آزاد کشمیر کے ضلع باغ کے دھیرکوٹ علاقے کے پنڈی گاؤں میں جمعرات کی شام ایک گھر میں دھماکے سے ایک ہی خاندان کے چار افراد جاں بحق اور ایک نوعمر لڑکی زخمی ہو گئی — اور ایک دن بعد بھی اس دھماکے کے بارے میں سب سے اہم بات سرکاری طور پر غیر مصدقہ ہے: اس کی وجہ کیا تھی؟ اے آر وائی نیوز نے اسے گیس سلنڈر کا دھماکا قرار دیا۔ ضلعی انتظامیہ کا بیان دستی بم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ضلعی پولیس، جو اب تک سب سے معتبر آواز ہے، کہتی ہے کہ دھماکے کی نوعیت اور وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، اور سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کہ گھر کو سکیورٹی فورسز نے جان بوجھ کر نشانہ بنایا، بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ یہ رپورٹ وہی کچھ بیان کرتی ہے جو ثابت ہے، جو دعویٰ ہے، اور جو ابھی معلوم نہیں — کیونکہ جب پہلی سرخی اور سرکاری بیان آپس میں نہ ملیں تو یہ فرق ہی خبر ہے۔
کشمیر انگلش کی رپورٹ کے مطابق ضلعی پولیس کے بیان میں کہا گیا کہ دھماکا جمعرات 29 اکتوبر 2026 کو شام تقریباً 7 بجے پنڈی گاؤں میں شکدر کے گھر میں ہوا۔ پولیس افسر نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ دو خواتین، ایک کمسن لڑکا اور ایک لڑکی جاں بحق ہوئی۔ 15 سالہ لڑکی، جس کی شناخت پولیس نے عنیقہ شکدر کے طور پر کی، زخمی ہو کر ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال باغ منتقل کی گئی جہاں اس کا علاج جاری تھا۔ کشمیر گل نیوز نے وقت شام 7 سے 8 بجے کے درمیان بتایا اور کہا کہ چاروں افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوئے جبکہ زخمی لڑکی کو شدید چوٹیں آئیں۔ پولیس بیان میں مرنے والوں کے نام نہیں تھے؛ اس میں صرف یہ کہا گیا کہ دھماکے کی نوعیت اور وجہ کی تحقیقات ہو رہی ہیں، اور ملوث پائے جانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
کشمیر گل نیوز نے چاروں مرنے والوں کے نام ایک ہی گھر کے افراد کے طور پر دیے ہیں: شازیہ شفقت، شفقت کی اہلیہ، عمر تقریباً 40 سے 42 سال؛ شفقت کی والدہ، عمر تقریباً 80 سال؛ حارس شفقت، بیٹا، عمر تقریباً 11 سال؛ اور ملائکہ شفقت، بیٹی، عمر تقریباً 8 سال۔ اسی رپورٹ میں زخمی لڑکی کا نام عنیقہ شفقت اور عمر تقریباً 17 سے 18 سال بتائی گئی ہے — پولیس کے بتائے گئے 15 سال سے زیادہ۔ قارئین نوٹ کریں کہ ناموں کی ہجے میں بھی فرق ہے: پولیس بیان میں شکدر، کشمیر گل نیوز میں شفقت۔ دور دراز علاقے سے پہلے دن کی رپورٹنگ میں اس طرح کا فرق عام ہے، جہاں نام فون پر اور ایک سے زیادہ مقامی ذرائع سے خبروں تک پہنچتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اس رپورٹ میں ہر تفصیل اس کے ذریعے کے ساتھ دی گئی ہے، ایک ہموار ورژن بنا کر نہیں۔ جن باتوں پر سب متفق ہیں وہ نقصان کی صورت ہے: ایک ماں، ایک دادی اور دو بچے ایک ہی گھر سے، اور ایک زندہ بچ جانے والی لڑکی جس کا بیان یہ طے کرنے میں مرکزی ثابت ہو سکتا ہے کہ گھر کے اندر کیا ہوا۔
