TaazaPulse — UrduRead in English
معیشت — پیٹرول کی قیمت

پیٹرول کا فارمولا بدل گیا: 30 دن کے لیے پی ایس او کارگو، 7 مارچ کی سطح اور لیوی کا نیا حساب

تازہ پلس معیشت ڈیسک | یکم نومبر 2026
حیدرآباد میں پی ایس او کا پیٹرول پمپ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت طے کرنے کا فارمولا 30 دن کے لیے بدل دیا ہے — اور اس تبدیلی کا بوجھ براہ راست ملک کی ریفائنریوں پر ڈالا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے 30 اکتوبر 2026 کو پیٹرولیم ڈویژن کی سمری پر یہ نیا طریقہ منظور کیا، اور وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) نے اسی دن اس کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا۔ نئے نظام میں پیٹرول کی درآمدی قیمت پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے متعلقہ کارگو کی اصل لاگت سے طے ہوگی، جبکہ ریفائنریاں اپنی ایکس ریفائنری قیمت 7 مارچ 2026 کی سطح پر لگائیں گی — یعنی جنگ سے پہلے کے پریمیم، اضافی اخراجات اور کسٹم ڈیوٹی کے نرخوں پر۔ دونوں قیمتوں کا فرق پیٹرولیم لیوی کے کھاتے میں جائے گا، اور حکومت کا حکم ہے کہ اس کا فائدہ صارف کو پیٹرول کی قیمت میں کمی کی صورت میں ملے۔

پہلی بات جو صاف کرنی ضروری ہے: اس فیصلے سے اس ہفتے کے آخر میں پمپ کی قیمت نہیں بدلی۔ پیٹرول 377.91 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 402.96 روپے فی لیٹر پر ہی ہے، جو 31 اکتوبر سے 2 نومبر تک کے نرخ ہیں۔ نیا فارمولا قیمت کے بورڈ کے پیچھے کا حساب بدلتا ہے — درآمدی قیمت کیسے نکلے گی، ریفائنری قیمت کیسے نکلے گی، اور دونوں کے درمیان کا فرق کون اٹھائے گا۔ حکومت اسے صارف کو ریلیف کہتی ہے، ریفائنری صنعت اسے تقریباً 49 روپے فی لیٹر کا نیا بوجھ کہتی ہے۔ دونوں باتیں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں: جو رقم ریفائنریوں کے پاس رہتی، وہ اب لیوی کے راستے پیٹرول خریدنے والے تک پہنچائی جائے گی۔

نیا حساب تین حصوں میں

پہلا حصہ درآمدی قیمت کا ہے۔ پیٹرول کی درآمدی قیمت اب پی ایس او کے متعلقہ کارگو کی اصل لاگت سے طے ہوگی۔ اگر روزانہ حساب کے وقت کسی کارگو کی اصل لاگت دستیاب نہ ہو تو آخری دستیاب کارگو کے پریمیم، اضافی اخراجات اور کسٹم ڈیوٹی استعمال ہوں گے۔ یعنی شروعات اس قیمت سے ہوگی جو پاکستان نے واقعی ادا کی، کسی پرانے بینچ مارک یا اوسط اندازے سے نہیں۔

دوسرا حصہ ریفائنری قیمت کا ہے۔ ریفائنریاں اپنی ایکس ریفائنری قیمت 7 مارچ 2026 کے نرخوں پر لگائیں گی — جنگ سے پہلے کی سطح۔ مارچ سے اکتوبر کے درمیان جنگ، جہاز رانی کی رکاوٹ اور آبنائے ہرمز کے خطرے نے درآمدی ایندھن کے پریمیم اور اضافی اخراجات بڑھا دیے تھے۔ نئے فارمولے میں ریفائنری کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنا پیٹرول ایسے بیچے جیسے جنگ نے اس کی لاگت بڑھائی ہی نہ ہو، حالانکہ وہ خام تیل آج کی جنگی منڈی کی قیمت پر خرید رہی ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں حکومت کا ریلیف اور صنعت کا بوجھ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔

