TaazaPulse — UrduRead in English
سیاست — سینیٹ میں گرما گرم بحث

محسن نقوی کا سینیٹ میں فضل الرحمن کو جواب: اب احترام کی گنجائش نہیں رہی

تازہ پلس سیاست ڈیسک | 29 اکتوبر 2026
وزیر داخلہ محسن نقوی

حکومت اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان لفظی جنگ جمعرات کو اس وقت مزید تیز ہو گئی جب وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ میں کھڑے ہو کر جے یو آئی سربراہ کی گزشتہ روز کی قومی اسمبلی تقریر کا جواب دیا۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق نقوی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے جو کچھ کہا ہے، اس کے بعد اب احترام کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ نقوی کا کہنا تھا کہ وہ مولانا کی بہت عزت کرتے تھے، مگر اداروں کے بارے میں ان کے بیانات نے یہ احترام ختم کر دیا۔ اسی دن کے اوائل میں قومی اسمبلی میں وزیر دفاع خواجہ آصف بھی اسی تقریر کا جواب دے چکے تھے — یوں ایک ہی دن دونوں ایوانوں سے حکومت کا دوہرا جواب سامنے آیا۔

نقوی کی تقریر کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ ریاست اس وقت اچھی لگتی ہے جب اس سے فائدہ ملے، اور جب اقتدار یا حکومت میں مطلوبہ حصہ نہ ملے تو اسی ریاست کے خلاف بولنا شروع کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات سیاست کا حصہ ہیں، مگر یہ ریاست اور اس کے اداروں کے بارے میں نامناسب بیانات کا جواز نہیں بنتے؛ اداروں پر بات کرتے وقت سیاست دانوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو دوسروں پر تنقید کرتا ہے، اسے جواب سننے کا حوصلہ بھی رکھنا چاہیے۔

اسلام کو کاروبار اور سیاست کے لیے استعمال کرنے کا الزام

وزیر داخلہ نے الزام لگایا کہ بعض لوگ اسلام کو سیاسی اور ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں — ٹیلی ویژن کوریج نے اس الزام کو یوں بیان کیا کہ یہ اسلام کو کاروبار اور سیاست کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک اور مخصوص دعویٰ بھی کیا: انہی میں سے بعض افراد ماضی میں ان کے پاس آئے تھے کہ ان کی سیاسی مشکلات حل کرنے کے لیے گورنر راج لگا دیا جائے۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ درخواست کس نے کی تھی۔ یہ الزام اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں 11 اکتوبر سے ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہے اور فضل الرحمن اس بندوبست کے سخت ترین ناقدوں میں شامل ہیں۔

سینیٹ کا اجلاس، پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد

ایوان میں شور: کامران مرتضیٰ سے تلخی

تقریر بار بار رکتی رہی۔ کیپیٹل نیوز پوائنٹ کے مطابق جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے خطاب کے دوران احتجاج کیا تو نقوی نے کہا کہ سینیٹر کو ان کی تقریر سننا ہوگی، اور دہرaya کہ تنقید کرنے والوں کو جواب سننے کا حوصلہ رکھنا چاہیے۔ مرتضیٰ نے جواب میں وزیر داخلہ سے کہا کہ زبان سنبھال کر بات کریں۔ ڈان نیوز کے مطابق جے یو آئی کے ارکان نے تقریر کے دوران شدید احتجاج کیا۔

ماحول اس وقت مزید گرم ہوا جب مسلم لیگ ن کے سینیٹر عابد شیر علی بھی غصے میں آ گئے اور کامران مرتضیٰ سے تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ صورتحال سنبھالنے کے لیے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے مداخلت کی اور عابد شیر علی کو اپنی نشست پر واپس جانے کو کہا۔ 92 نیوز کے مطابق چیئر نے بار بار اپوزیشن ارکان سے کہا کہ وزیر کو تقریر مکمل کرنے دی جائے۔ اشاعت کے وقت تک جے یو آئی کا نمایاں ردعمل یہی ایوان کے اندر کا احتجاج تھا؛ ٹیلی ویژن کوریج میں جماعت کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کا جواب بھی سامنے آیا، مگر جماعت کے کسی تفصیلی باضابطہ بیان کا متن دستیاب ذرائع میں موجود نہیں تھا، اور فضل الرحمن نے خود نقوی کی تقریر کا عوامی جواب نہیں دیا تھا۔

تہران پر وضاحت: وزیراعظم نے ذمہ داری سونپی تھی

جس سوال سے یہ ساری بحث شروع ہوئی تھی، اس پر نقوی نے سینیٹ میں وہی جواب دیا جو خواجہ آصف قومی اسمبلی میں دے چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران ذاتی دلچسپی کی بنیاد پر نہیں گئے؛ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں ایک مخصوص ذمہ داری سونپی تھی، اسی لیے وہ وزیراعظم کے ہمراہ گئے۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ دورے کا مقصد کوئی دفاعی معاہدہ تھا، اور فضل الرحمن کے اس مؤقف کو غلط قرار دیا۔ تہران اجلاس میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن شریک تھے، جبکہ ایران کی طرف سے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی موجود تھے؛ شرکا نے مکالمہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔

مولانا فضل الرحمن، سربراہ جمعیت علمائے اسلام

فضل الرحمن نے بدھ کو کیا کہا تھا؟

جس تقریر کا جواب دیا جا رہا تھا، وہ بدھ 28 اکتوبر کو قومی اسمبلی میں ہوئی تھی۔ فضل الرحمن نے سوال اٹھایا تھا کہ اگر دفاعی معاہدہ ایران میں زیر بحث ہے اور اعلیٰ سطح کا اجلاس ہو رہا ہے تو وزیر دفاع اور وزیر خارجہ پاکستان میں کیوں بیٹھے ہیں، اور وہاں وزیر داخلہ کی موجودگی کیوں ضروری تھی؟ پھر انہوں نے خواجہ آصف کا اپنا مشہور جملہ ”کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے“ انہی پر لوٹا دیا تھا، جس پر ایوان میں قہقہے اور میزوں کی تھپتھپاہٹ گونجی تھی۔

فضل الرحمن کی تقریر تہران تک محدود نہیں تھی۔ رپورٹوں کے مطابق انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی ایک جنرل کا نہیں، تمام شہریوں کا ہے؛ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے آئینی جواز پر سوال اٹھایا؛ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی اپنی کوششوں کا ذکر کیا؛ مذاکرات ناکام ہوئے تو سیاسی مزاحمت کی وارننگ دی؛ اور 2006 کے میثاق جمہوریت کی طرز پر نیا میثاق جمہوریت تجویز کیا۔ یہی مجموعہ — اداروں پر بیانات، تہران کا سوال اور خیبر پختونخوا پر تنقید — جمعرات کے مربوط جواب کی وجہ بنا۔

پس منظر: 16 اکتوبر کا اشارہ اور آصف کا باب

قومی اسمبلی میں خواجہ آصف نے کہا تھا کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ زیر بحث نہیں تھا، یہ بات چیت وزارت دفاع کے دائرہ کار میں نہیں آتی تھی، اور فیلڈ مارشل منیر امن کے پیغام کے ساتھ گئے تھے، جن کی سفارت کاری سے مکہ مشترکہ معاہدہ اور قطر کے ساتھ معاہدہ ہوا۔ انہوں نے فضل الرحمن کے کشمیر کمیٹی کے ریکارڈ پر بھی سوال اٹھایا اور ان کی جماعت پر مذہب کے نام پر کمائی کا الزام لگایا — فضل الرحمن اپنے ریکارڈ پر ایسی تنقید کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ اس تبادلے کی مکمل رپورٹ ہماری انگریزی رپورٹ میں نیچے لنک سے پڑھی جا سکتی ہے۔

جمعرات کی تقریریں شدت ضرور تھیں، مگر آغاز نہیں۔ جمعہ 16 اکتوبر کو لاہور میں صحافیوں سے گفتگو میں نقوی نے — بے نام اشارے میں — کہا تھا کہ ”ایک جماعت کے سربراہ نئے بندوبست میں کردار اور گورنری نہ ملنے پر سخت ناراض ہیں“، جیسا کہ ڈان نے اگلے دن اپنے صفحہ اول پر رپورٹ کیا؛ مبصرین نے اس اشارے کو فضل الرحمن کی طرف سمجھا۔ اس موقع پر نقوی نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ یہ سیاست دان دہائیوں تک اسٹیبلشمنٹ کے سہارے سیاست کرتے رہے، یہاں تک کہ اپنی جماعت کے ارکان کے ہوائی ٹکٹ بھی اسی سہارے سے ہوتے رہے۔ وزیر مملکت طلال چوہدری نے بھی انہی دنوں خیبر پختونخوا کے اقتدار کی تقسیم پر فضل الرحمن پر تنقید کی تھی۔

یہ جھگڑا کیوں اہم ہے؟

جے یو آئی اس بحث میں معمولی فریق نہیں۔ خیبر پختونخوا اور شمالی بلوچستان میں اس کا مستحکم ووٹ بینک اور سڑک کی طاقت ہے، مدارس کا جال ہے، اور اتحادوں کی سیاست میں طویل تجربہ — فضل الرحمن خود کہتے رہے ہیں کہ ان کے بغیر حکومت بن سکتی ہے نہ چل سکتی ہے۔ گورنر راج کے بندوبست نے اسی صوبے میں طاقت کا نقشہ بدلا جہاں جے یو آئی سب سے مضبوط ہے۔ اب تین دھاگے ایک ہی تصادم میں الجھ گئے ہیں: خیبر پختونخوا پر اختیار، تہران جیسی حساس سفارت کاری میں پاکستان کی نمائندگی، اور اداروں پر تنقید کی حد کہاں تک ہے۔ فضل الرحمن کا مؤقف، ان کی بدھ کی تقریر اور جماعت کے ریکارڈ کے مطابق، اس کے برعکس ہے: آئینی تنقید پارلیمنٹ کے رکن کا فرض ہے، خیبر پختونخوا کا بندوبست جمہوری مشاورت کو نظرانداز کر کے ہوا، اور حل تصادم نہیں، مذاکرات اور نیا میثاق جمہوریت ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