ڈپٹی کمشنر ممتاز کاظمی کے میڈیا کو دیے گئے بیان کے مطابق یہ گھر شفقت کا ہے جو بیرون ملک مقیم ہیں۔ پنڈی باغ شہر سے کچھ فاصلے پر، ضلع کے جنوب میں واقع گاؤں ہے، اور ڈپٹی کمشنر نے نوٹ کیا کہ گاؤں کی دوری خود کہانی کا حصہ ہے: سکیورٹی دستے جائے وقوعہ پر روانہ کیے گئے، لیکن فاصلہ ہر چیز کو سست کر دیتا ہے — تفتیش کاروں کی آمد، شواہد کا اکٹھا ہونا، اور مصدقہ معلومات کا واپس آنا۔ پہلے گھنٹوں میں اس خلا کو متضاد دعووں نے بھر دیا، اور ہر دعویٰ اب ایک مختلف ادارے میں ایک مختلف سرخی بن چکا ہے۔
پہلا ورژن وہ ہے جو پاکستان میں زیادہ تر قارئین نے دیکھا: اے آر وائی نیوز نے جمعے کی دوپہر اس واقعے کو باغ کے ایک گھر میں گیس سلنڈر پھٹنے کی خبر کے طور پر رپورٹ کیا جس میں چار افراد جاں بحق ہوئے۔ ٹریبیون انٹرنیشنل نے بھی یہی زاویہ اختیار کیا کہ آزاد کشمیر کے ایک گھر میں گیس سلنڈر پھٹنے سے خاندان کے چار افراد جاں بحق اور ایک نوعمر لڑکی شدید زخمی ہوئی۔ یہ زاویہ سمجھ میں آتا ہے — اس وقت ایک خاتون باورچی خانے میں کھانا پکا رہی تھیں اور گھر میں گیس سلنڈر موجود تھا — لیکن اب تک شائع شدہ شواہد پر یہ مصدقہ نہیں۔ ٹیرر مانیٹر کے مطابق ایک سینئر مقامی انتظامی افسر نے کہا کہ وجہ جاننا ابھی قبل از وقت ہے، اور خبردار کیا کہ دستیاب معلومات سے یہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ دھماکا گیس سلنڈر کی وجہ سے ہوا۔ باورچی خانے میں کھانا پکانا اور سلنڈر کی موجودگی جائے وقوعہ کی باتیں ہیں؛ ان سے وجہ تک کا قدم وہی ہے جس سے اس افسر نے خبردار کیا تھا۔
دوسرا ورژن خود ضلعی انتظامیہ کا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ممتاز کاظمی نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ پنڈی گاؤں کے گھر کے اندر دستی بم پھٹا جس سے چار خواتین جاں بحق اور ایک لڑکی زخمی ہوئی — یہ بات ٹیرر مانیٹر نے بھی کاظمی سے منسوب کر کے شائع کی۔ کشمیر گل نیوز نے بھی کاظمی کے حوالے سے کہا کہ گھر میں دستی بم کا واقعہ پیش آیا۔ کاظمی نے یہ بھی کہا کہ ابتدائی شبہ ہے کہ چھترہ ٹوپی کے علاقے میں گزشتہ چند دنوں سے دہشت گرد موجود تھے جو فائرنگ اور دستی بم استعمال کر رہے تھے، اور واقعے کی جامع تحقیقات جاری ہیں۔ یہاں بھی الفاظ پر غور کریں: دستی بم والی بات ڈپٹی کمشنر نے میڈیا کو بتائی ہے، اور دہشت گردوں کی موجودگی کو ابتدائی شبہ کہا گیا ہے، نتیجہ نہیں۔ دونوں میں سے کوئی بھی مکمل تحقیقات سے ثابت نہیں ہوا، اور پولیس بیان — وہ دستاویز جو آخرکار قانونی وزن رکھے گی — کسی بھی ورژن سے وابستہ نہیں، صرف یہ کہتا ہے کہ نوعیت اور وجہ کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔
