔ بلاک ایڈ کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو ایڈو بین ناتن نے کوائن ڈیسک کو بتایا کہ 'اب تک دیکھی گئی حکمت عملی اور مہارت کی سطح شمالی کوریا کے آپریشنز سے مطابقت رکھتی ہے'، اور اس چوری کو 'کرپٹو کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری' کہا۔ معروف آزاد محقق زیک ایکس بی ٹی نے لازارس گروپ کو ممکنہ حملہ آور کہا ہے، جس پر ماضی کی بڑی کرپٹو چوریوں کا الزام ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے لکھا ہے کہ ٹی آر ایم لیبز اور پینگولن انٹیلی جنس دونوں نے ٹریڈر ٹریٹر کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ یہ اتفاق اہم ہے — یہ کمپنیاں اتنی جلدی شاذ ہی متفق ہوتی ہیں — مگر یہ بائنانس، امریکی حکومت یا کسی عدالت کا فیصلہ نہیں، اور قارئین کو اسے ایسا نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر تجزیہ کار درست ہیں تو یہ ایک جانے پہچانے سلسلے کی کڑی ہوگی: فروری 2025 میں بائی بٹ سے 1.5 ارب ڈالر چوری ہوئے تھے، جو اس وقت تک کی سب سے بڑی تصدیق شدہ کرپٹو چوری تھی، اور شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز پر ایکسچینج اور برج ہیکس کی ایک لمبی فہرست کا الزام ہے۔ 6.3 ارب ڈالر پر بائنانس کی چوری بائی بٹ کے ریکارڈ سے چار گنا سے زیادہ ہوگی — اور ٹی آر ایم لیبز کے عالمی پالیسی سربراہ نے وال اسٹریٹ جرنل سے اسے 'انسانی تاریخ کی سب سے بڑی بینک ڈکیتی' تک کہہ دیا، ایک ایسا جملہ جو کرپٹو سے آگے تمام بینک ڈکیتیوں تک پہنچتا ہے۔
مارکیٹ کا ردعمل فوری اور سخت تھا، اور یہ کہانی کا وہ حصہ ہے جو ان لوگوں کو بھی نظر آیا جنہوں نے کبھی بائنانس استعمال ہی نہیں کیا۔ کوائن ڈیسک کے مطابق جمعرات کی شام بٹ کوائن 4.8 فیصد گر کر 77,000 ڈالر سے نیچے آ گیا — ایسوسی ایٹڈ پریس نے پہلے 3.2 فیصد گراوٹ کے ساتھ 79,000 ڈالر سے نیچے آنے کی خبر دی تھی — ایتھر 5.7 فیصد، بائنانس کا اپنا بی این بی ٹوکن 8 فیصد اور قرض دینے والے پلیٹ فارم آوے کا ٹوکن 11 فیصد گرا۔ ڈیریویٹوز میں غلط سمت پر کھڑے ٹریڈرز کی بڑی تعداد لیکویڈیٹ ہوئی: کوائن گلاس کے ڈیٹا کے حوالے سے کرپٹو پوٹیٹو نے بتایا کہ فروخت کے دوران مجموعی لیکویڈیشن تقریباً 1.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو جمعرات کی رات ایک گھنٹے میں 62 کروڑ 77 لاکھ ڈالر کی لیکویڈیشن سے کہیں زیادہ ہے۔ چوری کا پیمانہ بائنانس کے اپنے حجم کے مقابلے میں سمجھنا ضروری ہے۔ ڈی فائی لاما کے ڈیٹا کے مطابق ہیک سے پہلے بائنانس کے پلیٹ فارم پر تقریباً 144 ارب ڈالر کے اثاثے تھے، یعنی 6.3 ارب ڈالر تقریباً 4 فیصد بنتا ہے — شدید دھچکا، مگر بائنانس جیسی ایکسچینج کے لیے وجودی خطرہ نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اس کا تمام نقصان پورا کرنے کا وعدہ چھوٹی ایکسچینج کے وعدے سے زیادہ معتبر ہے۔ بائنانس کا سیفٹی فنڈ، جو 2018 میں سیکیورٹی واقعات میں صارفین کی حفاظت کے لیے بنایا گیا تھا، کوائن ڈیسک کے مطابق تقریباً 1 ارب ڈالر بٹ کوائن میں رکھتا ہے — نقصان کا ایک حصہ پورا کرنے کے لیے کافی، مگر 6.3 ارب ڈالر کے لیے اکیلا ناکافی۔ باقی رقم، بائنانس کے مطابق، کمپنی کے فنڈز سے آئے گی، اور ایکسچینج نے وعدہ کیا ہے کہ اصلاح مکمل ہوتے ہی نیا پروف آف ریزروز شائع کرے گا، تاکہ صارفین خود اس کے ذخائر جانچ سکیں، صرف اس کی بات پر بھروسہ نہ کریں۔
