وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جمعرات 29 اکتوبر 2026 کو لاہور جنرل اسپتال میں صوبے کے اسٹروک کارڈ پروگرام کا افتتاح کر دیا اور تقریب میں پہلے کارڈ تقسیم کیے۔ تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کسی اسٹروک مریض کا علاج اس لیے نہیں رکنا چاہیے کہ خاندان کے پاس پیسے نہیں — یہی جملہ اس پورے پروگرام کی روح ہے۔ اسٹروک کا علاج وقت کا کھیل ہے: دوا وقت پر مل جائے تو جان بچ جاتی ہے، دیر ہو جائے تو دماغ کا وہ حصہ واپس نہیں آتا۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کی خدمت ایک بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اور اس عہدے پر ہونا ان کے لیے نعمت اور اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں اسٹروک اور اس کی علامات کے بارے میں آگاہی ابھی کم ہے، اور حکومت نے مریضوں کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔ ایک نوجوان مریض کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بروقت انجکشن ملنے سے اس کی جان بچ گئی — رپورٹنگ میں اس مریض کا نام یا مزید طبی تفصیل نہیں دی گئی، اور ہم بھی اس میں کچھ اضافہ نہیں کر رہے۔ لیکن کہانی کی شکل ہی اسٹروک کی طب کی شکل ہے: اچانک واقعہ، بروقت انجکشن، اور ایک زندگی جو جاری رہی۔
تقریب میں بتائے گئے ٹھوس اعداد سینٹرز کے نیٹ ورک سے متعلق تھے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق پنجاب میں 40 پرائمری اسٹروک سینٹرز 23 اضلاع میں کام کر رہے ہیں اور 15 مزید سینٹرز بن رہے ہیں۔ اسٹروک سینٹر وہ اسپتال یونٹ ہوتا ہے جو مشتبہ اسٹروک کی فوری جانچ، دماغ کا اسکین، وقت پر علاج اور پھر نگرانی و بحالی کی سہولت رکھتا ہے۔ 23 اضلاع میں 40 سینٹرز کا مطلب یہ بھی ہے کہ ابھی ہر ضلع میں سینٹر نہیں — پنجاب کے 41 اضلاع ہیں — اس لیے نئے 15 سینٹرز کن اضلاع میں بنیں گے، یہ آنے والے مہینوں کا اہم سوال ہے۔
وزیراعلیٰ نے اسٹروک کے انجکشن کی قیمت تقریباً 3 لاکھ روپے بتائی — ایک ایسی رقم جو کم آمدنی والے خاندان کے لیے بروقت علاج کو ناممکن بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف مشورہ کافی نہیں، کارڈ کی ضرورت پڑی: علاج کے وقت پیسے کی رکاوٹ ختم ہو تو مریض کے بچنے اور صحت یاب ہونے کا امکان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے کسی مریض کا علاج رکنا نہیں چاہیے۔
اسٹروک دماغ کو خون کی فراہمی میں اچانک رکاوٹ ہے۔ ایک قسم میں لوتھڑا شریان بند کر دیتا ہے، دوسری میں رگ پھٹ جاتی ہے اور دماغ میں خون بہنے لگتا ہے۔ دونوں صورتوں میں دماغی خلیے منٹوں میں مرنے لگتے ہیں۔ اسی لیے ڈاکٹر 'سنہری وقت' کی بات کرتے ہیں: لوتھڑا ختم کرنے والے علاج کے لیے یہ وقت عام طور پر علامات شروع ہونے کے ساڑھے چار گھنٹے تک ہوتا ہے، اور اس کے اندر بچایا گیا ہر منٹ دماغ بچاتا ہے۔
