TaazaPulse — UrduRead in English
معیشت — کرپٹو

بائنانس پر مشتبہ ہیک: اربوں ڈالر نکل گئے، ودڈرال بند

تازہ پلس معیشت ڈیسک | 30 اکتوبر 2026
بائنانس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ

دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو ایکسچینج بائنانس ایک مشتبہ ہیک کی تحقیقات کر رہی ہے، جس میں جمعرات کی رات اس کے ہاٹ والیٹس سے اربوں ڈالر کی کرپٹو نکل گئی اور ایکسچینج کو ودڈرال بند کرنا پڑے۔ بائنانس نے خود لفظ 'ہیک' استعمال نہیں کیا اور نہ ہی بتایا ہے کہ کتنی رقم گئی — مگر اس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ، جنہیں سی زیڈ کہا جاتا ہے، نے ایکس پر لکھا کہ 'ایسا لگتا ہے کہ بائنانس ہیک ہوا ہے' اور صارفین کے فنڈز مکمل محفوظ ہیں۔ اسٹیبل کوائن جاری کرنے والے اداروں نے اب تک 2.54 ارب ڈالر منجمد کر دیے ہیں، مگر حتمی نقصان، وجہ اور بحالی کا وقت — تینوں ابھی نامعلوم ہیں۔

واقعہ پاکستان کے وقت کے مطابق جمعہ کی صبح ایک بج کر 24 منٹ پر شروع ہوا، جب بلاک چین ٹریکرز نے دیکھا کہ 'بائنانس 14' نام کے والیٹ سے ایک ہی ٹرانزیکشن میں تقریباً 167,464 ایتھر — یعنی لگ بھگ 38 کروڑ 80 لاکھ ڈالر — کے ساتھ تقریباً 1.615 ارب یو ایس ڈی ٹی اور 60 سے زیادہ دوسرے ٹوکن نکل گئے۔ چند منٹ میں دو مزید بائنانس والیٹس سے بھی رقم اسی منزل کی طرف گئی، جن میں تقریباً 28,000 ایتھر اور تقریباً 82 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے یو ایس ڈی سی شامل تھے۔ ہاٹ والیٹ وہ آن لائن والیٹ ہوتا ہے جس سے ایکسچینج روزانہ کی ودڈرال چلاتی ہے؛ صارفین کی زیادہ تر رقم آف لائن کولڈ اسٹوریج میں ہوتی ہے، اس لیے یہ فرق آگے چل کر بہت اہم ہوگا۔

بائنانس کا پہلا بیان جمعرات کی رات پاکستان کے وقت کے مطابق صبح تقریباً دو بج کر 16 منٹ پر ایکس پر آیا: ٹیمیں 'ممکنہ سیکیورٹی مسئلے' کی رپورٹس سے آگاہ ہیں اور تحقیقات کر رہی ہیں۔ بیان کا پہلا مسودہ کہتا تھا کہ صارفین کے فنڈز پر کسی اثر کی تصدیق نہیں ہوئی؛ چند منٹ بعد اسے بدل کر 'صارفین کے فنڈز مکمل محفوظ ہیں' کر دیا گیا۔ سی زیڈ نے اس سے آگے بڑھ کر لکھا: 'صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں! ایسا لگتا ہے کہ بائنانس واقعی ہیک ہوا ہے۔' انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اب بائنانس ڈاٹ کام نہیں چلاتے، مگر شیئر ہولڈر کی حیثیت سے انہیں توقع ہے کہ تمام فنڈز مکمل طور پر پورے کر دیے جائیں گے۔ بعد میں شریک چیف ایگزیکٹو یی ہی نے کہا کہ سیکیورٹی چیک، فنڈز منجمد کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کام کے دوران ڈپازٹ اور ودڈرال عارضی طور پر بند ہیں، اور بائنانس ایلفا ٹریڈنگ بھی معطل کر دی گئی ہے۔

