جمعہ 30 اکتوبر 2026 کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں اور مہینے کے اختتام پر چوتھی مسلسل ماہانہ بڑھوتری کی طرف بڑھیں۔ اس کی فوری وجہ آبنائے ہرمز میں ایک ٹینکر پر حملہ بنا، جس نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ سے پیدا ہونے والے سپلائی کے خدشات کو پھر تازہ کر دیا۔ رائٹرز کے مطابق یہ جنگ اب آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔
اعداد اس کہانی کو صاف بتاتے ہیں۔ برینٹ کا دسمبر معاہدہ، جو جمعہ کو ختم ہو رہا تھا، صبح کے کاروبار میں 1.20 ڈالر بڑھ کر 116.08 ڈالر فی بیرل پر پہنچا، اور بعد میں 2.27 ڈالر کے اضافے سے 117.15 ڈالر پر جا پہنچا۔ جنوری کا زیادہ فعال معاہدہ 112.99 ڈالر پر رہا۔ امریکی ڈبلیو ٹی آئی 1.79 ڈالر بڑھ کر 103.79 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ مہینے بھر کے حساب سے برینٹ تقریباً 13 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 15 فیصد بڑھا — یہ اعداد دن بھر کی تجارت کے ساتھ بدلتے رہے، اس لیے صبح اور شام کی رپورٹوں میں معمولی فرق ہے، مگر سمت ایک ہی ہے: اوپر۔
جمعہ کا واقعہ برطانوی ادارے یو کے ایم ٹی او کی رپورٹ سے سامنے آیا، جس کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک ٹینکر پر چھوٹی کشتی سے لگائے گئے دھماکا خیز آلات سے حملہ کیا گیا۔ یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوا کہ حملے کے پیچھے کون تھا، اور رپورٹنگ میں ٹینکر کا نام بھی نہیں بتایا گیا۔ یہ احتیاط ضروری ہے، کیونکہ اس علاقے میں پچھلے دنوں کئی الگ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ جمعہ کے حملے کو جمعرات کی خبروں سے ملانا غلط ہوگا، جن میں خسب کے قریب جہاز میں آگ، ایرانی دعویٰ کہ تین ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرائے، اور امریکی سینٹرل کمانڈ کا اس دعوے کو رد کرنا شامل تھا۔ ہر واقعہ اپنی الگ حقیقت اور اپنے الگ ذرائع کے ساتھ کھڑا ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت اس کے حجم میں ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان یہ تنگ آبی گزرگاہ دنیا کے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ لے کر گزرتی ہے، اور خلیج کے زیادہ تر خام تیل کے لیے اس کا کوئی عملی متبادل راستہ نہیں۔ جب وہاں کسی ٹینکر پر حملہ ہوتا ہے، یا حملے کی خبر بھی آتی ہے، تو تاجر اس کا انتظار نہیں کرتے کہ حملہ آور کون نکلا یا کتنا نقصان ہوا — وہ فوراً خطرے کی قیمت لگا دیتے ہیں۔ اس قیمت میں اگلے ہفتے کی ترسیل میں خلل، انشورنس کی بڑھتی ہوئی لاگت، اور جہاز رانی کمپنیوں کی جانب سے راستہ بدلنے یا ترسیل روکنے کا امکان شامل ہوتا ہے۔ جمعہ کی قیمتوں میں یہی خطرے کی قیمت نظر آ رہی ہے، نہ کہ کسی بند پیداوار کا فوری نقصان، کیونکہ کسی بڑی تنصیب کے بند ہونے کی خبر نہیں آئی۔
جمعہ کا حملہ اکیلا واقعہ نہیں تھا۔ جمعرات کو یمن کی حوثی تحریک نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے سعودی عرب میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں سب سے بڑی ریفائنری راس تنورہ، رابغ ریفائنری اور ابقیق میں سعودی آرامکو کی پیداواری تنصیب شامل ہیں، جبکہ سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا کہ اس نے مملکت کے مغربی علاقے کی طرف داغا گیا حوثی کروز میزائل روک لیا۔ ان دعووں کی تصدیق کا اپنا مسئلہ ہے: ماضی میں حوثی دعوے مبالغہ آمیز بھی نکلے ہیں، اور سعودی بیانات میں کبھی نقصان کی تصدیق ہوتی ہے، کبھی صرف روک تھام کی۔ مگر سمت واضح ہے: خطے کی توانائی کی تنصیبات بار بار نشانے پر آ رہی ہیں، اور ہر واقعہ، تصدیق شدہ ہو یا محض دعویٰ، منڈی کے خطرے کے اندازے کو بڑھا دیتا ہے۔
