بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان گنگا کے پانی کی تقسیم کا 1996 والا معاہدہ اپنے آخری سال میں داخل ہو چکا ہے: یہ 12 دسمبر 2026 کو ختم ہو جائے گا۔ اور ڈھاکا نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس کی سادہ تجدید نہیں چاہتا۔ بنگلہ دیش کے وزیر آبی وسائل شاہد الدین چودھری انیے کا کہنا ہے کہ نیا معاہدہ بننا چاہیے — ایسا معاہدہ جس میں گارنٹی شق ہو، یعنی خشک موسم میں بنگلہ دیش کو ملنے والے پانی کی ایک کم سے کم حد کی ضمانت ہو۔ یہی وہ تحفظ ہے جو موجودہ معاہدے میں موجود نہیں، اور یہی اس پوری بحث کا مرکز ہے۔
وزیر آبی وسائل نے یہ مؤقف حالیہ ہفتوں میں دو بار کھل کر بیان کیا۔ 24 ستمبر 2026 کو ڈھاکا میں ایک دریائی مکالمے سے خطاب میں — جس کی رپورٹ دی بزنس اسٹینڈرڈ نے دی — انہوں نے کہا کہ موجودہ معاہدہ زیریں علاقوں کے کسانوں کو خشک موسم میں پانی کی کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں دیتا، اور جو بھی نیا انتظام ہو اسے یہ خامی دور کرنی ہوگی۔ پھر 8 اکتوبر 2026 کو بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کو انٹرویو میں انہوں نے یہی مطالبہ دہرایا: نیا معاہدہ، اور اس میں گارنٹی شق — اسی طرز کی جیسی 1977 کے گنگا معاہدے میں تھی، جب بھارت نے بنگلہ دیش کے مقررہ حصے کے تقریباً 80 فیصد کی ضمانت دی تھی۔
بھارت کا عوامی ردعمل تاحال اصولی کے بجائے طریقہ کار کا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے 29 ستمبر اور پھر 9 اکتوبر 2026 کی بریفنگز میں کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان دریاؤں اور پانی کے تمام امور جوائنٹ ریورز کمیشن کے ذریعے زیر بحث آتے ہیں — یہ وہی مشترکہ ادارہ ہے جو درجنوں مشترکہ دریاؤں کے معاملات دیکھتا ہے۔ یہ نہ گارنٹی کے مطالبے کی قبولیت ہے، نہ اس کی تردید؛ یہ اس بات پر اصرار ہے کہ گفتگو موجودہ مشینری کے اندر ہو۔ اور مشینری حرکت میں بھی ہے: مئی 2026 میں دونوں ملکوں کے تکنیکی حکام چار روزہ اجلاس کر چکے ہیں، اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمن اگست 2026 میں پارلیمنٹ کو بتا چکے ہیں کہ اس فائل کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔
یہ معاہدہ 12 دسمبر 1996 کو دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم نے دستخط کر کے کیا تھا، اور اس نے فراکا بیراج پر دہائیوں پرانا تنازع ختم کیا تھا۔ فراکا وہ بند ہے جو بھارت نے بنگلہ دیش کی سرحد سے کچھ اوپر گنگا پر بنایا، تاکہ پانی بھاگیرتھی-ہوگلی شاخ میں موڑ کر کلکتہ بندرگاہ کی گاد صاف کی جا سکے۔ معاہدہ صرف ایک چیز طے کرتا ہے: خشک موسم میں — یکم جنوری سے 31 مئی تک — فراکا پر ناپا گیا بہاؤ دونوں ملکوں میں کیسے بٹے گا، دس دن کی مدتوں کے حساب سے۔
