یکم نومبر 2026 سے پاکستان میں لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت طے کرنے کا فارمولا بدل رہا ہے، اور جن گھرانوں میں کھانا اور سردیوں میں گرمی سلنڈر سے چلتی ہے، ان کے ماہانہ خرچ پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ وزارت پیٹرولیم نے فیصلہ کیا ہے کہ مقامی پیدا کرنے والوں کی قیمت کی حد اب سعودی آرامکو کے کنٹریکٹ پرائس سے نہیں جڑی رہے گی؛ اس کی جگہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی لینڈڈ درآمدی لاگت بینچ مارک بنے گی۔ یہ خبر دی نیوز نے 28 اکتوبر کو دی۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم نے منگل کو شعبے کے نمائندوں کے اجلاس میں اس تبدیلی سے زبانی طور پر آگاہ کیا، اور نیا فارمولا یکم نومبر سے نافذ ہونا ہے۔ شعبے کے اندازے کے مطابق، اگر فارمولا اسی صورت میں نافذ ہوا، تو مقامی پیدا کرنے والوں کی قیمتیں 40 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں، اور صارفین کی سطح پر اثر 20 سے 25 فیصد اضافے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
یہ تبدیلی دراصل کیا ہے، اسے سمجھنے کے لیے موجودہ نظام کو جاننا ضروری ہے۔ پاکستان میں بکنے والی ایل پی جی دو ذرائع سے آتی ہے: ملک کے اندر پیدا ہونے والی گیس، اور بحری جہاز سے درآمد ہونے والی گیس۔ موجودہ طریقے میں مقامی پیدا کرنے والوں کی قیمت کی حد سعودی آرامکو کے کنٹریکٹ پرائس سے جڑی ہے — وہ ماہانہ کنٹریکٹ نرخ جو سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی طے کرتی ہے اور خطے میں ایل پی جی کا مشہور بینچ مارک ہے۔ نئے فارمولے میں یہ حد پی ایس او کی لینڈڈ درآمدی لاگت ہوگی، یعنی وہ اصل لاگت جو پی ایس او کو درآمدی کھیپ پاکستان لانے میں آتی ہے، خریداری کی قیمت، مال برداری اور متعلقہ اخراجات سمیت۔ دوسرے لفظوں میں، مقامی قیمت کی چھت اب کسی شائع شدہ سعودی کنٹریکٹ نرخ سے نہیں، بلکہ پاکستان کی سرکاری تیل کمپنی کی اپنی درآمدی لاگت سے جڑ جائے گی۔ دی نیوز کے مطابق وزیر نے یہ فیصلہ اجلاس میں زبانی طور پر بتایا، اور اس پر عمل چند دن میں ہونا ہے۔ اس مضمون کے لیے جانچی گئی کوریج میں نیا فارمولا تحریری نوٹیفکیشن کی صورت میں سامنے نہیں آیا تھا، اور دی نیوز نے لکھا کہ اس نے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر وہ دستیاب نہیں ہوئے۔
شعبے کے اندازے کا حساب سادہ ہے، اور اسے کھلے الفاظ میں بیان کرنا ضروری ہے تاکہ قاری خود اس کا جائزہ لے سکے۔ دی نیوز کے حوالے سے بتائے گئے اعداد کے مطابق پاکستان کی ایل پی جی منڈی کا تقریباً 35 فیصد مقامی پیداوار سے پورا ہوتا ہے اور 65 فیصد درآمدات سے۔ اگر مقامی پیدا کرنے والوں کی قیمتیں 40 فیصد تک بڑھیں اور صرف وہ 35 فیصد حصہ حرکت کرے، تو مجموعی بازار پر اثر تقریباً پانچواں سے چوتھائی حصہ بنتا ہے — اسی لیے صارفین کی سطح پر 20 سے 25 فیصد اضافے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ موجودہ سرکاری قیمت پر اس اندازے کو صرف مثال کے طور پر لگائیں تو 279.34 روپے فی کلوگرام پر 20 فیصد اضافہ تقریباً 335 روپے اور 25 فیصد تقریباً 349 روپے بنتا ہے؛ عام 11.8 کلوگرام سلنڈر کے لیے یہ تقریباً 3,956 سے 4,120 روپے ہوگا، جبکہ موجودہ نوٹیفائیڈ قیمت 3,296 روپے ہے۔ یہ اعلان شدہ قیمتیں نہیں ہیں۔ یہ اندازے پر حساب ہے، تاکہ قاری دیکھ سکے کہ اگر اندازہ پورا اترا تو اس کا کیا مطلب ہوگا۔ نومبر کی اصل قیمت سرکاری نوٹیفکیشن اور دکانداروں کے اصل نرخ پر منحصر ہوگی۔
اس خبر کا سب سے اہم پہلو وہ فرق ہے جو سرکاری قیمت اور بازار کی قیمت کے درمیان پہلے ہی پیدا ہو چکا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے یکم اکتوبر 2026 سے ایل پی جی کی زیادہ سے زیادہ صارف قیمت 279.34 روپے فی کلوگرام، یا 11.8 کلوگرام سلنڈر کے لیے 3,296.23 روپے، نوٹیفائی کی تھی۔ ایل پی جی پالیسی 2016 کے تحت یہ قیمت ایک حد ہے: پیدا کرنے والے، مارکیٹنگ کمپنیاں اور تقسیم کار اس سے کم پر بیچ سکتے ہیں۔ مگر عملاً کئی بازاروں میں صارفین ہفتوں سے اس سے کہیں زیادہ ادا کر رہے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون نے 23 اکتوبر کو رپورٹ کیا کہ خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں قیمت 750 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی اور سلنڈر 10 ہزار روپے سے اوپر چلا گیا، جبکہ کئی بازاروں میں 550 سے 600 اور پشاور میں تقریباً 600 روپے فی کلوگرام وصول کیے جا رہے تھے۔ ٹیک جوائس نے 21 اکتوبر کو بتایا کہ صارفین نے صرف پانچ دن میں سرکاری نرخ سے 1.4 ارب روپے سے زیادہ ادا کیے، ایل پی جی 600 سے 625 روپے فی کلوگرام پر بک رہی تھی، اور ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر کے مطابق خریدار نوٹیفائیڈ نرخ سے 320 روپے فی کلوگرام زیادہ دے رہے تھے، جبکہ دکانداروں کا کہنا تھا کہ انہیں 550 روپے فی کلوگرام پر سپلائی مل رہی ہے اور وہ 280 پر نہیں بیچ سکتے۔ ایک اور بازار رپورٹ میں گھریلو سلنڈر کی قیمت تقریباً 5,000 روپے بتائی گئی، جو نوٹیفائیڈ 3,296 روپے سے تقریباً 50 فیصد زیادہ ہے۔
بازار کی قیمتوں کے پیچھے رسد کی تنگی کی ایک خاص وجہ ہے جس کا ذکر حکام نے خود کیا ہے۔ ٹریبیون کی رپورٹنگ نے اس قلت کو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے بعد تفتان سرحد کی بندش سے جوڑا، اور اوگرا کے ایک سینئر عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان اپنی ایل پی جی کی ضروریات کا تقریباً 70 فیصد درآمدات سے پورا کرتا ہے اور مقامی پیداوار تقریباً 30 فیصد ہے۔ یہ درآمدی حصہ دی نیوز کی رپورٹ میں بتائے گئے 65 فیصد سے تھوڑا مختلف ہے؛ دونوں اعداد یہاں ان کے ذرائع کے مطابق درج کیے گئے ہیں، اور فرق گنتی کے طریقے یا وقت کا ہو سکتا ہے، جسے شائع شدہ ریکارڈ سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف پیٹرولیم ڈویژن نے اوگرا کو سردیوں سے پہلے مبینہ ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کا کہا ہے، یہ لکھتے ہوئے کہ درآمد کنندگان مانگ کے مطابق کھیپیں لا رہے ہیں مگر وہ ٹرمینلز سے باقاعدگی سے اٹھائی نہیں جا رہیں، اور ریگولیٹر سے کہا ہے کہ وہ صوبائی حکومتوں اور بندرگاہ و کلیئرنس کے اداروں پر زور دے کہ مال طلب کے مراکز تک پہنچے اور نوٹیفائیڈ قیمتوں پر دستیابی یقینی بنائی جائے، خاص طور پر پہاڑی، دور دراز اور آف گرڈ علاقوں میں جہاں گھر کھانا پکانے اور گرمی کے لیے ایل پی جی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
وزیر کے اجلاس میں صنعت کے نمائندوں نے نیا فارمولا خاموشی سے قبول نہیں کیا۔ دی نیوز کے مطابق انہوں نے تجویز کی قانونی حیثیت اور بازار کے شرکاء و صارفین پر اس کے اثرات پر سوال اٹھائے، کہا کہ درآمدی لاگت میں مبالغہ آرائی کا خطرہ ایل پی جی بازار کو غیر مستحکم کر سکتا ہے اور مقامی شراکت داروں سمیت صارفین کو نقصان پہنچا سکتا ہے، اور سوئی سدرن گیس کمپنی کی ایل پی جی درآمدات سے متعلق ماضی کے تنازعات کا حوالہ دیا، جن میں مبینہ اوور انوائسنگ پر سابق انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا الزام لگایا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدام مقابلے کو نقصان پہنچائے گا — اگر کوئی نجی کمپنی پی ایس او سے سستی درآمد کر سکے تو کیا ہوگا؟ — اور درآمدی برابری سے قیمت جوڑنے کی جگہ شعبے کی مکمل ڈی ریگولیشن کا مطالبہ کیا، تاکہ قیمتیں خریدار اور بیچنے والے کے درمیان مذاکرات سے طے ہوں اور مقابلہ ہی بازار کا نرخ بنائے۔ یہ اعتراضات اس لیے اہم ہیں کہ وہ نئے بینچ مارک کے دل پر حملہ کرتے ہیں: ایک درآمد کنندہ کی لینڈڈ لاگت سے جڑی حد صرف تب منصفانہ چھت دے گی جب اس درآمد کنندہ کی اپنی لاگتیں مسابقتی ہوں اور شفاف طور پر رپورٹ ہوں۔
اس تبدیلی کا وقت — سردیوں سے چند دن پہلے — اسے تجارتی خبر سے گھریلو خبر بناتا ہے۔ سردیوں میں ایل پی جی کی مانگ بڑھتی ہے کیونکہ جن علاقوں میں پائپ گیس نہیں ہے، وہاں گھر کھانا پکانے اور گرمی کے لیے سلنڈروں پر انحصار کرتے ہیں، اور سرکاری اعداد پہلے ہی بتا رہے ہیں کہ یہ بوجھ کتنا بھاری ہو چکا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے حساس قیمت اشاریے (ایس پی آئی) میں 29 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے لیے، جو 30 اکتوبر کو جاری ہوا، ایل پی جی کی قیمتیں ایک سال پہلے کے مقابلے میں 106.86 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئیں — بارہ مہینوں میں دو گنا سے زیادہ — حالانکہ اس ہفتے میں 0.73 فیصد کی معمولی کمی آئی تھی۔ اسی پس منظر میں حکومت نے ریلیف کا بھی وعدہ کیا ہے: اس نے 26 اکتوبر کو قومی اسمبلی کو بتایا کہ کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے ایل پی جی ریلیف پالیسی چند دن میں حتمی کر دی جائے گی، جبکہ وزارت خزانہ کے جواب میں پچھلے پانچ سال میں دی گئی 11.047 ٹریلین روپے کی ٹیکس چھوٹ کا انکشاف بھی ہوا۔ توجہ دلاؤ نوٹس لانے والے اراکین نے ایوان کو بتایا کہ دور دراز اور شمالی علاقوں میں ایل پی جی 700 سے 800 روپے فی کلوگرام پر بک رہی ہے، جبکہ سرکاری نرخ 280 روپے ہے، اور پیٹرولیم کے وزیر نے تسلیم کیا کہ سرکاری قیمت 280 روپے ہے، مگر یہ بھی مانا کہ وافر سپلائی کے دوران بھی گیس سرکاری نرخ پر کہیں نہیں بک رہی۔ اس مضمون کے لیے جانچی گئی کوریج تک ریلیف پالیسی کا متن — اس کا حجم، کون اہل ہوگا، اور ریلیف اوگرا کے ماہانہ نوٹیفکیشن سے ملے گا یا کسی اور ذریعے سے — شائع نہیں ہوا تھا، اس لیے قارئین اسے دعویٰ کرنے کے قابل فائدے کے بجائے تفصیل کے منتظر وعدے کے طور پر سمجھیں۔
اس ہفتے کی خبروں میں گیس کی دو اور کہانیاں ایسی ہیں جنہیں اس سے گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔ پہلی سینیٹ میں آیا سہ ماہی گیس قیمتوں کا بل ہے، جسے تازہ پلس پہلے ہی کور کر چکا ہے: وہ بل قدرتی گیس کی قیمتوں کے تعین کی تعدد سے متعلق ہے — سال میں دو بار سے چار بار — اور جب تک وہ پاس ہو کر نوٹیفائی نہ ہو، وہ خود کوئی قیمت نہیں بدلتا۔ دوسری پیٹرولیم ڈویژن کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی ہے، جو رسد کو بازاروں تک پہنچانے کا نفاذی اقدام ہے، قیمت کا فارمولا نہیں۔ ایل پی جی فارمولے کی تبدیلی ان دونوں سے الگ ہے: یہ اس بینچ مارک کی تبدیلی ہے جو مقامی ایل پی جی پیدا کرنے والوں کی قیمت کی حد طے کرتا ہے، اس کا اعلان پیٹرولیم کے وزیر نے صنعت کے شراکت داروں سے کیا ہے، اور یہ یکم نومبر سے نافذ ہوگی۔ تینوں کو الگ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ ہر ایک کا اپنا وقت اور گیس کے بل کا اپنا حصہ ہے۔
آنے والے دنوں میں گھرانوں کو کیا دیکھنا چاہیے؟ پہلے، اوگرا کا نومبر نوٹیفکیشن، جو بتائے گا کہ نیا فارمولا سرکاری قیمت میں آیا یا نہیں، اور فی کلوگرام و فی سلنڈر کے نوٹیفائیڈ اعداد اصل میں کیا ہیں۔ اکتوبر کا نوٹیفکیشن 30 ستمبر کو یکم اکتوبر سے نافذ ہونے کے لیے جاری ہوا تھا؛ نومبر کا نوٹیفکیشن پہلا امتحان ہوگا کہ پی ایس او بینچ مارک فارمولا اسی صورت میں نافذ ہوتا ہے، مؤخر ہوتا ہے، یا صنعت کے اعتراضات کے بعد اس میں تبدیلی آتی ہے۔ دوسرے، قومی اسمبلی سے وعدہ کی گئی ریلیف پالیسی کا متن: جب تک وہ شائع نہیں ہوتا، کوئی گھرانہ نہیں جان سکتا کہ وہ اہل ہے یا اسے کتنی مدد ملے گی۔ تیسرے، اپنے بازار میں اصل قیمت، جو گھر کا بل طے کرتی ہے۔ اگر نوٹیفائیڈ قیمت اندازے کے مطابق 20 سے 25 فیصد بڑھے مگر کئی علاقوں میں بازار کی قیمت پہلے ہی 550 سے 750 روپے فی کلوگرام ہے، تو خاندان کے اصل بل پر فوری اثر سرخی سے کم ہو سکتا ہے — یا دکاندار بلند نوٹیفائیڈ حد کو پہلے سے زیادہ قیمتوں کا جواز بنا سکتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں دیکھنے والا عدد صرف نوٹیفائیڈ قیمت نہیں، بلکہ نوٹیفائیڈ اور بازار کی قیمت کے درمیان فرق ہے۔
اس ہفتے سلنڈر خریدنے والے گھرانوں کے لیے عملی اقدامات وہی ہیں اور دہرانے کے قابل ہیں۔ لائسنس یافتہ ڈیلر سے خریدیں اور ایسا بل لیں جس میں وزن، فی کلوگرام قیمت اور کل رقم الگ الگ لکھی ہو، تاکہ اس کا موازنہ نوٹیفائیڈ نرخ سے کیا جا سکے۔ ترسیل پر سلنڈر کی سیل اور وزن چیک کریں، اور بل سنبھال کر رکھیں: یہی وہ دستاویز ہے جو اس شکایت کی بنیاد بنتی ہے کہ اگر کوئی ڈیلر نوٹیفائیڈ قیمت سے کہیں زیادہ وصول کرے، اور پیٹرولیم ڈویژن کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف ہدایت کا انحصار بھی مشکل علاقوں میں نوٹیفائیڈ قیمتوں کے نفاذ پر ہے۔ اگر کوئی ڈیلر نوٹیفائیڈ نرخ سے کہیں زیادہ قیمت مانگے، تو وہ فرق خود ایک معلومات ہے — وہ دور دراز بازار کی حقیقی رسد لاگت بھی ہو سکتا ہے، یا وہی ذخیرہ اندوزی اور ٹرمینلز سے سست اٹھان بھی، جس کی طرف پیٹرولیم ڈویژن نے اشارہ کیا ہے — اور اس کی اطلاع ضلعی انتظامیہ یا اوگرا کے شکایتی چینل کو دینا ہی نفاذ کی شروعات ہے۔ گھرانوں کو گھبراہٹ میں خریداری سے بھی بچنا چاہیے: ایل پی جی خراب نہیں ہوتی، سردیوں کی مانگ قابل پیش گوئی ہے، اور سلنڈر جمع کرنے کی دوڑ مقامی بازار کو مزید تنگ کر دیتی ہے۔
پچھلے مہینے کی ایل پی جی کہانی دو قیمتوں کی کہانی رہی ہے: کاغذ پر سرکاری قیمت، اور دکان پر بازار کی قیمت۔ یکم نومبر سے کاغذ والی قیمت کا اپنا لنگر بدل رہا ہے، سعودی کنٹریکٹ قیمت سے پی ایس او کی لینڈڈ درآمدی لاگت تک۔ کیا اس سے بازار کی قیمت زیادہ منصفانہ ہوگی، یا صرف وہ حد بلند ہو جائے گی جس کے سائے میں پہلے سے بلند بازار قیمتیں چھپتی ہیں — اس کا فیصلہ تین چیزوں سے ہوگا جنہیں عوام دیکھ سکتے ہیں: تحریری نومبر نوٹیفکیشن، شائع شدہ ریلیف پالیسی، اور قاری کی اپنی گلی میں سلنڈر کی اصل قیمت۔ تازہ پلس کا ریٹس ڈیسک اگلا تصدیق شدہ اوگرا عدد اعلان ہوتے ہی شائع کرے گا، اور صاف بتائے گا کہ کون سا عدد اندازہ ہے، کون سا شعبے کا دعویٰ ہے، اور کون سا ان دعووں پر حساب ہے، اعلان شدہ قیمت نہیں۔ تب تک ایماندارانہ خلاصہ یہی ہے: نیا فارمولا کل سے نافذ ہو رہا ہے، صنعت کا اندازہ ہے کہ صارفین کی قیمتیں پانچواں سے چوتھائی حصہ بڑھ سکتی ہیں، حکومت نے ریلیف کا وعدہ کیا ہے جو ابھی شائع نہیں ہوا، اور بازار ملک کے کئی حصوں میں سرکاری نرخ سے کہیں اوپر چل رہا ہے۔
