اسلام آباد: پاکستان ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن نے 16 نومبر سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے — اور یہ اعلان ایسے وقت آیا ہے جب گھریلو سلنڈر کی سرکاری قیمت پہلے ہی بڑھ چکی ہے، بازار میں قیمت سرکاری نرخ سے دوگنی کے قریب ہے، اور ایران کی سرحد بند ہونے سے سپلائی پہلے ہی تنگ ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر اس کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو 16 نومبر سے ملک بھر میں ایل پی جی کی فروخت رک جائے گی۔ یہ دھمکی مشروط ہے، یعنی ہڑتال ابھی شروع نہیں ہوئی — لیکن تاریخ طے ہے، مطالبات واضح ہیں، اور سردیوں سے پہلے کا وقت اسے ہر گھر کی خبر بنا دیتا ہے۔
یہ خبر اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کی تصدیق دو آزاد ذرائع سے ہوئی ہے۔ بزنس ریکارڈر نے 31 اکتوبر کو خبر دی کہ ایسوسی ایشن نے 16 نومبر سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے، اور ڈان کی یکم نومبر کی ایل پی جی مارکیٹ رپورٹنگ میں بھی یہی اعلان درج ہے — کہ اگر حکومت نجی شعبے کو نظرانداز کرنے والی پالیسی نافذ کرتی ہے تو مارکیٹنگ کمپنیاں ہڑتال کریں گی۔ یہ دوہری تصدیق اس لیے ضروری تھی کہ 31 اکتوبر کو اسی موضوع کی ایک سرخی — اے آر وائی کی "ایل پی جی ایسوسی ایشنز کی ملک گیر ہڑتال" — بغیر تصدیق کے چھوڑ دی گئی تھی، کیونکہ اس وقت نہ تنظیموں کے نام، نہ تاریخ اور نہ مطالبات کی دوسری تصدیق ملی تھی۔ اب تینوں چیزیں موجود ہیں، اس لیے یہ خبر شائع ہو رہی ہے۔
ایسوسی ایشن کی طرف سے علی حیدر نے کہا ہے کہ اگر حکام نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو ملک بھر میں ایل پی جی کی فروخت رک جائے گی۔ بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ آنے والی ایل پی جی پالیسی میں نجی شعبے کو نظرانداز نہ کیا جائے، اور شعبے کی ڈی ریگولیشن کو واپس نہ لیا جائے۔ ایسوسی ایشن نے پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک کو خط لکھ کر کہا ہے کہ وزیراعظم کو بھیجی گئی مسودہ پالیسی میں نجی شعبے کی کوئی رائے شامل نہیں تھی، اور اس کا مطالبہ شعبے کی مکمل ڈی ریگولیشن ہے۔
یہاں ایک احتیاط ضروری ہے: علی حیدر کے عہدے کے بارے میں رپورٹنگ میں فرق ہے — ایک ذریعہ انہیں سینئر نائب چیئرمین بتاتا ہے، دوسرا چیئرمین۔ اس لیے اس خبر میں صرف یہ لکھا جا رہا ہے کہ وہ ایسوسی ایشن کی طرف سے بول رہے ہیں، عہدہ نہیں لکھا جا رہا۔ اسی طرح یہ بھی صاف رہے کہ ہڑتال کا اعلان کرنے والی تنظیم پاکستان ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن ہے، نہ کہ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن — جس کے چیئرمین عرفان کھوکھر قلت اور بازار میں ہیرا پھیری پر الگ سے بول رہے ہیں۔ دونوں تنظیمیں ایک ہی زنجیر کی مختلف کڑیاں ہیں، ان کے بیانات کو آپس میں گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔
تنازع کی جڑ پیٹرولیم ڈویژن کا اصلاحاتی پیکج ہے۔ اس کے تحت سرکاری ادارے — پاکستان اسٹیٹ آئل، سوئی گیس کمپنیاں، پاک عرب ریفائنری اور پاکستان ایل این جی — ایل پی جی کی درآمد میں داخل ہوں گے، اور ماہانہ قیمت درآمدی برابری (امپورٹ پیرٹی) کے ماڈل پر طے ہوگی جو سعودی آرامکو کے نرخوں اور اصل درآمدی اخراجات سے جڑی ہوگی۔ اوگرا کی ماہانہ قیمت نوٹیفکیشن کا نظام ختم ہو جائے گا۔ ملکی پیداوار کا دس فیصد سرکاری مارکیٹرز کو دور دراز علاقوں، جیسے گلگت بلتستان، کے لیے دیا جائے گا، باقی نوے فیصد ماہانہ نیلامی سے پہلے سے منظور شدہ بوتلرز کو فروخت ہوگا۔ مقامی اور درآمدی قیمت کے فرق سے بننے والی اضافی رقم آڈیٹر جنرل کی نگرانی والے مخصوص کھاتے میں جائے گی، جس سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے کمزور صارفین کو ہدفی سبسڈی دی جائے گی۔ مارکیٹرز کا مارجن 35,000 روپے سے بڑھ کر کم از کم 50,000 روپے فی ٹن ہو جائے گا۔
مارکیٹرز کا اعتراض یہ ہے کہ سرکاری اداروں کو ایل پی جی درآمد کا تجربہ کم ہے، اور صرف سعودی بینچ مارک پر انحصار صارف کی قیمت مزید بڑھا سکتا ہے — کیونکہ پاکستان کی نجی سپلائی کا بڑا حصہ ایران اور عمان سے آتا ہے، سعودی عرب سے نہیں۔ حکومت کا موقف، جیسا کہ رپورٹنگ میں سامنے آیا ہے، یہ ہے کہ موجودہ نظام صارف کو تحفظ نہیں دے سکا: سرکاری قیمت اور بازار کی قیمت میں فرق اتنا بڑھ گیا ہے کہ نوٹیفائی شدہ قیمت اب کسی کی ادا کردہ قیمت نہیں رہی۔ ایک اہم وضاحت: یہ پیکج ابھی تجویز ہے، نافذ نہیں ہوا — اس کا ثبوت خود نومبر کی قیمت ہے، جو پرانے اوگرا نظام کے تحت نوٹیفائی ہوئی ہے، نہ کہ نئے امپورٹ پیرٹی بینچ مارک سے۔ وزیراعظم نے اصلاحاتی پیکج کا جائزہ لینے کے لیے آٹھ رکنی وزارتی کمیٹی بنا دی ہے، جسے ایک مہینے میں رپورٹ دینی ہے۔
اوگرا نے نومبر کے لیے ایل پی جی کی قیمت 294,075 روپے فی ٹن مقرر کی ہے، جو اکتوبر کے 279,341 روپے سے زیادہ ہے۔ سرکاری صارف قیمت 294.1 روپے فی کلو ہے، اور عام 11.8 کلو والا گھریلو سلنڈر 3,296 روپے سے بڑھ کر 3,470 روپے کا ہو گیا ہے۔ ریگولیٹر کے مطابق سعودی آرامکو کی قیمت میں 6.47 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ڈالر کی اوسط قیمت میں 0.12 فیصد کمی آئی، جس سے صارف قیمت میں 14.73 روپے فی کلو کا اضافہ ہوا۔ 45.4 کلو والا کمرشل سلنڈر 669 روپے بڑھ کر 13,351 روپے کا ہو گیا ہے، جو تندوروں اور ہوٹلوں کے لیے براہ راست بوجھ ہے۔
