اے آر وائی نیوز نے جمعہ 30 اکتوبر 2026 کو رپورٹ کیا کہ آنے والے مہینوں میں پاکستانیوں کے بجلی کے بل بڑھ سکتے ہیں، اور اس انتباہ کے پیچھے کے اعداد پہلے ہی سرکاری ریکارڈ پر موجود ہیں۔ فوری وجہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے سامنے ایک درخواست ہے: سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی (سی پی پی اے جی) نے سرکاری تقسیم کار کمپنیوں کی طرف سے ستمبر 2026 کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے طور پر صارفین سے اضافی 2.5624 روپے فی یونٹ وصول کرنے کی اجازت مانگی ہے۔ اگر نیپرا یہ درخواست اسی سطح پر یا اس کے قریب منظور کر لے تو یہ رقم نومبر کے بلوں میں آئے گی۔ اور اس سے آگے سردیوں کا انتباہ ہے: پاور ڈویژن کے ذرائع سے رپورٹنگ کے مطابق دسمبر سے فروری کے دوران فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ دو سے تین گنا بڑھ سکتی ہے، کیونکہ مہنگا درآمدی ایندھن پیداوار میں زیادہ حصہ لے گا اور سستی پن بجلی موسمی طور پر کم ہو جائے گی۔
اس خبر کا سب سے اہم جملہ یہ ہے کہ یہ سب ابھی نوٹیفائی شدہ ٹیرف میں اضافہ نہیں ہے۔ 2.5624 روپے وہ رقم ہے جو مانگی گئی ہے، نہ کہ وہ جو طے ہو گئی ہو۔ نیپرا نے ستمبر کے ایف سی اے کی درخواست پر جمعرات 29 اکتوبر کو اسلام آباد میں نیپرا ٹاور میں عوامی سماعت کی، اور اس کے بعد کی رپورٹنگ میں فیصلہ محفوظ بتایا گیا ہے۔ اس لیے نومبر کو دیکھنے والا مہینہ سمجھیں، قیمت طے شدہ مہینہ نہیں: حتمی ایف سی اے درخواست سے کم بھی ہو سکتا ہے، جیسا کہ 2026 کے ہر مہینے میں ہوا ہے، یا اس کے قریب بھی آ سکتا ہے۔ جو بات طے ہے وہ سمت ہے — ستمبر بجلی پیدا کرنے کے لیے مہنگا مہینہ تھا، اور اس کا بل ابھی بھیجا نہیں گیا۔
ایف سی اے وہ ماہانہ نظام ہے جس کے ذریعے ٹیرف میں فرض کی گئی ایندھنی لاگت اور اصل میں آنے والی ایندھنی لاگت کا فرق صارفین تک پہنچایا جاتا ہے۔ ستمبر 2026 کے لیے سی پی پی اے جی کی فائلنگ میں حوالہ ایندھنی لاگت — یعنی ٹیرف میں پہلے سے شامل لاگت — 7.4596 روپے فی یونٹ ہے، اور تقسیم کار کمپنیوں کو فراہم کی گئی بجلی کی اصل ایندھنی لاگت 10.0220 روپے فی یونٹ۔ فرق ہی 2.5624 روپے فی یونٹ بنتا ہے جو اب نیپرا کے سامنے ہے۔ دی نیوز نے درخواست دائر ہوتے وقت یہی اعداد رپورٹ کیے تھے، اور ریگولیٹر کی سماعت کے نوٹس سے بھی کیس کی یہی صورت بنتی ہے: ستمبر ایندھن کا مہینہ، 29 اکتوبر کو سماعت، اور وہ فیصلہ جو طے کرے گا کہ نومبر کے بلوں میں کیا وصول ہوگا، اگر کچھ ہوا تو۔