اس مضمون میں تصدیق شدہ بات صرف وہی ہے جو 28 اکتوبر 2026 کی دی نیوز رپورٹ اور دیگر نامزد ذرائع ثابت کرتے ہیں: وزارت پیٹرولیم کا فارمولا تبدیل کرنے کا فیصلہ، یکم نومبر سے نفاذ، پی ایس او کی لینڈڈ درآمدی لاگت کا بینچ مارک، اور صنعت کے 40 فیصد و 20 سے 25 فیصد کے اندازے۔ نومبر کی کوئی نئی قیمت اعلان نہیں کی گئی، کیونکہ کوئی اعلان نہیں ہوا؛ مثال کے طور پر دیے گئے اعداد اندازے پر حساب ہیں اور ویسے ہی لیبل کیے گئے ہیں۔
مقامی ایل پی جی پیدا کرنے والوں کی قیمت پر لگی حد کا بینچ مارک بدل رہا ہے۔ اب تک یہ حد سعودی آرامکو کے کنٹریکٹ پرائس سے جڑی تھی، جو سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی کا ماہانہ کنٹریکٹ نرخ ہے۔ یکم نومبر سے، دی نیوز کی 28 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، یہ حد پی ایس او کی لینڈڈ درآمدی لاگت ہوگی — یعنی وہ اصل لاگت جو پاکستان اسٹیٹ آئل کو درآمدی کھیپ پاکستان لانے میں آتی ہے، خریداری کی قیمت، مال برداری اور متعلقہ اخراجات سمیت۔ پیٹرولیم کے وزیر نے منگل کو شعبے کے نمائندوں کے اجلاس میں اس تبدیلی سے زبانی طور پر آگاہ کیا؛ اس مضمون کے لیے جانچی گئی کوریج میں نیا فارمولا تحریری نوٹیفکیشن کی صورت میں سامنے نہیں آیا تھا۔
کیونکہ بازار کا صرف ایک حصہ متاثر ہو رہا ہے، اور حساب اسی تناسب سے نکلتا ہے۔ دی نیوز کے حوالے سے بتائے گئے اعداد کے مطابق پاکستان کی ایل پی جی منڈی کا تقریباً 35 فیصد مقامی پیداوار سے آتا ہے اور 65 فیصد درآمدات سے۔ اگر مقامی پیدا کرنے والوں کی قیمتیں 40 فیصد تک بڑھیں، جیسا کہ شعبے کے اندازے میں کہا گیا ہے، اور صرف وہ 35 فیصد حصہ حرکت کرے، تو مجموعی بازار پر اثر تقریباً پانچواں سے چوتھائی حصہ بنتا ہے — اسی لیے 20 سے 25 فیصد کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ یہ صنعت کا اندازہ ہے، حکومت کا اعلان نہیں، اور نومبر کی اصل قیمت سرکاری نوٹیفکیشن اور دکانداروں کے اصل نرخ پر منحصر ہوگی۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے یکم اکتوبر 2026 سے ایل پی جی کی زیادہ سے زیادہ صارف قیمت 279.34 روپے فی کلوگرام، یا عام 11.8 کلوگرام گھریلو سلنڈر کے لیے 3,296.23 روپے، نوٹیفائی کی تھی۔ ایل پی جی پالیسی 2016 کے تحت یہ قیمت ایک حد ہے: پیدا کرنے والے، مارکیٹنگ کمپنیاں اور تقسیم کار اس سے کم پر بیچ سکتے ہیں۔ اسی سرکاری قیمت پر 20 سے 25 فیصد کا حساب لگائیں تو فی کلوگرام تقریباً 335 سے 349 روپے، اور سلنڈر تقریباً 3,956 سے 4,120 روپے بنتا ہے — مگر یہ اعداد صرف اندازے پر حساب ہیں، اعلان شدہ قیمتیں نہیں۔