لیکن بازار کی قیمت کچھ اور کہتی ہے۔ کھلے بازار میں ایل پی جی 630 روپے فی کلو تک بک رہی ہے — سرکاری نرخ سے دوگنی سے زیادہ — جبکہ کمپنیوں کی فرنچائزز 400 روپے فی کلو تک وصول کر رہی ہیں۔ اکتوبر میں بھی گلی بازار کی قیمتیں 550 سے 750 روپے فی کلو کے درمیان تھیں، اور سلنڈر تقریباً 5,000 روپے میں بک رہا تھا جبکہ سرکاری قیمت 3,296 روپے تھی۔ نومبر کا نوٹیفکیشن سرکاری قیمت کو 14.73 روپے اوپر لے جاتا ہے، مگر سینکڑوں روپے کے فرق کو ختم نہیں کرتا۔ اور یہی فرق ہڑتال کو خطرناک بناتا ہے: جب سپلائی پہلے ہی کم ہو تو فروخت رکنے کا مطلب صرف مہنگائی نہیں، سلنڈر کا نہ ملنا ہے — گھر لکڑی یا مٹی کے تیل کی طرف جائیں گے، اور چھوٹے کھانے کے کاروبار یا تو قیمت بڑھائیں گے یا دن کے لیے بند ہو جائیں گے۔
قلت کی وجہ پر صنعت کے دونوں حصے متفق ہیں: ایران کی سرحد کی بندش۔ عرفان کھوکھر کے مطابق پاکستان کی ایل پی جی کا کم از کم ستر فیصد ایران سے درآمد ہوتا ہے اور تیس فیصد مقامی طور پر پیدا ہوتا ہے، اور انہوں نے حکومت سے بازار میں ہیرا پھیری روکنے کے لیے سنجیدہ کوشش کا مطالبہ کیا ہے۔ پس منظر امریکہ ایران جنگ ہے، جس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ترسیل اور زمینی تجارت دونوں کو متاثر کیا ہے۔
اعداد اس کہانی کو تیز کرتے ہیں۔ پاکستان تقریباً 13 لاکھ ٹن ایل پی جی استعمال کرتا ہے، جس میں سے صرف تقریباً 2 لاکھ 25 ہزار ٹن خلیج سے درآمد ہوتا ہے، زیادہ تر نجی شعبے کے ذریعے۔ جب زمینی راستہ بند ہو تو خلیجی درآمد اتنی تیزی سے نہیں بڑھ سکتی کہ خلا پُر ہو — اور علی حیدر کا سب سے تیز الزام یہ ہے کہ سرکاری چینل نے بھی خلا نہیں بھرا: ان کے مطابق پورٹ قاسم پر سوئی سدرن گیس کمپنی کے زیر انتظام پروگیس ٹرمینل نے تقریباً سات مہینے سے ایل پی جی درآمد نہیں کی۔ یہی ان کا مقدمہ ہے: سرکاری ڈھانچہ موجود ہے، مگر درآمد نہیں کر رہا، جبکہ نجی درآمد کنندگان کو نئی پالیسی سے باہر کیا جا رہا ہے۔
دوسرا الزام پیسے سے متعلق ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق 2016 کی ایل پی جی پالیسی میں مقامی ایل پی جی پر 4,669 روپے فی ٹن پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی لگائی گئی تھی، تاکہ سرکاری ادارے (پی ایس او، پارکو، ایس ایس جی سی) سردیوں اور ہنگامی حالات میں ایل پی جی درآمد کر سکیں۔ حیدر کا الزام ہے کہ اس لیوی سے اربوں روپے جمع ہونے کے باوجود ان اداروں نے موجودہ قلت میں درآمد نہیں کی۔ یہ ایسوسی ایشن کا الزام ہے، آڈٹ شدہ نتیجہ نہیں — اس خبر میں اسے اسی حیثیت سے لکھا جا رہا ہے، کیونکہ لیوی فنڈ کے جمع اور خرچ کا کوئی آڈٹ سامنے آئی رپورٹنگ میں شائع نہیں ہوا۔
