وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جمعے 30 اکتوبر 2026 کو لاہور میں ایک تقریب میں PIVOT کا باضابطہ آغاز کر دیا — صوبے کا صنعتی ترقی اور برآمدات کے فروغ کا پروگرام، جس کا کل حجم 1,995 ارب روپے اور ملازمتوں کا وعدہ 1,62,000 سے زیادہ ہے، صوبائی حکومت کے اپنے اعداد کے مطابق۔ لانچ کے دن اے آر وائی نیوز کی سرخی میں آیا 1,089 ارب روپے پورے پروگرام کا حجم نہیں بلکہ پنجاب حکومت کا حصہ ہے: باقی 906 ارب روپے نجی سرمایہ کاروں سے آنے کی توقع ہے، یعنی منصوبے کا تقریباً 45 فیصد نجی سرمایہ ہوگا۔ یہ فرق اہم ہے، کیونکہ پروگرام کی کامیابی کا فیصلہ لاہور کی تقریب سے نہیں، بلکہ اس سے ہوگا کہ نجی حصہ واقعی آتا ہے یا نہیں، اور سرکاری حصہ کتنے سال میں خرچ ہوتا ہے — یہ دو سوال سرکاری ہینڈ آؤٹ نے جواب نہیں دیے۔
لانچ دراصل ایک ایسے منصوبے کا عوامی آغاز ہے جس کی منظوری کابینہ پہلے دے چکی تھی۔ پیر 19 اکتوبر 2026 کو وزیر اعلیٰ کی صدارت میں پنجاب کابینہ کے 37 ویں اجلاس میں، سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی پیشکش پر، پروگرام کے کلیدی نکات منظور ہوئے تھے، اور اورنگزیب نے لانچ تقریب سے بھی خطاب کیا۔ کابینہ کے فیصلے کی رپورٹنگ کرنے والے ذرائع نے نوٹ کیا کہ سرکاری ہینڈ آؤٹ میں پروگرام کا نام PIYUT لکھا گیا تھا جبکہ لانچ کی برانڈنگ PIVOT ہے؛ اعداد، ملازمتوں کا وعدہ اور شعبوں کی فہرست دونوں جگہ ایک جیسی ہے، اس لیے یہ مضمون انہیں دو الگ منصوبوں کے بجائے ایک ہی پروگرام کے دو مراحل — منظوری، پھر لانچ — کے طور پر لیتا ہے۔ اسی اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے گرین ٹریکٹر پروگرام کے فیز پنجم کے لیے 10 ہزار ہائی پاور ٹریکٹروں کی سبسڈی، 9.5 ارب روپے، اور 60 ارب روپے کی نئی ہاؤسنگ قسط بھی منظور ہوئی تھی، جو لانچ کو ایک اسکیم کے بجائے حکومت کے پورے معاشی بیانیے کی نمائش بناتی ہیں۔
افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیر اعلیٰ نے PIVOT کو پنجاب میں کاروبار کرنے کے پرانے طریقے سے علیحدگی کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ لانچ سے پہلے ہر محکمے سے ریڈ ٹیپ ختم کرنے کا عہد لیا گیا تھا، اور بینکوں سے کہا کہ اپنے ضابطے آسان کریں تاکہ کاروباری فنانس واقعی کاروبار تک پہنچے۔ ان کی سب سے زیادہ دہرائی گئی بات سرمایہ کاروں سے وعدہ تھی: کاروبار شروع کرنے والے سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ سرمایہ کہاں سے آیا۔ پنجاب نئے ٹیکس کے بجائے ٹیکس نیٹ پھیلانے پر توجہ دے رہا ہے، اور صوبائی آمدنی 200 ارب سے بڑھ کر ایک کھرب روپے ہو رہی ہے۔ اس دعوت کے ساتھ اپنی انتظامیہ کو وارننگ بھی تھی — رشوت لینے والے ملازمین کو سرکاری محکموں سے نکالا جا رہا ہے — اور صوبے کے اپنے ریکارڈ پر شکایت بھی: اسپیشل اکنامک زونز اور صنعتی اسٹیٹس ان کے الفاظ میں عملاً رئیل اسٹیٹ کا کاروبار بن گئے تھے، اور اب صنعت کے لیے زمین صنعتی اسٹیٹس و اکنامک زونز میں 80 ہزار سے 2 لاکھ روپے ماہانہ لیز پر دی جائے گی۔ مجموعی پیغام یہ ہے کہ PIVOT صرف خرچ کا پروگرام نہیں، بلکہ اس بارے میں بھی وعدہ ہے کہ صوبہ ان کاروباروں سے کیسا سلوک کرے گا جنہیں وہ راغب کرنا چاہتا ہے۔
