لاہور کی سازگار انجینئرنگ ورکس نے پاکستان سے باہر اپنا پہلا کارخانہ کھول لیا ہے — اور افتتاح میزبان ملک کے صدر نے خود کیا۔ جمعرات 29 اکتوبر 2026 کو فلپائن کے صدر فرڈیننڈ آر مارکوس جونیئر نے صوبہ لگونا کے شہر بینان میں، لگونا انٹرنیشنل انڈسٹریل پارک میں، سازگار فلپائنز انکارپوریٹڈ (ایس پی آئی) کے مینوفیکچرنگ و اسمبلی پلانٹ کا افتتاح کیا۔ یہ پلانٹ تین پہیوں والی گاڑیاں — وہ ٹرائی سائیکلیں جن پر فلپائن کا بیشتر سفر ہوتا ہے — بنائے گا، اور اس کی ڈیزائن شدہ گنجائش سالانہ تقریباً 12,000 گاڑیاں ہے، الیکٹرک اور پیٹرول دونوں اقسام میں۔ صدر کی تقریر کے الفاظ میں، فلپائن سازگار کا پاکستان سے باہر پہلا گھر اور جنوب مشرقی ایشیا کا مرکز ہے۔ 1991 میں لاہور میں قائم ہونے والی ایک کمپنی کے لیے، جس کا نام پاکستان میں تھری وہیلرز سے جڑا ہے، یہ ایک چھوٹا مگر حقیقی قدم ہے: گھریلو کارخانہ ساز سے علاقائی کارخانہ ساز بننے کا قدم۔
اس افتتاح کی اہمیت صرف ایک فیکٹری تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ہے کہ یہ پلانٹ کیا بننے جا رہا ہے۔ ابتدائی پیداوار میں 60 فیصد الیکٹرک یونٹس اور 40 فیصد پیٹرول یونٹس ہوں گے، اور مانگ کے ساتھ الیکٹرک حصہ بڑھنے کی توقع ہے۔ پلانٹ فلپائن کے اسٹریٹجک انویسٹمنٹ پرائیورٹی پلان کے تحت اہل ہوا ہے — صدر نے اسے سنجیدہ سرمایہ کاری کی کسوٹی قرار دیا: ہر یونٹ کی قیمت کا کم از کم ایک چوتھائی حصہ مقامی طور پر شامل ہونا چاہیے، اور بورڈ آف انویسٹمنٹس اس سے بھی زیادہ کا امکان ظاہر کرتا ہے۔ اور کمپنی 60 فیصد فلپائنی ملکیت میں ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر مارکوس بار بار واپس آئے: "صرف وہ کمپنیاں نہیں جو فلپائنیوں کو بیچتی ہیں، بلکہ وہ جو فلپائنیوں کے ساتھ مل کر بناتی ہیں۔" اس وقت پرزے اور مکمل ناک ڈاؤن کٹس پاکستان سے آ کر لگونا میں اسمبل ہوتے ہیں، بزنس ورلڈ کی رپورٹ کے مطابق، اور تیار یونٹس کی جانچ مکینیکل سسٹمز، الیکٹریکل اجزا، بریکس اور لائٹس پر ہوتی ہے۔ مگر سمت واضح ہے: بیٹریاں، شیشہ، سیٹ فوم، اپہولسٹری، ربڑ اور لبریکنٹس مقامی سپلائرز سے — یہاں تک کہ صدر کے بیان کردہ کمپنی کے اندازے کے مطابق، تقریباً ایک سال میں تمام پرزے مقامی طور پر بننے لگیں۔
صدر نے تقریر کا آغاز اس جملے سے کیا جسے ہر فلپائنی پہچانتا ہے: گھر کیسے پہنچے، پوچھو تو 90 فیصد جواب یہی ہو گا: "ناگ ٹرائی سائیکل اکو" — میں ٹرائی سائیکل پر آیا۔ ٹرائی سائیکل بچوں کو اسکول، دکانداروں کو بازار اور مزدوروں کو ہائی وے تک لے جاتی ہے؛ صدر کے الفاظ میں، یہی وہ ذریعہ ہے جس سے ملک کی اکثریت اپنے محلے سے باقی دنیا تک پہنچتی ہے۔ ایسی گاڑی بنانے والا کارخانہ، اور اسے بتدریج الیکٹرک بنانے والا کارخانہ، اس لیے صنعتی پالیسی، توانائی پالیسی اور گھریلو معیشت تینوں کے سنگم پر کھڑا ہے۔ صدر نے بتایا کہ ایک چارج پر 100 سے 210 کلومیٹر چلنے والی الیکٹرک تھری وہیلر بغیر ایک لیٹر پیٹرول کے پورے دن کے سفر طے کر سکتی ہے۔ شہری ٹرائی سائیکل روزانہ تقریباً 90 کلومیٹر اور صوبائی 110 سے 120 کلومیٹر چلتی ہے — ایک چارج اس کے لیے کافی ہے — اور مکمل چارج میں چھ سے آٹھ گھنٹے لگتے ہیں، پلگ لگا کر۔ "ایندھن کی کم لاگت کا مطلب ہے خاندانوں کے لیے زیادہ رقم گھر لے جانا،" صدر نے کہا — اور ملک کے لیے ہر الیکٹرک گاڑی درآمدی ایندھن پر انحصار میں تھوڑی سی کمی ہے۔
افتتاح پر اعلان شدہ اعداد مخصوص ہیں، اور انہیں بالکل ویسے ہی بیان کرنا ضروری ہے، کیونکہ ان کے ارد گرد کی خاموشی بھی اہم ہے۔ پلانٹ سالانہ تقریباً 12,000 تین پہیوں والی گاڑیاں اسمبل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، الیکٹرک اور پیٹرول دونوں میں۔ ابتدائی تناسب 60 فیصد الیکٹرک، 40 فیصد پیٹرول ہے، اور الیکٹرک حصہ مانگ کے ساتھ بڑھے گا۔ ہر یونٹ کی قیمت کا کم از کم 25 فیصد مقامی ہے، اسٹریٹجک انویسٹمنٹ پرائیورٹی پلان کے تحت، اور بورڈ آف انویسٹمنٹس اس سے زیادہ کا امکان ظاہر کرتا ہے۔ کمپنی 60 فیصد فلپائنی ملکیت میں ہے۔ بزنس مرر کی رپورٹ ہے کہ پلانٹ میں براہ راست 3,000 کارکن کام کرتے ہیں — یہ عدد اس رپورٹ کی کسی دوسری ماخذ سے آزاد تصدیق اس رپورٹ میں موجود نہیں، اس لیے یہاں اسے بزنس مرر کے عدد کے طور پر درج کیا جا رہا ہے۔ پلانٹ بینان شہر، لگونا صوبے میں، لگونا انٹرنیشنل انڈسٹریل پارک میں ہے، اور سازگار فلپائنز کے صدر و چیف ایگزیکٹو محمد فہیم ہیں۔ افتتاح میں فلپائن میں پاکستان کی سفیر عاصمہ ربانی اور ٹرانسپورٹ سیکریٹری ونس ڈیزون سمیت سینئر حکام شریک تھے۔
دو وضاحتیں ضروری ہیں، کیونکہ سرخیاں گمراہ کر سکتی ہیں۔ پہلی: بعض خبروں کی سرخیوں میں اسے کار پلانٹ کہا گیا ہے، مگر یہ سہولت تین پہیوں والی گاڑیاں — ٹرائی سائیکلیں — اسمبل کرتی ہے، مسافر کاریں نہیں؛ افتتاح کی ہر تفصیلی رپورٹ اسے اسی طرح بیان کرتی ہے۔ دوسری: 12,000 کا عدد ڈیزائن شدہ سالانہ گنجائش ہے، فروخت یا برآمد کا عدد نہیں — افتتاح پر یہ اعلان نہیں ہوا کہ پہلے سال کتنی گاڑیاں بنیں گی، کتنی فلپائن میں بکیں گی، یا کتنی جنوب مشرقی ایشیا کو برآمد ہوں گی۔ یہی وہ اعداد ہیں جن کا انتظار کرنا چاہیے، جنہیں فرض نہیں کرنا چاہیے۔
صدر کی تقریر کا سب سے تیز حصہ جشن نہیں، بلکہ کمپنی کو اس کے اپنے کارکنوں کے سامنے دیا گیا چیلنج تھا۔ "اس وقت آپ کے بہت سے پرزے بیرون ملک سے آتے ہیں،" مارکوس نے کہا۔ "میں آپ سے کہتا ہوں کہ ہر سال اپنی فلپائنی سپلائی چین بڑھائیں۔" کمپنی کو توقع ہے کہ تقریباً ایک سال میں تمام پرزے مقامی طور پر بننے لگیں گے، انہوں نے مزید کہا، اور حکومت اس میں تعاون کرے گی۔ بزنس ورلڈ کا بیان تقریر سے میل کھاتا ہے: صدر نے سازگار فلپائنز پر زور دیا کہ مقامی اجزا کا استعمال بڑھائے، اور کہا کہ حکومت اس کوشش میں ساتھ دے گی۔