ماہرین کی زبان اس صورت حال کو اچھی طرح سمجھاتی ہے۔ ایم ایس ٹی مارکی کے ساؤل کاوونک نے کہا کہ ہرمز کے گرد مسلسل کارروائیاں اور سفارتی راستے پر شکوک قیمتیں اوپر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ منڈی آنے والے ہفتوں میں کشیدگی بڑھنے کی توقع کر رہی ہے۔ یہ جملہ اہم ہے: کاوونک یہ نہیں کہہ رہے کہ جنگ یقینی ہے یا سپلائی پہلے ہی کٹ چکی ہے، بلکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ منڈی کی توقع بدل گئی ہے — آج تیل مہنگا اس لیے ہے کہ کل کے خطرے کو زیادہ سمجھا جا رہا ہے۔ چار مسلسل ماہانہ بڑھوتریاں بھی یہی بتاتی ہیں: ایک دن کی خبر سے ایسا نہیں ہوتا، بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب خطرے کا بنیادی اندازہ بدل کر وہیں ٹھہر جائے۔
سیکسو بینک کے اولے ہینسن نے سنگاپور میں جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دو سیاسی تاریخوں کی طرف اشارہ کیا جو اگلے دو ہفتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھا سکتی ہیں: اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات اور امریکہ کے وسط مدتی انتخابات۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورت حال میں قیمتوں کی پیش گوئی مشکل ہے، مگر جنگ ختم ہونے کے بعد بھی خام تیل 70 سے 90 ڈالر کے درمیان رہ سکتا ہے، جبکہ جنگ سے پہلے یہ حد 60 سے 70 ڈالر تھی — وجہ نئی کشیدگی کا خطرہ اور ذخائر کی دوبارہ بھرتی ہے۔ یہ اندازہ جمعہ کی 117 ڈالر کی قیمت کے تناظر میں سمجھنا چاہیے: موجودہ قیمت اس حد سے بھی بہت اوپر ہے، یعنی منڈی اس وقت جنگ اور خلل کی خاصی قیمت لگا رہی ہے۔ اگر کشیدگی کم ہوئی تو یہ اضافی قیمت جلد اتر سکتی ہے، اور اگر بڑھی تو مزید چڑھ سکتی ہے۔
سفارت کاری بھی حملوں کے ساتھ ساتھ چل رہی ہے، اگرچہ کسی بڑی کامیابی کا اعلان نہیں ہوا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران سے طبی سامان کے حوالے سے رابطہ کیا ہے، جبکہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ وینس نے تہران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار کو امن مذاکرات بحال کرنے کے لیے خط لکھا ہے۔ جمعہ کو قطری ثالث بھی تہران واپس پہنچے، تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ان میں سے کوئی بھی پیش رفت جنگ بندی یا جوہری معاہدہ نہیں، اور اسے ایسا پیش نہیں کیا گیا۔ مگر ثالثی کا جاری رہنا ہی وجہ ہے کہ منڈی نے آبنائے کی مکمل بندش کی قیمت نہیں لگائی — تاجر دو خطروں کو ایک ساتھ تول رہے ہیں: سفارت کاری کی ناکامی اور اس کی کامیابی، دونوں کا اثر الٹا ہے۔
پاکستانی گھر تک اس خبر کا راستہ روزانہ نظرثانی کے نظام سے گزرتا ہے۔ اکتوبر 2026 سے پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں روزانہ طے ہوتی ہیں، اور ان میں عالمی قیمت، ڈالر کا نرخ، ٹیکس اور لیوی شامل ہوتے ہیں — کسی ایک دن کی برینٹ قیمت براہ راست پمپ کی قیمت نہیں بنتی۔ 30 اکتوبر کی نظرثانی، جو جمعہ کی دیر کی تجارت سے پہلے شائع ہوئی، میں پیٹرول 377.91 روپے پر برقرار رہا اور ڈیزل 0.85 روپے بڑھ کر 400.67 روپے ہو گیا، جو ڈیزل میں تیسرے دن کی مسلسل بڑھوتری تھی۔ جمعہ کی عالمی تجارت سے کوئی نئی پاکستانی قیمت اعلان نہیں ہوئی، اور یہ مضمون بھی کوئی ایسی قیمت دعویٰ نہیں کرتا۔ مگر دباؤ واضح ہے: اگر برینٹ 117 ڈالر کے قریب ٹھہرا رہا تو درآمدی لاگت بڑھے گی، اور حکومت و ریگولیٹر کو پھر وہی فیصلہ کرنا ہوگا جو پورا مہینہ درپیش رہا ہے — لاگت آگے منتقل کریں، لیوی سے جذب کریں، یا درمیانی راستہ نکالیں۔ موجودہ قیمت میں 80 روپے پیٹرولیم لیوی اور 5 روپے کلائمیٹ لیوی پہلے ہی شامل ہے، اور لیوی ختم کرنے کے سیاسی مطالبات مالی حساب سے ٹکرا رہے ہیں۔
