TaazaPulse — UrduRead in English
سیاست — صحت عامہ

پولیو مہم 2 سے 8 نومبر: 97 اضلاع میں 23.9 ملین بچوں کو قطرے

تازہ پلس نیوز ڈیسک | 30 اکتوبر 2026
گھر کے دروازے پر ماں کی گود میں بچے کو پولیو کے قطرے پلاتی ہوئی صحت کارکن

پاکستان کی اگلی پولیو مہم پیر 2 نومبر سے اتوار 8 نومبر 2026 تک چلے گی۔ یہ ذیلی قومی مہم ہے، یعنی ملک کے ہر ضلع میں نہیں بلکہ 97 منتخب اضلاع میں گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر کے 23.9 ملین سے زیادہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ یہ تاریخیں، اضلاع کی تعداد اور ہدف قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے 19 اکتوبر کو اعلان کیے تھے۔ پہلی بات یہ واضح رہے کہ یہ مہم آج 30 اکتوبر کو شروع نہیں ہو رہی — دروازے پر ٹیمیں 2 نومبر سے آئیں گی، اور یہ رپورٹ اسی مہم کی تیاری کی خبر ہے۔

ذیلی قومی مہم اور ملک گیر مہم میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ملک گیر مہم میں ایک ہی وقت میں پورے ملک کے بچوں تک پہنچنے کی کوشش ہوتی ہے، جبکہ ذیلی قومی مہم ان اضلاع پر توجہ مرکوز کرتی ہے جہاں خطرہ سب سے زیادہ ہو — جہاں سیوریج کے نمونوں میں وائرس ملا ہو، جہاں پچھلی مہموں میں بچے رہ گئے ہوں، یا جہاں سرحد پار سے وائرس واپس آنے کا راستہ ہو۔ اس مہم میں کراچی کے تمام اضلاع شامل ہیں، اور یہ بات اس لیے اہم ہے کہ کراچی میں تقریبا دو سال بعد پولیو کا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔ مہم افغانستان کے ساتھ ہم آہنگ کی جا رہی ہے، کیونکہ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ملک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس کا پھیلاؤ کبھی مکمل طور پر رکا ہی نہیں۔

ان 97 اضلاع میں رہنے والے خاندانوں کے لیے مہم کی صورت وہی مانوس صورت ہے۔ فرنٹ لائن کارکن گھر گھر جائیں گے اور ہر بچے کو منہ سے پولیو ویکسین کے دو قطرے پلائیں گے۔ پروگرام کا اصول ہر مہم میں یہی دہرایا جاتا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر کا ہر بچہ ہر مہم میں قطرے لے، چاہے وہ نومولود ہو، بیمار ہو یا پچھلی مہم میں قطرے پی چکا ہو۔ پولیو کا کوئی علاج نہیں، مگر ویکسین سے اس سے بچا جا سکتا ہے، اور بار بار خوراکیں ہی وہ قوت مدافعت بناتی ہیں جو ایک ایسے معاشرے میں بچے کو محفوظ رکھتی ہے جہاں وائرس ابھی گردش کر رہا ہو۔ جو بچہ ٹیم کے آنے کے وقت گھر پر نہ ہو، اس کے والدین اسے صحت مرکز لے جا سکتے ہیں یا پروگرام کی ہیلپ لائن 1166 سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

صوبوں کے اعداد بتاتے ہیں کہ زور کہاں لگے گا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی خبر کے مطابق پنجاب کے 13 اضلاع میں 9.278 ملین، سندھ کے 20 اضلاع میں 6.883 ملین، خیبر پختونخوا کے 27 اضلاع میں 4.808 ملین اور بلوچستان کے 31 اضلاع میں 2.217 ملین بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف ہے۔ اسلام آباد میں 447 ہزار سے زیادہ، گلگت بلتستان کے تین اضلاع میں 153 ہزار اور آزاد کشمیر کے دو اضلاع میں 183 ہزار بچے شامل ہیں۔ یہ اعداد مجموعی طور پر تقریبا 23.97 ملین بنتے ہیں، جو مرکز کے 23.9 ملین سے زیادہ کے اعلان سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ایک احتیاط بھی ضروری ہے: مرکز کی اپنی آن لائن ریلیز میں تاریخیں، 97 اضلاع اور مجموعی ہدف درج ہیں، جبکہ صوبوں کی تفصیل اے پی پی کی خبر میں آئی ہے، نہ کہ اس ریلیز کے متن میں۔