یہ چیلنج ہی منصوبے کا اصل امتحان ہے، اور یہ آسان نہیں۔ افتتاح پر مقامی مواد کا وعدہ کرنا آسان ہے، سپلائی چین میں بنانا مشکل: بیٹریاں، شیشہ، سیٹ فوم، اپہولسٹری، ربڑ اور لبریکنٹس — ہر ایک کے لیے معیار، مقدار اور قیمت پر پورا اترنے والا سپلائر چاہیے، اور ہر ایک کے لیے تربیت یافتہ کارکن۔ اسٹریٹجک انویسٹمنٹ پرائیورٹی پلان کی اہلیت بتاتی ہے کہ منصوبہ پہلے ہی مقامی قدر کی حد — ہر یونٹ کا ایک چوتھائی — عبور کر چکا ہے، مگر ایک چوتھائی سے تمام پرزوں تک تقریباً ایک سال میں پہنچنا بڑا قدم ہے، اور صدر کی اپنی بات مانتی ہے کہ آغاز درآمدی پرزوں پر انحصار سے ہو رہا ہے۔ اس لیے ایک سال کی مقامی سازی کی توقع کو بالکل ویسا ہی سمجھنا چاہیے جیسی وہ ہے: صدر کی رپورٹ کردہ کمپنی کی توقع، مکمل شدہ نتیجہ نہیں۔ اگر ایک سال بعد پلانٹ کے سپلائرز واضح طور پر فلپائنی ہوں اور پرزے واضح طور پر مقامی ہوں، تو افتتاح کا سب سے بڑا وعدہ پورا ہو گا؛ ورنہ تقریر اور سپلائی چین کے درمیان فرق ہی خبر بنے گا۔
فلپائنی حکومت کے لیے یہ پلانٹ ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے جو وہ عوام میں بنا رہی ہے: الیکٹرک وہیکل انڈسٹری ڈویلپمنٹ ایکٹ (EVIDA) اور الیکٹرک وہیکل انڈسٹری کے جامع روڈ میپ کے تحت گھریلو الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت، جس کا ہدف 2040 تک قومی بیڑے میں 50 فیصد الیکٹرک حصہ ہے۔ مارکوس نے پلانٹ کو براہ راست اس ہدف سے جوڑا، اور کہا کہ ملک گھر میں زیادہ ای وی بنانے پر زور دے رہا ہے تاکہ صاف، جدید ٹرانسپورٹ ہر فلپائنی کی پہنچ میں ہو۔ سرکاری اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ای وی خریدنے کو ترجیح دیں یا کرائے پر لیتے وقت ای وی پر غور کریں، اور محکمہ توانائی چارجنگ اسٹیشنوں کی منظوری و ضابطے کے ذریعے چارجنگ نظام پھیلا رہا ہے — صدر کی تقریر کے مطابق اگست 2026 تک 420 سے زیادہ منظور شدہ چارجنگ فراہم کنندگان رپورٹ ہوئے۔ بزنس مرر پلانٹ کو پبلک یوٹیلیٹی وہیکل ماڈرنائزیشن پروگرام سے بھی جوڑتا ہے، جو پرانی پبلک ٹرانسپورٹ کی تبدیلی کی طویل کوشش ہے۔
منطق سیدھی ہے۔ فلپائن اپنا ایندھن درآمد کرتا ہے، اس لیے سڑک پر ہر الیکٹرک ٹرائی سائیکل درآمدی بل میں تھوڑی کمی لاتی ہے؛ اور وہ اپنی بہت سی گاڑیاں بھی درآمد کرتا ہے، اس لیے انہیں گھر میں اسمبل کرنا، بڑھتی ہوئی مقامی سپلائی چین کے ساتھ، ہر گاڑی کی قدر کا زیادہ حصہ ملک میں رکھتا ہے۔ ٹرائی سائیکلیں بہترین آغاز ہیں، کیونکہ وہ بے شمار ہیں، ان کا روزانہ سفر ایک چارج میں پورا ہوتا ہے، اور ان کے ڈرائیور ایندھن کی قیمت فوراً اپنی آمدنی میں محسوس کرتے ہیں۔ 12,000 یونٹ کا پلانٹ اکیلا قومی بیڑا نہیں بدل دے گا، مگر پہلے پلانٹ کے طور پر — اور صدر کے الفاظ میں، آسیان خطے کے مرکز کے طور پر — یہ ایک قدم ہے: ایک فیکٹری، ایک افرادی قوت، اور ایک سپلائر بنیاد، جو مانگ اور مقامی سازی کے ساتھ بڑھ سکتی ہے۔
