TaazaPulse — UrduRead in English
کرکٹ — بھارت کا نیوزی لینڈ کا دورہ

فلپس کی سنچری، ڈفی کی چار وکٹیں: نیوزی لینڈ نے بھارت کو 87 رنز سے ہرا دیا

تازہ پلس نیوز ڈیسک | 30 اکتوبر 2026
سنچری کے بعد بیٹ بلند کرتے گلین فلپس

نیوزی لینڈ نے آخرکار بھارت کے خلاف پانچ میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں اپنی پہلی جیت حاصل کر لی، اور وہ بھی شاندار انداز میں۔ جمعہ 30 اکتوبر 2026 کو آکلینڈ کے ایڈن پارک میں گلین فلپس نے صرف 49 گیندوں پر 107 رنز بنائے، مائیکل بریسویل نے 25 گیندوں پر 65 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی، اور میزبان ٹیم نے 259 رنز کا پہاڑ کھڑا کر دیا۔ جواب میں جیکب ڈفی نے نئی گیند سے بھارتی ٹاپ آرڈر کو تہس نہس کر دیا — 23 رنز دے کر چار وکٹیں — اور بھارت 172 رنز پر ڈھیر ہو گیا۔ نیوزی لینڈ 87 رنز سے جیت گیا، بھارت کا 5-0 سے وائٹ واش کا خواب ختم ہو گیا، اور سیریز کا فرق 3-1 رہ گیا۔ بھارت سیریز پہلے ہی جیت چکا تھا، اس لیے نتیجے سے سیریز کا فیصلہ نہیں بدلا، مگر جیت کا انداز بہت کچھ کہتا ہے: ایک ایسی ٹیم کے خلاف ریکارڈ مجموعہ، جو اس سے پہلے سیریز میں ناقابل شکست نظر آ رہی تھی۔

میچ کی کہانی ایک شراکت کی کہانی ہے۔ نیوزی لینڈ 11ویں اوور میں 112 رنز پر چار وکٹیں گنوا چکا تھا جب فلپس بیٹنگ کے لیے آئے۔ بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کا فیصلہ کیا تھا اور ابتدائی وکٹیں لے کر کھیل پر قابو پا لیا تھا۔ پھر فلپس اور بریسویل نے 115 رنز کی شراکت قائم کی جس نے ایک اچھے مجموعے کو ناقابل تسخیر مجموعے میں بدل دیا۔ فلپس نے صرف 46 گیندوں پر سنچری مکمل کی، اور بریسویل نے 260 کے اسٹرائیک ریٹ سے چار چوکے اور چھ چھکے لگائے۔ دونوں نے بمشکل گیارہ اوورز میں 172 رنز جوڑ دیے، اور جب بریسویل 18ویں اوور میں 227 کے مجموعے پر آؤٹ ہوئے تو کھیل بھارت کی پہنچ سے نکل چکا تھا۔ نیوزی لینڈ کا 259 رنز کا مجموعہ ایڈن پارک پر ٹی ٹوئنٹی کا سب سے بڑا مجموعہ ہے، ڈومیسٹک میچوں سمیت — یہ بات ای ایس پی این کرک انفو کی میچ رپورٹ میں درج ہے۔

آکلینڈ میں ایڈن پارک اسٹیڈیم

فلپس کی اننگز کیوں خاص تھی؟

فن ایلن نے 17 گیندوں پر 31 رنز بنا کر تیز آغاز دیا تھا، مگر اکشر پٹیل نے آٹھویں اوور کے آخر میں انہیں آؤٹ کیا، بیون جیکبز مینک یادو کی گیند پر 7 رنز بنا کر چلے گئے، اور 112 پر چار وکٹوں کے بعد اننگز کو سہارا چاہیے تھا۔ فلپس نے وہ سہارا حملے سے دیا: انہوں نے اکشر کی بائیں ہاتھ کی اسپن کو نشانہ بنایا — اکشر نے تین اوورز میں 43 رنز دے کر ایک وکٹ لی — اور نتیش کمار ریڈی کے 16ویں اوور میں 32 رنز بٹورے، جس میں لگاتار چار چھکے شامل تھے۔ کپتان مچل سینٹنر دوسرے سرے سے دیکھتے رہے کہ مجموعہ 200 سے آگے اور پھر 250 سے آگے نکل گیا۔ جب فلپس 107 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو نقصان مکمل ہو چکا تھا: نیوزی لینڈ نے ایک مسابقتی مجموعے کو ریکارڈ مجموعے میں بدل دیا تھا۔

