سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بدھ کی رات ایک ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے سے کم از کم نو افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہے جو اس وقت ایمبولینس کے اندر موجود تھی جب عملہ سلنڈر تبدیل کر رہا تھا۔ دھماکے کے بعد ایمبولینس میں آگ لگ گئی اور گاڑی مکمل طور پر جل گئی۔ جمعرات کی شام تک ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا — خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے پولیس اور اسپتال حکام کے حوالے سے کم از کم دس ہلاکتوں کی خبر دی ہے۔
واقعہ بدھ 28 اکتوبر کی رات تقریباً 10 بج کر 40 منٹ پر نگرپارکر تحصیل کے گاؤں ڈانو ڈانڈل میں واقع بنیادی صحت مرکز (بی ایچ یو پلس) میں پیش آیا۔ یہ ایمبولینس پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) کی تھی، اور یہی ادارہ اس صحت مرکز کو بھی چلاتا ہے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں، مقامی حکام اور اسسٹنٹ کمشنر نگرپارکر ارم کریم ناریجو جائے وقوعہ پر پہنچے۔ زخمیوں کو مٹھی اور نگرپارکر کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ بعض کو بعد میں کراچی لے جایا گیا۔
ریسکیو حکام اور اسپتال انتظامیہ کے مطابق عملہ مریض کو دوسرے اسپتال منتقل کرنے کی تیاری میں ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر لگا رہا تھا کہ دھماکا ہو گیا۔ تاہم دھماکے کی اصل وجہ تاحال سرکاری طور پر ثابت نہیں ہوئی — یہی وہ نکتہ ہے جس پر جاری تحقیقات مرکوز ہے۔ سوشل میڈیا اور ٹی وی پر آنے والی تصاویر میں گاڑی کو شعلوں میں گھرا ہوا دیکھا گیا، اور بعد میں اس کا جلا ہوا ڈھانچہ عمارت کے باہر کھڑا نظر آیا۔
ہلاکتوں کی تعداد جمعرات بھر بڑھتی رہی: ابتدائی خبروں میں سات، پھر آٹھ، اور جیو نیوز و دی نیوز کے مطابق نو — جب ایک زخمی کراچی لے جاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے جمعرات شام کی اپ ڈیٹ میں کم از کم دس ہلاکتیں بتائیں۔ حتمی ناموں والی فہرست تاحال جاری نہیں ہوئی، اور متوفین کی شناخت کا کام جاری تھا۔
پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں پی پی ایچ آئی کا ڈسپنسر، ایمبولینس کا ڈرائیور، ایک چوکیدار اور مرکز کا ایک اور ملازم شامل ہے۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ حاملہ خاتون اور اس کے دو تیماردار بھی جاں بحق ہوئے۔ ضلعی پولیس سربراہ عارف عزیز کے حوالے سے ایسوسی ایٹڈ پریس نے متوفین کو طبی مرکز کا عملہ، مریض اور ان کے رشتہ دار قرار دیا۔ زخمیوں میں دو دائیاں اور مرکز کی ایک خاتون معاون شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد کے بارے میں بھی رپورٹوں میں فرق ہے — ایک ذریعے نے چار اور دوسرے نے پانچ شدید جھلسے ہوئے زخمی بتائے — اس لیے یہ رپورٹ کوئی ایک عدد حتمی طور پر نہیں لکھتی۔
صدر آصف علی زرداری نے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا، لواحقین سے تعزیت کی، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور وجہ جاننے کے لیے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی انتظامات مضبوط کرنے پر بھی زور دیا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی غم کا اظہار کیا اور جامع و غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حقائق سامنے لائے جائیں، اور اگر غفلت یا کسی مجرمانہ فعل کا ثبوت ملے تو ذمہ داروں کا احتساب ہو۔ انہوں نے تھرپارکر میں صحت اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کی بھی اپیل کی۔
سندھ حکومت نے عملی اقدامات کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ہر جاں بحق شخص کے خاندان کے لیے 20 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا، زخمیوں کے بہترین علاج کی ہدایت دی، اور چیف سیکریٹری کے ذریعے محکمہ صحت سے شفاف انکوائری کرانے کا حکم دیا۔ متوفین کی تدفین کے انتظامات کی بھی ہدایت کی گئی، اور رکن سندھ اسمبلی قاسم سومرو کو نگرپارکر پہنچ کر امدادی کاموں کی نگرانی کا ذمہ سونپا گیا۔