کابینہ بریفنگ کے مطابق یہ پروگرام پنجاب کی برآمدی معیشت کا نقشہ لگتا ہے، اور اس کی وسعت ہی اس کی کشش اور اس کا خطرہ دونوں ہے۔ اس میں صنعتی اسٹیٹس، کلسٹر ڈویلپمنٹ، برآمدی مسابقت، ویلیو چین کی بہتری، زراعت و لائیو اسٹاک میں میکانائزیشن اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ شامل ہیں، ساتھ موجودہ صنعتوں، ای بزنس، ای کامرس، گارمنٹس اور پلگ اینڈ پلے فیکٹریوں کی جگہ، جہاں کاروبار اپنی عمارت بنائے بغیر تیار جگہ میں منتقل ہو سکتا ہے۔ اس میں چمڑے، جوتوں و کھیلوں کے سامان کی ٹیسٹنگ و سرٹیفکیشن کی خدمات بھی ہیں — وہ نکتہ جس پر وزیر اعلیٰ لانچ میں واپس آئیں، جہاں انہوں نے کہا کہ سرٹیفکیشن نہ ہونے سے فیفا اور دیگر بڑے ادارے پاکستانی کھیلوں کا سامان نہیں خریدتے، پنجاب میں بنی کٹلری کو گلیزنگ و میٹیریل ٹیسٹنگ کے لیے چین بھیجنا پڑتا ہے، اور مقامی پنکھوں کا شور چین میں ٹیسٹ ہوتا ہے۔ ایک ایسے صوبے کے لیے جس کی فیکٹریاں یہ چیزیں پہلے سے بناتی ہیں، سرٹیفکیشن کا فرق یہ ہے کہ مال بکے گا یا بیرون ملک پریمیم قیمت پر بکے گا، اور PIVOT کی ٹیسٹنگ سہولتیں اسی فرق کو نشانہ بناتی ہیں۔
زراعت کا اپنا راستہ پروگرام کے اندر ہے، اور یہ وہ حصہ ہے جو سب سے زیادہ لوگوں کو چھوتا ہے۔ سرگودھا، خانیوال، اوکاڑہ اور بھکر میں زرعی پروسیسنگ پارکس قائم ہوں گے، اور پروگرام میں گندم کی ویلیو انہانسمنٹ، گوشت و دودھ کی ویلیو چین، ہنر کی تربیت، اور کھٹی پھلوں، آلو و آم کی ویلیو ایڈیشن، ساتھ سیاحت اور آبی زراعت شامل ہے۔ منطق سیدھی ہے: پنجاب خام مال اگاتا ہے، مگر زیادہ تر قیمت — پروسیسنگ، پیکنگ، گریڈنگ، برانڈنگ — کہیں اور شامل ہوتی ہے یا ہوتی ہی نہیں، اور پارکس کا مقصد وہ قیمت اسی ضلع میں رکھنا ہے جہاں فصل اگتی ہے۔ لانچ میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لائیو اسٹاک و زراعت کے لیے خاطر خواہ بجٹ رکھا گیا ہے، کسانوں کو سبسڈی پر ٹریکٹر و سپر سیڈر دیے جا رہے ہیں، اور میکانائزیشن پر ماضی و حال کا موازنہ کیا: گزشتہ 20 سال میں صرف 3 ہزار ٹریکٹر دیے گئے، جبکہ اس سال کا ہدف 45 ہزار ٹریکٹر ہے۔ کابینہ کی منظور کردہ گرین ٹریکٹر سبسڈی — 10 ہزار ہائی پاور ٹریکٹروں کے لیے 9.5 ارب روپے، یعنی فی مشین تقریباً 9 لاکھ 50 ہزار روپے — اسی مہم کے اندر ہے، اور یہ پیکیج کا وہ واحد حصہ ہے جس کے ساتھ مستفید ہونے والوں کا ٹھوس عدد جڑا ہے۔
