پاکستان میں اکتوبر کے آخری ہفتے میں قلیل مدتی مہنگائی میں کچھ کمی آئی، مگر یہ ریلیف صرف آدھی کہانی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے مطابق سینسیٹیو پرائس انڈیکیٹر (ایس پی آئی) 29 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں ہفتہ وار بنیاد پر 0.35 فیصد گرا۔ اسی رپورٹ میں سالانہ بنیاد پر ایس پی آئی گزشتہ سال کے اسی ہفتے سے 11.32 فیصد زیادہ ہے۔ دونوں اعداد ایک ساتھ درست ہیں، اور ان میں فرق نہ سمجھنا اس خبر کو غلط سمجھنے کا آسان ترین طریقہ ہے: ہفتہ وار عدد کہتا ہے کہ ٹوکری سات دن میں تھوڑی سستی ہوئی، سالانہ عدد کہتا ہے کہ وہی ٹوکری بارہ ماہ پہلے سے بہت مہنگی ہے۔
جمعے کی صبح قارئین تک پہنچنے والی دو سرخیاں بھی اسی فرق سے سمجھ میں آتی ہیں۔ ڈان نے خبر کو '11.32 فیصد' کے ساتھ پیش کیا — یعنی سالانہ شرح، جسے اس نے جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا کی قیمتوں سے جوڑا۔ اے آر وائی نے خبر کو '0.35 فیصد کمی' کے ساتھ پیش کیا — یعنی ہفتہ وار تبدیلی۔ یہ دو الگ خبریں نہیں، ایک ہی پی بی ایس رپورٹ کے دو رخ ہیں، اور دونوں غلط نہیں۔ یہ مضمون دونوں کو، اشیا کی تفصیل کے ساتھ، بیان کرتا ہے تاکہ قاری خود دیکھ سکے کہ کیا سستا ہوا، کیا مہنگا ہوا، اور کیا بالکل نہیں بدلا۔
بنیادی اعداد یہ ہیں: مجموعی ایس پی آئی پچھلے ہفتے سے 0.35 فیصد کم ہوا، اور گزشتہ سال کے اسی ہفتے سے 11.32 فیصد زیادہ ہے۔ اس سے پچھلے ہفتے، یعنی 22 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں، ہفتہ وار اضافہ 0.65 فیصد اور سالانہ اضافہ 11.85 فیصد تھا۔ اس لحاظ سے یہ ہفتہ پچھلے ہفتے سے دونوں پیمانوں پر بہتر رہا: ہفتہ وار تبدیلی 0.65 فیصد اضافے سے 0.35 فیصد کمی میں بدلی، اور سالانہ شرح 11.85 سے کم ہو کر 11.32 فیصد پر آ گئی۔ یہ بہتری حقیقی ہے، مگر اسے بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ 11 فیصد سے اوپر کی سالانہ شرح کا مطلب یہ ہے کہ ہفتہ وار خریداری کی ٹوکری اب بھی ایک سال پہلے سے تقریباً نوواں حصہ مہنگی ہے، اور ایک ہفتے کی کمی اس اضافے کا صرف چھوٹا سا حصہ واپس لیتی ہے۔
ایس پی آئی ہے کیا، اور یہ ہر ہفتے کیوں حرکت کرتا ہے جبکہ مشہور مہنگائی کی شرح ماہانہ ہوتی ہے؟ ایس پی آئی پی بی ایس کا ہفتہ وار پیمانہ ہے جو قلیل مدتی قیمتوں کی حرکت ناپتا ہے۔ اس میں 51 بنیادی اشیا شامل ہیں، جن کی قیمتیں 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے جمع کی جاتی ہیں، اور یہ ہر ہفتے اس لیے جاری ہوتا ہے کہ پالیسی ساز، تاجر اور گھرانے قیمتوں کا دباؤ بنتے یا کم ہوتے ہوئے تقریباً فوری طور پر دیکھ سکیں، نہ کہ ماہانہ کنزیومر پرائس انڈیکس کا انتظار کریں۔ ٹوکری جان بوجھ کر تنگ اور بنیادی رکھی گئی ہے: غذائی اجناس، کھانا پکانے کا ایندھن، گھر کی توانائی اور چند روزمرہ اشیا۔ یہی تنگی اس کی طاقت بھی ہے اور حد بھی: یہ ٹماٹر کی قلت یا چکن کی قیمت پر فوراً ردعمل دیتا ہے، اس لیے ایک ہی ہفتے میں تیزی سے اوپر یا نیچے جا سکتا ہے، مگر یہ تمام صارفی قیمتوں کی مکمل تصویر نہیں۔ ایس پی آئی میں ہفتہ وار کمی باورچی خانے کے بجٹ کے لیے اچھی خبر ہے؛ یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ مجموعی مہنگائی پلٹ گئی ہے۔
ہفتہ وار تفصیل بتاتی ہے کہ منڈی زیادہ تر ساکت رہی، اور بڑی حرکتیں کناروں پر ہوئیں۔ 51 اشیا میں سے 15 اشیا (29.41 فیصد) کی قیمتیں بڑھیں، 12 اشیا (23.53 فیصد) کی قیمتیں گریں، اور 24 اشیا (47.06 فیصد) کی قیمتیں بالکل نہیں بدلیں۔ تقریباً آدھی ٹوکری نے کوئی حرکت نہیں کی، اسی لیے مجموعی ہفتہ وار تبدیلی چھوٹی رہی، حالانکہ چند اشیا میں بہت بڑی تبدیلیاں آئیں۔ اس ہفتے کی کہانی اس لیے وسیع پیمانے پر قیمتوں کا گرنا نہیں، بلکہ ایک دوسرے کو کاٹنے والی حرکتیں ہیں: چند اشیا اتنی گریں کہ چند تیزی سے بڑھنے والی اشیا کا اثر زائل ہو گیا، جبکہ اکثر اشیا وہیں کی وہیں رہیں۔
سب سے بڑی ہفتہ وار کمی پہلی آمدنی والی جماعت کے لیے بجلی کے چارجز میں آئی: 3.92 فیصد۔ یہ اہم ہے کیونکہ بجلی کوئی اختیاری خریداری نہیں: کم خرچ والے گھرانوں کے لیے بجلی کا پہلا بلاک گھر چلانے کی مقررہ لاگت ہے، اور اس میں کمی ماہانہ بل میں فوراً محسوس ہوتی ہے۔ چکن 2.95 فیصد سستا ہوا، انڈے 2.81 فیصد — پاکستانی گھرانوں میں سستے پروٹین کے دو اہم ترین ذرائع، جن کی قیمتیں اس لیے غور سے دیکھی جاتی ہیں کہ وہ اکثر بدلتی ہیں۔ گندم کا آٹا، جو روٹی کی بنیاد ہے، 0.83 فیصد سستا ہوا۔ ایل پی جی 0.73 فیصد، کیلا 0.71 فیصد، چاول آئی آر آر آئی اور مسور کی دال 0.43 فیصد فی کس، پیٹرول 0.39 فیصد، چینی 0.35 فیصد، خشک دودھ 0.33 فیصد سستا ہوا۔ مجموعی طور پر یہ کمی ہفتہ وار باورچی خانے کے مرکز کو چھوتی ہے: آٹا، چکن، انڈے، کھانا پکانے کی گیس، پیٹرول اور چینی — سب پچھلے ہفتے سے سستے۔
ان کمیوں کے مقابلے میں ایک چیز نے ہفتہ وار اضافے پر غلبہ حاصل کیا: ٹماٹر ایک ہی ہفتے میں 34.91 فیصد مہنگا ہو گیا — 51 اشیا میں سب سے بڑا اضافہ۔ ٹماٹر جلد خراب ہونے والی، موسمی چیز ہے جس کی قیمت شہری منڈیوں میں رسد تنگ ہوتے ہی اچھلتی ہے، اور سات دن میں اس قدر اضافہ وہ حرکت ہے جو سبزی کے ٹھیلے پر گھرانوں کو فوراً محسوس ہوتی ہے، چاہے مجموعی انڈیکس گر رہا ہو۔ آلو 3.27 فیصد، ڈیزل 2.53 فیصد، چنے کی دال 2.11 فیصد، سادہ روٹی 1.29 فیصد، پیاز 0.62 فیصد، تازہ دودھ 0.48 فیصد، دہی 0.46 فیصد، بناسپتی گھی (اڑھائی کلو) 0.29 فیصد، لکڑی 0.20 فیصد مہنگی ہوئی۔ ڈیزل کا اضافہ الگ توجہ کا مستحق ہے: ڈیزل مال برداری، کھیتی اور پبلک ٹرانسپورٹ کو چلاتا ہے، اس لیے اس میں اضافہ کچھ وقفے سے دوسری قیمتوں میں بھی سرایت کرتا ہے، چاہے فوری انڈیکس اثر چھوٹا ہو۔ اسی منطق سے پیٹرول کی 0.39 فیصد ہفتہ وار کمی کو بھی دیکھنا چاہیے، جو پاکستان کے روزانہ ایندھن کی قیمتوں کی نظرثانی کے نظام کے ساتھ جڑی ہے — 30 اکتوبر کی نظرثانی میں پیٹرول 377.91 روپے فی لیٹر پر برقرار رہا تھا۔