ویکسین کیریئر اٹھائے پولیو کارکن گلی میں گھر کی طرف جاتے ہوئے

یہ مہم ایک ایسے سال کی کڑی ہے جس میں پہلے ہی غیر معمولی محنت ہو چکی ہے۔ 2026 میں پاکستان میں چار بڑی ملک گیر مہمات چلائی گئی ہیں، جن کے بارے میں مرکز کا کہنا ہے کہ ان سے 45 ملین سے زیادہ بچے کئی بار محفوظ ہوئے، اور اس کے ساتھ زیادہ خطرے والے علاقوں میں ہدف شدہ مہمات بھی چلیں۔ ستمبر میں ایک ذیلی قومی مہم سے 29.3 ملین سے زیادہ بچے محفوظ ہوئے۔ نومبر کی مہم اس لیے کوئی اکیلی کوشش نہیں، بلکہ اس سال کی پانچویں بڑی کوشش ہے، جس کا مقصد آخری قوت مدافعت کے خلا بند کرنا ہے، اس سے پہلے کہ وائرس کو دوبارہ قدم جمانے کا موقع ملے۔

اس سال کے کیسوں کی تعداد بتاتی ہے کہ یہ خلا کیوں بند کرنا ضروری ہے۔ پاکستان میں 2026 میں جنگلی پولیو وائرس کے سات کیس سامنے آ چکے ہیں — پانچ خیبر پختونخوا میں اور دو سندھ میں۔ تازہ ترین کیس 19 اکتوبر کو سامنے آیا: کراچی ایسٹ کی یونین کونسل جمالی کالونی کا چھ ماہ کا بچہ، جسے قومی پولیو نگرانی کے نظام نے پکڑا اور اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے تصدیق کی۔ یہ دسمبر 2024 کے بعد کراچی کا پہلا کیس تھا۔ مرکز نے کہا کہ جامع تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، اور پروگرام ہدف شدہ ویکسینیشن اور معمول کی ویکسینیشن مضبوط کرنے سمیت بہترین سائنسی جواب پر غور کر رہا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ بچہ غذائی قلت کا شکار تھا — ایک تلخ یاد دہانی کہ پولیو سے سب سے زیادہ خطرہ ان بچوں کو ہے جن تک صحت کی سہولتیں سب سے کم پہنچتی ہیں۔

اس کے باوجود طویل مدتی پیش رفت حیران کن ہے، اور اسے صاف الفاظ میں کہنا ضروری ہے، کیونکہ یہی وجہ ہے کہ پروگرام خاتمے کو ممکن سمجھتا ہے، نہ کہ صرف ایک خواہش۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان میں ہر سال تقریبا 20 ہزار پولیو کیس ہوتے تھے۔ 2025 میں 31 کیس ہوئے، اور 2026 میں اب تک سات۔ یہ تقریبا 99.8 فیصد کمی ہے، جو 24 اکتوبر کے عالمی یوم پولیو کی رپورٹنگ میں درج ہوئی۔ اسی رپورٹنگ میں بتایا گیا کہ ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی بھی تیزی سے کم ہوئی ہے، اور 2026 میں وائرس پہلے سے کہیں کم اضلاع میں پایا گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کام ختم ہو گیا: سات کیس، اور ایک ایسا وائرس جو کسی بچے کو مفلوج کرنے سے پہلے سیوریج میں خاموشی سے گردش کر سکتا ہے، ہی نومبر کی مہم کی وجہ ہیں۔ مگر یہ ضرور بتاتا ہے کہ پروگرام آخری مرحلے میں ہے، جہاں اصل کام رہ جانے والے بچوں کو ڈھونڈنا ہے، نہ کہ نظام از سر نو بنانا۔