پاکستانی زاویے سے یہ کہانی ایک برآمد کنندہ کے سرمایہ کار بننے کی ہے۔ افتتاح کی کوریج کرنے والے پاکستانی ادارے بلوم پاکستان نے اسے پاکستان کی آٹوموبائل صنعت کے لیے بڑی پیش رفت اور جنوب مشرقی ایشیا میں پاکستانی آٹو برآمدات کی توسیع کی طرف قدم قرار دیا، جس میں منیلا میں پاکستانی سفارتخانے کی معاونت و سہولت شامل تھی۔ سفیر عاصمہ ربانی نے سازگار انجینئرنگ کو مبارک باد دی، اسے ملک کے صنعتی برآمدی شعبے کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا، اور کہا کہ اس سے پاکستانی مصنوعات زیادہ بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچیں گی اور تجارت و معاشی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، پاکستان اور فلپائن کے درمیان معاشی و تجارتی تعلقات مضبوط ہوں گے۔ بزنس ورلڈ نے سفیر کے حوالے سے یہ بھی لکھا کہ پاکستانی سرمایہ کاروں نے فلپائن میں ٹرکنگ اور فارماسیوٹیکل منصوبوں میں بھی لاکھوں ڈالر لگائے ہیں — یعنی سازگار خلا میں نہیں آ رہا، بلکہ ایک چھوٹی مگر موجود پاکستانی کاروباری موجودگی میں شامل ہو رہا ہے۔
پاکستان کی صنعت کے لیے اس کی اہمیت احتیاط سے بیان کرنی چاہیے۔ یہ سازگار کا پاکستان سے باہر پہلا پلانٹ ہے، یہ دعویٰ نہیں کہ کسی پاکستانی کمپنی نے کبھی بیرون ملک مینوفیکچرنگ نہیں کی؛ اور پلانٹ کی فوری پیداوار فلپائنی منڈی کے لیے ہے، جنوب مشرقی ایشیا کو برآمدات مستقبل کا ارادہ ہیں، موجودہ بہاؤ نہیں۔ محمد فہیم نے، بزنس ورلڈ کے مطابق، کہا کہ کمپنی فلپائنی حکومت کے ای وی پروگرام کی حمایت مقامی مینوفیکچرنگ، افرادی قوت کی تربیت، فلپائنی سپلائرز سے شراکت اور جنوب مشرقی ایشیا کو مستقبل کی برآمدات کے ذریعے کرے گی۔ یہی ترتیب — پہلے مقامی مینوفیکچرنگ، پھر سپلائرز، پھر علاقائی برآمدات — کمپنی کا اپنا بیان کردہ راستہ ہے، اور اسی راستے پر اس کی پیش رفت کو پرکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی وسیع صنعتی بحث کے لیے یہ پلانٹ ایک موازنہ بھی پیش کرتا ہے: ایک ایسا وقت جب ایک پاکستانی کارخانہ ساز کا بیرون ملک صدارتی سطح پر استقبال ہو رہا ہے، جبکہ گھر میں پنجاب اپنا بڑا صنعتی پروگرام لانچ کر رہا ہے اور پاکستان سعودی عرب کے ساتھ توانائی و صنعتی تعاون گہرا کر رہا ہے۔ صنعتی پالیسی کئی محاذوں پر بیک وقت زیر بحث ہے — اور سازگار کا لگونا پلانٹ اب اس کی ایک مثال ہے۔