حکومت کا اب تک کا ردعمل طریقہ کار تک محدود رہا ہے: وزیراعظم نے پیٹرولیم وزیر کی سربراہی میں آٹھ رکنی وزارتی کمیٹی بنا دی ہے، جس میں وزراء، مشیر اور توانائی حکام شامل ہیں، اور اسے ایک مہینے میں مکمل رپورٹ دینی ہے۔ یہ کمیٹی مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے احتجاج کے بعد بنی، جنہیں نئے فریم ورک پر مشاورت نہ ہونے کی شکایت تھی۔ لیکن اس خبر کی تیاری تک ہڑتال کے اعلان پر حکومت کا کوئی براہ راست جواب سامنے آئی رپورٹنگ میں نہیں ملا — نہ مطالبات کی قبولیت، نہ مسترد، نہ مذاکرات کا اعلان۔ یہ ماخذ کی حد کے طور پر لکھا جا رہا ہے، حکومت کی خاموشی کے دعوے کے طور پر نہیں؛ جواب کمیٹی کے عمل سے آ سکتا ہے، اور اس خبر کو اس وقت اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ وقت کا فرق اہم ہے: کمیٹی کی مہلت ایک مہینہ ہے، ہڑتال کی ڈیڈلائن پندرہ دن دور ہے — اور مارکیٹرز کا اعلان مذاکرات کو چھوٹی مدت میں لانے کی کوشش لگتا ہے۔
دو پرانی ایل پی جی خبروں سے اس خبر کو الگ رکھنا ضروری ہے۔ پہلی، 24 سے 25 اکتوبر کی لاہور ڈسٹری بیوٹرز ہڑتال — وہ دو دن کی تھی، ڈسٹری بیوٹرز نے کی تھی، اور اس کی شکایت پیرا فورس اور سول ڈیفنس کی ری فلنگ اور ڈی کینٹنگ کے خلاف کارروائیاں تھیں، نہ کہ قیمت کا فارمولا۔ دوسری، 30 اکتوبر کو شائع ہونے والی ایل پی جی فارمولا تبدیلی کی خبر — یکم نومبر سے پی ایس او کی درآمدی لاگت سعودی آرامکو کی حد کی جگہ بینچ مارک بنی۔ وہ تبدیلی اس ہڑتال کا پس منظر ہے، خود ہڑتال نہیں۔
16 نومبر سے پہلے چار چیزیں فیصلہ کریں گی کہ ہڑتال ہوتی ہے یا نہیں: کمیٹی مارکیٹرز سے ملتی ہے یا نہیں اور کوئی عبوری سمجھوتہ نکلتا ہے یا نہیں؛ سپلائی میں بہتری آتی ہے یا نہیں — ایران کی سرحد، پورٹ قاسم سے خلیجی درآمد، پروگیس ٹرمینل کی بحالی؛ بازار کی قیمت 630 روپے کے قریب رہتی ہے یا سرکاری نرخ کی طرف لوٹتی ہے؛ اور حکومت ایسوسی ایشن کے خط کا براہ راست جواب دیتی ہے یا نہیں۔ گھروں کے لیے عملی بات یہ ہے: گھبرا کر ذخیرہ نہ کریں — ذخیرہ اندوزی خود قلت بڑھاتی ہے — اور دو اشاروں پر نظر رکھیں: حکومت کا مطالبات پر بیان، اور بازار کی قیمت میں حرکت۔ یہی بتائیں گے کہ 16 نومبر خاموشی سے گزرے گا یا نہیں۔
خلاصہ یہ ہے: پاکستان ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن نے 16 نومبر سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے، جس کی شرط یہ ہے کہ حکومت نجی شعبے کو نظرانداز کرنے والی مسودہ پالیسی پر آگے نہ بڑھے؛ ایسوسی ایشن نے پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک کو خط لکھ کر مکمل ڈی ریگولیشن کا مطالبہ کیا ہے؛ نومبر کی سرکاری قیمت 294,075 روپے فی ٹن، یعنی 11.8 کلو سلنڈر 3,470 روپے ہے، جبکہ کھلے بازار میں قیمت 630 روپے فی کلو تک ہے؛ اور قلت کی وجہ دونوں صنعت تنظیموں کے مطابق ایران کی سرحد کی بندش ہے، جہاں سے پاکستان کی ایل پی جی درآمد کا کم از کم ستر فیصد آتا تھا۔ تازہ پلس اس خبر کو اس وقت اپ ڈیٹ کرے گا جب حکومت مطالبات کا جواب دے گی، کمیٹی کوئی عبوری مؤقف دے گی، سپلائی میں کوئی بڑی تبدیلی آئے گی، یا ایسوسی ایشن ہڑتال کی تصدیق، التوا یا واپسی کا اعلان کرے گی۔