29 اکتوبر بروز جمعرات کو نومبر کی مہم کی تیاریوں کا جائزہ صحت کے نظام کی اعلی سطح پر لیا گیا، جب وفاقی سیکریٹری قومی صحت خدمات مومن آغا نے اسلام آباد میں قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کا دورہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق انہیں پولیو کی موجودہ صورت حال، خاتمے کی سرگرمیوں میں پیش رفت، آپریشنل منصوبہ بندی اور ویکسینیشن کوریج مضبوط کرنے کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جن میں وفاقی اور صوبائی صحت حکام کے درمیان رابطہ، فرنٹ لائن ٹیموں کی متحرک کاری اور یہ یقینی بنانے کی حکمت عملی شامل تھی کہ ہر اہل بچے کو قطرے ملیں۔ انہوں نے پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا، مربوط کوششوں، موثر نگرانی اور ہر سطح پر جوابدہی پر زور دیا، اور ان آپریشنل چیلنجوں، کمیونٹی سے رابطے اور عوامی اعتماد کی تعمیر کی اہمیت اجاگر کی، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں بچے ابھی خطرے میں ہیں۔ یہ الفاظ — نگرانی، جوابدہی، اعتماد — اس پروگرام کی زبان ہیں جو جانتا ہے کہ اس کے سب سے بڑے باقی مسائل سائنسی نہیں، عملی ہیں۔ ویکسین کام کرتی ہے۔ چیلنج بچے تک پہنچنا ہے۔

بچے تک پہنچنا اتنا آسان نہیں جتنا لگتا ہے، اور 2026 کی تاریخ ہی اس کی گواہ ہے۔ 18 مئی کو باجاور میں ویکسینیشن ٹیموں کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار شہید ہوئے، جب 79 اضلاع میں 19 ملین سے زیادہ بچوں تک پہنچنے کی مہم شروع ہوئی تھی۔ ستمبر میں بلوچستان میں ٹیم کی حفاظت کرنے والے دو اور پولیس کانسٹیبل شہید ہوئے۔ ٹیموں پر حملے، وہ سکیورٹی حالات جو پورے علاقے بند کر دیتے ہیں، اور والدین کا انکار — یہ سب بچوں کو غیر محفوظ چھوڑ دیتے ہیں۔ نومبر کی مہم میں بھی حساس علاقوں میں ٹیموں کو پولیس کی حفاظت حاصل ہوگی، انکار کم کرنے کے لیے کمیونٹی سے رابطہ ہوگا، اور ڈیجیٹل ٹریکنگ اور مضبوط ماحولیاتی نگرانی سے رہ جانے والے بچوں کو ڈھونڈا جائے گا۔ ان میں سے کوئی اقدام بھی کامل مہم کی ضمانت نہیں، مگر ہر اقدام اس خاص وجہ کا جواب ہے جس سے پہلے بچے رہ گئے تھے۔

دیہی صحت مرکز میں کولڈ کیریئر سے ویکسین کی شیشیاں نکالتی ہوئی صحت کارکن

سرحد پار کا پہلو نومبر کی مہم سے الگ نہیں کیا جا سکتا، اور اسی لیے افغانستان کے ساتھ ہم آہنگی اہم ہے۔ دونوں ملکوں کی سرحد لمبی اور کھلی ہے، خاندان آتے جاتے ہیں، بچے سفر کرتے ہیں، اور ایک طرف رکا ہوا پھیلاؤ دوسری طرف سے دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔ اکتوبر کی رپورٹنگ میں افغانستان کے کیسوں کی تعداد پاکستان سے کہیں زیادہ بتائی گئی — 42 کے قریب، جبکہ پاکستان کے چھ یا سات، رپورٹ کی تاریخ کے لحاظ سے۔ یہ فرق تسلی نہیں، بلکہ وارننگ ہے: جب تک افغانستان میں پھیلاؤ جاری ہے، پاکستان کے سرحدی اضلاع اور وہ شہر جہاں سرحد پار سے مسافر آتے ہیں، خطرے میں رہیں گے۔ دونوں ملکوں کی ایک ہی ہفتے میں مہم اس کھڑکی کو بند کرنے کے لیے ہے، تاکہ کراچی میں محفوظ ہونے والا بچہ قندھار یا ننگرہار سے شروع ہونے والی زنجیر سے دوبارہ متاثر نہ ہو۔