فرق اتنا زیادہ کیوں ہے، یہ سی پی پی اے جی کے ستمبر کے پیداواری اعداد سے صاف نظر آتا ہے۔ اس مہینے کل 13,217 گیگا واٹ گھنٹے بجلی پیدا ہوئی، جن میں سے ترسیلی نقصانات اور آزاد بجلی پیدا کرنے والوں کو فروخت کے بعد 12,760 گیگا واٹ گھنٹے تقسیم کار کمپنیوں کو فراہم ہوئے۔ اس پیداوار کا کل ایندھنی بل 127.87 ارب روپے تھا۔ درآمدی کوئلہ 37.14 ارب روپے کے ساتھ سب سے بڑا خرچہ تھا، اس کے بعد مائع قدرتی گیس (ایل این جی) 31.93 ارب، مقامی گیس 13.89 ارب، ڈیزل 13.26 ارب، فرنس آئل 11.81 ارب اور مقامی کوئلہ 7.95 ارب روپے۔ سادہ لفظوں میں: جس مہینے درآمدی ایندھن زیادہ جلتا ہے، اسی مہینے ایف سی اے زیادہ بنتا ہے — اور ستمبر ایسا ہی مہینہ تھا، جس میں درآمدی کوئلے اور ایل این جی کے ساتھ فرنس آئل اور ڈیزل بھی پیداوار میں شامل تھے۔
درخواست کے ساتھ مجموعی بوجھ کا عدد بھی ہے: اگر پورے 2.5624 روپے منظور ہو جائیں تو صارفین پر تقریباً 32.66 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ اور یہ صرف سرکاری تقسیم کار کمپنیوں تک محدود نہیں رہے گا۔ وفاقی حکومت کی یکساں ٹیرف پالیسی کے تحت سابق واپڈا تقسیم کار کمپنیوں کے لیے طے شدہ ایف سی اے کراچی میں کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی لاگو ہوتا ہے، اس لیے اسلام آباد میں ہونے والا فیصلہ کراچی کے بلوں تک بھی پہنچے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مہینے کے ایندھن کی لاگت سے متعلق یہ تکنیکی فائلنگ دراصل ملک گیر قیمت کی خبر ہے۔
نومبر میں کیا اضافہ ہو سکتا ہے، یہ سمجھنے کے لیے پہلے یہ دیکھیں کہ صارفین پہلے سے کیا ادا کر رہے ہیں۔ اکتوبر کے بلوں میں اگست 2026 کا ایف سی اے 1.1086 روپے فی یونٹ شامل ہے، جسے نیپرا نے 7 اکتوبر کو منظور کیا تھا — جبکہ سی پی پی اے جی نے 1.7267 روپے مانگے تھے، یعنی ساٹھ پیسے سے زیادہ کی کٹوتی، جو اس سال ریگولیٹر کے طرز عمل کے عین مطابق ہے کہ وہ مانگی گئی رقم سے کم منظور کرتا ہے۔ ستمبر کے بلوں میں جولائی کا ایف سی اے 2.0581 روپے فی یونٹ تھا، جبکہ درخواست 2.5182 روپے کی تھی۔ اور ان دونوں کے نیچے اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی کا سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) 0.5194 روپے فی یونٹ چل رہا ہے، جو ستمبر، اکتوبر اور نومبر 2026 میں وصولی کے لیے منظور ہوا تھا۔ کیو ٹی اے ایف سی اے سے الگ چیز ہے: ایف سی اے ایک مہینے کے ایندھن کے فرق کا حساب کرتا ہے، جبکہ کیو ٹی اے ایک سہ ماہی کی کپیسٹی ادائیگیوں اور دیگر اخراجات کا۔ اسی لیے ایک بل میں دونوں لائنیں ایک ساتھ آ سکتی ہیں، اور بل اس مہینے بھی بڑھ سکتا ہے جس میں بنیادی ٹیرف بدلا ہی نہ ہو۔