پیرس میں بائنانس کی پانچویں سالگرہ کا کیک

رقم کیسے نکلی؟

والیٹس پر نظر رکھنے والے محققین کے مطابق حملے میں ایتھیریم کی ایک خصوصیت استعمال ہوئی جسے ای آئی پی-7702 کہتے ہیں، جو مئی 2025 میں پیکٹرا اپ گریڈ کے ساتھ آئی تھی۔ اس خصوصیت سے ایک عام والیٹ عارضی طور پر کسی اسمارٹ کانٹریکٹ کو اپنا کنٹرول سونپ سکتا ہے۔ اس کیس میں بائنانس 14 والیٹ کو حملہ آور کے بنائے ہوئے کانٹریکٹ کی طرف موڑ دیا گیا، اور اس کانٹریکٹ نے ایک ہی ٹرانزیکشن میں والیٹ خالی کر دیا۔ وصول کرنے والا ایڈریس صرف ایک دن پہلے بنایا گیا تھا، اور محققین کے مطابق اسے ٹورنیڈو کیش نامی مکسر کے ذریعے 28 اکتوبر کو تھوڑی سی ایتھر بھیجی گئی تھی۔ چالیس منٹ کے اندر ایتھیریم کی منتقلی کی بڑی لہر ختم ہو گئی — اور رقم چند منٹ میں آگے بڑھا دی گئی، کئی بلاک چینز پر، جو عام ودڈرال کی نہیں بلکہ حملے کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔

یہاں ایک احتیاط ضروری ہے: یہ سب محققین کی تعمیر کردہ کہانی ہے، بائنانس کی تصدیق شدہ رپورٹ نہیں۔ بلاک چین پر منتقلیاں سب کے سامنے ہیں اور ایتھر اسکین پر دیکھی جا سکتی ہیں؛ مگر چابیاں کس کے کنٹرول میں تھیں، اور باہر کا ایڈریس بائنانس کے اپنے والیٹس سے ودڈرال کیسے کروا سکا — یہ بائنانس نے ابھی بتایا ہی نہیں۔ جب تک ایکسچینج اپنی رپورٹ شائع نہیں کرتا، طریقہ کار کی ہر وضاحت کو محققین کا اندازہ سمجھنا چاہیے، حتمی حقیقت نہیں۔

منجمد کرنے کی دوڑ

جو بات تصدیق شدہ ہے وہ منجمد کرنے والوں کا ردعمل ہے، کیونکہ اسٹیبل کوائن جاری کرنے والوں نے خود اس کا اعلان کیا۔ ٹیتھر کے چیف ایگزیکٹو پاؤلو آرڈوینو نے کہا کہ کمپنی نے اس واقعے سے منسلک 1.567 ارب ڈالر سے زیادہ یو ایس ڈی ٹی منجمد کیے۔ سرکل کے شریک بانی جیرمی ایلیئر نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر 800 ملین ڈالر سے زیادہ یو ایس ڈی سی منجمد کیے گئے۔ بائنانس نے بعد میں کہا کہ جمعرات کی شام تک مجموعی طور پر 2.54 ارب ڈالر منجمد ہو چکے ہیں، اور یہ عدد بڑھ سکتا ہے۔ یی ہی نے یہ بھی بتایا کہ رپل نے 200 ملین ڈالر کی منتقلی روکنے میں مدد کی۔ اسٹیبل کوائن اس لیے منجمد ہو سکتے ہیں کہ انہیں مرکزی ادارے جاری کرتے ہیں اور وہ کسی ایڈریس کو بلیک لسٹ کر سکتے ہیں؛ ایتھر اور بٹ کوائن کا ایسا کوئی سوئچ نہیں، اس لیے منجمد نہ ہونے والا حصہ — زیادہ تر ایتھر — واپس لانا سب سے مشکل ہوگا۔

ایک بٹ کوائن اے ٹی ایم

اصل عدد کیا ہے؟ ہر عدد اندازہ ہے

قارئین کو اس خبر کے ساتھ بہت مختلف اعداد نظر آئیں گے، اور وہ سب ایک ہی چیز نہیں ناپ رہے۔ محتاط آن چین گنتی کم از کم 2 ارب ڈالر بتاتی ہے۔ صرف ایتھیریم کی منتقلیاں تقریباً چالیس منٹ میں 3.3 سے 3.5 ارب ڈالر بنتی ہیں۔ تمام بلاک چینز کی بڑی گنتی 5.7 سے 5.8 ارب ڈالر تک جاتی ہے — مگر تجزیہ کار خود خبردار کرتے ہیں کہ یہ عدد حملہ آور سے منسلک والیٹس میں موجود بیلنس گنتا ہے، جو چوری کی تصدیق شدہ رقم نہیں، اور گنے گئے بعض والیٹس کا تعلق بھی نہیں ہو سکتا۔ وال اسٹریٹ جرنل کا حوالہ دیا گیا عدد کم از کم 1.7 ارب ڈالر ہے۔ منجمد رقم کے بعد خالص نقصان کا ایک بیرونی اندازہ تقریباً 1 ارب ڈالر ہے؛ سی زیڈ نے کہا کہ نقصان اس سے 'تھوڑا زیادہ' ہو سکتا ہے، مگر وہ پورا کیا جائے گا۔ تازہ پلس اس لیے ایک عدد کی بجائے پوری رینج شائع کر رہا ہے — کیونکہ بائنانس نے کوئی عدد تصدیق نہیں کیا، اور مجموعی رقم، منجمد رقم اور خالص نقصان کا فرق ہی وہ جگہ ہے جہاں گمراہ کن سرخیاں بنتی ہیں۔