مہم کے پیچھے معمول کی ویکسینیشن کی کہانی بھی ہے، اور دونوں کو گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔ مہم کے قطرے اضافی خوراکیں ہیں، جو ہر بچے کو اس کے معمول کے ریکارڈ سے قطع نظر دی جاتی ہیں، تاکہ آبادی کی قوت مدافعت تیزی سے اور یکساں طور پر بڑھے۔ معمول کی ویکسینیشن، جو صحت مراکز پر قومی شیڈول کے مطابق دی جاتی ہے، وہ بنیاد ہے جو مہموں کے درمیان بچے کو محفوظ رکھتی ہے۔ کراچی کیس پر مرکز کے بیان نے دونوں کو جوڑا تھا، جب اس نے ہدف شدہ ویکسینیشن اور معمول کی ویکسینیشن مضبوط کرنے کی بات کی۔ جو بچہ مہم کے قطرے لے مگر معمول کی خوراکیں چھوڑ دے، وہ اس بچے سے بہتر ہے جس نے کچھ نہ لیا ہو، مگر پروگرام کا ہدف دونوں ہے: ابھی پھیلاؤ روکنے کے لیے مہم، اور بعد میں دوبارہ شروع نہ ہونے کے لیے مضبوط معمول کا نظام۔

97 اضلاع کے گھرانوں کے لیے 2 سے 8 نومبر کا ہفتہ وہی مانوس منظر ہوگا۔ ٹیمیں دن کے وقت دستک دیں گی، گھر کے پانچ سال سے کم عمر کے ہر بچے کے بارے میں پوچھیں گی، اور دو قطرے پلائیں گی۔ یہ کام چند لمحوں کا ہے۔ والدین سے کہا جاتا ہے کہ بچے کا ویکسینیشن کارڈ تیار رکھیں، اگر کوئی بچہ گھر پر نہ ہو تو ٹیم کو بتائیں، اور رشتہ داروں کے ہاں، سفر میں یا کہیں اور موجود بچوں کو بھی ٹیم تک یا صحت مرکز تک پہنچائیں۔ جو بچے اس ہفتے ٹیم سے رہ جائیں، وہ مہم سے باہر نہیں: بس اسٹاپ، ریلوے اسٹیشن اور سرحدی گزرگاہوں پر ٹرانزٹ پوائنٹس، صحت مراکز پر ویکسینیشن، اور ہیلپ لائن 1166 اسی لیے ہیں کہ متحرک اور سفر کرنے والے بچے بھی رہ نہ جائیں۔

97 اضلاع سے باہر کے گھرانوں کے لیے پیغام مختلف ہے، اور ذیلی قومی ڈیزائن کو غلط نہ سمجھا جائے۔ اگر کوئی ضلع نومبر کی مہم میں شامل نہیں، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ پروگرام کی نگرانی اور خطرے کی تشخیص نے اسے اس مہم کے لیے سب سے زیادہ خطرے والے گروپ میں نہیں رکھا، نہ کہ اس کے بچوں کو تحفظ کی ضرورت نہیں۔ وہ بچے معمول کی ویکسینیشن سے محفوظ رہتے ہیں، اور اگلی ملک گیر مہم میں شامل ہوں گے۔ جن والدین کو اپنے بچے کی معمول کی خوراکوں کے بارے میں شک ہو، وہ کارڈ چیک کر کے صحت مرکز جائیں، ٹیم کا انتظار نہ کریں جو اس مہم میں آنے والی ہی نہیں۔ اور جنہیں اپنے ضلع کے بارے میں یقین نہ ہو، وہ آگے بھیجی گئی فہرستوں پر بھروسہ نہ کریں، بلکہ مقامی صحت دفتر سے پوچھیں یا 1166 پر رابطہ کریں۔