علامات پہچاننے والا پہلا شخص اکثر ڈاکٹر نہیں ہوتا — گھر والا، ساتھی یا خود مریض ہوتا ہے۔ FAST کا طریقہ مشہور علامات بتاتا ہے: چہرے کا ایک طرف جھک جانا، بازو کی کمزوری یا سن ہونا، بولنے میں دشواری، اور وقت — ان میں سے کوئی علامت نظر آئے تو فوراً ایمرجنسی کال کریں اور علامات شروع ہونے کا وقت نوٹ کریں، کیونکہ یہی وقت طے کرتا ہے کہ کون سا علاج ابھی ممکن ہے۔ اچانک شدید سر درد، ایک یا دونوں آنکھوں میں دیکھنے میں دشواری، اچانک چکر یا توازن کھو دینا، اور اچانک الجھن بھی فوری توجہ کی علامات ہیں۔
تقریب میں اسٹروک پروگرام کو صحت کے بڑے منصوبوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ لاہور میں دنیا کا سب سے بڑا کینسر اسپتال زیر تعمیر ہے اور جلد فعال ہو جائے گا، ہر ڈویژن میں کینسر سینٹرز بن رہے ہیں، 20 اضلاع میں دل کے کیتھ لیبز تیار ہو رہے ہیں، اور سرگودھا میں نواز شریف اسپتال بن چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک برس میں سرکاری اسپتالوں میں 10 کروڑ افراد کا علاج ہوا، 10 کروڑ افراد کو مفت ادویات ملیں، اور 16 ہزار بچوں کی دل کی سرجری ہوئی۔ یہ وزیراعلیٰ کے دعوے ہیں، تازہ پلس نے ان کی آزاد تصدیق نہیں کی — انہیں اسی حیثیت سے پڑھا جائے۔
ایک بات ایمانداری سے کہنی ضروری ہے: لانچ کی رپورٹنگ میں کارڈ کی عملی تفصیل ابھی موجود نہیں۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ کارڈ کس کو ملے گا، کہاں سے ملے گا، کون سے اسپتال اسے قبول کریں گے، اور انجکشن، اسکین، داخلہ اور بحالی میں سے کیا کیا اس میں شامل ہے۔ اسپتال کے انکار پر شکایت کہاں ہوگی، یہ بھی واضح نہیں۔ یہ تفصیلات ہی طے کریں گی کہ پروگرام کامیاب ہوتا ہے یا صرف اعلان رہ جاتا ہے۔ پاکستان میں ہیلتھ کارڈز کا ماضی ملا جلا رہا ہے — سہولت بھی ملی، اور اسپتالوں کی فہرست، کلیمز اور فنڈنگ پر سوالات بھی اٹھے۔ اس لیے شائع شدہ قواعد، سینٹرز کی ضلعی فہرست اور شکایت کا طریقہ جلد سامنے آنا ضروری ہے۔
سیاسی طور پر بھی یہ لانچ اہم ہے۔ صحت کے پروگرام حکومت کا سب سے نظر آنے والا کام ہوتے ہیں: خاندان کے ہاتھ میں کارڈ بجٹ تقریر سے زیادہ ٹھوس ہوتا ہے۔ مریم نواز — پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ — نے صحت کو اپنی حکومت کی نمایاں ترجیح بنایا ہے، اور اسٹروک کارڈ کسان کارڈ جیسے کارڈ پر مبنی منصوبوں کی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ لیکن یہ نمایاں ہونا دو دھاری تلوار ہے: کارڈ چل گیا تو یہی اس کی تشہیر ہے، اسپتال کے کاؤنٹر پر رک گیا تو یہی اس کا سکینڈل بنے گا۔ فیصلہ مریضوں اور ان کے خاندانوں کے تجربے سے ہوگا، نہ کسی فریق کی تشہیر سے۔