درخواست، سماعت، کٹوتی، نوٹیفکیشن — یہی ترتیب ستمبر کی درخواست کے ساتھ آگے کیا ہوگا، اس کا بہترین اشارہ بھی ہے۔ 2026 کے اب تک کے ہر مہینے میں نیپرا نے سی پی پی اے جی کی مانگی گئی رقم سے کم منظور کی ہے، تقریباً پندرہ سے باسٹھ پیسے فی یونٹ تک کی کٹوتی کے ساتھ۔ ستمبر کی درخواست اس سال کی سب سے بڑی ہے، اس لیے حتمی کٹوتی کا حجم ہی اصل نامعلوم ہے۔ جو صارف پورے 2.5624 روپے پر بجٹ بنائے گا وہ حد پر بجٹ بنا رہا ہے، فیصلے پر نہیں؛ اور جو یہ فرض کرے گا کہ یہ چارج غائب ہو جائے گا وہ ایسی بات فرض کر رہا ہے جس کی کوئی رپورٹنگ تائید نہیں کرتی۔ نیپرا کے نوٹیفکیشن تک ایماندارانہ پوزیشن یہی ہے کہ ستمبر کا ایک نمایاں ایف سی اے متوقع ہے، اور اس کا درست حجم غیر طے شدہ ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حالیہ ایف سی اے فیصلوں میں کچھ زمرے اس چارج سے باہر رکھے گئے ہیں۔ جولائی کے ایف سی اے کے نوٹیفکیشن کے خلاصے کے مطابق لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور پری پیڈ ٹیرف اختیار کرنے والے پری پیڈ صارفین اس چارج سے مستثنیٰ تھے۔ یہ استثنیٰ اس فیصلے کے لیے تھا، اور ستمبر کا فیصلہ اپنی شرائط کے ساتھ آئے گا — مگر یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ ایف سی اے کی سرخی میں 'صارفین' کا مطلب خود بخود ہر کنکشن نہیں ہوتا۔ ستمبر کا نوٹیفکیشن ہی طے کرے گا کہ کون ادا کرے گا اور کون نہیں۔
اے آر وائی کی رپورٹ کا 'آنے والے مہینوں' والا انتباہ ستمبر کے ایف سی اے سے آگے جاتا ہے، اور سردیوں کا زاویہ وہ جگہ ہے جہاں کہانی زیادہ سنجیدہ ہو جاتی ہے۔ پاور ڈویژن کے ذرائع سے رپورٹنگ کے مطابق دسمبر سے فروری کے دوران فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ دو سے تین گنا بڑھ سکتی ہے۔ منطق موسمی بھی ہے اور ساختی بھی: سردیوں میں دریاؤں کا بہاؤ کم ہونے سے پن بجلی کی پیداوار گھٹ جاتی ہے، مقامی گیس کی دستیابی محدود رہتی ہے، اور خلا درآمدی ایل این جی، کوئلے اور فرنس آئل سے پُر ہوتا ہے — جو پیداواری مکس کے مہنگے ترین ایندھن ہیں۔ اگر عالمی ایندھن کی قیمتیں بلند رہیں تو سردیوں کے ہر مہینے کا ایف سی اے پچھلے مہینے سے زیادہ بنیاد پر شروع ہوگا۔
اسی رپورٹنگ میں ایک حیران کن دعویٰ بھی ہے کہ حکومتی مداخلت کے بغیر ستمبر کا ایڈجسٹمنٹ 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک جا سکتا تھا، اور دو گھنٹے کے لوڈ مینجمنٹ سمیت اقدامات نے درخواست کو 2.56 روپے تک محدود رکھا۔ یہ دعویٰ پاور ڈویژن کے ذرائع سے رپورٹنگ میں ہے، نیپرا کی کسی شائع شدہ دستاویز میں نہیں، اور اسے اسی حیثیت سے پڑھنا چاہیے — مگر یہ بنیادی دباؤ کا حجم بتاتا ہے۔ لوڈ مینجمنٹ — دن کے کچھ حصے میں طلب کو دانستہ طور پر سنبھالنا — مہنگی پیداوار کی خریداری کم کرتا ہے، اور اسی لیے اس کے بعد آنے والا ایف سی اے بھی چھوٹا ہوتا ہے۔ اور صارف کے لیے یہ اسی مسئلے کا دکھائی دینے والا رخ ہے: نظام لاگت اور سپلائی کے درمیان توازن کر رہا ہے، اور اس توازن کے دونوں رخ گھروں تک پہنچتے ہیں، ایک بل کی صورت میں اور دوسرا بجلی کی بندش کی صورت میں۔
چونکہ ایف سی اے فی یونٹ لگتا ہے، اس کا اثر استعمال کے ساتھ براہ راست بڑھتا ہے، اور ایک سادہ حساب — جسے واضح طور پر مانگی گئی شرح پر حساب کہا جا رہا ہے، نہ کہ کسی گھر کے بل کی پیش گوئی — حجم بتاتا ہے۔ پورے مانگے گئے 2.5624 روپے فی یونٹ پر 200 یونٹ استعمال کرنے والے گھر کے لیے تقریباً 513 روپے، 300 یونٹ پر تقریباً 769 روپے، اور 500 یونٹ پر تقریباً 1,281 روپے کا اضافہ بنے گا۔ یہ اعداد پہلے سے چلنے والے کیو ٹی اے، ٹیکسوں اور بل کے دیگر حصوں کے بغیر ہیں، اور یہ فرض کرتے ہیں کہ پوری درخواست منظور ہو اور گھر کے تمام یونٹوں پر لگے، جو حتمی نوٹیفکیشن میں ضروری نہیں۔ ان کی حیثیت صرف حجم کا احساس دلانا ہے: کئی ہزار روپے ماہانہ ادا کرنے والے گھر کے لیے مانگی گئی سطح پر ستمبر کا ایف سی اے معمولی رقم نہیں ہوگا۔
کاروبار کے لیے حساب زیادہ سخت ہے، کیونکہ استعمال زیادہ ہے اور بجلی براہ راست پیداواری لاگت ہے۔ چھوٹے کارخانے، کولڈ اسٹوریج، ورکشاپس اور تجارتی صارفین تجارتی ٹیرف پر ایف سی اے کا اضافہ دو بار محسوس کرتے ہیں: ایک بار اپنے بل میں اور ایک بار ہر اس چیز کی قیمت میں جو بجلی سے بنتی، محفوظ ہوتی یا منتقل ہوتی ہے۔ یہی وہ منتقلی ہے جس کی وجہ سے نیپرا کی سماعتوں میں صنعت کی تنظیمیں ایف سی اے کی درخواستوں پر اعتراض کرتی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ درخواستوں میں ریگولیٹر کی کٹوتی گھر کے بل سے آگے بھی اہم ہے۔ فی یونٹ پچاس پیسے کا فرق، ملک کے تمام بل شدہ یونٹوں پر پھیلا کر، اربوں روپے بنتا ہے — اور یہی وجہ ہے کہ سماعت کا عمل، جس میں صارفین اور صنعت کے نمائندے شریک ہوتے ہیں، موجود ہے۔
چار چیزیں طے کریں گی کہ یہ کہانی دراصل کیسے اترے گی۔ پہلی، ستمبر کے ایف سی اے پر نیپرا کا فیصلہ: شرح، اس کے دائرے میں آنے والے زمرے، اور وہ بل کا مہینہ جس پر اسے لگایا جائے گا۔ وہ فیصلہ نوٹیفائی ہوتے ہی اس مضمون کی ہر پیش گوئی کی جگہ لے لے گا۔ دوسری، سردیوں کا ایندھنی مکس: عالمی سطح پر ایل این جی اور کوئلے کی قیمتیں، سردیوں میں پن بجلی کی پیداوار، اور مقامی گیس کی دستیابی۔ تیسری، حکومت دوبارہ مداخلت کرتی ہے یا نہیں — جیسا کہ رپورٹنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستمبر میں ہوا — اور کس صورت میں: سبسڈی، موخر وصولی، یا لوڈ مینجمنٹ۔ چوتھی، کیو ٹی اے کا چکر: موجودہ 0.5194 روپے کا سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ نومبر تک چل رہا ہے، اور اگلی سہ ماہی کا فیصلہ اس کے نیچے ایک نئی بنیاد طے کرے گا، جس پر سردیوں کا ایف سی اے آئے گا۔
صارف کے لیے عملی اقدامات سادہ مگر حقیقی ہیں۔ بل کو صرف مجموعی رقم سے نہیں، اس کی لائنوں سے پڑھیں: ایف سی اے اور کیو ٹی اے الگ الگ لائنوں میں آتے ہیں، اور یہ جاننا کہ کون سی لائن بدلی ہے، یہ بتاتا ہے کہ اضافہ ایک مہینے کے ایندھن کا اثر ہے یا سہ ماہی کی کپیسٹی کا۔ ادائیگی سے پہلے بل خود چیک کریں: ہر تقسیم کار کمپنی پرانے بل پر درج حوالہ نمبر سے آن لائن ڈپلیکیٹ بل دیکھنے اور چھاپنے کی سہولت دیتی ہے، اور غلط میٹر ریڈنگ کو ادائیگی سے پہلے پکڑنا ادا شدہ بل پر اعتراض سے کہیں آسان ہے۔ اور وہ واحد چیز جو ہر گھر کے اختیار میں ہے وہ یونٹ ہیں: چونکہ ایف سی اے فی یونٹ لگتا ہے، بچایا ہوا ہر یونٹ وہ یونٹ بھی ہے جس پر آئندہ ایڈجسٹمنٹ نہیں لگے گا۔ یہ سب 2.56 روپے کے ایف سی اے کا متبادل نہیں — یہ صاف کہنا ضروری ہے — مگر یہ اس بل میں فرق ڈالتا ہے جو صرف ایڈجسٹمنٹ سے بڑھے اور اس بل میں جو ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ ساتھ قابل اجتناب ضیاع سے بھی بڑھے۔
تو اکتوبر کا بل پڑھنے والا گھر اے آر وائی کے انتباہ سے کیا لے؟ ایک درخواست، نہ کہ ٹیرف: ستمبر کے ایندھن کے لیے 2.5624 روپے فی یونٹ مانگے گئے ہیں، 29 اکتوبر کو نیپرا میں سماعت ہو چکی ہے، فیصلہ آنا باقی ہے، اور اس سال کے طرز عمل کے مطابق نومبر کے بلوں میں یہ درخواست سے کسی کم سطح پر آنے کا امکان ہے۔ ایک سہ ماہی چارج جو پہلے سے چل رہا ہے: نومبر تک 0.5194 روپے فی یونٹ۔ اکتوبر کا بل جس میں اگست کا ایف سی اے 1.1086 روپے پہلے ہی شامل ہے۔ اور سردیوں کا ایک انتباہ، جو کسی اتھارٹی کے نوٹیفکیشن سے نہیں بلکہ پاور ڈویژن کے ذرائع سے رپورٹنگ سے ہے، کہ دسمبر سے فروری کے دوران فیول ایڈجسٹمنٹ دو سے تین گنا بڑھ سکتی ہے اگر درآمدی ایندھن کی قیمتیں بلند رہیں اور پن بجلی و مقامی گیس کم رہے۔ ان میں سے کوئی عدد گھبرانے کی وجہ نہیں، اور کوئی بھی اگلے نیپرا نوٹیفکیشن کو نظر انداز کرنے کی وجہ نہیں۔ ستمبر کے مہنگے ایندھن کا بل ابھی بھیجا نہیں گیا ہے۔ جب بھیجا جائے گا، یہ صفحہ نوٹیفائی شدہ شرح کے ساتھ اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