صحت مرکز میں بچے کا ویکسینیشن کارڈ دیکھتی ہوئی نرس اور بچے کو گود میں لیے ماں

نومبر کی مہم کا ایک سیاسی اور مالی پس منظر بھی ہے، جو طے کرے گا کہ آخری مرحلہ قائم رہتا ہے یا نہیں۔ عالمی پولیو خاتمہ اقدام، جو عالمی ادارہ صحت، یونیسیف، روٹری اور گیٹس فاؤنڈیشن سمیت شراکت داروں کے ساتھ عالمی کوشش کو چلاتا ہے، نے 2026 کا آپریشنل بجٹ کم کیا ہے اور 2027 کے لیے بھی کم بجٹ منظور کیا ہے، جبکہ نگرانی کی فنڈنگ بھی کم سطح پر ہے۔ پروگرام کے رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ آخری مرحلہ رہ جانے والے اور متحرک بچوں کو ڈھونڈنے، انکار کا مقابلہ کرنے، ویکسینیشن ٹیموں کی حفاظت، ماحولیاتی اور فالج کی نگرانی مضبوط رکھنے، اور عطیہ دہندگان کی فنڈنگ اور سرحد پار رابطہ برقرار رکھنے پر منحصر ہے۔ نومبر میں اچھی کوریج والی کامیاب مہم اس فنڈنگ کے حق میں دلیل مضبوط کرے گی، اور بڑی تعداد میں رہ جانے والے بچے اسے کمزور کریں گے، اور وائرس کو 2027 میں جانے کا راستہ دیں گے۔

نومبر میں کامیابی کیسی نظر آئے گی، یہ ناپا جا سکتا ہے، اور قارئین کو پروگرام کو اسی پیمانے پر پرکھنا چاہیے۔ پہلا پیمانہ کوریج ہے: 23.9 ملین ہدف میں سے کتنے بچوں کو واقعی قطرے ملے، اور ضلع وار کتنے رہ گئے۔ دوسرا انکار کی تعداد ہے: کتنے گھرانوں نے انکار کیا، اور کہاں۔ تیسرا مہم کے بعد کے ہفتوں میں نگرانی کی تصویر ہے: کیا ماحولیاتی نمونے کم ہوتے رہے، اور کیا کوئی نیا کیس سامنے آیا۔ چوتھا سرحد پار کی تصویر ہے: کیا افغانستان کی ہم آہنگ مہم میں بھی اسی طرح کی کوریج ہوئی، کیونکہ پاکستان کی کامیابی اتنی ہی پائیدار ہے جتنی خطے کی۔ مرکز نے پچھلی مہموں کے بعد اس طرح کے اعداد شائع کیے ہیں، اور تازہ پلس انہیں جاری ہوتے ہی رپورٹ کرے گا، پہلے سے اندازہ لگا کر نہیں۔

تب تک ذمہ دارانہ خلاصہ مختصر ہے۔ پاکستان کی اگلی پولیو مہم 2 سے 8 نومبر 2026 تک 97 اضلاع میں چلے گی، جس کا ہدف پانچ سال سے کم عمر کے 23.9 ملین سے زیادہ بچے ہیں، کراچی کے تمام اضلاع شامل ہیں، اور مہم افغانستان کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ یہ 2026 کی چار ملک گیر مہموں اور ستمبر کی ذیلی قومی مہم کے بعد آ رہی ہے، اور اس سال کے سات تصدیق شدہ کیسوں کے بعد، جن میں تازہ ترین کراچی ایسٹ کا ہے۔ تیاریوں کا جائزہ 29 اکتوبر کو قومی مرکز میں لیا گیا۔ قطرے مفت ہیں، گھر گھر دیے جاتے ہیں، اور شامل اضلاع کا ہر بچہ، چاہے پہلے قطرے پی چکا ہو، انہیں لے۔ شامل اضلاع کے کسی بھی والدین کے لیے اگلے ہفتے کا کام یہی ہے: جب ٹیم دستک دے، تو گھر پر ہوں، یا ایسی جگہ جہاں ٹیم آپ تک پہنچ سکے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