تیسرا ستون ہنر اور چھوٹے کاروبار کی تہہ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں 1,200 سے زیادہ اسٹارٹ اپس کام کر رہے ہیں، 50 مشترکہ سہولتیں یکجا کی گئی ہیں، اور صنعتی کلسٹر بنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہنر کی تربیت کے تمام شعبے ایک چھت تلے لائے گئے ہیں، پنجاب کی افرادی قوت 3 کروڑ 60 لاکھ ہے، اور ہر صنعت کو ہنر مند مزدور چاہیے: صوبے نے 4 لاکھ ہنر مند کارکن فراہم کیے ہیں اور مزید 6 لاکھ فراہم کرے گا۔ بغیر ہنر بیرون ملک جانے والوں کو اچھی نوکریاں نہیں ملتیں، انہوں نے کہا، اور نوجوان ہنر سیکھ کر بیرون ملک جائیں گے تو زیادہ عزت و آمدنی پائیں گے۔ تقریب کی 365 نیوز رپورٹ میں نوجوانوں کے بیرون ملک روزگار کے لیے پرواز کارڈ کی سہولت کا بھی ذکر ہے۔ ایزی بزنس اسکیم کے تحت تقریباً 200 ارب روپے کے قرضے جاری ہو چکے ہیں، انہوں نے کہا، جبکہ 2 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ای بزنس کے ذریعے این او سی و دیگر اجازت نامے حاصل کیے — وہ اعداد جو اگر درست ثابت ہوں تو بتاتے ہیں کہ پروگرام کا ڈیجیٹل سنگل ونڈو والا حصہ صنعتی پارکوں سے، جنہیں بننے میں برسوں لگیں گے، پہلے ہی تیز چل رہا ہے۔
لانچ تقریر کا سب سے احتیاط سے متوازن حصہ ماحولیات کے بارے میں تھا، اور اسے نقل کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ طے کرے گا کہ PIVOT کی صنعتی توسیع کو کس پیمانے پر جانچا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صنعتوں کو ماحول دوست بنانے کے لیے نگرانی ضروری ہے، مگر ماحولیاتی تحفظ کے نام پر فیکٹریاں بند کرنا غلط ہے۔ "معائنہ ضروری ہے، مگر پلانٹ بند کرنا حل نہیں۔ جب کسی مزدور کی ایک دن کی مزدوری ضائع ہوتی ہے تو مجھے اچھا نہیں لگتا۔ میں کسی کا کاروبار بند نہیں کرنا چاہتی، مگر معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،" انہوں نے کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماحول کا تحفظ سرمایہ کاری راغب کرنے کا پہلا قدم ہے۔ اس موقف میں حقیقی تناؤ ہے: پنجاب کے صنعتی شہر، سب سے زیادہ لاہور، شدید فضائی آلودگی میں رہتے ہیں، اور فیکٹریوں، کلسٹروں و پروسیسنگ پارکوں کا اضافہ کرنے والا صنعتی پروگرام اخراج بھی بڑھائے گا، جب تک وہ نگرانی جو وعدہ کی گئی ہے، صوبے کے پہلے نافذ کردہ نظام سے سخت نہ ہو۔ تقریر اس مخمصے کو تسلیم کرتی ہے، حل نہیں کرتی، اور امتحان یہ ہوگا کہ پروگرام کے دوران معیار کی خلاف ورزی پر کسی فیکٹری کو واقعی سزا ملتی ہے یا نہیں، جبکہ پروگرام یہ بھی وعدہ کر رہا ہے کہ کوئی کاروبار بند نہیں ہوگا۔