تیسرا ورژن الزام ہے۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے کشمیر گل نیوز کو بتایا کہ یہ تصدیق نہیں ہوئی کہ یہ فورسز کا ڈرون حملہ تھا یا دستی بم کا حملہ، کہ علاقہ فورسز کے کنٹرول میں ہے، اور کہ اس گھر کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ علاقے میں جیمر کی وجہ سے موبائل سروس دستیاب نہیں، اور کہ زخمی لڑکی پہلے بھی مزاحمت کے دوران فورسز کی گولہ باری سے زخمی ہو چکی تھی۔ ٹیرر مانیٹر نے اسی تنازعے کا خلاصہ کرتے ہوئے صاف لکھا کہ جے اے اے سی کا الزام آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوا، اور حکام نے عوامی طور پر یہ تصدیق نہیں کی کہ دھماکا کسی سکیورٹی آپریشن کا نتیجہ تھا۔ ایک مقامی انتظامی افسر نے ٹیرر مانیٹر کو بتایا کہ جائے وقوعہ سے تقریباً تین کلومیٹر دور ایک چیک پوسٹ پر پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات تھے۔ الزام اور تردید اب اس واقعے کی ہر رپورٹ میں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، اور دونوں میں سے کسی کو دوسرے کے بغیر دہرانا درست نہیں۔
ایک شخص اس تنازعے کو حل کر سکتا ہے، اور وہ اسپتال میں ہے۔ زخمی لڑکی کو پہلے ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال باغ لے جایا گیا جہاں اس کی حالت سنبھالی گئی، پھر ڈپٹی کمشنر کے مطابق سی ٹی اسکین سمیت مزید تشخیص کے لیے مظفرآباد منتقل کر دیا گیا۔ ٹیرر مانیٹر کے مطابق سینئر انتظامی افسر نے کہا کہ مزید تفصیلات اس وقت سامنے آئیں گی جب زخمی لڑکی ہوش میں آ کر مزید معلومات دے سکے گی — یہ جملہ شواہد کی حالت کے بارے میں بھی اہم بات بتاتا ہے: پہلی رپورٹوں کے وقت تفتیش کاروں کے پاس گھر کے اندر کا کوئی براہ راست بیان نہیں تھا۔ اس کی طبی حالت، اسکین کے لیے منتقلی کے علاوہ، عوامی طور پر تفصیل سے نہیں بتائی گئی، اور کسی ادارے نے ابھی تک اس کا بیان شائع نہیں کیا۔ جب تک وہ بیان، یا کوئی فرانزک نتیجہ، سامنے نہیں آتا، وجہ کا ہر ورژن — گیس سلنڈر، دستی بم، یا جان بوجھ کر حملہ — ایک غیر مصدقہ دعویٰ ہی رہے گا، اور ذمہ دار رپورٹنگ کو اسے دعویٰ ہی لکھنا چاہیے۔
کشمیر انگلش کی رپورٹ کے مطابق باغ پولیس کا بیان صرف دھماکے تک محدود نہیں تھا۔ اس میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان کی طرف سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے کو مسترد کیا گیا، پھیلائی جانے والی باتوں کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا گیا، اور کہا گیا کہ واقعے میں ملوث پائے جانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ یہ تردید خود ریکارڈ کا حصہ ہے: یہ پولیس کا موقف ہے، اسی طور پر رپورٹ کیا گیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس رپورٹ میں جے اے اے سی کے دعوے کو الزام لکھا گیا ہے، نتیجہ نہیں۔ جے اے اے سی وہ احتجاجی تحریک ہے جو آزاد کشمیر میں معاشی ریلیف، سیاسی جوابدہی اور مقامی وسائل پر زیادہ کنٹرول کے لیے مہینوں سے احتجاج کر رہی ہے، اور اس کے دعوے اس کے حامیوں میں اس لیے وزن رکھتے ہیں کہ وہ اس کے اپنے چینلز سے آتے ہیں۔ لیکن کسی دعوے کا پھیلنا اس کی تصدیق نہیں، اور بچوں کی موت کے معاملے میں پھیلاؤ اور تصدیق کے درمیان یہ فرق وہ جگہ ہے جہاں غلط معلومات سب سے زیادہ نقصان کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس کہانی کا کوئی بھی پراعتماد ورژن — کسی بھی سمت میں — دیکھنے والوں کو وہی سوال پوچھنا چاہیے جو یہ رپورٹ پوچھتی ہے: کس نے تصدیق کی، اور کس ثبوت پر؟