نہیں۔ 2.5624 روپے فی یونٹ وہ رقم ہے جو سی پی پی اے جی نے نیپرا سے ستمبر 2026 کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے طور پر مانگی ہے، نہ کہ وہ رقم جو نیپرا نے منظور کر دی ہو۔ نیپرا نے 29 اکتوبر 2026 کو اس درخواست پر عوامی سماعت کی اور فیصلہ محفوظ بتایا گیا ہے۔ جب تک نیپرا اپنا فیصلہ نوٹیفائی نہیں کرتا، ستمبر کا کوئی ایف سی اے حتمی نہیں — اور 2026 کے ہر مہینے میں نیپرا نے مانگی گئی رقم سے کم منظور کی ہے۔
منظوری کی صورت میں ستمبر کا ایف سی اے نومبر کے بلوں میں وصول ہوگا، کیونکہ ایندھن کے مہینے اور بل کے مہینے میں عموماً دو ماہ کا وقفہ ہوتا ہے۔ اکتوبر کے بلوں میں پہلے ہی اگست کا ایف سی اے 1.1086 روپے فی یونٹ شامل ہے، اور اپریل تا جون سہ ماہی کا سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ 0.5194 روپے فی یونٹ نومبر تک چل رہا ہے۔ ستمبر کا نوٹیفکیشن ہی بل کا مہینہ اور مستثنیٰ زمرے طے کرے گا۔
سی پی پی اے جی کی فائلنگ کے مطابق ستمبر میں بجلی کی اصل ایندھنی لاگت 10.0220 روپے فی یونٹ رہی، جبکہ ٹیرف میں شامل حوالہ لاگت 7.4596 روپے فی یونٹ تھی — فرق ہی 2.5624 روپے بنتا ہے۔ ستمبر میں 13,217 گیگا واٹ گھنٹے بجلی پیدا ہوئی جس کا ایندھنی بل 127.87 ارب روپے تھا؛ درآمدی کوئلہ 37.14 ارب اور ایل این جی 31.93 ارب کے ساتھ سب سے بڑے خرچے تھے، اور ڈیزل، فرنس آئل، مقامی گیس و مقامی کوئلہ بھی شامل تھے۔ جس مہینے درآمدی ایندھن زیادہ جلتا ہے، اسی مہینے ایف سی اے زیادہ بنتا ہے۔
جی ہاں، منظوری کی صورت میں۔ وفاقی حکومت کی یکساں ٹیرف پالیسی کے تحت سرکاری تقسیم کار کمپنیوں کے لیے طے شدہ ایف سی اے کراچی میں کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ درخواست سابق واپڈا تقسیم کار کمپنیوں کی طرف سے دائر ہوئی تھی، مگر یکساں پالیسی اس کے نتیجے کو کے الیکٹرک تک پہنچا دیتی ہے۔
یہ ایک رپورٹ شدہ انتباہ ہے، نوٹیفائی شدہ ٹیرف نہیں۔ پاور ڈویژن کے ذرائع سے رپورٹنگ کے مطابق دسمبر سے فروری کے دوران فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ دو سے تین گنا بڑھ سکتی ہے، کیونکہ سردیوں میں پن بجلی کم ہو جاتی ہے، مقامی گیس محدود رہتی ہے اور درآمدی ایل این جی، کوئلہ و فرنس آئل سے خلا پُر ہوتا ہے۔ اسی رپورٹنگ میں یہ بھی ہے کہ حکومتی مداخلت اور لوڈ مینجمنٹ نے ستمبر کی درخواست کو 2.56 روپے تک محدود رکھا، ورنہ وہ 5 سے 6 روپے تک جا سکتی تھی۔ سردیوں کے اصل اعداد ایندھن کی قیمتوں، پیداواری مکس اور نیپرا کے ماہانہ فیصلوں پر منحصر ہوں گے۔
انگریزی میں مکمل رپورٹ | معیشت کی خبریں | اردو ہوم پیج