TaazaPulse — UrduRead in English
سیاست — بڑی خبر

خیبر پختونخوا میں گورنر راج: منتخب حکومت معطل، وزیراعلیٰ حراست میں

تازہ پلس نیوز ڈیسک | 29 اکتوبر 2026
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس

خیبر پختونخوا آج کل گورنر ہاؤس سے چلایا جا رہا ہے۔ 11 اکتوبر کو صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کی ایڈوائس پر صوبے میں ایمرجنسی نافذ کر کے گورنر راج لگا دیا۔ منتخب پی ٹی آئی حکومت معطل ہو گئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو حراست میں لے لیا گیا، اور اسی دن فوج صوبے میں تعینات کر دی گئی۔ تین ہفتے گزرنے کے باوجود معاملہ ٹھنڈا نہیں پڑا — عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جا چکا ہے، پارلیمان میں فیصلہ باقی ہے، اور اس ہفتے مولانا فضل الرحمن بھی اس لڑائی میں کھل کر اتر آئے ہیں۔

کہانی یہاں تک کیسے پہنچی؟

ٹکراؤ مہینوں سے پک رہا تھا۔ پی ٹی آئی — جو مسلسل تیرہ برس سے صوبے میں برسراقتدار ہے — وفاقی حکومت سے اپنے بانی عمران خان کی رہائی اور قید کی شرائط پر بات چیت کر رہی تھی۔ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ مذاکرات ناکام ہوئے تو پارٹی نے اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کر دیا۔ مارچ پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، مذاکرات کی خاطر 4 اکتوبر تک ملتوی ہوا، اور پھر ہزاروں کارکن صوبے سے دارالحکومت کی طرف چل پڑے۔ اسلام آباد کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا، وزیراعظم نے کابینہ کا ہنگامی اجلاس بلایا، اور 11 اکتوبر کو صدر کا اعلان سامنے آ گیا۔

پشاور کی ایک مصروف گلی

حکومت کا مؤقف: دہشت گردی اور 'جان بوجھ کر لاتعلقی'

وزیراعظم آفس کے مطابق یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ سے "جان بوجھ کر الگ" رہی۔ صدارتی اعلامیے میں دہشت گردی کی اس غیر معمولی لہر کا حوالہ دیا گیا جو شہریوں کی جان و مال کے لیے خطرہ بن چکی تھی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ گورنر ایک مشاورتی کونسل کے ساتھ صوبہ چلائیں گے اور یہ بندوبست ابتدائی طور پر چھ ماہ کے لیے ہے۔ وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق ہنگامی اقدامات صرف نامزد علاقوں تک محدود ہیں — حزب اختلاف کے مطابق یہ بارہ اضلاع ہیں۔ حکومت نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کا سہارا لیا ہے۔

حراست اور احتجاج

اس سارے عمل کا سب سے غیر معمولی پہلو منتخب وزیراعلیٰ کی حراست ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق سہیل آفریدی کو 12 اکتوبر کو حراست میں لیا گیا؛ ان کے ساتھ پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی بھی گرفتار ہوئے۔ ایک سینئر پی ٹی آئی رہنما کا کہنا ہے کہ حکومت آفریدی کو "حفاظتی حراست" میں قرار تو دیتی ہے مگر انہیں عدالت میں پیش کرنے پر تیار نہیں۔ کمیشن نے منتخب وزیراعلیٰ کی حراست کو جمہوری اقدار کی سنگین توہین قرار دے کر تمام غیر قانونی حراستوں کی فوری رہائی، ایمرجنسی کے خاتمے اور صوبائی اسمبلی کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ پشاور، سوات اور خیر میں کارکنوں کے گھروں پر چھاپوں اور پنجاب میں خواتین کارکنوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات پر بھی کمیشن نے تشویش ظاہر کی ہے۔

ایک تاریخی عدالت کی عمارت

فضل الرحمن میدان میں — اور آگے کا راستہ

28 اکتوبر کو جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے حکومت پر آئین کے غلط استعمال کا الزام لگایا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ثالثی کی کوشش کی تھی، مگر وزیراعظم سے ملاقات کے بعد نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے انہیں بتایا کہ کابینہ نے سمجھوتا مسترد کر کے گورنر راج ہی پر اصرار کیا ہے۔ انہوں نے نیا میثاق جمہوریت تجویز کیا اور کہا کہ ان کی جماعت وفاقی جبر کے سامنے جھکنے کے بجائے سیاسی مزاحمت کرے گی۔ حکومت کی طرف سے طارق فضل چوہدری نے جواب دیا کہ برطرف وزیراعلیٰ صوبائی وسائل اسلام آباد پر چڑھائی کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

اب تین راستے فیصلہ کن ہیں: پارلیمان، جہاں اعلان کی منظوری درکار ہے؛ پشاور ہائی کورٹ، جہاں اعلان کی آئینی حیثیت چیلنج ہے؛ اور خود صوبے کی سیاست — جہاں الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کی تیاری کا حکم دیا ہے اور ایمرجنسی والے 12 اضلاع فی الحال اس سے باہر رکھے ہیں۔ گورنر کنڈی حکومت بھی شروع کر چکے ہیں: عہدہ سنبھالنے کے چھ دن بعد انہوں نے صوبے کے معدنی وسائل — لکی مروت، ٹانک اور بنوں سمیت — نکالنے اور بیچنے اور تیل و گیس کے لیے مشترکہ منصوبوں کا اعلان کیا۔ پانچ کروڑ آبادی کے صوبے کا اگلا باب عدالت، ایوان یا سڑک — کس میں لکھا جائے گا، یہی اب سب سے بڑا سوال ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کیوں لگایا گیا؟

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ سے جان بوجھ کر الگ رہی اور صوبے میں دہشت گردی کی غیر معمولی لہر شہریوں کی جان و مال کے لیے خطرہ بن گئی تھی۔ اسی بنیاد پر صدر نے ایمرجنسی اور گورنر راج کا اعلان کیا۔

اس وقت صوبہ کون چلا رہا ہے؟

معاملات گورنر فیصل کریم کنڈی کے پاس ہیں۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق گورنر ایک مشاورتی کونسل کے ساتھ صوبہ چلائیں گے، اور یہ بندوبست ابتدائی طور پر چھ ماہ کے لیے ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کہاں ہیں؟

انہیں ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ ہی حراست میں لے لیا گیا۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور حکومت انہیں حفاظتی حراست قرار دیتی ہے۔

پی ٹی آئی کا ردعمل کیا ہے؟

چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ایمرجنسی اور گورنر راج کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام کا بہانہ قرار دیا ہے، اور معاملہ پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

آئین کے تحت ایمرجنسی کا اعلان پارلیمان کے سامنے رکھنا ضروری ہے، اس لیے آخری فیصلہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کا ہوگا۔ دوسری طرف ہائی کورٹ میں قانونی چیلنج بھی زیر سماعت ہے۔

مزید پڑھیں

انگریزی میں مکمل رپورٹ  |  سیاست کی مزید خبریں  |  اردو ہوم پیج