اسی توازن کی لکیر امن و امان اور سرمایہ کاری کے ماحول پر ان کے الفاظ میں بھی چلی۔ "جہاں ہر روز غیر یقینی، عدم تحفظ اور احتجاج ہو، وہاں کاروبار کیسے چلے گا؟" انہوں نے پوچھا، اور کہا کہ انہوں نے وزرا کو ہدایت دی ہے کہ پروٹوکول و سیکیورٹی انتظامات کم سے کم رکھیں۔ پنجاب سے ڈالہ کلچر اور قبضہ مافیا ختم کر دیا گیا ہے، انہوں نے کہا، جبکہ پرانی تجاوزات ہٹائی جا رہی ہیں؛ سڑکیں گزرنے کے لیے ہیں، ٹھیلوں کے لیے نہیں، اور ریڑھیوں کے لیے الگ جگہیں بنائی گئی ہیں۔ جہاں روزانہ احتجاج و توڑ پھوڑ ہو، وہاں مزدور مؤثر طریقے سے کام نہیں کر سکتے، انہوں نے مزید کہا۔ سرمایہ کہاں سے آیا یہ نہ پوچھنے کے وعدے کے ساتھ مل کر تصویر یہ بنتی ہے کہ حکومت ہر وہ رکاوٹ ہٹانا چاہتی ہے جو اس کے اختیار میں ہے — کاغذی کارروائی، اجازت نامے، پروٹوکول، تجاوزات — جبکہ سرمایہ کاروں سے کہا جا رہا ہے کہ جو رکاوٹیں اس کے اختیار میں نہیں، انہیں نظر انداز کریں۔ یہ پیشکش لگے گی یا نہیں، یہ پہلے نجی 906 ارب روپے میں نظر آئے گا: سرکاری حصے کے برعکس، جس کا حکومت اعلان کر سکتی ہے، نجی سرمایہ کاری کو منصوبہ بہ منصوبہ قائل کرنا پڑتا ہے۔
حکومت کے اپنے اعداد پر پروگرام ہر وعدہ شدہ ملازمت کے لیے تقریباً 1 کروڑ 23 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری بنتا ہے (1,995 ارب روپے کو 1,62,000 پر تقسیم کرنے سے) — وہ تناسب جو سرمایہ دارانہ صنعتی و پروسیسنگ سرمایہ کاری کے لیے قابل فہم لگتا ہے، مگر یہ بھی دکھاتا ہے کہ منصوبے کا کتنا حصہ بڑے منصوبوں پر منحصر ہے، چھوٹوں پر نہیں۔ پیمانہ صوبائی بجٹ کے مقابلے میں بھی نمایاں ہے۔ پنجاب نے 2026-27 کے لیے اپنا سالانہ ترقیاتی پروگرام 1,240 ارب سے گھٹا کر 752 ارب روپے کر دیا تھا، تاکہ پہلے سے جاری منصوبوں کی تکمیل پر توجہ ہو — یعنی PIVOT کا صوبائی حصہ اکیلا، 1,089 ارب روپے، ترقیاتی بجٹ کے پورے ایک سال سے بڑا ہے۔ اس سے پروگرام ناقابل برداشت نہیں ہوتا، کیونکہ یہ یقیناً کئی سال پر پھیلے گا، مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ مالی شیڈول ہی طے کرے گا کہ پارکس، لیبز اور پلگ اینڈ پلے جگہیں کتنی جلد واقعی سامنے آتی ہیں۔ سرکاری ہینڈ آؤٹ نے یہ نہیں بتایا کہ رقم کتنے سال میں خرچ ہوگی، صوبائی حصے کی مالی فراہمی کیسے ہوگی، یا نجی وعدے کیسے یقینی بنائے جائیں گے، اور لانچ تقریب میں بھی یہ خلا پر نہیں ہوا۔
سیاق و سباق میں جو معلوم ہے وہ پروگرام کی برآمدی خواہش کے لیے حوصلہ افزا ہے، اور اس سے وقت کی وضاحت بھی ہوتی ہے۔ کابینہ فیصلے کی کوریج میں حوالہ دیے گئے سرکاری اعداد کے مطابق پاکستان کی اشیا کی برآمدات ستمبر میں سال بہ سال 18 فیصد بڑھ کر تقریباً 2.96 ارب ڈالر ہوئیں اور مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں 8.45 ارب ڈالر تک پہنچیں۔ اگر پنجاب کی فیکٹریاں، کلسٹر اور پروسیسنگ پارکس اس رفتار پر سوار ہو سکیں — اور اگر سرٹیفکیشن سہولتیں کھیلوں کے سامان، چمڑے، جوتوں و کٹلری کو ان خریداروں تک پہنچا دیں جو انہیں ابھی مسترد کرتے ہیں — تو PIVOT کے برآمدی مسابقت والے حصے کے پاس بیچنے کے لیے حقیقی مارکیٹ ہے۔ مگر برآمدات قومی عدد ہیں، اور اس بڑھوتری میں پنجاب کا حصہ، اسے چلانے والے شعبے، اور ان اضلاع کا حصہ جہاں نئے پارکس بنیں گے، لانچ رپورٹنگ میں الگ نہیں بتائے گئے۔ قارئین کو قومی برآمدی اعداد کو پس منظر سمجھنا چاہیے، نہ کہ اس بات کا ثبوت کہ PIVOT نے خود ابھی کچھ برآمد کیا ہے: پروگرام لانچ سے گیارہ دن پہلے منظور ہوا تھا، اور اس کے پارکس ابھی بنے نہیں۔