سالانہ تصویر ہفتہ وار تصویر سے زیادہ سخت ہے، اور 11.32 فیصد کا عدد یہیں سے آتا ہے۔ سالانہ بنیاد پر سب سے زیادہ اضافہ ایل پی جی میں ہوا: 106.86 فیصد — یعنی ایک سال پہلے سے دوگنا سے زیادہ۔ پہلی جماعت کے لیے بجلی 52.38 فیصد، ڈیزل 45.13 فیصد، پیٹرول 43.61 فیصد مہنگا ہوا۔ صرف یہ چار توانائی کی اشیا گھریلو بجٹ پر دباؤ کی بڑی وجہ بیان کر دیتی ہیں، کیونکہ یہ کھانا پکانے، روشنی، سفر اور نقل و حمل کی لاگت ایک ساتھ بڑھاتی ہیں۔ غذائی اشیا میں گندم کا آٹا سال بھر میں 34.87 فیصد، چکن 31.72 فیصد، مرچ پاؤڈر 15.55 فیصد، مٹن 14.66 فیصد، سادہ روٹی 12.26 فیصد، گائے کا گوشت 12.10 فیصد، پیاز 8.99 فیصد، تیار چائے 8.41 فیصد مہنگی ہوئی۔ یعنی جو گھرانہ گزشتہ سال جیسا آٹا، چکن اور روٹی خرید رہا ہے، وہ آٹے اور چکن پر تقریباً تہائی زیادہ ادا کر رہا ہے، حالانکہ اس خاص ہفتے میں دونوں چیزیں تھوڑی سستی ہوئیں۔
سالانہ کمیاں بھی اتنی ہی سبق آموز ہیں، کیونکہ وہ بتاتی ہیں کہ ہر چیز ایک سمت میں نہیں چلی۔ آلو گزشتہ سال سے 38.67 فیصد، ٹماٹر 27.99 فیصد، انڈے 26.70 فیصد، چینی 25.21 فیصد، نمک پاؤڈر 14.86 فیصد، گڑ 8.51 فیصد، مسور کی دال 8.37 فیصد، مونگ کی دال 6.42 فیصد سستی ہوئی۔ ٹماٹر اس کی واضح ترین مثال ہے کہ ہفتہ وار اور سالانہ اعداد کو ساتھ پڑھنا کیوں ضروری ہے: ایک ہفتے میں 34.91 فیصد مہنگا، پھر بھی ایک سال پہلے سے 27.99 فیصد سستا — کیونکہ گزشتہ سال ٹماٹر کی قیمت کہیں زیادہ تھی۔ یہی نمونہ، ہلکی شکل میں، چینی پر بھی لاگو ہوتا ہے: اس ہفتے 0.35 فیصد اور سال بھر میں 25.21 فیصد سستی — یہ سالانہ کمی چینی کمیٹی کی اضافی ذخائر اور برآمدی رہنما اصولوں کی حالیہ بحث کے ساتھ بھی جڑی ہے، اور 24 اکتوبر کی کمیٹی میں چینی کی خوردہ قیمت 155 روپے فی کلو کے ہدف سے خاصی نیچے بتائی گئی تھی۔ آلو، جو ہفتہ وار 3.27 فیصد مہنگا ہونے کے باوجود سال بھر میں تیزی سے سستا ہوا، دوسری طرف سے یہی کہانی سناتا ہے: ایک ہفتے کی حرکت سال کے رجحان کے خلاف بھی جا سکتی ہے۔
