سندھ کے گنا کاشتکاروں نے صوبائی حکومت کے سامنے اپنی بات رکھنے کے لیے اب تاریخ مقرر کر دی ہے۔ سندھ آبادگار اتحاد نے مطالبہ کیا ہے کہ گنے کا نرخ 650 روپے فی من مقرر کیا جائے، کرشنگ بروقت شروع کی جائے، اور گندم کا امدادی نرخ 5000 روپے فی من رکھا جائے — اور ان مطالبات کے لیے 4 نومبر کو کراچی پریس کلب سے وزیراعلیٰ ہاؤس تک احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے۔
یہ اعلان حیدرآباد پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس میں ہوا، جو کاشتکاروں کی تنظیم کے اجلاس کے بعد کی گئی۔ اس کی خبر 2 نومبر کو دی نیوز نے دی اور ایگری انسائٹ نے آگے بڑھائی۔ مطالبات کی فہرست بظاہر مختصر ہے، لیکن اس کا ہر نکتہ سندھ کی زرعی معیشت کے ایک الگ دباؤ کو چھوتا ہے — اور یہی وجہ ہے کہ کاشتکار اب کسی اعلان کا انتظار کرنے کے بجائے خود تاریخ دے رہے ہیں۔
سب سے بڑا مطالبہ گنے کا نرخ ہے: 650 روپے فی من۔ ایک من 40 کلوگرام کے برابر ہے، یعنی ہر 40 کلو گنے پر 650 روپے۔ اتحاد چاہتا ہے کہ سندھ حکومت یہ نرخ باقاعدہ طور پر مقرر کرے۔ جب تک حکومت نرخ مقرر نہیں کرتی، کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ملیں اپنی مرضی کا نرخ دیتی ہیں — اور کاشتکار، جو ایک جلد خراب ہونے والی فصل کو نہ زیادہ دیر رکھ سکتا ہے نہ دور کے خریدار تک لے جا سکتا ہے، جو ملے قبول کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اس لیے مقررہ نرخ کا مطالبہ صرف عدد کا مطالبہ نہیں؛ یہ اس بات کا مطالبہ ہے کہ عدد کون طے کرے گا، اور کب۔
دوسرا مطالبہ وقت کا ہے، اور کاشتکار اسے نرخ سے الگ نہیں سمجھتے۔ اتحاد کے صدر نواب زبیر تالپور نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہر سال گنے کے نرخ کے اعلان اور کرشنگ شروع ہونے میں تاخیر سے کاشتکاروں کو مالی نقصان ہوتا ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے واضح بتائی: دیر سے کرشنگ ہو تو کٹی ہوئی فصل پڑی رہتی ہے، سردی میں گنا سوکھ جاتا ہے، وزن کم ہو جاتا ہے، اور چونکہ ادائیگی وزن کے حساب سے ہوتی ہے، کاشتکار کو کم رقم ملتی ہے۔ یعنی کاشتکار نے فصل وقت پر کاٹی، لیکن مل کا انتظار اس کی فصل کو ہی گھٹا دیتا ہے — اور اس نقصان کا ذمہ دار کاشتکار نہیں ہوتا۔
یہی وزن کم ہونے والی بات گندم کے کھیت تک بھی پہنچتی ہے۔ گنا دیر سے کٹے یا دیر سے اس کی ادائیگی ہو تو اسی زمین پر اگلی فصل، یعنی گندم کی بوائی بھی تاخیر کا شکار ہو جاتی ہے۔ اتحاد نے اکتوبر کے اجلاس میں بھی یہی نکتہ اٹھایا تھا کہ ملیں وقت پر کھلیں تاکہ گندم کی کاشت فصل کے کیلنڈر کے مطابق ہو سکے۔ 2 نومبر کے بیان میں یہ جملہ لفظ بہ لفظ نہیں دہرایا گیا، لیکن منطق وہی ہے: گنے کا موسم لیٹ ہو تو نقصان صرف ایک فصل کا نہیں ہوتا، اسی گھرانے کو اگلی فصل میں بھی بھگتنا پڑتا ہے۔