اس لیے اس لانچ کو پروگرام کا آغاز سمجھا جائے، تکمیل نہیں۔ سینٹرز موجود ہیں، کارڈ موجود ہے، اور وزیراعلیٰ کا وعدہ — فنڈز کی کمی سے علاج نہیں رکے گا — ریکارڈ پر ہے۔ اب باری مشینری کی ہے: اہلیت، اسپتالوں کی فہرست، ادائیگی، اور 15 نئے سینٹرز۔ ان میں سے ہر پیش رفت پر تازہ پلس رپورٹ کرے گا۔ آج کی خبر یہ ہے کہ پنجاب کے پاس اسٹروک کارڈ ہے، وہ لاہور جنرل اسپتال میں لانچ ہوا، اور صوبے کی وزیراعلیٰ نے عوام کے سامنے یہ وعدہ اپنے نام سے جوڑ دیا ہے۔
فوراً ایمرجنسی سروس کو کال کریں اور علامات شروع ہونے کا صحیح وقت نوٹ کریں۔ علامات گزرنے کا انتظار نہ کریں، مریض کو منہ سے کھانا پینا یا دوا نہ دیں، اور اگر ایمبولینس دستیاب ہو تو خود گاڑی چلانے کے بجائے اسی سے جائیں — پیرامیڈکس اسپتال کو پہلے اطلاع دے دیتے ہیں تاکہ اسٹروک ٹیم تیار ہو۔ مریض کو لیٹا کر رکھیں، ہوش میں ہو تو سر تھوڑا اونچا رکھیں، اور اسے اکیلا نہ چھوڑیں۔ دواؤں کی فہرست، کارڈ اور شناختی کارڈ ساتھ لے جائیں۔ علامات اور علاج کے درمیان ہر منٹ دماغ بچاتا ہے یا ضائع کرتا ہے — اور یہی وہ حقیقت ہے جس پر پورا پروگرام کھڑا ہے یا گرے گا۔
اس رپورٹ کا ماخذ: لاہور جنرل اسپتال کی تقریب کی 365 نیوز اور کیپیٹل نیوز پوائنٹ کی کوریج، اور وزیراعلیٰ کے خطاب کی اے آر وائی نیوز، ایکسپریس نیوز، پبلک نیوز اور وقت نیوز کی کوریج۔
اسٹروک کارڈ پنجاب حکومت کا پروگرام ہے جسے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے جمعرات 29 اکتوبر 2026 کو لاہور جنرل اسپتال میں لانچ کیا اور تقریب میں پہلے کارڈ تقسیم کیے۔ اب تک کی رپورٹنگ میں کارڈ کی تفصیلی شرائط اور اخراجات کی مکمل فہرست شائع نہیں ہوئی — یہ تفصیلات سرکاری طور پر آتے ہی رپورٹ کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ کے مطابق 40 پرائمری اسٹروک سینٹرز 23 اضلاع میں کام کر رہے ہیں اور 15 مزید سینٹرز زیر تعمیر ہیں۔ پنجاب کے 41 اضلاع ہیں، اس لیے نئے سینٹرز کن اضلاع میں بنیں گے، یہی اصل سوال ہے۔
وزیراعلیٰ نے یہی رقم بتائی ہے۔ اسٹروک کے پہلے چند گھنٹوں میں دیا جانے والا کلاٹ ختم کرنے والا انجکشن مہنگا ہوتا ہے، جلدی دینا ضروری ہوتا ہے اور خاندان کے پیسے جمع کرنے کا انتظار نہیں کر سکتا — اسی لیے 'فنڈز کی کمی سے علاج نہیں رکے گا' کا وعدہ اس پروگرام کی بنیاد ہے۔
فوراً ایمرجنسی سروس کو کال کریں اور علامات شروع ہونے کا صحیح وقت نوٹ کریں۔ FAST یاد رکھیں: چہرے کا ایک طرف جھک جانا، بازو کی کمزوری، بولنے میں دشواری — اور وقت۔ انتظار نہ کریں، منہ سے کھانا پینا یا دوا نہ دیں، اور اگر ممکن ہو تو کارڈ اور شناختی کارڈ ساتھ لے جائیں۔
اہلیت، کارڈ کیسے ملے گا، کون سے اسپتال اسے قبول کریں گے، کون سے اخراجات اس میں شامل ہیں، اور اسپتال کے انکار پر شکایت کہاں ہوگی۔ لانچ کی رپورٹنگ میں یہ سوالات ابھی جواب طلب ہیں۔
انگریزی میں مکمل رپورٹ | سیاست کی مزید خبریں | اردو ہوم پیج