TaazaPulse — UrduRead in English
عالمی — خصوصی رپورٹ

آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکرز پر مبینہ مائن حملہ: ایران کا دعویٰ، امریکہ کی تردید

جمعرات 29 اکتوبر 2026 کو آبنائے ہرمز میں ایک جہاز میں آگ لگ گئی — اور اس ایک واقعے نے دو بالکل مختلف کہانیاں جنم دے دی ہیں۔ ایران کے پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ تین آئل ٹینکرز بحری سرنگوں سے ٹکرا کر پھٹ گئے، جبکہ امریکہ اس دعوے کو سراسر جھوٹ قرار دے رہا ہے۔ آزاد ذرائع سے ابھی تک کسی دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی، اور یہی اس خبر کی سب سے اہم حقیقت ہے: ایک جہاز کا جلنا طے ہے، باقی سب دعویٰ ہے۔

آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے امریکی بحریہ کے جہاز

امریکی بحریہ کے جہاز مئی 2012 میں آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے (امریکی بحریہ کی تصویر) — یہی وہ گزرگاہ ہے جس پر جمعرات کے متنازع دعووں کا مرکز ہے۔

برطانیہ کی ایجنسی نے کیا بتایا

برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) نے بتایا کہ ایک جہاز کے کپتان نے عمان کے مسندم جزیرہ نما پر واقع خصب شہر سے تقریباً 9 ناٹیکل میل (17 کلومیٹر) شمال میں ایک اور جہاز کو آگ میں جلتا دیکھا۔ ایجنسی نے نہ جہاز کا نام بتایا، نہ آگ کی وجہ، نہ عملے کی حالت کے بارے میں کچھ کہا۔ اس کی اطلاع ایک تیسرے فریق کے مشاہدے پر مبنی تھی، یعنی یہ کسی تحقیق کا نتیجہ نہیں بلکہ سمندر سے موصول ہونے والی پہلی خبر تھی۔

ایران کا دعویٰ

اس کے کچھ ہی دیر بعد ایران کی سرکاری میڈیا پر پاسداران انقلاب کی بحریہ کا بیان شائع ہوا جس میں کہا گیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین آئل ٹینکرز اس وقت پھٹ کر آگ کی لپیٹ میں آ گئے جب وہ آبنائے کے غیر مجاز جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بیان کے مطابق ان ٹینکرز نے اپنے ریڈار اور نیوی گیشن سسٹم بند کر رکھے تھے اور ایرانی بحریہ کی وارننگز کو نظرانداز کیا۔ دعویٰ یہ بھی ہے کہ تباہ شدہ ٹینکرز آبنائے کے جنوبی ساحل کے قریب چھوڑ دیے گئے ہیں۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ غیر مجاز راستے سرنگوں سے بھرے ہیں اور ان کے استعمال کی ذمہ داری جہازوں کے مالکان اور عملے پر ہے۔

آبنائے ہرمز اور عمان کے مسندم جزیرہ نما کا سیٹلائٹ منظر

آبنائے ہرمز اور عمان کے مسندم جزیرہ نما کا سیٹلائٹ منظر (ناسا موڈس، دسمبر 2018) — دنیا کی پیٹرولیم ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی تنگ گزرگاہ سے گزرتا ہے۔

امریکہ کی تردید

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اس دعوے کو براہ راست مسترد کر دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ تجارتی جہازوں کے بحری سرنگوں سے ٹکرانے کے ایرانی دعوے جھوٹے ہیں، اور امریکی افواج نے تسلیم شدہ گزرگاہوں کو صاف کر رکھا ہے جن سے ہزاروں تجارتی جہاز محفوظ گزر رہے ہیں۔ واشنگٹن نے تجارتی جہازوں کو جنوبی لین استعمال کرنے کی ترغیب دی ہے جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست کے آخر میں سرنگوں سے پاک قرار دیا تھا — وہی لین جسے تہران غیر مجاز قرار دیتا ہے۔

تصدیق کیوں نہیں ہو سکی

ایسوسی ایٹڈ پریس نے کہا کہ وہ ایران کے دعووں کی فوری تصدیق نہیں کر سکا۔ کسی ذریعے نے تینوں ٹینکرز میں سے کسی کا نام نہیں بتایا، کسی فریق نے ہلاکتوں یا زخمیوں کے اعداد جاری نہیں کیے، اور UKMTO کو نظر آنے والے جلتے جہاز اور ایران کے دعوے والے تین ٹینکرز کے درمیان کوئی تعلق قائم نہیں ہو سکا۔ ہو سکتا ہے UKMTO کا مشاہدہ انہی تین میں سے ایک ہو، اور ہو سکتا ہے یہ کوئی الگ واقعہ ہو۔ جب تک کوئی جہاز نامزد نہیں ہوتا، عملے کا حساب سامنے نہیں آتا یا آزاد تصویر نہیں ملتی، ایماندارانہ خلاصہ یہی ہے: عمان کے قریب ایک جہاز کا جلنا طے شدہ ہے، تین ٹینکرز کا دعویٰ ایران کا ہے، اور تردید امریکہ کی ہے۔