اجلاس میں وفاقی حکومت کی گندم پالیسی اور نرخوں پر بھی بات ہوئی، اور یہاں تالپور کا بیان مطالبے کے ساتھ ساتھ ایک تردید بھی تھا۔ انہوں نے ان خبروں کو مسترد کیا کہ حکومت گندم کا نرخ 4500 روپے فی من مقرر کرنے پر غور کر رہی ہے، اور مطالبہ کیا کہ یہ نرخ 5000 روپے فی من رکھا جائے۔
قارئین کے لیے یہ فرق سمجھنا ضروری ہے: اس جملے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حکومت نے 4500 روپے کا اعلان کر دیا ہے۔ تالپور نے جس چیز کو مسترد کیا وہ ایک زیرِ غور نرخ کی خبر تھی۔ جو مطالبہ ریکارڈ پر ہے وہ 5000 روپے ہے۔ 4500 اور 5000 کے درمیان 500 روپے فی من کا فرق ہے — اور بڑے پیمانے پر کاشت کرنے والے گھرانے کے لیے یہ فرق اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ موسم اخراجات پورے کرے گا یا نہیں۔ اتحاد نے واضح طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس بحث کا وقت نرخ طے ہونے سے پہلے ہے، بعد میں نہیں۔
گندم اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ وہ فصل ہے جہاں وفاقی اور صوبائی تصویر ملتی ہے۔ گنے کا نرخ صوبائی معاملہ ہے، اس لیے وہ مطالبہ سندھ حکومت سے ہے۔ گندم کا امدادی نرخ وفاقی پالیسی کے دائرے میں آتا ہے۔ اتحاد نے دونوں مطالبات ایک ہی بیان میں رکھے کیونکہ ایک ہی کاشتکار کو ایک ہی موسم میں دونوں نرخوں کا سامنا ہے — اور جو احتجاج صرف گنے کی بات کرے وہ گھریلو بجٹ کا آدھا حصہ چھوڑ دے گا۔
تالپور نے بالائی سندھ میں دھان کی قیمت پر بھی تشویش ظاہر کی، جہاں کاشتکاروں کو مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ دھان 2600 روپے فی من کے حساب سے فروخت ہو رہی ہے۔ 2 نومبر کی خبر میں دھان کے بارے میں اس سے زیادہ تفصیل نہیں ہے — نہ کوئی مطالبہ کردہ عدد، نہ ضلع وار تفصیل، نہ گزشتہ موسم سے موازنہ — اور یہ رپورٹ بھی کوئی عدد گھڑ کر نہیں بھرتی۔ لیکن اس ذکر سے دائرہ واضح ہوتا ہے: یہ صرف ایک فصل کا احتجاج نہیں۔ گنا سرخی ہے، گندم دوسرا مطالبہ ہے، اور دھان یہ انتباہ ہے کہ ایک ہی دباؤ — نرخ کم، یا اعلان میں تاخیر — صوبے بھر میں، گنے کی پٹی سے لے کر بالائی سندھ کی چاول کی پٹی تک، محسوس کیا جا رہا ہے۔
یہ وسعت 4 نومبر کے مارچ کے لیے بھی اہم ہے۔ ایک فصل پر کھڑا احتجاج ایک طبقے کو کھینچتا ہے؛ تین فصلوں کی بات کرنے والا احتجاج صوبے کی پوری زرعی معیشت کی نمائندگی کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہ دعویٰ 4 نومبر کو ہی پرکھا جائے گا — کون آتا ہے، کن اضلاع سے آتا ہے، کتنی تعداد میں آتا ہے۔ اعلان، فی الحال، صرف دعویٰ ہے۔