پاکستان ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن نے 16 نومبر 2026 سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کی طرف سے علی حیدر نے کہا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو اس تاریخ سے ملک بھر میں ایل پی جی کی فروخت رک جائے گی۔ ہڑتال ابھی شروع نہیں ہوئی — 16 نومبر اعلان شدہ، مشروط تاریخ ہے۔
کہ آنے والی ایل پی جی پالیسی میں نجی شعبے کو نظرانداز نہ کیا جائے اور شعبے کی ڈی ریگولیشن کو واپس نہ لیا جائے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو بھیجی گئی مسودہ پالیسی میں نجی شعبے کی کوئی رائے شامل نہیں تھی، اور اس نے پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک کو خط لکھ کر مکمل ڈی ریگولیشن کا مطالبہ کیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے پیکج میں سرکاری ادارے (پی ایس او، سوئی کمپنیاں، پارکو، پاکستان ایل این جی) ایل پی جی درآمد کریں گے، ماہانہ قیمت سعودی آرامکو کے نرخوں اور اصل درآمدی اخراجات سے جڑی امپورٹ پیرٹی پر طے ہوگی، اور اوگرا ماہانہ نوٹیفکیشن دینا بند کر دے گا۔ ملکی پیداوار کا دس فیصد سرکاری مارکیٹرز کو دور دراز علاقوں کے لیے، نوے فیصد ماہانہ نیلامی سے، اور مارکیٹرز کا مارجن 35,000 سے بڑھ کر کم از کم 50,000 روپے فی ٹن ہو جائے گا۔
اوگرا نے نومبر کے لیے 294,075 روپے فی ٹن مقرر کیے ہیں، جو اکتوبر کے 279,341 روپے سے زیادہ ہیں — یعنی سرکاری صارف قیمت 294.1 روپے فی کلو۔ عام 11.8 کلو سلنڈر 3,470 روپے کا ہے، جو 3,296 روپے سے بڑھا ہے، اور 45.4 کلو کمرشل سلنڈر 13,351 روپے کا ہے۔
کیونکہ سپلائی کم ہے۔ ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان کی ایل پی جی کا کم از کم ستر فیصد ایران سے درآمد ہوتا ہے اور تیس فیصد مقامی پیداوار ہے، اور ایران کی سرحد بند ہونے سے اہم راستہ بند ہو گیا ہے۔ کھلے بازار میں قیمت 630 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جو سرکاری نرخ سے دوگنی سے زیادہ ہے۔
نہیں۔ 24 سے 25 اکتوبر کی لاہور ہڑتال ڈسٹری بیوٹرز نے کی تھی اور اس کی وجہ پیرا فورس و سول ڈیفنس کی ری فلنگ کے خلاف کارروائیاں تھیں۔ 16 نومبر کا اعلان ملک گیر ہے، مارکیٹرز ایسوسی ایشن کی طرف سے ہے، اور اس کا موضوع قیمت کا فارمولا اور مسودہ پالیسی ہے۔ یہ فارمولا تبدیلی کی خبر سے بھی الگ ہے، جو 30 اکتوبر کو شائع ہوئی تھی۔
انگریزی میں مکمل رپورٹ | ایل پی جی فارمولا تبدیلی (اردو) | معیشت کی مزید خبریں | اردو ہوم پیج