سرمایہ کاری کے منصوبوں اور مقامی مواد کی فیصدوں کی کہانی میں اس شخص کو بھولنا آسان ہے جس کے لیے گاڑی ہے: ٹرائی سائیکل ڈرائیور، جو ایندھن لیٹر کے حساب سے خریدتا ہے اور سفر کے حساب سے کماتا ہے۔ اس ڈرائیور کے لیے الیکٹرک کا مقدمہ افتتاح کے تین اعداد پر کھڑا ہے — 100 سے 210 کلومیٹر رینج، 90 سے 120 کلومیٹر کا کام کا دن، اور چھ سے آٹھ گھنٹے کا رات کا چارج — اور ایک غیر موجودگی پر: کوئی پیٹرول نہیں۔ اگر یہ اعداد روزمرہ استعمال میں درست ثابت ہوں، تو الیکٹرک ٹرائی سائیکل چلانے کی لاگت میں اپنا خرچ نکال لے گی؛ اگر رینج عملی طور پر کم نکلے، یا چارجنگ ان ڈرائیوروں کے لیے مشکل ہو جن کے پاس رات کو مستقل پلگ نہیں، تو اپنانے کی رفتار افتتاح کی امید سے سست ہو گی۔ اس لیے چارجنگ نیٹ ورک کہانی کا حاشیہ نہیں، حصہ ہے: محکمہ توانائی کا پھیلتا ہوا منظور شدہ نیٹ ورک، اور سرکاری اداروں کو الیکٹرک خریدنے یا کرائے پر لینے کی ہدایت، وہ مانگ کی طرف کی پالیسیاں ہیں جو ڈرائیور کا بدلاؤ عملی بناتی ہیں۔ ملک میں پبلک یوٹیلیٹی ماڈرنائزیشن پروگرام پہلے ہی آپریٹرز کو نئی، صاف گاڑیوں کی طرف دھکیل رہا ہے، جو الیکٹرک ٹرائی سائیکلوں کو پالیسی کی پشت پناہی دیتا ہے جو خالص نجی خریداری میں نہ ہوتی۔
اس میں سے کچھ بھی پلانٹ کی کامیابی کی ضمانت نہیں دیتا۔ سالانہ 12,000 یونٹ کی تھری وہیلر اسمبلی کار فیکٹری کے مقابلے میں معمولی پیمانہ ہے، اور کاروبار کو باریک مارجن، مقامی سپلائر کے معیار اور ان ڈرائیوروں میں ای وی اپنانے کی رفتار پر زندہ رہنا ہے جو غلطی برداشت نہیں کر سکتے۔ افتتاح جو ضمانت دیتا ہے وہ توجہ ہے: صدارتی دورہ، ٹیلی ویژن پر تقریر، مقامی سازی کا بیان کردہ ٹائم ٹیبل اور 2040 کا بیڑے کا ہدف — سب پلانٹ کو ایسی روشنی میں رکھتے ہیں جس میں اس کی پیش رفت غیر معمولی طور پر واضح ہو گی۔ اگلے قابل تصدیق سنگ میل واضح ہیں: بینان سے پہلی پیداوار و فروخت کے اعداد؛ افتتاح پر نامزد کردہ زمروں سے آگے پہلے نامزد فلپائنی سپلائرز؛ کسی جنوب مشرقی ایشیائی منڈی کو برآمد کا کوئی اعلان؛ اور تقریباً ایک سال میں، مکمل مقامی پرزوں کی توقع کے حق یا مخالفت میں ثبوت۔ تازہ پلس ان سنگ میلوں کو اس وقت رپورٹ کرے گا جب وہ اعلان اور تصدیق شدہ ہوں گے، اس سے پہلے نہیں۔
ایماندار رپورٹ کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ افتتاح نے کیا نہیں بتایا۔ اس رپورٹ کے ماخذ میں پلانٹ کی کوئی سرمایہ کاری کی رقم اعلان نہیں ہوئی، اور یہاں کوئی دعویٰ نہیں کیا جا رہا؛ کوئی رقبہ، تعمیر کا ٹائم ٹیبل یا ماڈلز کی تعداد شائع نہیں ہوئی؛ فلپائن میں کسی سازگار تھری وہیلر کی کوئی خوردہ قیمت اعلان نہیں ہوئی؛ اور کسی دوسرے جنوب مشرقی ایشیائی ملک کو پہلی برآمد کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔ 3,000 براہ راست ملازمتوں کا عدد صرف بزنس مرر کا ہے اور اسی نسبت سے درج ہے۔ تقریباً ایک سال میں مکمل مقامی پرزوں کی توقع صدر کی رپورٹ کردہ کمپنی کی توقع ہے، نہ کہ تاریخ یا سزا کے ساتھ کوئی وعدہ۔ اور 12,000 کا عدد ڈیزائن شدہ سالانہ گنجائش ہے، پیداوار کا نتیجہ نہیں۔ یہ منصوبے پر تنقید نہیں — افتتاح آغاز کا اعلان کرتے ہیں، بیلنس شیٹ کا نہیں — مگر یہی وہ حدود ہیں جن کے اندر آج ذمہ داری سے رپورٹ کیا جا سکتا ہے، اور یہ مضمون انہی کے اندر رہتا ہے۔
جو بات صدر کی سرکاری تقریر اور بزنس ورلڈ، بزنس مرر و بلوم پاکستان کی ہم آہنگ رپورٹنگ کی بنیاد پر کہی جا سکتی ہے، وہ یہ ہے: پاکستان میں تین دہائیوں سے زیادہ گاڑیاں بنانے والی لاہور کی ایک کمپنی نے بیرون ملک اپنا پہلا کارخانہ کھولا ہے، بینان شہر، لگونا میں؛ فلپائن کے صدر نے 29 اکتوبر 2026 کو اس کا افتتاح کیا اور اسے سپلائی چین مقامی بنانے کا عوامی چیلنج دیا؛ اور پلانٹ سالانہ تقریباً 12,000 تھری وہیلرز اسمبل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، شروع میں زیادہ تر الیکٹرک اور بتدریج مزید۔ پاکستان کے لیے یہ ایک چھوٹا کارخانہ ہے جس کا علامتی وزن بڑا ہے — ثبوت کہ ایک پاکستانی کارخانہ ساز اپنے گھر کی منڈی سے آگے بنا، روزگار دے اور بیچ سکتا ہے۔ فلپائن کے لیے یہ قومی شرط میں ایک اور فیکٹری ہے کہ وہ گاڑی جو لاکھوں فلپائنیوں کو اسکول، بازار اور ہائی وے تک لے جاتی ہے، زیادہ سے زیادہ بجلی پر چلے — اور زیادہ سے زیادہ فلپائنیوں کے ہاتھوں بنے۔ دونوں کہانیوں کا امتحان ایک ہی ہے، اور وہ تقریروں سے نہیں، بلکہ پلانٹ سے نکلتی گاڑیوں، لگونا میں بنتے پرزوں، اور ڈرائیوروں کے گھر زیادہ رقم لے جانے سے ناپا جائے گا۔
اس مضمون میں کیا دعویٰ نہیں کیا گیا: کوئی سرمایہ کاری کی رقم، پلانٹ کی لاگت، رقبہ، ماڈلز کی تعداد، خوردہ قیمت یا پہلی برآمد کی تاریخ، کیونکہ اس رپورٹ کے ماخذ میں کوئی اعلان نہیں ہوا۔ 3,000 براہ راست ملازمتوں کا عدد صرف بزنس مرر کا ہے اور متن میں اسی نسبت سے درج ہے۔ تقریباً ایک سال میں مکمل مقامی پرزوں کی توقع صدر کی رپورٹ کردہ کمپنی کی توقع ہے، مکمل شدہ نتیجہ نہیں۔ 12,000 کا عدد ڈیزائن شدہ سالانہ اسمبلی گنجائش ہے، فروخت یا پیداوار کا نتیجہ نہیں۔ اس مضمون کی تصاویر فائل فوٹو ہیں — کوئزون سٹی میں الیکٹرک تھری وہیلر، ایک عام اسمبلی لائن، چارجنگ پر الیکٹرک کار، اور تالیسے، سیبو میں ٹرائی سائیکل — اور یہ بینان پلانٹ یا اس کے افتتاح کی تصاویر نہیں ہیں۔