اتحاد کا اعلان کردہ منصوبہ یہ ہے: 4 نومبر کو کراچی پریس کلب سے وزیراعلیٰ ہاؤس تک احتجاجی مارچ۔ راستہ خود پیغام ہے۔ پریس کلب وہ جگہ ہے جہاں مطالبات کا اعلان ہوتا ہے؛ وزیراعلیٰ ہاؤس وہ جگہ ہے جہاں ان کا جواب دینا ہوتا ہے۔ دونوں کے درمیان پیدل مارچ مطالبات کو اعلان کی جگہ سے فیصلے کی جگہ تک، سب کے سامنے، لے جانے کی کوشش ہے۔
مارچ سے پہلے دو باتیں دیکھنے والی ہیں۔ پہلی یہ کہ آیا سندھ حکومت 4 نومبر سے پہلے گنے کا نرخ یا کرشنگ کی تاریخ کا اعلان کرتی ہے۔ ایسا اعلان مارچ کی نوعیت ہی بدل دے گا — مطالبے کے مارچ سے نرخ پر فیصلے کے مارچ تک۔ دوسری یہ کہ آیا کسی ملز ایسوسی ایشن یا حکومتی ترجمان کی طرف سے 650 روپے کے عدد پر کوئی ردعمل آتا ہے۔ 2 نومبر کی خبر میں حکومت یا ملز کا کوئی ردعمل نہیں ہے، اور یہ رپورٹ کسی فریق کی طرف سے کوئی مؤقف منسوب نہیں کرتی۔ اگر دونوں طرف سے خاموشی رہی تو یہ بھی کہانی کا حصہ ہے: کاشتکار، ان کے اپنے بقول، اس لیے مارچ کر رہے ہیں کہ جوابوں کا انتظار طویل ہو گیا ہے۔
مارچ کے دن اصل سوال عملی ہوں گے: کتنے کاشتکار آئے، کتنی دور سے آئے؟ کیا مارچ وزیراعلیٰ ہاؤس تک پہنچا، اور کیا حکومت کی طرف سے کسی نے ان سے ملاقات کی؟ کیا دن کے اختتام پر کوئی تاریخ ملی — نرخ کے اعلان کی، کرشنگ کی، ملاقات کی — یا صرف مطالبات دہرائے گئے؟ زرعی سیاست میں احتجاج کی کامیابی اکثر اس سے ناپی جاتی ہے کہ اس نے کیا حاصل کیا، نہ کہ وہ کتنا اونچا تھا۔ اور 650 روپے کا عدد اس کسوٹی کو واضح بنا دیتا ہے: یا حکومت اس کی طرف بڑھے گی، یا نہیں۔
زرعی خبروں کے باقاعدہ قارئین کو یہ عدد مانوس لگے گا۔ اتحاد نے اکتوبر میں ہونے والے اجلاس میں بھی یہی 650 روپے فی 40 کلوگرام کا مطالبہ کیا تھا، ساتھ ہی ملوں کے بروقت کھلنے اور سیلابی نہروں کی بندش کا مطالبہ۔ یہ تکرار اہم ہے، اور دونوں طرف سے پڑھی جا سکتی ہے۔ کاشتکاروں کے لیے یہ مستقل مزاجی ہے: یہ عدد احتجاج کے لیے نہیں گھڑا گیا، کم از کم ایک ماہ سے ان کا مؤقف ہے۔ حکومت کے لیے یہ یاددہانی ہے کہ مطالبہ ہفتوں سے میز پر ہے، اور دستیاب خبروں کے مطابق اس پر کوئی تصفیہ نہیں ہوا۔ دہرایا گیا مطالبہ دراصل جواب نہ ملنے والا مطالبہ ہے — اور یہی وہ نکتہ ہے جسے اتحاد اب مارچ کے ذریعے زور دے رہا ہے۔