آبنائے ہرمز میں ایک امریکی ڈسٹرائر

آبنائے ہرمز میں ایک امریکی ڈسٹرائر (امریکی بحریہ کی آرکائیو تصویر) — امریکی جنگی جہاز حال ہی میں اسی علاقے میں ٹینکرز کی حفاظت کر رہے ہیں جہاں جلتا جہاز دیکھا گیا۔

پاکستان کے لیے اس کا مطلب

پاکستان کے لیے یہ خبر دور کی نہیں۔ پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اب روزانہ عالمی معیاروں پر نظرثانی کے بعد طے ہوتی ہیں: آج کی نظرثانی میں پیٹرول 377.91 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 399.82 روپے مقرر ہوا۔ مارکیٹ رپورٹس کے مطابق جمعرات کی خبروں کے بعد برینٹ خام تیل 112 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا، جو مئی کے وسط کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔ اس واقعے کے جواب میں پاکستان کا کوئی نیا نرخ اعلان نہیں ہوا، اور ایک دن کی مارکیٹ حرکت سے کل کا نرخ طے نہیں ہوتا — لیکن روزانہ نظام کا مطلب یہ ہے کہ خلیج کی کشیدگی اب پاکستانی پمپوں تک پہلے سے زیادہ تیزی سے پہنچتی ہے۔ پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ سمندر کے راستے درآمد کرتا ہے، اور کراچی و پورٹ قاسم جانے والے ٹینکر اسی خلیجی راستے سے منسلک پانیوں سے گزرتے ہیں۔

آگے کیا دیکھنا ہے

اس خبر کو طے کرنے والی پانچ چیزیں ہیں: پہلی، UKMTO یا کوئی اور میری ٹائم اتھارٹی جلتے جہاز کی شناخت اور عملے کی خبر دے؛ دوسری، ایران ان تین ٹینکرز کے نام یا تصاویر پیش کرے؛ تیسری، سینٹ کام یا کوئی آزاد شپنگ ذریعہ اپنے ثبوت کے ساتھ مائن کے دعوے کی تصدیق یا تردید کرے؛ چوتھی، تیل کے اخراج یا ماحولیاتی نقصان کی کوئی اطلاع آئے؛ اور پانچویں، آبنائے سے گزرنے والی آمدورفت میں خلل آئے یا نہ آئے — جو اس بات کا سب سے پکا اشارہ ہوگا کہ جہازران اس دعوے کو کتنی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ تازہ پلس اس رپورٹ کو کسی بھی نئی تصدیق شدہ پیش رفت پر اپ ڈیٹ کرے گا۔

مزید پڑھیں: انگریزی میں مکمل رپورٹ · عالمی خبریں · پیٹرول کی قیمت طے کیسے ہوتی ہے؟

29 اکتوبر 2026 کو آبنائے ہرمز میں کیا ہوا؟

برطانیہ کی میری ٹائم ایجنسی UKMTO نے عمان کے خصب سے تقریباً 9 ناٹیکل میل شمال میں ایک جہاز کو آگ میں جلتا دیکھے جانے کی اطلاع دی۔ اسی دن ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ تین آئل ٹینکرز بحری سرنگوں سے ٹکرا کر پھٹ گئے۔ دونوں رپورٹس کا آپس میں تعلق قائم نہیں ہو سکا، اور ایرانی دعوے کی آزاد تصدیق نہیں ہوئی۔

ایران کا دعویٰ کیا ہے؟

پاسداران انقلاب کی بحریہ کے بیان کے مطابق تین آئل ٹینکرز گزشتہ 24 گھنٹوں میں اس وقت سرنگوں سے ٹکرائے جب وہ آبنائے کے غیر مجاز جنوبی راستے سے گزر رہے تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ ٹینکرز نے ریڈار اور نیوی گیشن سسٹم بند کر رکھے تھے، وارننگز نظرانداز کیں، اور تباہ شدہ جہاز جنوبی ساحل کے قریب چھوڑ دیے گئے۔

امریکہ کا مؤقف کیا ہے؟

امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ تجارتی جہازوں کے سرنگوں سے ٹکرانے کے دعوے جھوٹے ہیں، اور امریکی افواج نے تسلیم شدہ گزرگاہوں کو صاف کر رکھا ہے جن سے ہزاروں تجارتی جہاز محفوظ گزر رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز اتنی اہم کیوں ہے؟

دنیا کی پیٹرولیم ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ ایران اور عمان کے مسندم جزیرہ نما کے درمیان اس تنگ گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ فروری 2026 کی جنگ کے بعد تہران نے اس گزرگاہ پر کنٹرول کی کوشش کی، اور 17 جون کو پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت — ایران کے بیان کے مطابق — آبنائے کو دوبارہ کھولنے اور چلانے کی ذمہ داری ایران کو سونپی گئی۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کے نرخ روزانہ عالمی معیاروں پر طے ہوتے ہیں: آج پیٹرول 377.91 اور ڈیزل 399.82 روپے فی لیٹر ہے۔ مارکیٹ رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل 112 ڈالر فی بیرل کے قریب ہے۔ اس واقعے پر پاکستان کا کوئی نیا نرخ اعلان نہیں ہوا، لیکن خلیج کی کشیدگی روزانہ نظام کے تحت پمپوں تک تیزی سے پہنچ سکتی ہے۔

حوالہ جات