یہ دھماکا کسی پرسکون ضلع میں نہیں ہوا۔ جنوبی باغ اور راولاکوٹ جے اے اے سی کے دھرنوں اور مظاہروں کا مرکز رہے ہیں، جو یکم نومبر کو ختم ہونے والے احتجاجی ہفتے کا حصہ ہیں، کشمیر ٹائمز کی وسیع تر بے چینی کی رپورٹنگ کے مطابق۔ پنڈی دھماکے سے چند دن پہلے، 25 اکتوبر کو جنوبی باغ میں کھلبٹ پولیس چوکی کے قریب فائرنگ میں چھ سالہ بچہ شایان اظہر جاں بحق ہوا تھا — یہ بھی ایک ایسا واقعہ جس کے بارے میں متضاد بیانات ہیں۔ جے اے اے سی کے عابد شاہین نے الزام لگایا کہ سکیورٹی اہلکار نہتے مظاہرین پر فائرنگ کر رہے تھے اور بچہ اسی آپریشن میں مارا گیا؛ ڈپٹی کمشنر کاظمی نے کہا کہ چترہ ٹوپی کے قریب جنگل میں تقریباً 100 مسلح افراد موجود تھے جنہوں نے پولیس چوکی پر فائرنگ کی، اور بچے کو مارنے والی گولی جنگل کی سمت سے آئی، پولیس چوکی کی سمت سے نہیں۔ کشمیر ٹائمز نے نوٹ کیا کہ متضاد بیانات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ یہ حل نہ ہونے والی موت وہ پس منظر ہے جس میں پنڈی دھماکے کو مقامی طور پر پڑھا جا رہا ہے: ایک برادری جو پہلے ہی ایک بچے کے غم میں ہے، پہلے ہی اس بات پر منقسم ہے کہ مہلک گولی کس نے چلائی، اب ایک خاندان کے چار افراد کا غم — اور جس فریق پر اسے پہلے ہی عدم اعتماد ہے اس کے بارے میں بدترین بات ماننے کے لیے تیار۔ یہی وجہ ہے کہ پنڈی کی پولیس تحقیقات ایک گاؤں سے آگے اہمیت رکھتی ہیں: اس کے نتائج ایسے ضلع میں آئیں گے جہاں سرکاری بیانات پر اعتماد پہلے ہی کم ہے، اور جہاں کوئی غیر حتمی نتیجہ شاید کسی کو مطمئن نہ کرے۔
دو سوالوں کو الگ کرنا ضروری ہے جنہیں سرخیوں نے ملا دیا ہے۔ پہلا یہ کہ کیا گیس سلنڈر اس طرح ایک خاندان کو مار سکتا ہے؟ جواب، افسوسناک طور پر، ہاں ہے: پاکستان میں گھریلو گیس دھماکے موت کی بار بار وجہ بنتے ہیں، جہاں مائع پٹرولیم گیس کے سلنڈر روزانہ باورچی خانوں میں استعمال ہوتے ہیں، اکثر پرانے ریگولیٹرز اور ربڑ کی ہوز کے ساتھ، کم ہوادار کمروں میں۔ پنڈی دھماکے سے صرف دو دن پہلے، سندھ کے تھرپارکر میں ایک ایمبولینس کے اندر آکسیجن سلنڈر پھٹنے سے کم از کم نو افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل تھیں — سلنڈر کی قسم مختلف، جگہ مختلف، لیکن وہی تلخ یاددہانی کہ دباؤ والی گیس اور بند جگہ ایک مہلک امتزاج ہیں۔ دوسرا سوال یہ کہ کیا گیس سلنڈر نے اس مخصوص دھماکے کو جنم دیا؟ اس سوال پر شائع شدہ شواہد ابھی جواب کی اجازت نہیں دیتے، اور جس ایک افسر نے اس پر براہ راست بات کی اس نے یہی کہا۔ عام حفاظتی مشورہ — ریگولیٹر اور ہوز چیک کرنا، سلنڈر سیدھا اور ہوادار رکھنا، گیس کی بو آنے پر ماچس نہ جلانا یا بتی نہ جلانا، اور سلنڈر غیر رسمی طور پر بھروانے کے بجائے معائنہ کروانا — کسی بھی ہفتے دہرانے کے قابل ہے جب سلنڈر کا شبہ بھی ہو۔ لیکن مشورہ ثبوت نہیں، اور گیس سلنڈر حادثات کی مانوسیت کو پنڈی کے لیے شبہے کو فیصلے میں بدلنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