فارمولا بہاؤ سے جڑا ہے۔ فراکا پر بہاؤ 70 ہزار کیوسک یا اس سے کم ہو تو دونوں آدھا آدھا لیتے ہیں۔ 70 سے 75 ہزار کیوسک کے درمیان بنگلہ دیش کو 35 ہزار کیوسک ملتے ہیں اور باقی بھارت کو۔ 75 ہزار سے اوپر بھارت 40 ہزار کیوسک لیتا ہے اور باقی بنگلہ دیش کو جاتا ہے۔ مارچ اور اپریل کی ایک ایک دس روزہ مدت میں ہر فریق کو 35 ہزار کیوسک کی یقین دہانی بھی ہے۔ کاغذ پر یہ ایک متوازن نظام ہے۔ اصل کمزوری وہیں ہے جو ڈھاکا گنواتا ہے: جب خشک سالوں میں بہاؤ فارمولے کی توقع سے بہت کم رہ جائے تو کسی نہ کسی کا حصہ گھٹتا ہے — اور معاہدہ یہ نہیں کہتا کہ کس کا، اور کتنا کم ہونے کی حد کیا ہے۔ نہ گارنٹی شق ہے، نہ دریا کے اپنے ماحولیاتی بہاؤ کا تصور، نہ موسمیاتی تبدیلی کا کوئی ذکر۔
ڈھاکا جس گارنٹی کی بات کر رہا ہے وہ کوئی نئی ایجاد نہیں — یہ 1977 کے پانچ سالہ معاہدے میں موجود تھی، جس میں بنگلہ دیش کو اس کے طے شدہ حصے کے تقریباً 80 فیصد کی ضمانت دی گئی تھی؛ یعنی بہاؤ کتنا ہی کم ہو، اس حد سے نیچے اس کا حصہ نہیں گرے گا۔ 1996 کے طویل مدتی معاہدے میں یہ فرش غائب ہو گیا۔ بنگلہ دیشی ماہرین — جن میں نیشنل ریور کنزرویشن کمیشن کے سابق رکن منجور اے چودھری بھی شامل ہیں — کہتے ہیں کہ نئے معاہدے میں تین چیزیں ہونی چاہییں: گارنٹی شق، دریا کے لیے تسلیم شدہ ماحولیاتی بہاؤ، اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق شقیں، کیونکہ بدلتی آب و ہوا خشک موسم کے بہاؤ اور نمکیات کی سرحد دونوں کو بدل رہی ہے۔ یہ مطالبات ہیں، متفقہ متن نہیں — لیکن انھی سے پتہ چلتا ہے کہ مذاکرات کو کتنا فاصلہ طے کرنا ہے۔
بھارت کے مفادات مختلف ہیں مگر کسی طرح کم نہیں۔ فراکا سے موڑا گیا پانی بھاگیرتھی-ہوگلی کو قابل جہاز رانی رکھتا ہے اور کلکتہ بندرگاہ چلاتا ہے؛ اوپر کی طرف یہی دریا بھارت کی سب سے گنجان آباد ریاستوں کی آبپاشی اور شہروں کو سیراب کرتا ہے۔ نئی دہلی کی مستقل لائن — جو جیسوال نے دونوں بریفنگز میں دہرائی — یہی ہے کہ دریائی امور جوائنٹ ریورز کمیشن کا میدان ہیں۔ گارنٹی شق پر بھارت نے تاحال زبان نہیں کھولی؛ اور رپورٹنگ کی امانت یہی ہے کہ یہ خاموشی نوٹ کی جائے: ڈھاکا نے سوال میز پر رکھ دیا ہے، دہلی نے ابھی صرف یہ بتایا ہے کہ جواب کس میز پر ملے گا۔