تین پہیوں والی گاڑیوں — ٹرائی سائیکلوں — کا مینوفیکچرنگ و اسمبلی پلانٹ، جو صوبہ لگونا کے شہر بینان میں لگونا انٹرنیشنل انڈسٹریل پارک میں واقع ہے۔ اس کا افتتاح جمعرات 29 اکتوبر 2026 کو فلپائن کے صدر فرڈیننڈ آر مارکوس جونیئر نے کیا۔ یہ پلانٹ سازگار فلپائنز انکارپوریٹڈ کا ہے، جو لاہور کی سازگار انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی ہے، اور یہ سازگار کا پاکستان سے باہر پہلا مینوفیکچرنگ پلانٹ ہے، جسے جنوب مشرقی ایشیا کا مرکز بنانا مقصود ہے۔
پلانٹ تقریباً 12,000 تین پہیوں والی گاڑیاں سالانہ اسمبل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے — الیکٹرک اور پیٹرول، دونوں اقسام۔ ابتدائی پیداوار میں 60 فیصد الیکٹرک اور 40 فیصد پیٹرول یونٹس ہوں گے، اور مانگ بڑھنے کے ساتھ الیکٹرک حصہ بڑھنے کی توقع ہے۔ 12,000 کا عدد ڈیزائن شدہ سالانہ گنجائش ہے، فروخت یا پہلے سال کی پیداوار کا نتیجہ نہیں۔
کمپنی 60 فیصد فلپائنی ملکیت میں ہے — یہ بات صدر مارکوس کی افتتاحی تقریر اور بزنس ورلڈ کی رپورٹ دونوں میں درج ہے۔ اسی بنیاد پر پلانٹ فلپائن کے اسٹریٹجک انویسٹمنٹ پرائیورٹی پلان کے تحت اہل ہوا: ہر یونٹ کی قیمت کا کم از کم ایک چوتھائی حصہ مقامی طور پر شامل ہوتا ہے، اور بورڈ آف انویسٹمنٹس اس سے بھی زیادہ مقامی قدر کا امکان ظاہر کرتا ہے۔
یہ کمپنی کی توقع ہے، جیسا کہ صدر نے رپورٹ کیا — مکمل شدہ نتیجہ نہیں۔ افتتاح پر صدر نے کہا کہ اس وقت بہت سے پرزے بیرون ملک سے آتے ہیں، کمپنی سے کہا کہ ہر سال اپنی فلپائنی سپلائی چین بڑھائے، اور بتایا کہ کمپنی کو توقع ہے کہ تقریباً ایک سال میں تمام پرزے مقامی طور پر بننے لگیں گے، حکومت کے تعاون سے۔ بیٹریاں، شیشہ، سیٹ فوم، اپہولسٹری، ربڑ اور لبریکنٹس وہ شعبے ہیں جن کے مقامی سپلائرز درکار ہوں گے۔ یہ ٹائم ٹیبل پہلا سنگ میل ہے جس پر نظر رکھنی چاہیے۔
رینج اور چلانے کی لاگت۔ صدر کے مطابق الیکٹرک تھری وہیلر ایک چارج پر 100 سے 210 کلومیٹر چلتی ہے — پورے دن کے لیے کافی، کیونکہ شہری ٹرائی سائیکل روزانہ تقریباً 90 کلومیٹر اور صوبائی 110 سے 120 کلومیٹر چلتی ہے — اور مکمل چارج میں چھ سے آٹھ گھنٹے لگتے ہیں۔ پیٹرول نہ خریدنا پڑے تو ڈرائیور کی گھر لے جانے والی آمدنی بڑھتی ہے، اور ملک کی درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوتا ہے۔
یہ کسی پاکستانی کارخانہ ساز کا بیرون ملک پہلا پلانٹ ہے، جس کا صدارتی سطح پر استقبال ہوا، اور سفیر عاصمہ ربانی کے الفاظ میں پاکستان کی صنعتی برآمدات کے لیے ایک سنگ میل ہے۔ سازگار فلپائنز کے چیف ایگزیکٹو محمد فہیم نے کہا کہ کمپنی مقامی مینوفیکچرنگ، افرادی قوت کی تربیت، فلپائنی سپلائرز سے شراکت اور جنوب مشرقی ایشیا کو مستقبل کی برآمدات کا ارادہ رکھتی ہے۔ کوئی سرمایہ کاری کی رقم، قیمت یا پہلی برآمد کی تاریخ اعلان نہیں ہوئی، اور یہ رپورٹ کوئی ایسا دعویٰ نہیں کرتی۔
انگریزی میں مکمل رپورٹ | معیشت کی خبریں | اردو ہوم پیج