TaazaPulse — UrduRead in English
سیاست — نئی پیش رفت

سہیل آفریدی سمیت پانچ پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری — ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں نیا موڑ

تازہ پلس سیاست ڈیسک | 29 اکتوبر 2026
پشاور کی تاریخی عدالت کی عمارت

خیبر پختونخوا کی ایمرجنسی کی کہانی میں ایک نئی اور اہم پیش رفت ہوئی ہے: پشاور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف کے چار دیگر رہنماؤں کے خلاف مئی 2023 میں ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت پر حملے کے مقدمے میں وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ بدھ 28 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں عدالت نے یہ وارنٹ اس وقت جاری کیے جب آفریدی پہلے ہی 11 اکتوبر سے نافذ ایمرجنسی اور گورنر راج کے تحت حراست میں ہیں — یعنی اب ان کے خلاف ایک الگ عدالتی کارروائی بھی شروع ہو گئی ہے، جس کی اگلی تاریخ 4 نومبر مقرر ہے۔

عدالت نے یہ فیصلہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے ضمنی چالان پر کیا، جو 13 اکتوبر کو تفتیشی افسر نے داخل کیا تھا۔ اس چالان میں پہلی بار ان پانچ افراد کو باقاعدہ ملزم نامزد کیا گیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ولی محمد خان نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 204 کے تحت وارنٹ جاری کیے اور سماعت 4 نومبر 2026 تک ملتوی کر دی۔ جن پانچ افراد کے نام چالان میں ہیں وہ ہیں: سہیل آفریدی، سابق صوبائی وزیر کامران بنگش، سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا، پی ٹی آئی پشاور کے ضلعی صدر عرفان سلیم اور کارکن عامر خان چمکنی۔ ان میں سے کوئی بھی اصل ایف آئی آر یا پہلے چالان میں ملزم نہیں تھا۔

استغاثہ کا مقدمہ: فرانزک شناخت

استغاثہ کا انحصار شناختی تصدیق کے اس عمل پر ہے جو دسمبر 2025 میں شروع ہوا تھا۔ شکایت کنندہ کے وکیل کی درخواست پر حملے کی ویڈیوز اور پروفائل تصاویر کا موازنہ کیا گیا، اور نادرا اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹوں میں ملزمان کی شناخت کی تصدیق کی گئی — استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ یہ رپورٹیں پانچوں افراد کو حملے کے مقام پر موجود ثابت کرتی ہیں۔ ریڈیو پاکستان پشاور کے اسٹیشن ڈائریکٹر طفیل احمد نے بھی فرانزک نتائج کے بعد ضمنی بیان ریکارڈ کرایا جس میں ملزمان کی شناخت کی گئی۔ سماعت میں پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی طرف سے سینئر وکیل شبیر حسین گگیانی، ریاست کی طرف سے پبلک پراسیکیوٹر منظور عالم خان اور ملزمان کی طرف سے وکیل علی زمان پیش ہوئے۔ دفاع نے تیاری کے لیے مزید وقت مانگا، مگر جج نے درخواست مسترد کر دی۔

پرانا ریڈیو اسٹوڈیو

مئی 2023 کا وہ دن

یہ مقدمہ 9 مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد پھوٹنے والے احتجاج سے جڑا ہے۔ 10 مئی کو مظاہرین نے پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا، توڑ پھوڑ کی اور عمارت کے حصوں کو آگ لگا دی تھی۔ سرکاری نشریاتی ادارے کا یہ صوبائی اسٹیشن ان دو دنوں کی تباہی کی سب سے نمایاں علامتوں میں سے ایک بن گیا تھا۔ اصل مقدمے میں 80 سے زیادہ ملزمان نامزد تھے اور کئی افراد گرفتار و زیر سماعت بھی ہوئے — مگر یہ پانچ افراد ان میں شامل نہیں تھے۔ ان کا نام اب، تین سال بعد، فرانزک عمل کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس شواہد کو چیلنج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ استغاثہ جن ریکارڈنگز پر انحصار کر رہا ہے وہ 10 مئی 2023 کے واقعات کی نہیں ہیں۔ یہ اختلاف اب عدالت کے سامنے ہے اور اس پر فیصلہ ہونا باقی ہے۔ ایک بات واضح رہنی چاہیے: وارنٹ گرفتاری جرم کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ ملزم اس وقت تک بے گناہ تصور ہوتا ہے جب تک عدالت میں جرم ثابت نہ ہو جائے۔ وارنٹ کا مطلب صرف یہ ہے کہ عدالت نے چالان میں نامزدگی قبول کر لی ہے اور اب اگلا مرحلہ ملزمان کی عدالت میں پیشی ہے — رضاکارانہ طور پر یا گرفتاری کے ذریعے۔

