TaazaPulse — UrduRead in English
سیاست — بڑی خبر

نورین نیازی کو دل کی تکلیف پر کارڈیالوجی اسپتال منتقل کر دیا گیا

تازہ پلس نیوز ڈیسک | 29 اکتوبر 2026
پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، لاہور

سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن نورین نیازی کو بدھ کی شام کوٹ لکھپت جیل میں دل کی تکلیف اور بلند فشار خون کے بعد لاہور کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کر دیا گیا۔ ان کے وکیل رانا مدثر عمر کے مطابق جیل کے ڈاکٹروں نے منتقلی کی سفارش کی تھی اور وہ تقریباً ساڑھے سات بجے اسپتال پہنچیں، جہاں ان کے ابتدائی طبی ٹیسٹ شروع کر دیے گئے۔ معاملہ جمعرات کو اس وقت بڑا سیاسی موضوع بن گیا جب پاکستان تحریک انصاف نے بیان جاری کر کے کہا کہ خاندان کو منتقلی کی اطلاع تک نہیں دی گئی — جب کہ اسپتال ذرائع کے مطابق ان کے ٹیسٹ نارمل آئے اور حالت مستحکم ہے۔

وکیل رانا مدثر عمر کا کہنا ہے کہ نورین نیازی کو جیل میں دل میں تکلیف اور بلند فشار خون کی شکایت ہوئی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نہ خاندان کو منتقلی سے آگاہ کیا گیا اور نہ اہل خانہ یا وکلا کو بہنوں سے ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے۔ خاندان کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ وارڈ کے باہر کھڑے رہے اور فوری رسائی اور صحت کی مکمل اطلاع کا مطالبہ کیا۔ وکیل نے یہ الزام بھی لگایا کہ بہنوں کو ادویات فراہم نہیں کی جا رہیں، اور عظمیٰ خان — جو خود دل کی مریض ہیں — کو دوا ان کے شوہر کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کا حکم حاصل کرنے کے بعد ملی۔

جیل حکام اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔ ایک سینئر جیل افسر نے ڈان کو بتایا کہ قیدیوں کو روزمرہ استعمال کی اشیا اور ادویات کی اجازت ہوتی ہے اور تینوں بہنوں کو یہ سب مل رہا ہے۔ صحت کے بارے میں جمعرات کو سامنے آنے والی تصویر تسلی بخش تھی: اسپتال ذرائع کے مطابق نورین نیازی کو دل کی کوئی بیماری نہیں پائی گئی، ان کا ای سی جی اور ٹروپونن — دل کے پٹھے کو نقصان جانچنے والا ٹیسٹ — دونوں نارمل آئے، حالت مستحکم ہے، فشار خون کنٹرول کرنے کی دوا تجویز کی گئی ہے اور چند گھنٹوں میں ڈسچارج متوقع تھا۔

سابق وزیراعظم عمران خان (فائل فوٹو)

تینوں بہنیں جیل میں کیوں ہیں؟

نورین نیازی، علیمہ خان اور عظمیٰ خان لاہور کے ڈپٹی کمشنر کے احکامات پر ایم پی او آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3 کے تحت کوٹ لکھپت جیل میں نظر بند ہیں۔ علیمہ خان 20 ستمبر اور نورین اور عظمیٰ 21 ستمبر کو اس وقت حراست میں لی گئیں جب تحریک انصاف اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ کی تیاری کر رہی تھی؛ وہ مارچ بعد میں خیبر پختونخوا کے اندر ہی رک گیا جہاں وفاقی حکومت نے ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا تھا۔ ابتدائی 30 دن کی نظر بندی میں 7 اکتوبر کو مزید 30 دن کی توسیع کی گئی، اور 26 اکتوبر کو حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا کہ نظر بندی کی تجدید ہو چکی ہے، جس کے بعد عدالت نے رہائی کی درخواست نمٹا دی۔

ایم پی او نظر بندی کی ایک احتیاطی قانون سازی ہے: اس کے تحت کسی شخص کو کسی جرم کا الزام لگائے بغیر مقررہ مدت کے لیے حراست میں رکھا جا سکتا ہے اور حکومت اس مدت میں توسیع کر سکتی ہے۔ اسی لیے یہ معاملہ عدالت میں الزام کے بجائے نظر بندی کے حکم کے خلاف لڑا جاتا ہے — اور اسی لیے بدھ کی رات کا اسپتال واقعہ قانونی لحاظ سے بھی اہم ہے، کیونکہ نظر بندی میں ریاست کی دیکھ بھال کی ذمہ داری عام قیدی سے بڑھ کر سمجھی جاتی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کی عمارت