کیونکہ بازار کی قیمت اور نوٹیفائیڈ قیمت کے درمیان فرق ہفتوں سے بہت بڑھ چکا ہے، اور اس کی وجہ رسد کی تنگی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے 23 اکتوبر کو رپورٹ کیا کہ خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں قیمت 750 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی اور سلنڈر 10 ہزار روپے سے اوپر چلا گیا، جبکہ کئی بازاروں میں 550 سے 600 اور پشاور میں تقریباً 600 روپے فی کلوگرام وصول کیا جا رہا تھا۔ ٹیک جوائس نے 21 اکتوبر کو بتایا کہ صارفین نے صرف پانچ دن میں سرکاری نرخ سے 1.4 ارب روپے سے زیادہ ادا کیے، اور ایل پی جی 600 سے 625 روپے فی کلوگرام پر بک رہی تھی۔ ٹریبیون نے اس قلت کو تفتان سرحد کی بندش سے جوڑا، اور پیٹرولیم ڈویژن نے اوگرا کو ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کا کہا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ درآمدی کھیپیں مانگ کے مطابق آ رہی ہیں مگر ٹرمینلز سے باقاعدگی سے اٹھائی نہیں جا رہیں۔
وزیر کے اجلاس میں صنعت کے نمائندوں نے تجویز کی قانونی حیثیت اور صارفین پر اس کے اثرات پر سوال اٹھائے، کہا کہ درآمدی لاگت میں مبالغہ آرائی کا خطرہ بازار کو غیر مستحکم کر سکتا ہے، اور سوئی سدرن گیس کمپنی کی ایل پی جی درآمدات سے متعلق ماضی کے تنازعات کا حوالہ دیا، جن میں مبینہ اوور انوائسنگ پر سابق انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا الزام لگایا گیا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ اقدام مقابلے کو نقصان پہنچائے گا — اگر کوئی نجی کمپنی پی ایس او سے سستی درآمد کر سکے تو کیا ہوگا؟ — اور انہوں نے اس کی جگہ شعبے کی مکمل ڈی ریگولیشن کا مطالبہ کیا، تاکہ قیمتیں خریدار اور بیچنے والے کے درمیان مذاکرات سے طے ہوں اور مقابلہ ہی بازار کا نرخ بنائے۔
حکومت نے 26 اکتوبر کو قومی اسمبلی کو بتایا کہ کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے ایل پی جی ریلیف پالیسی چند دن میں حتمی کر دی جائے گی، اس وقت جب اراکین نے بتایا کہ دور دراز اور شمالی علاقوں میں ایل پی جی 700 سے 800 روپے فی کلوگرام پر بک رہی ہے، جبکہ سرکاری نرخ 280 روپے ہے۔ اس مضمون کے لیے جانچی گئی کوریج تک پالیسی کا متن — اس کا حجم، کون اہل ہوگا، اور ریلیف کس ذریعے ملے گا — شائع نہیں ہوا تھا، اس لیے اسے تفصیل کے منتظر وعدے کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ گھرانوں کو تین چیزیں دیکھنی چاہئیں: اوگرا کا نومبر نوٹیفکیشن، جس سے پتہ چلے گا کہ نیا فارمولا سرکاری قیمت میں آیا یا نہیں؛ ریلیف پالیسی کا شائع شدہ متن؛ اور اپنے بازار میں سلنڈر کی اصل قیمت، جو گھر کا بل طے کرتی ہے۔
انگریزی میں مکمل رپورٹ | معیشت کی خبریں | اردو ہوم پیج