کیلنڈر پروگرام کو دنوں میں پہلا قریبی چیک پوائنٹ دیتا ہے۔ پنجاب سول سیکریٹریٹ نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز (ہیڈکوارٹرز) کے لیے ضلعی سطح کی معاشی ترقی اور کاروباری سہولت پر دو روزہ ورکشاپ 2 نومبر سے سول سیکریٹریٹ میں رکھی ہے، جس میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان، بورڈ آف انویسٹمنٹ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور پنجاب اسمال انڈسٹریز کارپوریشن کے حکام کاروباری مواقع و ڈیجیٹل خدمات پر شرکا کو بریف کریں گے، اور اسمال انڈسٹریز کارپوریشن کے خصوصی نمائشی ڈیسک مقامی مصنوعات و صنعتی صلاحیت دکھائیں گے۔ یہ ورکشاپ اسی ایجنڈے کی ضلعی تہہ ہے جس کا اعلان PIVOT صوبائی سطح پر کرتا ہے: اضلاع سرمایہ کاری کی منزلیں، نہ صرف لاہور و فیصل آباد۔ ورکشاپ سے ضلعی سطح کی منصوبہ فہرستیں نکلتی ہیں یا نہیں، اور کیا وہ فہرستیں پہلے سے نامزد چار پروسیسنگ پارک اضلاع سے میل کھاتی ہیں، یہ پہلی قابل مشاہدہ علامت ہوگی کہ پروگرام تقریب سے پائپ لائن کی طرف کیسے بڑھتا ہے۔ یہ ورکشاپ سول سیکریٹریٹ کے بیان سے ایک الگ تاریخ والی شے کے طور پر رپورٹ کی گئی ہے، نہ کہ PIVOT کے جزو کے طور پر دعویٰ کی گئی ہے۔
اس سے آگے سنگ میل مخصوص ہیں، اور ہر ایک ایسی حقیقت ہے جسے جانچا جا سکتا ہے، نہ کہ ایسا وعدہ جس پر یقین کرنا پڑے۔ پہلا، خرچ کا شیڈول: 1,089 ارب روپے کے صوبائی حصے کی سال بہ سال تفصیل، اور وہ بجٹ لائن جس میں یہ بیٹھے گا۔ دوسرا، نجی وعدے: 906 ارب روپے کے نجی حصے کے مقابلے میں نامزد سرمایہ کار یا دستخط شدہ یادداشتیں، نہ کہ مجموعی عدد۔ تیسرا، سنگ بنیاد: سرگودھا، خانیوال، اوکاڑہ و بھکر کے پروسیسنگ پارکس میں تعمیر کی شروعات، اور چمڑے، جوتوں و کھیلوں کے سامان کی ٹیسٹنگ و سرٹیفکیشن سہولتوں کا کھلنا۔ چوتھا، ٹریکٹر و ہنر کے اعداد اپنے اہداف کے مقابلے میں: فیز پنجم کے تحت 10 ہزار سبسڈی والے ہائی پاور ٹریکٹر، اس سال 45 ہزار ٹریکٹر بمقابلہ گزشتہ دو دہائیوں کے 3 ہزار، اور وعدہ شدہ مزید 6 لاکھ ہنر مند کارکن۔ پانچواں، لیز کی پیشکش کا حقیقت بننا: اسٹیٹس و اکنامک زونز میں صنعتی زمین کا واقعی 80 ہزار سے 2 لاکھ روپے ماہانہ پر لیز ہونا، نہ کہ رئیل اسٹیٹ کے طور پر بیچا جانا۔ اور چھٹا، وہ سرٹیفکیشن امتحان جو وزیر اعلیٰ نے خود رکھا: کھیلوں کے سامان، کٹلری یا پنکھے کا کوئی کارخانہ دار جو اب اپنی مصنوعات چین بھیجنے کے بجائے پنجاب میں ٹیسٹ و سرٹیفائی کرا سکے۔