سالانہ شرح کو خرچ کی جماعتوں میں تقسیم کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بوجھ سب پر برابر نہیں پڑا۔ پی بی ایس گھرانوں کو خرچ کے لحاظ سے پانچ جماعتوں میں بانٹتا ہے، سب سے کم خرچ سے سب سے زیادہ خرچ تک۔ سالانہ ایس پی آئی اضافہ سب سے کم خرچ والی جماعت کے لیے 8.07 فیصد، دوسری کے لیے 9.92 فیصد، تیسری کے لیے 8.95 فیصد، چوتھی کے لیے 9.51 فیصد، اور سب سے زیادہ خرچ والی جماعت کے لیے 12.13 فیصد رہا — ان کا مجموعہ 11.32 فیصد بنتا ہے۔ سب سے زیادہ خرچ کرنے والوں پر سب سے زیادہ اضافہ پڑا، سب سے کم خرچ والوں پر سب سے کم — یہ فرق اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہر جماعت کی ٹوکری مختلف ہے، اور توانائی و نقل و حمل کا وزن اوپر کی جماعتوں میں زیادہ ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کم آمدنی والے گھرانے آرام میں ہیں: تنگ بجٹ پر 8.07 فیصد کا سالانہ اضافہ، جو آٹے، چکن اور کھانا پکانے کے ایندھن پر مرکوز ہے، پھر بھی مشکل فیصلے مجبور کرتا ہے، اور پہلی جماعت کے لیے بجلی کے چارجز میں ہفتہ وار کمی اسی دباؤ کی جگہ پر نشانہ باندھتی ہے۔ مگر یہ ضرور ہے کہ ایک سرخی والی شرح ہر خاندان کا تجربہ نہیں بیان کرتی، اور مجموعی 11.32 فیصد کو ہر گھر کی کہانی نہیں سمجھنا چاہیے۔
گھرانوں کے لیے عملی سوال یہ ہے کہ اس رپورٹ سے دکان پر کیا بدلتا ہے۔ قلیل مدت میں ایماندارانہ جواب یہ ہے: کچھ، مگر سب کچھ نہیں۔ چکن، انڈے، آٹا، ایل پی جی، پیٹرول اور چینی سب پچھلے ہفتے سے تھوڑے سستے ہیں، جو ہفتہ وار خریداری پر حقیقی رقم ہے۔ ٹماٹر، آلو، ڈیزل، پیاز اور تازہ دودھ مہنگے ہیں، اور ٹماٹر تیزی سے، جو روز سبزی خریدنے والے خاندانوں کی اس بچت کا حصہ کھا جائے گا۔ بڑی حقیقت یہ ہے کہ ہفتہ وار ٹوکری اب بھی ایک سال پہلے سے 11 فیصد سے زیادہ مہنگی ہے، جس کی قیادت ایل پی جی اور بجلی کر رہے ہیں، اور ایک ہفتے کی کمی اسے ختم نہیں کر سکتی۔ اس لیے قارئین اس رپورٹ کو سمت میں چھوٹی بہتری سمجھیں، گزشتہ سال کی قیمتوں کی واپسی نہیں۔ اگلی دو ہفتہ وار رپورٹیں اس سے زیادہ اہم ہوں گی: اگر ہفتہ وار تبدیلی منفی رہی تو سالانہ شرح کم ہوتی جائے گی، کیونکہ گزشتہ خزاں کی بلند ریڈنگ موازنے سے نکلتی جائیں گی؛ اگر ٹماٹر اور ڈیزل بڑھتے رہے تو ہفتہ وار انڈیکس اتنی ہی تیزی سے دوبارہ مثبت ہو سکتا ہے جتنی تیزی سے اس ہفتے منفی ہوا تھا۔
پالیسی سازوں کے لیے یہ رپورٹ ایک اور سوال کھڑا کرتی ہے۔ ایس پی آئی اس لیے بنایا گیا ہے کہ قیمتوں کا دباؤ جلد نظر آئے، اور اس ہفتے کے اعداد دو سمتوں میں اشارہ کرتے ہیں۔ بجلی، چکن، انڈوں اور آٹے میں کمی بتاتی ہے کہ وہ دباؤ جو سالانہ شرح کو پچھلے ہفتے 11.85 فیصد تک لے گیا تھا، کم ہو رہا ہے۔ ٹماٹر میں اچھال اور ڈیزل، آلو اور پیاز میں اضافہ بتاتا ہے کہ جلد خراب ہونے والی اشیا اور نقل و حمل سے جڑا دباؤ ختم نہیں ہوا۔ اسٹیٹ بینک اور مالیاتی حکام اس رپورٹ کو ماہانہ سی پی آئی کے ساتھ پڑھیں گے، اس کی جگہ نہیں، اور وہ دیکھیں گے کہ ہفتہ وار نرمی اگلے چند ہفتوں میں قائم رہتی ہے یا نہیں۔ اس رپورٹ کے ساتھ چلنے والی چینی اور ایندھن کی کہانیاں اسی تصویر کا حصہ ہیں: چینی کمیٹی کا صارف کو پہلے رکھنے والا برآمدی اصول، اور روزانہ ایندھن کی نظرثانی کا نظام — دونوں کا امتحان آخر میں انہی ہفتہ وار پی بی ایس اعداد سے ہوگا جو یہاں رپورٹ ہوئے ہیں۔