گنے کے نرخ کی لڑائی خلا میں نہیں ہو رہی۔ اتحاد کے بیان کی خبر سے چار دن پہلے، 29 اکتوبر کو نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سرپلس چینی سے متعلق کابینہ کمیٹی کی صدارت کی تھی، جس میں چینی کے ذخائر کا جائزہ لیا گیا اور برآمدی رہنما اصول حتمی کرنے کی طرف پیش رفت ہوئی۔ اس اجلاس میں زور دیا گیا کہ برآمدات سے کسانوں اور صنعت کو فائدہ ہو، لیکن ملکی فراہمی یا قیمتوں میں خلل نہ آئے، اور مارکیٹ میں بگاڑ روکنے کے لیے مضبوط نگرانی کا حکم دیا گیا۔ اسی سلسلے کی 24 اکتوبر کی ایک الگ کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ 22 اکتوبر تک کے ہفتے میں پاکستان بیورو شماریات کی رپورٹ کے مطابق چینی کا اوسط خوردہ نرخ 141.61 روپے فی کلو تھا، جبکہ ایک سال پہلے یہ 188.81 روپے تھا۔
یہ اعداد اپنی اپنی تاریخوں کے ہیں، اور انہیں اس ہفتے کی خبر کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔ لیکن وہ اس کشمکش کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں: صارفین نے حال ہی میں چینی سستی دیکھی ہے، اور وفاقی حکومت کی چینی پالیسی صارف کے تحفظ کے گرد گھومتی ہے۔ دوسری طرف کاشتکار کہتے ہیں کہ انہیں گنے کی جو قیمت ملتی ہے وہ اس زنجیر میں ان کا منصفانہ حصہ نہیں۔ دونوں باتیں ایک ساتھ درست ہو سکتی ہیں: خوردہ نرخ گر سکتا ہے جبکہ کھیت کی قیمت پھر بھی کاشتکار کے لیے ناکافی رہے، کیونکہ کھیت اور دکان کے درمیان کا مارجن ملوں، تاجروں اور اخراجات میں بٹتا ہے۔ 650 روپے کا مطالبہ دراصل اسی مارجن پر بحث ہے — سندھ کے کھیت سے کراچی کے باورچی خانے تک، کسے کیا ملتا ہے؟
4 نومبر تک چار پیش رفتوں میں سے ہر ایک اس خبر کو بدل دے گی۔ پہلی، سندھ حکومت کی طرف سے گنے کے نرخ یا کرشنگ کی تاریخ کا کوئی اعلان۔ دوسری، کسی ملز ایسوسی ایشن کی طرف سے 650 روپے کے عدد پر ردعمل۔ تیسری، گندم کے امدادی نرخ پر وفاقی سطح سے کوئی بات — آیا 4500 روپے والی خبر کی تصدیق ہوتی ہے، تردید ہوتی ہے، یا باقاعدہ اعلان آتا ہے۔ چوتھی، مارچ کے حجم کا کوئی اشارہ: اضلاع کی سطح پر متحرک ہونا، یا دیگر کاشتکار تنظیموں کا اس مطالبے کے ساتھ کھڑا ہونا یا الگ رہنا۔
4 نومبر کے بعد کہانی نتائج کی ہوگی۔ اگر مارچ سے کوئی ملاقات، کوئی تاریخ یا کوئی نرخ نکلا تو وہ ایک نئی خبر ہوگی، اپنی تصدیق کے ساتھ۔ اگر صرف مطالبات دہرائے گئے تو یہ بھی خبر ہوگی — کہ صوبے کے کاشتکار اور حکومت کرشنگ موسم کے آگے بڑھنے کے باوجود ایک دوسرے کی بات نہیں سن رہے۔ اور اگر نرخ طے ہوئے بغیر کرشنگ شروع ہو گئی تو کاشتکاروں کی اصل شکایت — کہ ملیں اپنی مرضی کا نرخ دیں گی جبکہ حکومت خاموش رہے گی — عملی طور پر ثابت ہو جائے گی، چاہے کوئی کچھ بھی کہے۔