تیسرا حصہ فرق کا ہے۔ درآمدی قیمت اور ریفائنری قیمت کا فرق نہ غائب ہوگا، نہ ریفائنری کے پاس خاموشی سے رہے گا — وہ پیٹرولیم لیوی کے ہیڈ سی 03901 میں جمع کرایا جائے گا۔ پیٹرولیم ڈویژن نے 30 اکتوبر کو پاک عرب ریفائنری، پاکستان ریفائنری، اٹک ریفائنری، نیشنل ریفائنری، سینرجیکو اور اینار کے سربراہوں کو لکھا کہ یہ فرق لیوی کے کھاتے میں جمع کرائیں، اور روزانہ ملکی موٹر اسپرٹ کی فروخت کی رپورٹ، کمپیوٹرائزڈ ادائیگی کی رسیدیں اور چالان پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کو بھیجیں تاکہ تصدیق اور ملان ہو سکے۔ یہ نظام شروع میں 30 دن کے لیے ہے — یعنی تقریباً 29 نومبر تک — اس کے بعد حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسے بڑھائے، بدلے یا ختم کرے۔

تیل ریفائنری کے ٹاور

49 روپے اور 14.71 روپے — دو الگ اعداد، ایک غلط فہمی

اس فیصلے پر بحث میں دو اعداد سب سے زیادہ دہرائے جا رہے ہیں، اور انہیں آپس میں گڈمڈ کرنا سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ تقریباً 49 روپے فی لیٹر صنعت کا اپنا اندازہ ہے — سینرجیکو پاکستان کے نائب چیئرمین اسامہ قریشی نے دی نیوز کو بتایا کہ یہ نیا نظام مقامی طور پر صاف کیے گئے پیٹرول پر اتنا اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے۔ یہ نہ سرکاری نوٹی فکیشن ہے، نہ نیا ٹیکس، نہ صارف کے لیے قیمت میں اضافہ — یہ ریفائنریوں کی اپنی گنتی ہے کہ جنگ سے پہلے کا فارمولا انہیں فی لیٹر کتنا مہنگا پڑے گا۔

دوسرا عدد 14.71 روپے فی لیٹر ہے — دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق حکومت اس حد تک پیٹرولیم لیوی میں کمی کے ذریعے صارف کو ریلیف دینا چاہتی ہے۔ یہ ارادہ ہے، اعلان شدہ پمپ کٹوتی نہیں۔ اگلی روزانہ نظرثانی میں اوگرا کی شائع شدہ تفصیل ہی بتائے گی کہ یہ ریلیف قیمت میں کس شکل میں اور کتنا نظر آتا ہے۔ اس لیے یہ دعویٰ کہ پیٹرول پہلے ہی 14.71 روپے سستا ہو گیا ہے، یا 49 روپے مہنگا، دونوں غلط ہوں گے۔ آج کی قیمت وہی ہے جو پہلے تھی: پیٹرول 377.91 روپے۔

ایک اور فرق بھی ذہن میں رکھیں: یہ پیٹرول کا فیصلہ ہے، ایل پی جی کا نہیں۔ یکم نومبر سے ایل پی جی کا الگ نیا فارمولا نافذ ہو رہا ہے، جس میں سعودی آرامکو کی قیمت کی حد کی جگہ پی ایس او کی درآمدی لاگت بینچ مارک بنے گی۔ دونوں میں پی ایس او کی اصل لاگت کا ذکر مشترک ہے، مگر ایندھن الگ ہے، فیصلہ الگ ہے، اثر الگ ہے۔ دونوں کو ایک خبر بنا دینا دونوں کو غلط بیان کرنا ہوگا۔

ریفائنریوں کا اعتراض: سرمایہ کاری کا سوال

صنعت کا ردعمل سخت رہا ہے۔ اسامہ قریشی نے دی نیوز سے کہا کہ فارمولے میں اچانک تبدیلیاں سرمایہ کاروں میں بے یقینی پیدا کر رہی ہیں اور شعبے کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ان کے الفاظ میں: "سرمایہ دار صنعت کو کیسے چلایا جائے جب قواعد ہر دوسرے دن بدل جائیں؟ حکومت کیسے توقع کر سکتی ہے کہ ریفائنریاں لاگت سے کم پر مصنوعات بیچیں؟ کون اربوں ڈالر لگائے گا ایسے شعبے میں جہاں پالیسی کا کوئی یقین نہ ہو؟" ان کی شکایت کی تین تہیں ہیں: پہلی، ریفائنری خام تیل عالمی قیمت پر خریدتی ہے اور اس کی فروخت کی قیمت پر پابندی اس کی لاگت وصولی روکتی ہے؛ دوسری، صنعت زیادہ قیمت والا امریکی خام تیل لا رہی ہے جس سے زیادہ پیٹرول نکلتا ہے، اور نیا فارمولا اسے اسی تبدیلی کی سزا دیتا ہے؛ تیسری، سرمایہ کاری — ریفائنری کی اپ گریڈیشن کئی سال اور اربوں ڈالر کا وعدہ ہے، اور قرض دینے والے اسی پالیسی خطرے کی قیمت لگاتے ہیں۔