کیلنڈر اس فائل کا تیسرا فریق ہے۔ معاہدہ 12 دسمبر 2026 کو ختم ہوگا؛ اگر اس دن کوئی جانشین انتظام موجود نہ ہوا تو جنوری تا مئی 2027 کے خشک موسم میں فراکا کی تقسیم تحریری قواعد کے بغیر رہ جائے گی — اور یہی وہ مہینے ہیں جب دریا سب سے کم ہوتا ہے۔ تیستا دریا کا برسوں سے اٹکا ہوا تنازع پس منظر میں یاددہانی ہے کہ آبی مذاکرات ایک دہائی بھی کھنچ سکتے ہیں۔ پاکستانی قارئین کے لیے یہ فائل اس لیے بھی اہم ہے کہ اس خطے کے دریا اسی نوعیت کے پرانے معاہدوں سے بندھے ہیں — سندھ طاس معاہدہ اس کی قریب ترین مثال ہے — اور ہر ازسرنو گفتگو یہی سوال پوچھتی ہے: جب بہاؤ ہی سکڑ رہا ہو تو منصفانہ حصہ کیا ہے؟ زیریں ملک کو تناسب ملے گا یا فرش؟ ڈھاکا نے اپنے جوابات بول کر دینا شروع کر دیے ہیں؛ دہلی کا جواب — فورم کے علاوہ — ابھی آنا باقی ہے۔
اس رپورٹ کا ماخذ: دی بزنس اسٹینڈرڈ (بنگلہ دیش) کی مکالمے کی کوریج، اے این آئی کا وزیر آبی وسائل کا انٹرویو، بھارتی وزارت خارجہ کی بریفنگز، اور ایشیا ڈیلی کی رپورٹنگ۔
بھارت اور بنگلہ دیش کا گنگا واٹر شیئرنگ معاہدہ 12 دسمبر 1996 کو تیس سال کے لیے ہوا تھا، اس لیے یہ 12 دسمبر 2026 کو ختم ہو جائے گا۔ یہ معاہدہ فراکا بیراج پر گنگا کے خشک موسم (یکم جنوری تا 31 مئی) کے بہاؤ کی تقسیم طے کرتا ہے۔
بنگلہ دیش کے وزیر آبی وسائل شاہد الدین چودھری انیے نے کہا ہے کہ پرانے معاہدے کی تجدید کے بجائے نیا معاہدہ ہونا چاہیے جس میں گارنٹی شق ہو — یعنی خشک موسم میں بنگلہ دیش کے حصے کی ایک کم از کم حد کی ضمانت، جیسے 1977 کے معاہدے میں تقریباً 80 فیصد حصے کی گارنٹی تھی۔ ماہرین ماحولیاتی بہاؤ اور موسمیاتی تبدیلی کی شقیں بھی چاہتے ہیں۔
خشک موسم میں دس دن کی مدتوں کے حساب سے: فراکا پر بہاؤ 70 ہزار کیوسک یا اس سے کم ہو تو دونوں ملک آدھا آدھا لیتے ہیں؛ 70 سے 75 ہزار کیوسک کے درمیان بنگلہ دیش کو 35 ہزار کیوسک ملتے ہیں اور باقی بھارت کو؛ 75 ہزار سے زیادہ پر بھارت 40 ہزار کیوسک لیتا ہے اور باقی بنگلہ دیش کو جاتا ہے۔ موجودہ معاہدے میں کوئی گارنٹی شق نہیں — یہی اس کی سب سے بڑی کمزوری سمجھی جاتی ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے 29 ستمبر اور 9 اکتوبر 2026 کی بریفنگز میں کہا کہ دریاؤں اور پانی کے تمام معاملات جوائنٹ ریورز کمیشن کے ذریعے زیر بحث آتے ہیں۔ بھارت نے گارنٹی شق کے مطالبے پر تاحال کھل کر کوئی جواب نہیں دیا۔ دونوں ملکوں کے تکنیکی حکام مئی 2026 میں چار روزہ مذاکرات بھی کر چکے ہیں۔
خشک موسم کا گنگا پانی بنگلہ دیش کے جنوب مغربی علاقوں کی آبپاشی، خلیج بنگال سے آگے بڑھتی نمکیات کی روک تھام، آبی نقل و حمل اور ماہی گیری کی بنیاد ہے۔ خشک سالوں میں فراکا پر بہاؤ اتنا کم ہو جاتا ہے کہ معاہدے کا فارمولا بنگلہ دیش کو اس سے کہیں کم پانی دیتا ہے جس کی اس کے کسان توقع رکھتے ہیں۔
انگریزی میں مکمل رپورٹ | عالمی خبریں | اردو ہوم پیج