تحریک انصاف کا ردعمل

تحریک انصاف نے جمعرات کے بیان میں کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ہے کہ کسی اہل خانہ کو منتقلی کی اطلاع نہیں دی گئی۔ پارٹی نے نظر بندی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ نورین نیازی کو ماہر امراض قلب کی نگرانی میں بہترین علاج فراہم کیا جائے، ان کی صحت کی معلومات فوری خاندان سے شیئر کی جائیں اور خاندان کو ملاقات کی اجازت دی جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ سیاسی وابستگی کو جرم بنا کر خواتین کو سیاسی دباؤ کے لیے نظر بند رکھنا کسی مہذب اور جمہوری معاشرے میں قابل قبول نہیں، اور خبردار کیا گیا کہ صحت بگڑی تو ذمہ داری پنجاب حکومت پر ہوگی۔ حکومت کی جانب سے اسپتال منتقلی پر الگ بیان سامنے نہیں آیا؛ جیل حکام کا مؤقف ادویات اور دیکھ بھال کے بارے میں اوپر درج ہے۔

جیل کا ایک سیل (علامتی تصویر)

آگے کیا ہوگا؟

اسپتال ذرائع کے مطابق ڈسچارج کے بعد نورین نیازی واپس کوٹ لکھپت جیل جائیں گی، جہاں ان کی ایم پی او نظر بندی کی دوسری مدت جاری ہے۔ پی ٹی آئی خاندان کی رسائی اور صحت کی مکمل رپورٹ کا مطالبہ کر رہی ہے؛ آیا یہ مطالبات مانے جاتے ہیں اور آیا خاندان کے وکلا طبی بنیادوں پر دوبارہ لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہیں — یہی اگلی پیش رفت ہوگی۔ ان کے ڈسچارج اور حالت کے بارے میں سرکاری اطلاع آتے ہی تازہ پلس اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔

اس رپورٹ کا ماخذ: ڈان، دی اسٹینڈرڈ اور لیڈ پاکستان کی رپورٹنگ، اور پاکستان تحریک انصاف کا بیان۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

نورین نیازی کون ہیں؟

نورین نیازی سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن ہیں، عمر 70 سال۔ وہ اپنی بہنوں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے ساتھ کوٹ لکھپت جیل لاہور میں مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کے تحت نظر بند ہیں۔

انہیں اسپتال کیوں لے جایا گیا؟

ان کے وکیل رانا مدثر عمر کے مطابق بدھ کی شام جیل میں انہیں دل کی تکلیف اور بلند فشار خون کی شکایت ہوئی، اور جیل کے ڈاکٹروں کی سفارش پر انہیں تقریباً ساڑھے سات بجے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا۔

ان کی صحت اب کیسی ہے؟

اسپتال ذرائع کے مطابق ان کا ای سی جی اور ٹروپونن ٹیسٹ نارمل آیا، دل کی کوئی بیماری نہیں پائی گئی، حالت مستحکم ہے اور فشار خون کی دوا تجویز کی گئی ہے؛ چند گھنٹوں میں ڈسچارج متوقع تھا۔

تینوں بہنیں جیل میں کیوں ہیں؟

وہ 20 اور 21 ستمبر کو ایم پی او کی دفعہ 3 کے تحت اس وقت نظر بند کی گئیں جب تحریک انصاف اسلام آباد مارچ کی تیاری کر رہی تھی۔ ابتدائی 30 دن کی نظر بندی میں 7 اکتوبر کو مزید 30 دن کی توسیع ہوئی، اور 26 اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ نے رہائی کی درخواست نمٹا دی۔

خاندان اور پی ٹی آئی کا کیا مطالبہ ہے؟

خاندان کا کہنا ہے کہ منتقلی کی اطلاع نہیں دی گئی اور ملاقات کی اجازت نہیں مل رہی؛ پی ٹی آئی نے بہترین علاج، خاندان کو صحت کی معلومات اور ملاقات کی اجازت کا مطالبہ کیا ہے۔ جیل حکام ادویات نہ ملنے کے الزام کو مسترد کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

انگریزی میں مکمل رپورٹ  |  سیاست کی مزید خبریں  |  اردو ہوم پیج

حوالہ جات