تفتیش کار جب اپنا کام مکمل کریں گے تو ان کے پاس کئی طرح کے شواہد ہوں گے جو خبروں میں نہیں: سلنڈر اور اس کی فٹنگ کی حالت، کمرے کو پہنچنے والے نقصان کا نمونہ، جائے وقوعہ سے ملنے والی کوئی باقیات یا ٹکڑے، اور مرنے والوں اور زندہ بچ جانے والی لڑکی پر طبی نتائج۔ گیس دھماکے اور دستی بم کے دھماکے کے نشانات مختلف ہوتے ہیں، اور فرانزک معائنہ انہیں الگ کرنے کے لیے ہی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے دن کی کوریج کا سب سے زیادہ معلوماتی جملہ شاید سب سے کم ڈرامائی جملہ ہو — پولیس بیان کا یہ وعدہ کہ نوعیت اور وجہ جاننے کے لیے تحقیقات ہوں گی۔ مرنے والوں کے خاندان، اور عوام، اس نتیجے کے حقدار ہیں، تیز ترین سرخی کے نہیں۔
اب چار چیزیں منتظر ہیں۔ پہلی، زخمی لڑکی کی حالت اور، جب وہ قابل ہو، اس شام کا اس کا بیان — گھر کے اندر سے واحد براہ راست گواہی۔ دوسری، پولیس تحقیقات کے نتائج، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ ڈپٹی کمشنر کا دستی بم والا بیان یا گیس سلنڈر والا بیان فرانزک معائنے میں قائم رہتا ہے یا نہیں۔ تیسری، ضلعی سطح سے آگے آزاد کشمیر حکومت کا کوئی ردعمل؛ اب تک عوامی ریکارڈ ضلعی پولیس بیان اور ڈپٹی کمشنر کی میڈیا بریفنگ پر مشتمل ہے، اور مظفرآباد سے کسی بیان کی رپورٹ نہیں ہوئی۔ چوتھی، پنڈی اور وسیع تر ضلع باغ میں ردعمل، جہاں ایک احتجاجی تحریک پہلے ہی متحرک ہے اور جہاں اگلے چند دن — یکم نومبر کو احتجاجی ہفتے کا اختتام — یہ آزمائیں گے کہ غم مزید تصادم میں بدلتا ہے یا نہیں۔ تازہ پلس تصدیق شدہ تفصیلات آتے ہی یہ رپورٹ اپ ڈیٹ کرے گا، اور اگر یہاں کی کوئی تفصیل تحقیقات سے بدل جائے تو اس کی تصحیح کرے گا۔ جو بات نہیں بدلے گی وہ یہاں اپنایا گیا معیار ہے: پولیس سے مصدقہ اور کئی اداروں سے رپورٹ شدہ ہلاکتوں کی تعداد ایک حقیقت ہے؛ ایک وجہ جس کے بارے میں پولیس خود کہے کہ تحقیقات جاری ہیں، وہ حقیقت نہیں، اور کوئی سرخی — بشمول وہ سرخی جس نے پہلی بار اس کہانی کو قومی توجہ دلائی — اسے قبل از وقت طے نہیں کرنی چاہیے۔
ضلعی پولیس کے بیان کے مطابق، جو کشمیر انگلش نے رپورٹ کیا، جمعرات 29 اکتوبر 2026 کو شام تقریباً 7 بجے باغ ضلع کے دھیرکوٹ علاقے کے پنڈی گاؤں میں شکدر کے گھر میں دھماکا ہوا۔ پولیس کے مطابق دو خواتین، ایک کمسن لڑکا اور ایک لڑکی جاں بحق ہوئے، اور ایک نوعمر لڑکی زخمی ہو کر ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال باغ منتقل کی گئی۔ کشمیر گل نیوز نے وقت شام 7 سے 8 بجے کے درمیان بتایا ہے اور کہا ہے کہ چاروں افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت اور وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
