راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر وکیل ہادی علی چٹھہ کو سیکیورٹی رکاوٹوں کے مقدمے میں 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ فیصلہ جمعرات 29 اکتوبر کو اڈیالہ جیل میں سنایا گیا، جہاں اس مقدمے کی سماعت ہوئی تھی۔ عدالت نے دونوں پر جرمانے بھی عائد کیے ہیں، اور تینوں دفعات کی سزائیں بیک وقت چلنے کا حکم دیا ہے — اس لیے عملی طور پر ہر ایک کو دس سال قید کاٹنی ہوگی، جس میں پہلے گزاری گئی حراست کا وقت بھی شامل ہوگا۔
یہ فیصلہ اس کہانی کا تازہ ترین اور سب سے بڑا موڑ ہے جو تقریباً دو سال سے چل رہی ہے: دو الگ مقدمے، سوشل میڈیا کیس میں 17 سال کی سزا، سپریم کورٹ سے معطلی، ضمانت ملنے کے چند گھنٹوں بعد دوبارہ گرفتاری، اور پھر وہ درخواستیں جو اعلیٰ عدالتوں میں زیر التوا تھیں مگر فیصلہ پھر بھی آ گیا۔ مقدمہ اکتوبر 2024 کا ہے — الزام یہ کہ ملزمان نے غیر ملکی کرکٹ ٹیم کے دورے کے دوران سیکیورٹی رکاوٹیں ہٹائیں اور سرکاری کام میں مداخلت کی۔ دفاع نے شروع سے استغاثہ کے مقدمے کو چیلنج کیا ہے، اور ملزمان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ان کے انسانی حقوق کے کام کا بدلہ ہیں۔
عدالتی حکم کے مطابق انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ہر ایک کو 10 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوا۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 353 — سرکاری ملازم کو فرض کی ادائیگی سے روکنے کے لیے حملہ یا مجرمانہ طاقت — کے تحت 2 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ، اور دفعہ 186 — سرکاری ملازم کے کام میں رکاوٹ — کے تحت ایک سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ ہوا۔ تینوں کو جوڑیں تو 13 سال بنتے ہیں، مگر عدالت نے سزائیں بیک وقت چلانے کا حکم دیا ہے، اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382۔بی کے تحت پہلے گزاری گئی حراست کا فائدہ بھی دیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ دونوں کو 10، 10 سال قید ہوگی۔
فیصلہ سناتے ہوئے جج نے بتایا کہ استغاثہ نے سات گواہ پیش کیے۔ ملزمان پر 7 اکتوبر کو فرد جرم عائد ہوئی تھی، مقدمہ 25 اکتوبر 2024 کو اسلام آباد کے آبپارہ تھانے میں درج ہوا تھا، اور دفاع کی نمائندگی کے لیے سرکاری وکیل مقرر کیا گیا تھا جس نے گواہوں پر جرح کی۔ فرد جرم سے فیصلے تک کا سفر چند ہفتوں میں طے ہوا — اور یہی تیزی دفاع کے اعتراضات کا مرکز رہی ہے۔
فیصلے سے پہلے ملزمان کے وکیل ایمل مندوخیل نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں ان کی درخواستیں ابھی زیر التوا ہیں، اس لیے فیصلہ اس وقت تک نہ سنایا جائے جب تک وہ درخواستیں طے نہ ہو جائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالت قانونی طور پر اس وقت فیصلہ نہیں سنا سکتی جب درخواستیں زیر غور ہوں، اور مقدمے کی منتقلی کی درخواست بھی ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔
پس منظر یہ ہے کہ دفاع نے انسداد دہشت گردی عدالت کے مختلف احکامات کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، آئین کے آرٹیکل 10۔اے کے تحت منصفانہ ٹرائل کا حق مانگا تھا، اور مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات نکالنے کی درخواست بھی کی تھی۔ ہائی کورٹ نے کارروائی پر حکم امتناع جاری نہیں کیا، اور سپریم کورٹ میں متعلقہ اپیلیں وقت پر سماعت کے لیے مقرر نہ ہو سکیں۔ فیصلے سے چند دن پہلے ملزمان نے ہائی کورٹ کے 19 اکتوبر کے حکم — جس میں عبوری ریلیف سے انکار کیا گیا تھا — کو سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کیا تھا۔ مگر ان میں سے کسی اقدام نے فیصلہ نہیں روکا۔ اب جب ٹرائل کا فیصلہ آ چکا ہے، تو وہ درخواستیں جو ٹرائل روکنے کے لیے تھیں، عملاً بے اثر ہو گئی ہیں — اب راستہ اپیل کا ہے۔
ایک اور نکتہ جو اپیل میں اٹھنے کا امکان ہے، وہ جیل ٹرائل کے حالات ہیں: رپورٹوں کے مطابق جیل ٹرائل کے دوران میڈیا اور عوام کو اندر آنے کی اجازت نہیں تھی، جس پر قانونی حلقوں اور فریقین کی طرف سے تشویش ظاہر کی گئی۔ جیل ٹرائل پاکستان میں بعض حالات میں جائز ہے، مگر معروف ملزمان کے مقدمے میں عوام اور صحافیوں کی عدم موجودگی ایک حساس معاملہ ہے، اور دفاع کے منصفانہ ٹرائل کے دلائل جزوی طور پر اسی نکتے پر کھڑے تھے۔
اس فیصلے کو سمجھنے کے لیے دوسرے مقدمے سے فرق کرنا ضروری ہے۔ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ 23 جنوری سے حراست میں ہیں، جب انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔ اگلے ہی دن، 24 جنوری کو، سیشن عدالت نے سوشل میڈیا پوسٹوں کے مقدمے میں پیکا کے تحت دونوں کو 17 سال کی سزا سنائی تھی۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ وہ پوسٹیں ریاست مخالف بیانیہ پھیلا رہی تھیں۔
وہ سزا قائم نہ رہ سکی۔ 17 ستمبر کو سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا کیس کی سزائیں معطل کر دیں اور ہر ایک کو دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں پر ضمانت دے دی — مگر چند گھنٹوں کے اندر اسلام آباد پولیس نے رکاوٹوں والے مقدمے میں انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا اور انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کر دیا۔ تب سے وہ اسی مقدمے میں حراست میں تھے، اور اب اسی مقدمے میں 10 سال کی سزا آ گئی ہے۔ یعنی دونوں سزائیں ایک ساتھ نہیں چل رہیں: سوشل میڈیا کیس معطل اور زیر التوا ہے، اور رکاوٹوں کا کیس اب طے ہو چکا ہے۔
یہ ترتیب ہی ملزمان کے اس دعوے کی بنیاد ہے کہ ان کے خلاف کارروائیاں باہم جڑی ہوئی اور انتقامی ہیں — ایک دعویٰ جسے ریاست نے تسلیم نہیں کیا اور عدالتوں نے بھی اس کی توثیق نہیں کی۔ مگر ریکارڈ یہ ضرور دکھاتا ہے کہ گرفتاری، سزا، معطلی، ضمانت، دوبارہ گرفتاری، فرد جرم اور فیصلہ — یہ سب دس مہینوں کے اندر ہوا۔ ایمان مزاری نے دفعہ 342 کے تحت اپنے بیان میں یہ بھی الزام لگایا تھا کہ سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے باوجود انہیں اڈیالہ جیل میں تشدد کے بعد دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ یہ الزام کارروائی کا حصہ ہے، اور فیصلے کے بعد کی بحث میں بھی زندہ رہے گا، اگرچہ اس نے فیصلہ نہیں روکا۔
سب سے پہلا قدم اپیل ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے، اور ملزمان کی قانونی ٹیم پہلے ہی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں بار بار گئی ہے، اس لیے توقع ہے کہ وہ ہر دستیاب فورم پر لڑے گی۔ اپیل میں وہی نکات پھر اٹھیں گے: رکاوٹوں کے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات، فرد جرم، سرکاری وکیل کی تقرری، جیل ٹرائل کے حالات، اور عبوری ریلیف سے انکار۔