فوری مراحل واضح ہیں: جے یو آئی کا باضابطہ بیان یا فضل الرحمن کی پریس کانفرنس، قومی اسمبلی کے اگلے اجلاس میں ممکنہ جواب، سینیٹ کی کارروائی کا اگلا دن، اور خیبر پختونخوا ایمرجنسی کی پارلیمنٹ اور عدالتوں میں پیش رفت۔ حکومت لہجہ نرم کرتی ہے یا فضل الرحمن اسی لہجے میں جواب دیتے ہیں — یہی طے کرے گا کہ معاملہ ایوانوں کی لفظی جنگ رہتا ہے یا صوبے میں وسیع سیاسی تصادم بنتا ہے۔ تازہ پلس جے یو آئی کے ردعمل اور آئندہ کارروائی کی تصدیق ہوتے ہی رپورٹ کرے گا۔ اس رپورٹ کے ذرائع: کیپیٹل نیوز پوائنٹ، اے آر وائی نیوز، 92 نیوز ایچ ڈی، ڈان نیوز، دی اے زیڈ بی، ڈان (17 اکتوبر) اور دی نیوز۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

محسن نقوی نے سینیٹ میں فضل الرحمن کے بارے میں کیا کہا؟

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمن کی بہت عزت کرتے تھے، مگر اداروں کے بارے میں ان کے حالیہ بیانات کے بعد احترام باقی نہیں رہا — اے آر وائی نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ مولانا نے جو کچھ کہا، اس کے بعد اب احترام کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اس وقت اچھی لگتی ہے جب فائدہ ملے، اور جب اقتدار میں حصہ نہ ملے تو اسی ریاست پر تنقید شروع ہو جاتی ہے؛ تنقید کرنے والوں کو جواب سننے کا حوصلہ بھی رکھنا چاہیے۔

فضل الرحمن نے ایک دن پہلے کیا کہا تھا؟

بدھ کو قومی اسمبلی میں فضل الرحمن نے سوال اٹھایا تھا کہ دفاعی معاہدہ ایران میں زیر بحث ہے اور اجلاس ہو رہا ہے، مگر وزیر دفاع اور وزیر خارجہ پاکستان میں بیٹھے ہیں — وہاں وزیر داخلہ کی کیا ذمہ داری تھی؟ انہوں نے خواجہ آصف کا اپنا مشہور جملہ ”کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے“ انہی پر لوٹا دیا تھا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر بھی تنقید کی، کہا کہ پاکستان کسی ایک جنرل کا نہیں، تمام شہریوں کا ہے، اور نیا میثاق جمہوریت تجویز کیا۔

نقوی کی تقریر کے دوران سینیٹ میں کیا ہوا؟

جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے تقریر کے دوران احتجاج کیا اور وزیر داخلہ سے کہا کہ زبان سنبھال کر بات کریں؛ جے یو آئی کے ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹر عابد شیر علی اور کامران مرتضیٰ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے مداخلت کر کے عابد شیر علی کو نشست پر واپس جانے کو کہا۔ چیئر نے بار بار اپوزیشن سے کہا کہ وزیر کو تقریر مکمل کرنے دی جائے۔

نقوی نے تہران کے دورے پر کیا وضاحت دی؟

نقوی نے کہا کہ وہ ایران ذاتی دلچسپی سے نہیں گئے؛ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں ایک مخصوص ذمہ داری سونپی تھی، اسی لیے وہ وزیراعظم کے ہمراہ گئے۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ دورے کا تعلق کسی دفاعی معاہدے سے تھا، اور فضل الرحمن کے اس مؤقف کو غلط قرار دیا — یہی یقین دہانی خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں بھی کرائی تھی۔

جے یو آئی نے کیا ردعمل دیا اور آگے کیا ہوگا؟

جے یو آئی کا فوری ردعمل ایوان کے اندر آیا: اس کے سینیٹرز نے تقریر کے دوران احتجاج کیا، اور ٹیلی ویژن کوریج میں جماعت کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کا جواب بھی نشر ہوا۔ اس رپورٹ کی تیاری تک جماعت کا کوئی تفصیلی باضابطہ بیان دستیاب ذرائع میں سامنے نہیں آیا تھا، اور فضل الرحمن نے بھی سینیٹ کی تقریر کا عوامی جواب نہیں دیا تھا۔ آئندہ کے اہم مراحل: جماعت کا باضابطہ بیان، قومی اسمبلی میں فضل الرحمن کا ممکنہ جواب، اور خیبر پختونخوا ایمرجنسی کی پارلیمنٹ اور عدالتوں میں پیش رفت۔

مزید پڑھیں

انگریزی میں مکمل رپورٹ  |  سیاست کی مزید خبریں  |  اردو ہوم پیج

حوالہ جات