کشمیر گل نیوز نے چاروں کو ایک ہی گھر کے افراد بتایا ہے: شازیہ شفقت، شفقت کی اہلیہ، عمر تقریباً 40 سے 42 سال؛ شفقت کی والدہ، عمر تقریباً 80 سال؛ حارس شفقت، بیٹا، عمر تقریباً 11 سال؛ اور ملائکہ شفقت، بیٹی، عمر تقریباً 8 سال۔ پولیس کے بیان میں مرنے والوں کے نام نہیں دیے گئے، صرف یہ بتایا گیا کہ دو خواتین اور دو بچے تھے۔ یہ بھی نوٹ کریں کہ پولیس بیان میں خاندان کا نام شکدر لکھا گیا ہے جبکہ کشمیر گل نیوز میں شفقت — اس رپورٹ میں ہر تفصیل اس کے ذریعے کے ساتھ دی گئی ہے، بغیر کسی ایک کو خاموشی سے چنے۔
پولیس کے مطابق زخمی لڑکی کی شناخت عنیقہ شکدر، عمر 15 سال کے طور پر ہوئی ہے؛ کشمیر گل نیوز نے اس کا نام عنیقہ شفقت اور عمر تقریباً 17 سے 18 سال بتائی ہے۔ اسے پہلے ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال باغ لے جایا گیا جہاں اس کی حالت سنبھالی گئی، پھر ڈپٹی کمشنر ممتاز کاظمی کے مطابق سی ٹی اسکین سمیت مزید تشخیص کے لیے مظفرآباد منتقل کر دیا گیا۔ ایک سینئر انتظامی افسر نے کہا کہ مزید تفصیلات اس وقت سامنے آئیں گی جب زخمی لڑکی ہوش میں آ کر گھر کے اندر کی صورتحال بتا سکے گی۔
یہ بات ابھی ثابت نہیں ہوئی۔ اے آر وائی نیوز نے اس واقعے کو گھر میں گیس سلنڈر پھٹنے کی خبر کے طور پر پیش کیا، اور ٹریبیون انٹرنیشنل نے بھی یہی زاویہ اختیار کیا۔ لیکن ٹیرر مانیٹر کے مطابق ایک سینئر مقامی انتظامی افسر نے کہا کہ وجہ جاننا ابھی قبل از وقت ہے، اور دستیاب معلومات سے یہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ دھماکا گیس سلنڈر کی وجہ سے ہوا — حالانکہ اس وقت ایک خاتون باورچی خانے میں کھانا پکا رہی تھیں اور گھر میں گیس سلنڈر موجود تھا۔ پولیس تحقیقات کی رپورٹ آنے تک گیس سلنڈر کو ایک غیر مصدقہ امکان ہی سمجھنا چاہیے، حتمی وجہ نہیں۔
دونوں کی رائے ابھی ایک نہیں، اور پولیس بیان کسی ایک رائے سے وابستہ نہیں۔ ڈپٹی کمشنر ممتاز کاظمی نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ گھر کے اندر دستی بم پھٹا تھا، اور ابتدائی شبہ ظاہر کیا کہ چھترہ ٹوپی کے علاقے میں گزشتہ چند دنوں سے دہشت گرد موجود تھے جو فائرنگ اور دستی بم استعمال کر رہے تھے۔ ضلعی پولیس کا بیان، جو کشمیر انگلش نے رپورٹ کیا، صرف یہ کہتا ہے کہ دھماکے کی نوعیت اور وجہ جاننے کے لیے تحقیقات ہو رہی ہیں، اور ملوث پائے جانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ دستی بم والی بات اس لیے ڈپٹی کمشنر کی بات ہے، مکمل تحقیق کا نتیجہ نہیں۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے الزام لگایا کہ فورسز نے اس گھر کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا، اگرچہ انہوں نے خود تسلیم کیا کہ یہ تصدیق نہیں ہوئی کہ یہ ڈرون حملہ تھا یا دستی بم کا حملہ۔ یہ الزام آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوا، اور باغ پولیس نے سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے جے اے اے سی کے دعووں کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے کر مسترد کر دیا۔ آگے کا دارومدار تحقیقات پر ہے: زخمی لڑکی کا بیان، جائے وقوعہ کا فرانزک معائنہ، اور پولیس کا باقاعدہ نتیجہ۔ تصدیق شدہ تفصیلات آتے ہی تازہ پلس یہ رپورٹ اپ ڈیٹ کرے گا۔
انگریزی میں مکمل رپورٹ | سیاست کی خبریں | اردو ہوم پیج