ایک دن کی دو فیصد بڑھوتری جنگی منڈی میں شور ہے، مگر مہینے بھر کی 13 فیصد بڑھوتری، جو چوتھی مسلسل ماہانہ بڑھوتری بن رہی ہے، ایک مسلسل لاگت ہے۔ پاکستان اپنی زیادہ تر خام اور صاف شدہ مصنوعات درآمد کرتا ہے، اس لیے درآمدی بل، تجارتی خسارہ اور مہنگائی سب اس مسلسل قیمت سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس کا اثر پہلے روزانہ نظرثانی میں، پھر کرایوں اور مال برداری میں، اور کچھ وقفے سے ان اشیا کی قیمتوں میں نظر آتا ہے جو سڑک سے سفر کرتی ہیں۔ یہ سب خودکار یا فوری نہیں، مگر سمت اوپر کی طرف ہے، جب تک جنگ کی قیمت منڈی میں موجود ہے۔
آگے پانچ چیزیں دیکھنی ہیں: پہلی، یو کے ایم ٹی او کی اگلی اپ ڈیٹ — ٹینکر کا نام، جھنڈا، نقصان کی حد اور عملے کی حالت۔ دوسری، راس تنورہ، رابغ یا ابقیق کے بارے میں سعودی آرامکو کا کوئی بیان، جو حوثی دعووں کی تصدیق یا تردید کرے۔ تیسری، برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی اگلی بندش، اور دسمبر معاہدے کے ختم ہونے سے جنوری میں منتقلی کا اثر۔ چوتھی، قطری ثالثی یا واشنگٹن و تہران سے مذاکرات پر کوئی بیان۔ اور پانچویں، پاکستانی قارئین کے لیے اگلی روزانہ نظرثانی، جو پہلی بار بتائے گی کہ جمعہ کی عالمی قیمتیں گھر کے پمپ تک پہنچی ہیں یا نہیں۔ جب تک یہ تفصیلات نہیں آتیں، ذمہ دارانہ خلاصہ یہی ہے: 30 اکتوبر کو تیل چوتھی ماہانہ بڑھوتری کی طرف بڑھا، برینٹ 117 ڈالر کے قریب اور ڈبلیو ٹی آئی 104 ڈالر کے قریب رہا، جس کی وجہ ہرمز میں ٹینکر پر حملہ تھا، جس کا حملہ آور ابھی نامعلوم ہے۔ تازہ پلس یو کے ایم ٹی او، آرامکو یا ثالثوں کی نئی تصدیق شدہ معلومات اور اگلی روزانہ نظرثانی آتے ہی یہ خبر اپ ڈیٹ کرے گا۔
جمعہ 30 اکتوبر کو تیل کی قیمتیں بڑھیں اور مہینے کے اختتام پر چوتھی مسلسل ماہانہ بڑھوتری کی طرف بڑھیں۔ برینٹ دسمبر معاہدہ 117.15 ڈالر فی بیرل تک پہنچا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 103.79 ڈالر پر رہا۔ مہینے بھر میں برینٹ تقریباً 13 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 15 فیصد بڑھا، رائٹرز کی بعد کی رپورٹ کے مطابق۔
برطانوی ادارے یو کے ایم ٹی او نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ٹینکر پر چھوٹی کشتی سے لگائے گئے دھماکا خیز آلات سے حملہ ہوا۔ حملہ آور کی شناخت فوری طور پر واضح نہیں ہوئی اور ٹینکر کا نام بھی رپورٹ میں نہیں بتایا گیا۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے، اس لیے وہاں کی کوئی بھی خبر منڈی کو فوراً متاثر کرتی ہے۔
نہیں۔ جمعرات کی رپورٹس الگ تھیں: خسب کے قریب ایک جہاز میں آگ، ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کا دعویٰ کہ تین ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرائے، اور امریکی سینٹرل کمانڈ کا اس دعوے کو مسترد کرنا۔ جمعہ کا واقعہ یو کے ایم ٹی او کی الگ رپورٹ ہے، اور دونوں کو ملانا درست نہیں ہوگا۔ تازہ پلس نے جمعرات کی خبر الگ شائع کی تھی۔
ایم ایس ٹی مارکی کے ساؤل کاوونک کے مطابق ہرمز کے گرد مسلسل کارروائیاں اور سفارتی راستے پر شکوک قیمتیں اوپر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ منڈی آنے والے ہفتوں میں کشیدگی بڑھنے کی توقع کر رہی ہے۔ سیکسو بینک کے اولے ہینسن نے اسرائیل کے انتخابات اور امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے باعث اتار چڑھاؤ کی پیش گوئی کی، اور کہا کہ جنگ کے بعد بھی خام تیل 70 سے 90 ڈالر کے درمیان رہ سکتا ہے، جبکہ جنگ سے پہلے یہ حد 60 سے 70 ڈالر تھی۔
نہیں، خود بخود نہیں۔ پاکستان میں قیمتیں روزانہ نظرثانی کے نظام سے طے ہوتی ہیں، جس میں عالمی قیمت، ڈالر کا نرخ، ٹیکس اور لیوی شامل ہوتے ہیں۔ 30 اکتوبر کی نظرثانی میں پیٹرول 377.91 روپے پر برقرار رہا اور ڈیزل 0.85 روپے بڑھ کر 400.67 روپے ہوا۔ جمعہ کی عالمی قیمتوں سے کوئی نئی پاکستانی قیمت اعلان نہیں ہوئی، اور اگلی روزانہ نظرثانی ہی پہلا اصل امتحان ہوگی۔
انگریزی میں مکمل رپورٹ | معیشت کی خبریں | اردو ہوم پیج