اگر درمیانے اندازے بھی درست نکلے تو یہ فروری 2025 میں بائی بٹ کے 1.5 ارب ڈالر کے ہیک سے بڑا ہوگا، جو اب تک کا سب سے بڑا تصدیق شدہ کرپٹو چوری تھا۔ مگر یہ موازنہ بھی حتمی عدد پر منحصر ہے جو ابھی موجود نہیں۔ جو بات شک سے بالاتر ہے وہ مارکیٹ کا ردعمل ہے: ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جمعرات کی شام بٹ کوائن 3.2 فیصد گر کر 79,000 ڈالر سے نیچے آ گیا، اور ایک گھنٹے میں 60 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی لیکویڈیشن ہوئی۔ بائنانس کا اپنا ٹوکن بی این بی اور پوری مارکیٹ اس کے ساتھ گری — اس بات کی یاد دہانی کہ سب سے بڑی ایکسچینج کا واقعہ پوری مارکیٹ کو ہلا دیتا ہے، چاہے ایکسچینج صارفین کے بیلنس محفوظ ہونے کا دعویٰ کرے۔

پاکستانی صارفین کے لیے اس کا مطلب

یہ کی ورڈ پاکستان میں رات بھر سب سے زیادہ سرچ ہونے والوں میں تھا، اور یہاں کے صارفین کا سوال بھی وہی ہے جو دنیا بھر میں ہے: کیا میں رقم نکال سکتا ہوں، اور کیا میرا بیلنس محفوظ ہے؟ اس رپورٹ کے وقت بائنانس ڈاٹ کام پر ودڈرال بند ہیں، بحالی کا کوئی وقت اعلان نہیں ہوا؛ بائنانس کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی مسئلہ مکمل حل ہوتے ہی ودڈرال بحال ہوں گے۔ بائنانس یو ایس نے کہا ہے کہ وہ متاثر نہیں ہوا۔ بائنانس کا کہنا ہے کہ فنڈز مکمل محفوظ ہیں اور نقصان پورا کیا جائے گا، مگر اس دعوے کی پشت پر ابھی کوئی عدد شائع نہیں ہوا — اور بیان پہلے ہی دو بار بدلا جا چکا ہے، اس لیے اس یقین دہانی کو حتمی حساب آنے تک عارضی موقف سمجھنا چاہیے۔

بائنانس کی اپنی وارننگ دہرانے کے قابل ہے، کیونکہ ایسے واقعات میں جعلساز فوراً سرگرم ہو جاتے ہیں: صارفین کو چاہیے کہ غیر سرکاری لنکس، پیغامات یا اکاؤنٹ کی معلومات مانگنے والی درخواستوں پر بھروسہ نہ کریں۔ واٹس ایپ یا ٹیلی گرام پر 'منجمد فنڈز ان لاک' کرنے کا دعویٰ کرنے والا بائنانس نہیں ہے۔ اصلی اپ ڈیٹس صرف بائنانس کے سرکاری چینلز سے آئیں گی، اور کوئی اصلی سپورٹ ایجنٹ پاس ورڈ، سیڈ فریز یا رقم جاری کرنے کے لیے ادائیگی نہیں مانگے گا۔ اسی دن ایک الگ واقعہ — پریڈکشن مارکیٹ پولی مارکیٹ کا تھرڈ پارٹی سافٹ ویئر کی وجہ سے تقریباً 20 لاکھ ڈالر کا معاملہ — بائنانس سے غیر متعلق ہے اور اس کے اعداد میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔

آگے کیا ہوگا؟

اس کہانی کا انجام تین باتوں پر منحصر ہے۔ پہلی، بائنانس کی اپنی تحقیق: حتمی نقصان کا عدد، وجہ، اور والیٹس کیسے متاثر ہوئے۔ دوسری، منجمد کرنے اور واپسی کی کوشش: کیا 2.54 ارب ڈالر کی منجمد رقم بڑھے گی، اور کیا منجمد نہ ہونے والی ایتھر کو مکسرز سے گزرنے سے پہلے ٹریس کیا جا سکے گا۔ تیسری، ودڈرال کی بحالی — مکمل، مرحلہ وار، یا نیٹ ورک بہ نیٹ ورک — وہ لمحہ جب صارفین خود جانچ سکیں گے کہ 'فنڈز محفوظ ہیں' کا دعویٰ قائم رہا یا نہیں۔ تب تک ایماندارانہ خلاصہ یہ ہے: دنیا کی سب سے بڑی ایکسچینج سے بہت بڑی، تیز رفتار رقم نکلی ہے، جس کی تصدیق بلاک چین اور اسٹیبل کوائن منجمد کرنے سے ہوتی ہے؛ ایکسچینج اسے زیر تحقیق 'ممکنہ سیکیورٹی مسئلہ' کہتی ہے؛ اس کا بانی اسے ہیک کہتا ہے اور مکمل کوریج کا وعدہ کرتا ہے؛ اور حتمی عدد، وجہ اور وقت — تینوں ابھی نامعلوم ہیں۔ یہ خبر ابھی جاری ہے، اور بائنانس کے تصدیق شدہ اعداد آتے ہی تازہ پلس اسے اپ ڈیٹ کرے گا۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا بائنانس واقعی ہیک ہو گیا ہے؟

بائنانس نے خود لفظ 'ہیک' استعمال نہیں کیا ہے۔ ایکسچینج کا کہنا ہے کہ وہ 'ممکنہ سیکیورٹی مسئلے' کی تحقیقات کر رہا ہے۔ اس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ نے ایکس پر لکھا کہ 'ایسا لگتا ہے کہ بائنانس ہیک ہوا ہے' — مگر ایکسچینج کی اپنی تحقیق ابھی سامنے نہیں آئی، اس لیے حتمی فیصلہ اسی رپورٹ پر ہوگا۔

کتنی رقم گئی ہے؟

کوئی حتمی عدد تصدیق شدہ نہیں ہے۔ آن چین اندازے کم از کم 2 ارب ڈالر سے لے کر ایتھیریم والیٹس سے 3.3 سے 3.5 ارب ڈالر اور تمام بلاک چینز پر 5.7 سے 5.8 ارب ڈالر تک جاتے ہیں — مگر بڑے اعداد حملہ آور سے منسلک والیٹس میں موجود بیلنس گنتے ہیں، جو چوری کی تصدیق شدہ رقم کے برابر نہیں۔ بائنانس نے کوئی عدد تصدیق نہیں کیا۔

کتنی رقم منجمد ہو چکی ہے؟

بائنانس کے مطابق جمعرات کی شام تک 2.54 ارب ڈالر منجمد ہو چکے تھے۔ ٹیتھر نے 1.567 ارب ڈالر سے زیادہ یو ایس ڈی ٹی اور سرکل نے 800 ملین ڈالر سے زیادہ یو ایس ڈی سی منجمد کیے، اور رپل نے 200 ملین ڈالر کی منتقلی روکنے میں مدد کی۔ اسٹیبل کوائن اس لیے منجمد ہو سکتے ہیں کہ وہ مرکزی ادارے جاری کرتے ہیں؛ ایتھر اور بٹ کوائن کا ایسا کوئی سوئچ نہیں۔

کیا صارفین اب رقم نکال سکتے ہیں؟

بائنانس ڈاٹ کام پر ابھی نہیں: ڈپازٹ اور ودڈرال عارضی طور پر بند ہیں، اور بائنانس ایلفا ٹریڈنگ بھی معطل ہے۔ بحالی کا کوئی وقت اعلان نہیں ہوا۔ بائنانس یو ایس ایک الگ پلیٹ فارم ہے، اس نے کہا ہے کہ وہ متاثر نہیں ہوا اور اس کی سروسز معمول پر ہیں۔

صارفین کو اب کیا احتیاط کرنی چاہیے؟

صرف بائنانس کے سرکاری چینلز کی اپ ڈیٹس پر بھروسہ کریں۔ واٹس ایپ یا ٹیلی گرام پر 'فنڈز ان لاک' کرنے کا دعویٰ کرنے والا کوئی بھی شخص بائنانس نہیں ہے۔ کوئی اصلی سپورٹ ایجنٹ پاس ورڈ، سیڈ فریز یا رقم جاری کرنے کے لیے ادائیگی نہیں مانگے گا — بائنانس نے خود غیر سرکاری لنکس اور اکاؤنٹ کی معلومات مانگنے والے پیغامات سے خبردار کیا ہے۔

مزید پڑھیں

انگریزی میں مکمل رپورٹ  |  معیشت کی خبریں  |  اردو ہوم پیج

حوالہ جات