آگے کیا دیکھنا چاہیے؟ پہلی، اگلے جمعے کی ایس پی آئی رپورٹ، یعنی 5 نومبر تک کے ہفتے کے لیے: کیا ہفتہ وار تبدیلی منفی رہتی ہے، اور کیا سالانہ شرح 11.32 فیصد سے نیچے، 11 فیصد کی طرف یا اس سے نیچے، جاتی ہے۔ دوسری، ٹماٹر کی قیمت خاص طور پر: 34.91 فیصد کا ہفتہ وار اچھال یا تو تازہ رسد آتے ہی جلد درست ہو جاتا ہے، یا برقرار رہ کر اگلی ہفتہ وار ریڈنگ کو بھی اوپر کھینچتا ہے۔ تیسری، ڈیزل اور ایل پی جی: ڈیزل اس ہفتے 2.53 فیصد مہنگا ہوا حالانکہ پیٹرول سستا ہوا، اور ایل پی جی، 0.73 فیصد ہفتہ وار کمی کے باوجود، ایک سال پہلے سے دوگنا سے زیادہ مہنگی ہے — دونوں ایسی اشیا ہیں جہاں ایک سپلائی یا پالیسی فیصلہ انڈیکس کو نمایاں طور پر ہلا سکتا ہے۔ چوتھی، خرچ کی جماعتوں کی تقسیم: کیا سب سے کم خرچ والی جماعت کی سالانہ شرح مجموعی شرح سے نیچے رہتی ہے، یا غذائی قیمتوں میں اضافہ اسے اوسط کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ تازہ پلس ہر ہفتہ وار پی بی ایس رپورٹ اسی انداز میں شائع کرے گا — ہفتہ وار تبدیلی، سالانہ شرح، سب سے زیادہ حرکت کرنے والی اشیا، اور جماعتوں کی تصویر — تاکہ قارئین کو متضاد سرخیوں کو خود ملانے کی ضرورت نہ پڑے۔
تب تک اس خبر کا ذمہ دارانہ خلاصہ مختصر ہے، اور یہ مضمون اسی پر قائم رہا ہے۔ 29 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں سینسیٹیو پرائس انڈیکیٹر پچھلے ہفتے سے 0.35 فیصد گرا، جس میں 51 اشیا میں سے 15 مہنگی ہوئیں، 12 سستی ہوئیں، 24 میں کوئی تبدیلی نہیں آئی — پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق۔ گزشتہ سال کے اسی ہفتے کے مقابلے میں انڈیکیٹر 11.32 فیصد بڑھا، جس میں ایل پی جی 106.86 فیصد اور پہلی جماعت کے لیے بجلی 52.38 فیصد مہنگی ہوئی، جبکہ آلو، ٹماٹر، انڈے اور چینی ایک سال پہلے سے سستے ہیں۔ پچھلے ہفتے میں ہفتہ وار اضافہ 0.65 فیصد اور سالانہ اضافہ 11.85 فیصد تھا، اس لیے دونوں پیمانے اس ہفتے بہتر ہوئے۔ یہ حقیقی، اگرچہ معمولی، ریلیف ہے — اور یہ یاد دہانی بھی کہ ہفتہ وار ریلیف اور سالانہ دباؤ ایک ساتھ درست ہو سکتے ہیں، اور گھر کا بجٹ دونوں کو محسوس کرتا ہے۔
یہ دونوں ایک ہی پی بی ایس رپورٹ کے دو مختلف پیمانے ہیں۔ ڈان کا 11.32 فیصد سالانہ شرح ہے: یعنی اشیا کی ٹوکری گزشتہ سال کے اسی ہفتے سے 11.32 فیصد مہنگی ہے۔ اے آر وائی کی 0.35 فیصد کمی ہفتہ وار تبدیلی ہے: یعنی ٹوکری پچھلے ہفتے سے 0.35 فیصد سستی ہوئی۔ دونوں درست ہیں، اور یہ مضمون دونوں کو ساتھ بیان کرتا ہے، کیونکہ اکیلی خبر آدھی تصویر دکھاتی ہے۔