بھارت کا تعاقب پہلے ہی اوور میں بکھر گیا۔ ڈفی نے نئی گیند سے سنجو سیمسن اور ایشان کشن کو پہلے اوور میں آؤٹ کیا، ابھیشیک شرما 15 گیندوں پر 27 اور کپتان شریاس آئیر 11 گیندوں پر 22 رنز بنا کر چلے گئے۔ فیصلہ کن مرحلہ نویں اوور میں آیا، جب سینٹنر نے نتیش کمار ریڈی اور اکشر پٹیل کو لگاتار گیندوں پر آؤٹ کیا — اکشر 9 گیندوں پر 7 رنز بنا کر — اور بھارت 89 رنز پر چھ وکٹوں کے ساتھ مشکلات میں گھر گیا۔ نمن دھیر نے 13 گیندوں پر 28 رنز کی جوابی کوشش کی، مگر ڈفی نے واپس آ کر انہیں اور پھر ارشدیپ سنگھ کو لگاتار گیندوں پر آؤٹ کر دیا، اور 11.3 اوورز میں 121 پر آٹھ وکٹوں کے بعد تعاقب صرف اوورز پورے کرنے کی مشق رہ گیا۔ تلک ورما 35 گیندوں پر 35 رنز کے ساتھ آخر تک لڑے، مگر مطلوبہ رن ریٹ ڈیتھ اوورز سے پہلے ہی 25 کے قریب پہنچ چکا تھا۔ وہ دوسرے آخری اوور میں فشر کی گیند پر آؤٹ ہوئے، اور پرنس یادو 18 رنز ناقابل شکست رہے۔

بھارت کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جرسی میں ارشدیپ سنگھ

ارشدیپ کا سنگ میل

شکست کے باوجود ایک بھارتی سنگ میل اس میچ میں قائم ہوا، اور وہ ارشدیپ سنگھ کا ہے۔ بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر نے اس میچ میں 38 رنز دے کر ایک وکٹ لی — سینٹنر کی 5 رنز پر وکٹ — اور اس کے ساتھ مردوں کی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں 150 وکٹیں مکمل کر لیں، ایسا کرنے والے پہلے بھارتی بولر بن گئے۔ یہ سنگ میل ان کی مستقل مزاجی کا ثبوت ہے: ارشدیپ دو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران بھارت کے سب سے قابل اعتماد ڈیتھ بولر رہے ہیں، اور وہ آکلینڈ پہلے ہی 2026 میں 38 وکٹوں کے ساتھ ایک سال میں سب سے زیادہ وکٹوں کا بھارتی ریکارڈ بنا کر پہنچے تھے، جو انہوں نے کرائسٹ چرچ میں بھونیشور کمار کا 37 وکٹوں کا 2022 کا ریکارڈ توڑ کر قائم کیا تھا۔ یہ ریکارڈ یاد رہے گا؛ شکست بھارت کے لیے ایک ایسی سیریز کا فٹ نوٹ ہے جو وہ پہلے ہی جیت چکا ہے۔

سیریز کے تناظر میں اس نتیجے کو درست جگہ پر رکھنا ضروری ہے۔ بھارت 3-1 سے آگے ہے اور سیریز ویلنگٹن میں پہلے تین میچ جیت کر اپنے نام کر چکا ہے، جن میں کرائسٹ چرچ میں تلک اور نتیش کی بدولت ایک گیند باقی رہتے ہوئے چار وکٹوں کی سنسنی خیز جیت بھی شامل تھی۔ اس لیے ایڈن پارک کی جیت سیریز دوبارہ نہیں کھولتی، مگر اس کا آخری باب بدل دیتی ہے۔ پانچواں اور آخری میچ اتوار یکم نومبر کو ہیملٹن میں ہوگا، اور وہ فیصلہ کرے گا کہ بھارت 4-1 سے جیتتا ہے یا 3-2 سے — یہ فرق رینکنگ، اگلی سیریز سے پہلے کی رفتار، اور اس کہانی کے لیے اہم ہے جو نیوزی لینڈ اس دورے کے بارے میں سنا سکے گا۔ جمعہ کی جیت نے نیوزی لینڈ کی اس مایوسی کا بھی خاتمہ کیا جو تین مسلسل شکستوں کے بعد پیدا ہوئی تھی: ایڈن پارک پر، آخرکار، اس نے ایک مکمل کارکردگی پیش کی — ریکارڈ مجموعہ، منظم دفاع، اور ایک ایسی جیت جس پر کوئی بحث نہیں۔