جو گھرانے گنا نہیں اگاتے ان کے لیے بھی یہ خبر اہم ہے۔ گنے کا نرخ چینی کے نرخ میں جاتا ہے، گندم کا نرخ آٹے میں، اور دھان کا نرخ چاول میں۔ سندھ میں کھیت کے نرخوں کے جھگڑے کچھ ہفتوں بعد کراچی کے باورچی خانوں تک پہنچتے ہیں، تھوڑے تھوڑے اضافوں کی صورت میں جنہیں اس وقت تک محسوس نہیں کیا جاتا جب تک وہ جمع نہ ہو جائیں۔ اسی لیے حیدرآباد پریس کلب میں اعلان کردہ ایک مارچ صرف ایک پیراگراف کا مستحق نہیں: یہ سردیوں کے کھانے کے بلوں کے بارے میں ایک ابتدائی اشارہ ہے۔
اس رپورٹ کی حدود کے بارے میں صاف بات کرنا بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔ 2 نومبر کی خبر میں سندھ حکومت کا گنے کے نرخ پر موجودہ مؤقف نہیں بتایا گیا، اور یہ رپورٹ اس کا اندازہ نہیں لگاتی۔ اس میں کرشنگ شروع ہونے کی کوئی تاریخ نہیں ہے، اور کوئی تاریخ دعویٰ نہیں کی گئی۔ اس میں ملز کا ردعمل، حکومتی ردعمل، یا ملوں کی طرف سے اس وقت ادا کیے جانے والے نرخ کا کوئی عدد نہیں ہے — خبر میں یہ کچھ نہیں ہے، اور خلا بھرنے کے لیے کچھ گھڑا نہیں گیا۔ اس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ 4 نومبر کو کتنے کاشتکار مارچ کریں گے، کن اضلاع سے آئیں گے، یا مارچ کو وزیراعلیٰ ہاؤس تک پہنچنے کی اجازت ملے گی یا نہیں۔ یہ 4 نومبر کی خبریں ہیں، اور جب ہوں گی تب رپورٹ ہوں گی۔
ثابت شدہ بات یہ ہے: سندھ آبادگار اتحاد نے، نواب زبیر تالپور کی قیادت میں، گنے کا نرخ 650 روپے فی من، گندم کا امدادی نرخ 5000 روپے فی من، بروقت کرشنگ، اور بالائی سندھ میں دھان کی قیمتوں کی طرف توجہ کا مطالبہ کیا ہے — اور ان مطالبات کے لیے 4 نومبر کو کراچی پریس کلب سے وزیراعلیٰ ہاؤس تک احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے۔ باقی سب — حکومت کا جواب، ملوں کا جواب، خود مارچ — ابھی آنا باقی ہے، اور تازہ پلس اس خبر کو اس وقت اپ ڈیٹ کرے گا جب وہ سامنے آئے گا۔
چار مطالبات، جو سندھ آبادگار اتحاد نے حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس میں پیش کیے اور 2 نومبر 2026 کو رپورٹ ہوئے: گنے کا نرخ 650 روپے فی من مقرر کیا جائے، کرشنگ بروقت شروع ہو، گندم کا امدادی نرخ 5000 روپے فی من رکھا جائے، اور بالائی سندھ میں دھان کی قیمتوں پر توجہ دی جائے جہاں دھان 2600 روپے فی من بک رہی ہے۔ اتحاد کے صدر نواب زبیر تالپور نے گندم کے 4500 روپے والے زیرِ غور نرخ کی خبروں کو بھی مسترد کیا — وہ ایک اعلان شدہ نرخ نہیں، ایک زیرِ غور عدد تھا جس کی انہوں نے مخالفت کی۔
سندھ آبادگار اتحاد نے، جس کے صدر نواب زبیر تالپور ہیں، کاشتکاروں کی تنظیم کے اجلاس کے بعد حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس میں یہ مطالبات پیش کیے۔ احتجاج 4 نومبر 2026 کو کراچی پریس کلب سے وزیراعلیٰ ہاؤس تک مارچ کی صورت میں ہوگا۔ مارچ ابھی ہوا نہیں ہے — یہ رپورٹ اعلان کی ہے، نتیجے کی نہیں، اور اس میں شرکت کی تعداد یا اجازت کے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔
کیونکہ ادائیگی وزن کے حساب سے ہوتی ہے، اور انتظار کرنے والا گنا وزن کھو دیتا ہے۔ تالپور کے بقول نرخ کے اعلان اور کرشنگ شروع ہونے میں ہر سال کی تاخیر کاشتکاروں کو مالی نقصان پہنچاتی ہے: سردی میں گنا سوکھ جاتا ہے، اس لیے وہی فصل مل تک پہنچتے پہنچتے ہلکی ہو جاتی ہے اور کم کماتی ہے۔ دیر سے کرشنگ اسی زمین پر اگلی فصل، یعنی گندم کی بوائی کو بھی پیچھے دھکیل دیتی ہے، تو ایک تاخیر ایک ہی گھرانے کو ایک موسم میں دو بار نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اس خبر کے لیے دستیاب رپورٹنگ میں نہیں۔ 2 نومبر کی خبر میں سندھ حکومت کا کوئی ردعمل، ملز کا کوئی ردعمل، کرشنگ شروع ہونے کی کوئی تاریخ، اور ملوں کی طرف سے اس وقت ادا کیے جانے والے نرخ کا کوئی عدد نہیں ہے — اور اس رپورٹ میں بھی کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ 650 روپے اتحاد کا مطالبہ ہے، اعلان شدہ نرخ نہیں۔ اگر 4 نومبر سے پہلے حکومت کوئی نرخ یا تاریخ اعلان کرتی ہے تو وہ ایک نئی خبر ہوگی۔
کیونکہ ایک ہی کاشتکار ایک ہی موسم میں دونوں فصلیں اگاتا ہے۔ گنے کا نرخ صوبائی معاملہ ہے، اس لیے وہ مطالبہ سندھ حکومت سے ہے، جبکہ گندم کا امدادی نرخ وفاقی پالیسی کے دائرے میں آتا ہے۔ اتحاد نے دونوں مطالبات ایک بیان میں رکھے — ساتھ بالائی سندھ میں دھان کی تشویش — کیونکہ صرف گنے کی بات کرنے والا احتجاج گھریلو بجٹ کا آدھا حصہ چھوڑ دے گا۔ گندم کا مطالبہ 5000 روپے فی من ہے؛ 4500 روپے وہ عدد ہے جس کے زیرِ غور ہونے کی خبر کو تالپور نے مسترد کیا۔
کھیت سے دکان تک کی زنجیر کے ذریعے۔ 29 اکتوبر 2026 کو نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی صدارت میں سرپلس چینی کمیٹی نے زور دیا تھا کہ برآمدات سے کسانوں اور صنعت کو فائدہ ہو لیکن ملکی فراہمی یا قیمتوں میں خلل نہ آئے، اور مارکیٹ میں بگاڑ روکنے کے لیے نگرانی کا حکم دیا تھا۔ 24 اکتوبر کی ایک الگ کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ 22 اکتوبر تک کے ہفتے میں چینی کا اوسط خوردہ نرخ 141.61 روپے فی کلو تھا، جبکہ ایک سال پہلے یہ 188.81 روپے تھا۔ یہ اپنی تاریخوں کے اعداد ہیں، اس ہفتے کے نرخ نہیں — لیکن وہ اس کشمکش کو دکھاتے ہیں: صارفین نے حال ہی میں چینی سستی دیکھی جبکہ کاشتکار کہتے ہیں کہ انہیں گنے کی جو قیمت ملتی ہے وہ ان کے لیے ناکافی ہے، کیونکہ کھیت اور دکان کے درمیان کا مارجن ملوں، تاجروں اور اخراجات میں بٹتا ہے۔
انگریزی میں مکمل رپورٹ | ڈار کا چینی ذخائر کا جائزہ (اردو) | معیشت کی مزید خبریں | اردو ہوم پیج