حراست کا سوال بھی ہے۔ ملزمان جنوری سے حراست میں ہیں، ستمبر میں سپریم کورٹ کی ضمانت کا وقفہ اسی دن دوبارہ گرفتاری پر ختم ہو گیا تھا۔ دفعہ 382۔بی کا فائدہ یہ ہے کہ اس مقدمے میں پہلے گزارا گیا وقت سزا میں شمار ہوگا۔ مگر عملی نتیجہ یہ ہے کہ جب تک اپیل میں سزا معطل نہ ہو یا ضمانت نہ ملے، وہ جیل میں ہی رہیں گے۔
عدالت سے باہر، یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب وکیلوں، صحافیوں اور کارکنوں کے لیے جگہ پہلے ہی شدید بحث کا موضوع ہے۔ چند دن پہلے ایک سینئر ہائی کورٹ جج نے عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے استعفیٰ دیا، اور خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی و گورنر راج کے سائے میں سابق وزیراعلیٰ بھی حراست میں ہیں اور اپنے مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی معاملہ قانونی طور پر اس فیصلے سے جڑا ہوا نہیں، مگر یہ سب مل کر وہ پس منظر بناتے ہیں جس میں اس فیصلے کو پڑھا جائے گا — اور جس میں اپیل کو دیکھا جائے گا۔
فی الحال حقائق یہ ہیں: راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے اڈیالہ جیل میں بیٹھ کر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سیکیورٹی رکاوٹوں کے مقدمے میں 10، 10 سال قید اور جرمانوں کی سزا سنائی ہے، سزائیں بیک وقت چلیں گی۔ دفاع نے فیصلہ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی جب تک اعلیٰ عدالتیں ان کی درخواستیں طے نہ کریں؛ عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔ ملزمان کا کہنا ہے کہ مقدمے انتقامی ہیں۔ استغاثہ کا مقدمہ، سات گواہوں پر کھڑا، ٹرائل میں کامیاب ہوا۔ آخری بات اب اپیل کی ہوگی — اور وہی حتمی فیصلہ ہوگا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے جمعرات 29 اکتوبر 2026 کو اڈیالہ جیل راولپنڈی میں فیصلہ سنایا، جہاں مقدمے کی سماعت ہوئی تھی۔ استغاثہ نے مقدمے میں سات گواہ پیش کیے تھے۔
انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ہر ایک کو 10 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ؛ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 353 کے تحت 2 سال اور 50 ہزار روپے؛ دفعہ 186 کے تحت ایک سال اور 50 ہزار روپے۔ سزائیں بیک وقت چلیں گی، اس لیے عملی طور پر ہر ایک کو 10 سال قید ہوگی، اور پہلے گزاری گئی حراست کا فائدہ بھی ملے گا۔
25 اکتوبر 2024 کو آبپارہ تھانے میں درج مقدمہ — الزام یہ تھا کہ ملزمان نے غیر ملکی کرکٹ ٹیم کے دورے کے دوران سیکیورٹی رکاوٹیں ہٹا کر سرکاری امور میں مداخلت کی۔ 7 اکتوبر کو فرد جرم عائد ہوئی تھی۔
نہیں۔ جنوری میں سوشل میڈیا پوسٹوں کے مقدمے میں 17 سال کی سزا ہوئی تھی، جسے سپریم کورٹ نے 17 ستمبر کو معطل کر کے ضمانت دی تھی — مگر اسی دن پولیس نے رکاوٹوں والے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا۔ اب اسی دوسرے مقدمے کا فیصلہ آیا ہے؛ پہلا مقدمہ معطل اور زیر التوا ہے۔
فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل ہو سکتی ہے، جہاں دفاع دہشت گردی کی دفعات، فرد جرم، جیل ٹرائل کے حالات اور عبوری ریلیف سے انکار کے نکات اٹھائے گا۔ جب تک اپیل میں سزا معطل نہ ہو یا ضمانت نہ ملے، ملزمان حراست میں رہیں گے۔