ایک عوامی تقریب میں تلک ورما

پاکستان کے کرکٹ شائقین کے لیے، جنہوں نے جمعہ کی شام اس میچ کو بڑی تعداد میں تلاش کیا، یہ نتیجہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سیریز کی شکل کتنی جلدی بدل سکتی ہے: تین دن پہلے بھارت ناقابل تسخیر لگ رہا تھا، اور جمعہ کو اسے 87 رنز سے شکست ہوئی۔ یہی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اتوار کا آخری میچ، سیریز کا فیصلہ ہو جانے کے باوجود، دیکھنے کے قابل ہے۔ بھارت ہیملٹن میں سیریز 4-1 سے ختم کرنے کی کوشش کرے گا، اور اسے مڈل آرڈر کی کمزوری اور ڈیتھ بولنگ کے سوالات کا جواب دینا ہوگا — ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق صرف وکٹ کے پیچھے 84 رنز بنے۔ نیوزی لینڈ 3-2 سے ختم کرنے اور فلپس کی سنچری کی رفتار کو اگلی سیریز تک لے جانے کی کوشش کرے گا۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

بھارت اور نیوزی لینڈ کے چوتھے ٹی ٹوئنٹی کا نتیجہ کیا رہا؟

نیوزی لینڈ نے جمعہ 30 اکتوبر 2026 کو آکلینڈ کے ایڈن پارک میں بھارت کو 87 رنز سے شکست دی۔ نیوزی لینڈ نے 20 اوورز میں 259 رنز بنائے اور بھارت کو 172 رنز پر آؤٹ کر دیا۔ گلین فلپس کو 49 گیندوں پر 107 رنز کی اننگز پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

میچ کے نمایاں کھلاڑی کون رہے؟

گلین فلپس نے 49 گیندوں پر 107 رنز بنائے اور صرف 46 گیندوں پر سنچری مکمل کی، مائیکل بریسویل نے 25 گیندوں پر 65 رنز بنائے، اور دونوں نے 115 رنز کی شراکت قائم کی۔ گیند بازی میں جیکب ڈفی نے 23 رنز دے کر چار وکٹیں لیں، مچل سینٹنر نے 24 رنز پر دو اور میتھیو فشر نے 40 رنز پر دو وکٹیں حاصل کیں۔

تلک ورما اور اکشر پٹیل نے کیسا کھیل پیش کیا؟

تلک ورما نے 35 گیندوں پر 35 رنز بنا کر بھارت کی طرف سے سب سے زیادہ اسکور کیا، اس رات جب بھارتی اننگز نو اوورز میں 89 رنز پر چھ وکٹوں کے ساتھ لڑکھڑا گئی تھی۔ اکشر پٹیل کا دن مشکل رہا: انہوں نے 43 رنز دے کر ایک وکٹ لی، بریسویل نے ان کے ایک اوور میں چار، چار، چھکا اور چار لگائے، اور وہ خود 9 گیندوں پر 7 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

ارشدیپ سنگھ نے کون سا سنگ میل عبور کیا؟

ارشدیپ سنگھ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 150 وکٹیں لینے والے پہلے بھارتی بولر بن گئے۔ اس میچ میں ان کی ایک وکٹ — نیوزی لینڈ کے کپتان مچل سینٹنر کی 5 رنز پر وکٹ — انہیں اس سنگ میل تک لے گئی۔ وہ کرائسٹ چرچ میں دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں ایک سال میں 38 وکٹوں کے ساتھ بھارت کے کیلنڈر ایئر ریکارڈ بھی بنا چکے تھے۔

سیریز کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟

بھارت پانچ میچوں کی سیریز میں 3-1 سے آگے ہے اور سیریز پہلے ہی جیت چکا ہے، کیونکہ اس نے ویلنگٹن میں پہلے تین میچ جیت کر سیریز اپنے نام کر لی تھی۔ اتوار یکم نومبر کو ہیملٹن میں آخری میچ فیصلہ کرے گا کہ بھارت 4-1 سے جیتتا ہے یا 3-2 سے۔

کیا یہ میچ ون ڈے تھا، جیسا کہ کچھ تلاشوں میں لکھا گیا؟

نہیں — 30 اکتوبر 2026 کو ایڈن پارک میں کھیلا گیا میچ بھارت کے نیوزی لینڈ کے دورے کا چوتھا ٹی ٹوئنٹی تھا، ون ڈے نہیں۔ پاکستان میں کچھ تلاشوں میں 'انڈیا ورسز نیوزی لینڈ ون ڈے' لکھا گیا، مگر تصدیق شدہ اسکور کارڈ، 20 اوورز کے مجموعے اور تمام میچ رپورٹس ٹی ٹوئنٹی کی تصدیق کرتی ہیں۔ اس تاریخ کو اس سیریز میں کوئی ون ڈے نہیں کھیلا گیا۔

مزید پڑھیں

انگریزی میں مکمل رپورٹ  |  کرکٹ کی خبریں  |  اردو ہوم پیج

حوالہ جات