عملی صورتحال آج صبح ایک لحاظ سے وہی ہے جو جمعرات کی رات تھی، اور ایک لحاظ سے بہتر۔ وہی: بائنانس ڈاٹ کام پر ڈپازٹ اور ودڈرال بند ہیں، بائنانس ایلفا ٹریڈنگ بند ہے، اور بحالی کا کوئی وقت نہیں دیا گیا — ایکسچینج کہتا ہے کہ سیکیورٹی مسئلہ حل ہوتے ہی سروس بحال ہوگی، جو ایک شرط ہے، تاریخ نہیں۔ بہتر: ایکسچینج نے اب نقصان کا عدد بتا دیا ہے، مشتبہ وجہ بتا دی ہے، منجمد رقم بڑھا کر تقریباً 3 ارب ڈالر کر دی ہے، اور تحریری طور پر تمام نقصان سیفٹی فنڈ اور کمپنی کے فنڈز سے پورا کرنے کا عہد کیا ہے — شریک چیف ایگزیکٹو یی ہی نے ایکس پر دہرایا کہ پلیٹ فارم 'تمام ہیکنگ نقصانات' پورا کرے گا، اور بانی چانگ پینگ ژاؤ نے کہا کہ شیئر ہولڈر کی حیثیت سے انہیں توقع ہے کہ تمام فنڈز مکمل طور پر پورے کیے جائیں گے۔ بائنانس یو ایس نے کہا ہے کہ وہ متاثر نہیں ہوا اور اس کی سروسز معمول پر ہیں — یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ ماضی کے واقعات میں پریشان صارفین غلط پلیٹ فارم کی سپورٹ سے رابطہ کرتے رہے ہیں۔ پاکستانی صارفین کو وہی بندش اور وہی احتیاط درپیش ہے جو دنیا بھر میں ہے، اور یہ احتیاط یہاں زیادہ ضروری ہے کیونکہ یہ ٹرینڈ پاکستان میں رات بھر سب سے زیادہ سرچ ہونے والوں میں تھا — اور جہاں سرچ زیادہ ہو، وہاں جعلساز بھی جلدی پہنچتے ہیں۔ بائنانس خود خبردار کرتا ہے کہ صرف اس کے سرکاری چینلز کی اپ ڈیٹس پر بھروسہ کریں، غیر سرکاری لنکس اور اکاؤنٹ کی معلومات مانگنے والے پیغامات سے بچیں۔ کوئی اصلی سپورٹ ایجنٹ پاس ورڈ، سیڈ فریز یا رقم جاری کرنے کے لیے ادائیگی نہیں مانگے گا۔ جو مانگے، وہ چوری پر بنی دوسری دھوکہ دہی چلا رہا ہے۔
اس کہانی کا انجام تین باتوں پر منحصر ہے، اور تینوں ابھی کھلی ہیں۔ پہلی، بائنانس کی تفصیلی رپورٹ: حتمی نقصان کا عدد، حملے کا مکمل راستہ، اور لیپ ٹاپ والی وضاحت قائم رہتی ہے یا بدلی جاتی ہے — ایکسچینج کے اپنے بیان میں لفظ 'ہو سکتا ہے' موجود ہے، اور ایماندار رپورٹنگ میں یہ احتیاط اس وقت تک ساتھ رہنی چاہیے جب تک تفصیلی رپورٹ نہ آ جائے۔ دوسری، منجمد رقم کی دوڑ: کیا 3 ارب ڈالر کی منجمد رقم بڑھے گی، اور کیا تقریباً 3.3 ارب ڈالر کی حرکت کرتی رقم کو مکسرز سے گزرنے سے پہلے ٹریس کیا جا سکے گا۔ تیسری، ودڈرال کی بحالی — مکمل، مرحلہ وار، یا نیٹ ورک بہ نیٹ ورک — وہ لمحہ جب صارفین خود جانچ سکیں گے کہ 'فنڈز محفوظ ہیں' کا دعویٰ پورا ہوا یا نہیں۔ تب تک تصدیق شدہ خلاصہ یہ ہے: بائنانس نے تقریباً 6.3 ارب ڈالر کی چوری کی تصدیق کی ہے، جو کرپٹو کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری ہے، بظاہر ایک انجینئر کے لیپ ٹاپ سے داخل ہو کر، تقریباً 3 ارب ڈالر منجمد ہیں اور تمام نقصان پورا کرنے کا وعدہ ہے — جبکہ ودڈرال بند ہیں، حملہ آور سرکاری طور پر نامزد نہیں، اور تفصیلی رپورٹ ابھی آنی ہے۔ بائنانس کی تفصیلی رپورٹ یا بحالی کے اعلان کے ساتھ ہی تازہ پلس اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔
تین باتیں جو جمعرات کی رات تک تصدیق شدہ نہیں تھیں، اب بائنانس نے خود تصدیق کر دی ہیں: نقصان کا پیمانہ، تقریباً 6.3 ارب ڈالر؛ مشتبہ راستہ، ایک ڈیو آپس انجینئر کا ہیک شدہ لیپ ٹاپ جس سے سروس کنٹینر تک رسائی ملی اور غیر مجاز ودڈرال ہوئیں؛ اور اب تک منجمد رقم، تقریباً 3 ارب ڈالر، جو جمعرات کی شام 2.54 ارب ڈالر تھی۔ بائنانس نے تمام نقصان سیفٹی فنڈ اور کمپنی کے فنڈز سے پورا کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے، اور تفصیلی رپورٹ اور نیا پروف آف ریزروز شائع کرنے کا کہا ہے۔
بائنانس کے ابتدائی بیان کے مطابق حملہ آور نے ایک ڈیو آپس انجینئر کے لیپ ٹاپ سے رسائی حاصل کی — ایسا انجینئر جو سافٹ ویئر کو پروڈکشن تک پہنچانے والے نظام سنبھالتا ہے — اور اس رسائی سے سروس کنٹینر تک پہنچ کر ودڈرال کے احکامات جاری کیے۔ بائنانس کا کہنا ہے کہ والیٹ کی پرائیویٹ کیز لیک ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ محققین نے پہلے ایتھیریم کی ای آئی پی-7702 خصوصیت کا ذکر کیا تھا جس سے والیٹ خالی کیا جا سکتا ہے؛ بائنانس نے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی، اور لیپ ٹاپ والی وضاحت کو بھی 'ابتدائی تحقیق' کہا ہے، حتمی نتیجہ نہیں۔
بلاک چین تجزیہ کرنے والی کئی کمپنیاں ایسا کہتی ہیں، مگر کسی سرکاری ادارے نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ ٹی آر ایم لیبز کا کہنا ہے کہ اس نے حملے کو شمالی کوریا کے گروپ ٹریڈر ٹریٹر سے جوڑا ہے اور اسے 'زیادہ اعتماد' حاصل ہے؛ بلاک ایڈ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ طریقہ کار شمالی کوریائی آپریشنز سے مطابقت رکھتا ہے؛ اور محقق زیک ایکس بی ٹی نے لازارس گروپ کو ممکنہ حملہ آور کہا ہے۔ یہ ماہرین کا اندازہ ہے، بائنانس یا کسی حکومت کا فیصلہ نہیں — اور اس خبر میں اسے اسی حیثیت سے پیش کیا جا رہا ہے۔
بائنانس کے مطابق تقریباً 3 ارب ڈالر منجمد ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً 2.3 ارب ڈالر یو ایس ڈی ٹی اور یو ایس ڈی سی اسٹیبل کوائنز ہیں۔ ٹیتھر نے 1.567 ارب ڈالر سے زیادہ یو ایس ڈی ٹی اور سرکل نے 800 ملین ڈالر سے زیادہ یو ایس ڈی سی منجمد کیے؛ رپل نے 200 ملین ڈالر روکنے میں مدد کی، اور بٹ گو کے ساتھ مزید 27 ملین ڈالر اسٹیبل کوائنز اور تقریباً 20 لاکھ ڈالر کے ورلڈ لبرٹی ٹوکنز منجمد ہوئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً 3.3 ارب ڈالر ابھی حرکت میں ہیں، زیادہ تر ایتھر اور بٹ کوائن کی صورت میں، جنہیں کوئی مرکزی ادارہ منجمد نہیں کر سکتا — یہی حصہ واپس لانا سب سے مشکل ہوگا۔
بائنانس ڈاٹ کام پر ودڈرال اور ڈپازٹ اب بھی بند ہیں، اور بحالی کا کوئی وقت اعلان نہیں ہوا — صرف یہ کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی مسئلہ حل ہوتے ہی سروس بحال ہوگی۔ بائنانس کا کہنا ہے کہ فنڈز محفوظ ہیں اور نقصان پورا کیا جائے گا؛ بائنانس یو ایس متاثر نہیں ہوا۔ صارفین صرف بائنانس کے سرکاری چینلز کی اپ ڈیٹس دیکھیں۔ واٹس ایپ یا ٹیلی گرام پر 'منجمد فنڈز ان لاک' کرنے کا دعویٰ کرنے والا بائنانس نہیں ہے — کوئی اصلی سپورٹ ایجنٹ پاس ورڈ، سیڈ فریز یا رقم جاری کرنے کے لیے ادائیگی نہیں مانگے گا۔
انگریزی میں مکمل رپورٹ | معیشت کی خبریں | اردو ہوم پیج