جب تک یہ سنگ میل سامنے نہیں آتے، 30 اکتوبر کا ایماندارانہ خلاصہ یہ ہے: پنجاب نے، کافی تقریب کے ساتھ، ایک بہت بڑا صنعتی و برآمدی پروگرام لانچ کیا ہے جس کے سرخی والے اعداد حقیقی کابینہ فیصلے ہیں، جس کی لانچ تقریر نے ریڈ ٹیپ، لیز، ہنر و سرٹیفکیشن کے بارے میں ٹھوس وعدے کیے، اور جس کی مالی فراہمی، ٹائم لائن اور نجی حمایت ابھی اعلان نہیں ہوئی۔ یہ ایک بڑا سیاسی واقعہ ہے — ایک صوبائی حکومت جو اپنی معاشی ساکھ 1,62,000 ملازمتوں اور تقریباً 2 کھرب روپے کی سرمایہ کاری پر لگا رہی ہے — اور یہ بھی، دانستہ طور پر، ایک کہانی کا آغاز ہے نہ کہ اس کا اختتام۔ تازہ پلس اس پروگرام کو اوپر دیے گئے سنگ میلوں کے مقابلے میں فالو کرے گا، اور اس مضمون کو اپ ڈیٹ کرے گا جب خرچ کا شیڈول، نجی وعدے اور پہلی تعمیر کی شروعات پنجاب حکومت کی طرف سے خود مصدقہ ہوں گی۔
اس مضمون میں کیا دعویٰ نہیں کیا گیا: خرچ کی ٹائم لائن، مالی فراہمی کا منصوبہ، کسی ضلع کی الگ رقم، کسی نجی سرمایہ کار کا نام یا دستخط شدہ وعدہ یہاں بیان نہیں، کیونکہ کابینہ اجلاس یا لانچ تقریب میں کوئی اعلان نہیں ہوا۔ اے آر وائی کی سرخی کا 1,089 ارب روپے 1,995 کھرب کے کل کا صوبائی حصہ ہے، کل خود نہیں۔ کابینہ ہینڈ آؤٹ میں پروگرام کا نام PIYUT اور لانچ میں PIVOT تھا؛ ایک جیسے اعداد و شعبوں کی فہرست کے ثبوت پر دونوں ایک ہی پروگرام ہیں۔ قومی برآمدی اعداد کابینہ کوریج میں حوالہ دیے گئے سرکاری ڈیٹا سے پس منظر ہیں، PIVOT کے نتائج نہیں۔ 2 نومبر سے شروع ہونے والی ضلعی ورکشاپ سول سیکریٹریٹ کے بیان سے اسی معاشی ایجنڈے کی ایک الگ تاریخ والی شے کے طور پر رپورٹ کی گئی ہے، نہ کہ PIVOT کے جزو کے طور پر۔
PIVOT یعنی پنجاب انوویشن فار ویلیو، اپورچونیٹی اینڈ ٹرانسفارمیشن، پنجاب کا صنعتی ترقی اور برآمدات کے فروغ کا پروگرام ہے۔ اس میں صنعتی اسٹیٹس، کلسٹر ڈویلپمنٹ، برآمدی مسابقت، ویلیو چین کی بہتری، زراعت و لائیو اسٹاک میں میکانائزیشن اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ شامل ہیں، ساتھ موجودہ صنعتوں، ای بزنس، ای کامرس، گارمنٹس اور پلگ اینڈ پلے فیکٹریوں کی سہولت، اور چمڑے، جوتوں و کھیلوں کے سامان کی ٹیسٹنگ و سرٹیفکیشن کی خدمات بھی اس کا حصہ ہیں۔
دونوں اعداد درست ہیں، مگر وہ دو مختلف چیزیں ناپتے ہیں۔ پروگرام کا کل حجم 1,995 ارب روپے ہے: اس میں سے 1,089 ارب روپے پنجاب حکومت دے گی اور 906 ارب روپے نجی سرمایہ کاروں سے آنے کی توقع ہے، یعنی کل کا تقریباً 45 فیصد نجی سرمایہ ہوگا۔ اے آر وائی کی سرخی میں آیا 1,089 ارب روپے صوبائی حکومت کا حصہ ہے، پورے پروگرام کا حجم نہیں، اور یہ مضمون پروگرام کا حجم بتاتے وقت ہمیشہ کل رقم استعمال کرتا ہے۔