یہ تیسرا نکتہ سب سے دور رس ہے۔ پاکستان کا تقریباً 6 ارب ڈالر کا ریفائنری اپ گریڈیشن پروگرام ہے — پرانی تنصیبات کی جدید کاری، ایندھن کا بہتر معیار، فرنس آئل کی پیداوار میں کمی اور توانائی کی سلامتی۔ چار ریفائنریاں اوگرا سے اپ گریڈیشن معاہدے کر چکی ہیں، جبکہ ملک کی سب سے بڑی سرکاری ریفائنری نے ابھی معاہدہ نہیں کیا، جس کی وجہ اس کے غیر ملکی حصص داروں کے تحفظات بتائے جاتے ہیں۔ صنعت کا کہنا ہے کہ بار بار کی مداخلت سے ان منصوبوں کے لیے قرض لینا مشکل ہوگا، خاص طور پر جب قرض دینے والے کو یہ سوچنا پڑے کہ قرض کی واپسی کے دوران بھی ایسی ہی پابندی لگ سکتی ہے۔ 30 دن کا فارمولا اکیلا کسی پروگرام کو ختم نہیں کرتا، مگر ہر اپ گریڈیشن فیصلے کے پیچھے جو خطرے کا حساب ہے، وہ بدل دیتا ہے۔

گاڑی میں پیٹرول بھرتا ہوا نوزل

پس منظر: جنگ، ہرمز اور روزانہ نظام

یہ فیصلہ جنگ کے پس منظر میں آیا ہے۔ امریکہ اور ایران کی جنگ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ترسیل کو بار بار خطرے میں ڈالا ہے، اور پاکستان اس کی قیمت گرمیوں سے بھگت رہا ہے۔ اسی لیے 17 جولائی 2026 کو حکومت نے ہفتہ وار نظام کی جگہ روزانہ قیمتوں کا نظام لایا تھا، تاکہ عالمی منڈی کی تبدیلی دنوں میں پاکستانی پمپوں تک پہنچے، نہ کہ پندرہ دن بعد ایک بڑے جھٹکے کی صورت میں۔ پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک کے مطابق روزانہ نظام کا مقصد تبدیلی کو فوراً اور شفاف طریقے سے صارف تک پہنچانا ہے — دونوں سمتوں میں۔

مگر روزانہ نظام تکلیف بھی اتنی ہی ایمانداری سے پہنچاتا ہے جتنی ریلیف۔ دی نیوز کی رپورٹ میں صنعت کے اعداد کے مطابق عالمی پیٹرول تقریباً 112 ڈالر فی بیرل ہے جبکہ خام تیل تقریباً 119 ڈالر فی بیرل — یعنی تیار پیٹرول اس خام تیل سے تقریباً 7 ڈالر سستا ہے جس سے وہ بنتا ہے، اس سے پہلے کہ ریفائنری نے صاف کرنے کی قیمت بھی ادا کی ہو۔ اس کے ساتھ صنعت کا کہنا ہے کہ وہ ڈیزل کے مارجن میں کمی کے ذریعے پہلے ہی 80 ارب روپے سے زیادہ کا بوجھ اٹھا چکی ہے۔ یہی پس منظر 30 اکتوبر کے فیصلے کو سمجھنے کی کنجی ہے: حکومت نے ایک مہینے کے لیے صارف کو بچانے کا فیصلہ کیا، اور اس کی قیمت ریفائنریوں کے کھاتے میں ڈالی۔

آگے کیا دیکھنا ہے

اگلے دنوں اور ہفتوں میں چار چیزیں بتائیں گی کہ یہ نظام حکومت کی امید کے مطابق چلا یا صنعت کے خدشے کے مطابق۔ پہلی، اوگرا کی اگلی روزانہ نظرثانی: کیا اس کی تفصیل میں لیوی کا ریلیف نظر آتا ہے، اور کتنا؟ دوسری، ریفائنریوں کی روزانہ رپورٹیں: کیا فروخت اور رسیدوں کا ملان صاف ہوتا ہے، یا "متعلقہ پی ایس او کارگو" کی تعریف پر اختلاف اٹھتا ہے؟ تیسری، کیلنڈر: 30 دن ختم ہونے سے پہلے حکومت توسیع، ترمیم یا خاتمے کا اعلان کرتی ہے یا نہیں؟ چوتھی، سرمایہ کاری: جن چار ریفائنریوں نے معاہدے کیے ہیں، کیا وہ آگے بڑھتی ہیں، اور سب سے بڑی سرکاری ریفائنری معاہدے کی طرف بڑھتی ہے یا یہ تنازع مزید تاخیر کی وجہ بنتا ہے؟