عدالت میں جج کا ہتھوڑا

ایمرجنسی کے سائے میں وارنٹ

ان وارنٹس کی اہمیت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب پس منظر دیکھا جائے۔ 11 اکتوبر کو صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف اور کابینہ کے مشورے پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا، جس کی بنیاد آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 بنے۔ وفاقی حکومت کا مؤقف تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دانستہ الگ ہو گئی تھی جبکہ صوبے میں دہشت گردی کی شدت بے مثال تھی۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبائی انتظامیہ سنبھال لی۔

آفریدی ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ ہی حراست میں لیے گئے تھے — انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے مطابق ان کی حراست 12 اکتوبر سے ہے — اور پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ ان کی حراست کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست بھی 4 نومبر کو ہی زیر سماعت ہے، یعنی اب ایک ہی تاریخ کو دو الگ عدالتی کارروائیاں آفریدی سے جڑی ہوئی ہیں: ایک حراست کا آئینی چیلنج، دوسری فوجداری مقدمہ۔ پی ٹی آئی نے ایمرجنسی اور گورنر راج کو سیاسی انتقام کا بہانہ قرار دے کر مسترد کیا ہے، جبکہ انسانی حقوق کمیشن نے منتخب وزیراعلیٰ کی حراست کو جمہوری اقدار پر سنگین حملہ کہا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

4 نومبر کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پہلا سوال یہ ہوگا کہ وارنٹس پر عمل ہوا یا نہیں — پانچوں افراد گرفتار ہوئے، خود پیش ہوئے، یا مفرور رہے۔ پیش ہونے کی صورت میں ضمانت کی درخواستیں سنی جا سکیں گی، اور نہ آنے کی صورت میں استغاثہ اشتہاری قرار دینے سمیت مزید اقدامات مانگ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پارلیمنٹ میں ایمرجنسی کی منظوری، ہائی کورٹ میں اس کا آئینی چیلنج، اور الیکشن کمیشن کا صوبے میں بلدیاتی انتخابات کا حکم بھی چل رہا ہے۔ وارنٹ اس بڑی کہانی کا اختتام نہیں — مگر ایک حراست میں موجود سابق وزیراعلیٰ کے لیے یہ وہ پیش رفت ہے جو سیاسی کشمکش کو ان کے نام کے ساتھ ایک فوجداری مقدمے میں بدل دیتی ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں کن افراد کے نام آئے ہیں؟

سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، سابق صوبائی وزرا کامران بنگش اور تیمور سلیم جھگڑا، پی ٹی آئی پشاور کے ضلعی صدر عرفان سلیم اور کارکن عامر خان چمکنی۔ یہ پانچوں افراد 13 اکتوبر 2026 کو پیش کیے گئے ضمنی چالان کے ذریعے ملزم نامزد ہوئے؛ اصل ایف آئی آر یا پہلے چالان میں ان کا نام نہیں تھا۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے 28 اکتوبر کو کیا فیصلہ دیا؟

جج ولی محمد خان نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 204 کے تحت پانچوں افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے، دفاع کی مزید تیاری کی درخواست مسترد کی اور سماعت 4 نومبر 2026 تک ملتوی کرتے ہوئے وارنٹس پر عمل درآمد کی ہدایت کی۔

استغاثہ کا مقدمہ کن شواہد پر کھڑا ہے؟

نادرا کی شناختی تصدیق اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی فرانزک رپورٹ پر، جن کے بارے میں استغاثہ کا کہنا ہے کہ حملے کی ویڈیوز اور پروفائل تصاویر سے ملزمان کی شناخت ہوئی۔ اس کے ساتھ ریڈیو پاکستان پشاور کے اسٹیشن ڈائریکٹر طفیل احمد کا ضمنی بیان بھی ریکارڈ پر ہے۔

دفاع کا مؤقف کیا ہے؟

پی ٹی آئی رہنماؤں نے ریکارڈنگز کی صداقت اور مواد پر اعتراض کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیوز 10 مئی 2023 کے واقعات کی نہیں ہیں۔ عدالت نے اس اختلاف پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں دیا — وارنٹ گرفتاری محض کارروائی کا ایک مرحلہ ہے، جرم کا فیصلہ نہیں۔

4 نومبر کو کیا ہوگا؟

انسداد دہشت گردی عدالت میں استغاثہ وارنٹس پر عمل درآمد کی رپورٹ دے گا: ملزمان گرفتار ہوئے، پیش ہوئے یا مفرور رہے۔ پیش ہونے کی صورت میں ضمانت کی درخواستیں سنی جا سکیں گی۔ اسی دن پشاور ہائی کورٹ میں آفریدی کی حراست کے خلاف درخواست بھی زیر سماعت ہے۔

مزید پڑھیں

انگریزی میں مکمل رپورٹ  |  سیاست کی مزید خبریں  |  اردو ہوم پیج