لاہور کی افتتاحی تقریب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کاروبار شروع کرنے والے سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ سرمایہ کہاں سے آیا، ہر محکمے نے لانچ سے پہلے ریڈ ٹیپ ختم کرنے کا عہد کیا تھا، اور بینکوں سے کہا گیا کہ کاروباری فنانس آسان کریں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی زمین اسٹیٹس اور اکنامک زونز میں 80 ہزار سے 2 لاکھ روپے ماہانہ لیز پر دی جائے گی، کیونکہ اسپیشل اکنامک زونز ان کے الفاظ میں عملاً رئیل اسٹیٹ کا کاروبار بن گئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ رشوت لینے والے ملازمین کو نوکری سے نکالا جا رہا ہے، 4 لاکھ ہنر مند کارکن فراہم کیے جا چکے ہیں اور مزید 6 لاکھ دیے جائیں گے، ایزی بزنس اسکیم کے تحت تقریباً 200 ارب روپے کے قرضے جاری ہو چکے ہیں، اور فیکٹریوں کی نگرانی جاری رہے گی مگر کسی پلانٹ کو بند کرنا حل نہیں۔
صنعت کی طرف: موجودہ صنعتیں، ای بزنس، ای کامرس، گارمنٹس، پلگ اینڈ پلے سہولتیں، اور چمڑے، جوتوں و کھیلوں کے سامان کی ٹیسٹنگ و سرٹیفکیشن — وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ سرٹیفکیشن نہ ہونے سے فیفا اور دیگر بڑے خریدار پاکستانی کھیلوں کا سامان نہیں خریدتے، اور پنجاب میں بنی کٹلری و پنکھوں کی ٹیسٹنگ چین میں کرانی پڑتی ہے۔ زراعت کی طرف: گندم کی ویلیو انہانسمنٹ، گوشت و دودھ کی ویلیو چین، کھٹی پھلوں، آلو اور آم کی ویلیو ایڈیشن، سیاحت اور آبی زراعت، اور سرگودھا، خانیوال، اوکاڑہ و بھکر میں زرعی پروسیسنگ پارکس۔ اسی کابینہ اجلاس میں گرین ٹریکٹر فیز پنجم کے تحت 10 ہزار ہائی پاور ٹریکٹروں کے لیے 9.5 ارب روپے اور 60 ارب روپے کی نئی ہاؤسنگ قسط بھی منظور ہوئی۔
دونوں، دو مختلف مراحل میں۔ پنجاب کابینہ نے 19 اکتوبر 2026 کو اپنے 37 ویں اجلاس میں، وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی صدارت میں اور سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی پیشکش پر، پروگرام کے کلیدی نکات منظور کیے۔ باقاعدہ عوامی لانچ، وزیر اعلیٰ کی تقریر کے ساتھ، جمعے 30 اکتوبر 2026 کو لاہور میں ہوا۔ کابینہ کے ہینڈ آؤٹ میں نام PIYUT لکھا گیا تھا جبکہ لانچ کی برانڈنگ PIVOT ہے؛ ایک جیسے اعداد و شعبوں کی فہرست سے ظاہر ہے کہ دونوں ایک ہی پروگرام ہیں۔
تین فیصلہ کن باتیں ابھی اعلان نہیں ہوئیں: 1,089 ارب روپے کا صوبائی حصہ کتنے سال میں خرچ ہوگا اور اس کی مالی فراہمی کیسے ہوگی — یہ رقم اکیلی پنجاب کے 2026-27 کے 752 ارب روپے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے بڑی ہے؛ 906 ارب روپے کا نجی حصہ کیسے یقینی بنے گا، جبکہ کسی سرمایہ کار یا دستخط شدہ وعدے کا نام نہیں آیا؛ اور چاروں پروسیسنگ پارکس یا ٹیسٹنگ سہولتوں کے لیے کسی ضلع کی الگ رقم یا تعمیر کی شروعات کی تاریخ۔ جب تک یہ سامنے نہیں آتیں، PIVOT ایک کابینہ فیصلہ اور ایک لانچ تقریب ہے، ابھی بنا ہوا پروگرام نہیں۔
انگریزی میں مکمل رپورٹ | معیشت کی خبریں | اردو ہوم پیج