خلاصہ یہ ہے، اور اسے تنگ رکھنا ہی ایمانداری ہے: کابینہ نے 30 اکتوبر 2026 کو پیٹرول کی قیمت کا فارمولا 30 دن کے لیے بدلا؛ درآمدی قیمت پی ایس او کارگو کی اصل لاگت سے طے ہوگی؛ ریفائنری قیمت 7 مارچ 2026 کی جنگ سے پہلے کی سطح پر ہوگی؛ فرق پیٹرولیم لیوی کے ہیڈ سی 03901 میں جائے گا؛ صنعت کا اندازہ تقریباً 49 روپے فی لیٹر کا بوجھ ہے؛ حکومت کا ارادہ 14.71 روپے فی لیٹر لیوی ریلیف کا ہے؛ اور پمپ کی قیمت آج بھی پیٹرول 377.91 اور ڈیزل 402.96 روپے فی لیٹر ہے۔ تازہ پلس اس خبر کو اس وقت اپ ڈیٹ کرے گا جب اوگرا کی اگلی نظرثانی میں لیوی ریلیف کی تفصیل سامنے آئے گی، یا حکومت 30 دن کی مدت کے مستقبل پر کچھ کہے گی۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کابینہ نے 30 اکتوبر کو کیا منظور کیا؟

پیٹرول کی قیمت کا نیا فارمولا، شروع میں 30 دن کے لیے، پیٹرولیم ڈویژن کی سمری پر منظور اور اسی دن نوٹیفائی ہوا۔ اس میں درآمدی قیمت پی ایس او کارگو کی اصل لاگت سے، ریفائنری قیمت 7 مارچ 2026 کی جنگ سے پہلے کی سطح پر، اور فرق پیٹرولیم لیوی میں جمع کر کے صارف تک پہنچانے کا حکم ہے۔

درآمدی قیمت اب کیسے نکلے گی؟

متعلقہ پی ایس او کارگو کی اصل لاگت سے۔ اگر روزانہ حساب کے وقت اصل لاگت دستیاب نہ ہو تو آخری دستیاب کارگو کے پریمیم، اضافی اخراجات اور کسٹم ڈیوٹی استعمال ہوں گے۔

7 مارچ 2026 کی تاریخ کیوں چنی گئی؟

کیونکہ یہ جنگ سے پہلے کی سطح ہے۔ اس تاریخ کے پریمیم، اضافی اخراجات اور کسٹم ڈیوٹی کو 30 دن کے لیے ریفائنری قیمت کی بنیاد بنایا گیا ہے، تاکہ جنگ کے بعد بڑھنے والی لاگت مقامی پیٹرول کی قیمت میں نہ آئے۔

49 روپے اور 14.71 روپے میں کیا فرق ہے؟

49 روپے تقریباً صنعت کا اندازہ ہے کہ نیا فارمولا مقامی پیٹرول پر فی لیٹر کتنا بوجھ ڈالتا ہے۔ 14.71 روپے وہ لیوی کمی ہے جس کے ذریعے حکومت صارف کو ریلیف دینا چاہتی ہے۔ پہلا تخمینہ ہے، دوسرا ارادہ — دونوں میں سے کوئی بھی پمپ کی نئی قیمت نہیں۔

کیا اس فیصلے سے پیٹرول سستا ہو گیا ہے؟

نہیں۔ 31 اکتوبر سے 2 نومبر تک پیٹرول 377.91 روپے فی لیٹر پر برقرار ہے اور ڈیزل 402.96 روپے فی لیٹر ہے۔ اس فیصلے کے تحت کوئی نئی پمپ قیمت ابھی نوٹیفائی نہیں ہوئی؛ ریلیف آئندہ اوگرا نظرثانی کی تفصیل میں نظر آئے گا۔

یہ نظام کن ریفائنریوں پر لاگو ہے اور کب تک؟

پاک عرب، پاکستان، اٹک، نیشنل، سینرجیکو اور اینار — چھ ریفائنریاں، جنہیں روزانہ فروخت کی رپورٹ، ادائیگی کی رسیدیں اور چالان بھیجنے ہیں۔ مدت شروع میں 30 دن ہے، یعنی تقریباً 29 نومبر 2026 تک، اس کے بعد حکومت کا نیا فیصلہ درکار ہوگا۔

مزید پڑھیں

انگریزی میں مکمل رپورٹ  |  31 اکتوبر کے نرخ (اردو)  |  معیشت کی مزید خبریں  |  اردو ہوم پیج

حوالہ جات