ایس پی آئی پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کا ہفتہ وار پیمانہ ہے جو قلیل مدتی قیمتوں کی حرکت ناپتا ہے۔ اس میں 51 بنیادی اشیا شامل ہیں جن کی قیمتیں ملک کے 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے لی جاتی ہیں۔ یہ ہر ہفتے جاری ہوتا ہے تاکہ قیمتوں کا دباؤ ماہانہ سی پی آئی کے انتظار کے بغیر فوراً نظر آئے۔ اس کی ٹوکری جان بوجھ کر محدود ہے — خوراک، کھانا پکانے کا ایندھن، گھر کی توانائی — اس لیے یہ ٹماٹر یا چکن کی قیمت پر فوراً ردعمل دیتا ہے، مگر یہ تمام صارفی قیمتوں کی مکمل تصویر نہیں۔
سستا: پہلی آمدنی والی جماعت کے لیے بجلی کے چارجز 3.92 فیصد، چکن 2.95 فیصد، انڈے 2.81 فیصد، گندم کا آٹا 0.83 فیصد، ایل پی جی 0.73 فیصد، کیلا 0.71 فیصد، چاول آئی آر آر آئی اور مسور کی دال 0.43 فیصد فی کس، پیٹرول 0.39 فیصد، چینی 0.35 فیصد، خشک دودھ 0.33 فیصد۔ مہنگا: ٹماٹر 34.91 فیصد، آلو 3.27 فیصد، ڈیزل 2.53 فیصد، چنے کی دال 2.11 فیصد، سادہ روٹی 1.29 فیصد، پیاز 0.62 فیصد، تازہ دودھ 0.48 فیصد، دہی 0.46 فیصد، بناسپتی گھی 0.29 فیصد، لکڑی 0.20 فیصد۔ 51 اشیا میں سے 15 مہنگی ہوئیں، 12 سستی، 24 کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
کیونکہ سالانہ شرح کا موازنہ گزشتہ سال کے اسی ہفتے سے ہوتا ہے، پچھلے ہفتے سے نہیں۔ 0.35 فیصد کی ہفتہ وار کمی سالانہ فرق کو صرف تھوڑا کم کرتی ہے، ختم نہیں کرتی۔ سالانہ اضافے کی قیادت توانائی کر رہی ہے: ایل پی جی 106.86 فیصد، پہلی جماعت کے لیے بجلی 52.38 فیصد، ڈیزل 45.13 فیصد، پیٹرول 43.61 فیصد مہنگا ہے۔ آٹا سال بھر میں 34.87 فیصد اور چکن 31.72 فیصد مہنگا ہے، حالانکہ اس ہفتے دونوں تھوڑے سستے ہوئے۔ سالانہ شرح تب ہی مسلسل کم ہوگی جب ہفتہ وار کمی جاری رہے۔
نہیں۔ پی بی ایس نے سالانہ شرح کو خرچ کی جماعتوں میں تقسیم کیا ہے: سب سے کم خرچ والی جماعت 8.07 فیصد، دوسری 9.92 فیصد، تیسری 8.95 فیصد، چوتھی 9.51 فیصد، اور سب سے زیادہ خرچ والی جماعت 12.13 فیصد — ان کا مجموعہ 11.32 فیصد بنتا ہے۔ سب سے زیادہ خرچ کرنے والوں پر سب سے زیادہ اضافہ پڑا، سب سے کم خرچ والوں پر سب سے کم — مگر تنگ بجٹ پر 8.07 فیصد کا اضافہ بھی، جو آٹے، چکن اور کھانا پکانے کے ایندھن پر مرکوز ہے، مشکل فیصلے مجبور کرتا ہے۔
چار چیزیں: پہلی، 5 نومبر تک کے ہفتے میں ہفتہ وار تبدیلی منفی رہتی ہے یا نہیں؛ دوسری، ٹماٹر کی قیمت — 34.91 فیصد کا اچھال جلد درست ہوتا ہے یا برقرار رہتا ہے؛ تیسری، ڈیزل اور ایل پی جی، جہاں ایک سپلائی یا پالیسی فیصلہ انڈیکس کو نمایاں طور پر ہلا سکتا ہے؛ چوتھی، خرچ کی جماعتوں کی تقسیم — کیا کم خرچ والی جماعت کی سالانہ شرح مجموعی شرح سے نیچے رہتی ہے۔ تازہ پلس ہر ہفتہ وار پی بی ایس رپورٹ اسی انداز میں شائع کرے گا۔
انگریزی میں مکمل رپورٹ | معیشت کی خبریں | اردو ہوم پیج