صوبائی وزیر داخلہ و قانون ضیاء الحسن لنجار نے بھی واقعے کا نوٹس لیا اور تھرپارکر کے ایس ایس پی و ڈپٹی کمشنر سے تفصیلات طلب کیں۔ ترجمان کے مطابق میرپورخاص اور کراچی سے ماہر ٹیمیں شواہد کا جائزہ لینے کے لیے بلائی گئی ہیں۔ یہی ماہرین بتائیں گے کہ سلنڈر خود پھٹا، اسے غلط طریقے سے لگایا گیا، یا کوئی اور حفاظتی خامی آگ کا سبب بنی۔
تھرپارکر سندھ کا خشک اور دور افتادہ ضلع ہے، جہاں فاصلے لمبے ہیں اور عوامی صحت کی سہولتیں ہی اکثر خاندانوں کا واحد سہارا ہوتی ہیں۔ وہاں بنیادی صحت مرکز کوئی سہولت نہیں، ضرورت ہے — اور اس کی ایمبولینس مٹھی یا اس سے آگے کے اسپتال تک پہنچنے کا واحد راستہ۔ جب وہی ایمبولینس مہلک آگ کا منظر بن جائے تو نقصان صرف گاڑی میں موجود جانوں کا نہیں ہوتا — دیہی صحت پر عوام کے اعتماد کو بھی دھچکا لگتا ہے، کیونکہ اگلی بار کوئی خاندان اپنے مریض کو ایمبولینس میں بٹھاتے ہوئے اسی رات کو یاد کرے گا۔
اسی لیے تحقیقات کے سوالات عملی ہونے چاہئیں: کیا سلنڈر کا معائنہ ہوا تھا اور وہ مدت کے اندر تھا؟ کیا اسے تربیت یافتہ عملے نے طریقے سے لگایا؟ کیا گاڑی اور مرکز کے آلات کی باقاعدہ حفاظتی جانچ ہوتی تھی؟ یہ گاڑی عوامی پیسے سے چلنے والے صحت پروگرام کی تھی، اس لیے جوابات صرف ڈانو ڈانڈل تک محدود نہیں رہیں گے — سندھ بھر کے بنیادی صحت مراکز کی ایمبولینسوں کی جانچ پر بھی اثر انداز ہوں گے۔
تین کام اب ہونے چاہئیں۔ پہلا، محکمہ صحت کی انکوائری اپنے نتائج شائع کرے — صرف سلنڈر کے بارے میں نتیجہ نہیں، بلکہ ایمبولینس اور مرکز کی معائنے کی تاریخ بھی۔ دوسرا، جاں بحق افراد کے خاندانوں کو اعلان شدہ 20 لاکھ روپے ملیں اور زخمیوں کا علاج مٹھی یا کراچی میں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے۔ تیسرا، پی پی ایچ آئی اور محکمہ صحت بتائیں کہ صوبے بھر میں آکسیجن سلنڈر کے استعمال اور ایمبولینس کی جانچ میں کیا تبدیلی لائی جا رہی ہے — کیونکہ ایک ایمبولینس کی انکوائری، خواہ کتنی ہی مکمل ہو، اگلی منتقلی کو خود بخود محفوظ نہیں بناتی۔
تازہ پلس اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا جب انکوائری رپورٹ آئے گی، حتمی ناموں والی تعداد شائع ہوگی، یا معاوضے و علاج کے انتظامات کی زمینی تصدیق ہوگی۔
اس رپورٹ کا ماخذ: دی نیوز کی نگرپارکر سانحے کی کوریج، ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ (کشمیر انڈیپینڈنٹ میڈیا سروس کے ذریعے)، ڈیلی سون ٹائمز (وزیراعلیٰ ہاؤس سندھ کا بیان) اور جیو نیوز کی 29 اکتوبر کی شام 4 بجے کی سرخیاں۔
بدھ 28 اکتوبر کی رات تقریباً 10:40 پر نگرپارکر کے گاؤں ڈانو ڈانڈل میں بی ایچ یو پلس مرکز پر پی پی ایچ آئی کی ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر پھٹ گیا۔ عملہ مریض کی منتقلی کی تیاری میں سلنڈر لگا رہا تھا اور حاملہ خاتون گاڑی کے اندر موجود تھی۔ دھماکے سے آگ لگی اور ایمبولینس مکمل جل گئی۔
کم از کم نو کی تصدیق ہے؛ تعداد دن بھر 7 سے 8 اور پھر 9 تک پہنچی، اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے شام کی اپ ڈیٹ میں پولیس و اسپتال حکام کے حوالے سے کم از کم دس بتائیں۔ حتمی ناموں والی فہرست تاحال جاری نہیں ہوئی۔
جاں بحق میں حاملہ خاتون، اس کے دو تیماردار، پی پی ایچ آئی ڈسپنسر، ڈرائیور، چوکیدار اور مرکز کا ایک ملازم شامل ہیں۔ زخمیوں میں دو دائیاں اور ایک خاتون معاون شامل ہیں؛ زخمیوں کو مٹھی اور بعض کو کراچی منتقل کیا گیا۔
وجہ سرکاری طور پر ثابت نہیں ہوئی۔ ابتدائی رپورٹوں میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، مگر وزیراعلیٰ ہاؤس نے انکوائری کو سلنڈر یا دیگر حفاظتی عوامل تک کھلا رکھا ہے۔ میرپورخاص اور کراچی کی ماہر ٹیمیں شواہد کا جائزہ لے رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے فی خاندان 20 لاکھ روپے معاوضہ، زخمیوں کے بہترین علاج، محکمہ صحت سے شفاف انکوائری اور تدفین کے انتظامات کا اعلان کیا؛ قاسم سومرو کو نگرپارکر میں امدادی کاموں کی نگرانی سونپی گئی۔ صدر زرداری اور بلاول بھٹو نے بھی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
انگریزی میں مکمل رپورٹ | سیاست کی مزید خبریں | اردو ہوم پیج