پولیو کی اگلی مہم کب اور کہاں چلے گی؟

2 نومبر سے 8 نومبر 2026 تک۔ یہ ذیلی قومی مہم ہے، یعنی ملک کے ہر ضلع میں نہیں بلکہ 97 منتخب اضلاع میں چلے گی۔ قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے 19 اکتوبر کو تاریخیں، اضلاع کی تعداد اور 23.9 ملین سے زیادہ بچوں کا ہدف اعلان کیا تھا، اور 29 اکتوبر کو تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔

اس مہم میں کتنے بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف ہے؟

پانچ سال سے کم عمر کے 23.9 ملین سے زیادہ بچے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے 13 اضلاع میں 9.278 ملین، سندھ کے 20 اضلاع میں 6.883 ملین، خیبر پختونخوا کے 27 اضلاع میں 4.808 ملین اور بلوچستان کے 31 اضلاع میں 2.217 ملین بچے شامل ہیں۔ اسلام آباد میں 447 ہزار سے زیادہ، گلگت بلتستان کے تین اضلاع میں 153 ہزار اور آزاد کشمیر کے دو اضلاع میں 183 ہزار بچے ہدف ہیں۔ کراچی کے تمام اضلاع بھی اس مہم میں شامل ہیں۔

کیا پہلے قطرے پلوانے والے بچے کو پھر قطرے پلوانے کی ضرورت ہے؟

جی ہاں۔ پروگرام کا اصول یہ ہے کہ پانچ سال سے کم عمر کا ہر بچہ ہر مہم میں قطرے لے، چاہے وہ نومولود ہو، بیمار ہو یا پچھلی مہم میں قطرے پی چکا ہو۔ پولیو کا کوئی علاج نہیں، مگر ویکسین سے اس سے بچا جا سکتا ہے، اور بار بار خوراکیں ہی وہ قوت مدافعت بناتی ہیں جو وائرس کے پھیلاؤ کو روکتی ہے۔

ٹیم گھر آئے تو والدین کو کیا کرنا چاہیے؟

ٹیم دروازے پر آ کر ہر بچے کو دو قطرے پلاتی ہے، اور یہ کام چند لمحوں کا ہے۔ بچے کا ویکسینیشن کارڈ تیار رکھیں، اگر کوئی بچہ گھر پر نہ ہو تو ٹیم کو بتائیں، اور سفر یا رشتہ داروں کے ہاں موجود بچوں کو بھی ٹیم تک یا صحت مرکز تک پہنچائیں۔ پروگرام کی شائع شدہ ہیلپ لائن 1166 ہے۔

اگر ہمارا ضلع 97 اضلاع میں شامل نہیں تو کیا کریں؟

اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے بچے کو تحفظ کی ضرورت نہیں۔ اس مہم میں وہ اضلاع شامل ہیں جہاں خطرہ سب سے زیادہ ہے۔ باقی اضلاع کے بچے معمول کی ویکسینیشن سے محفوظ رہتے ہیں، اور اگلی ملک گیر مہم میں شامل ہوں گے۔ اگر آپ کو اپنے ضلع کے بارے میں یقین نہ ہو تو مقامی صحت دفتر سے پوچھیں یا 1166 پر رابطہ کریں، کیونکہ قومی مرکز کی آن لائن ریلیز میں 97 اضلاع کی مکمل فہرست شائع نہیں ہوئی۔

مزید پڑھیں

انگریزی میں مکمل رپورٹ  |  سیاست کی خبریں  |  اردو ہوم پیج

حوالہ جات