امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتہ 31 اکتوبر 2026 کو اٹلانٹا، جارجیا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کہا کہ پاکستان کو اس بات پر تشویش ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد حملے اسپانسر کیے جا رہے ہیں — اور پاکستان کے خیال میں کابل میں طالبان حکام نے ان حملوں کو روکنے کے لیے کافی کچھ نہیں کیا۔ یہ بیان، جسے دی نیوز پاکستان نے رپورٹ کیا، واشنگٹن کی آواز کو احتیاط کے ساتھ اس شکایت کے پیچھے لے آیا ہے جو اسلام آباد بار بار اور کھلے عام کرتا رہا ہے: پاکستان کے اندر حملے افغان سرحد کے پار سے منصوبہ بندی، ہدایت اور کارروائی کے ساتھ کیے جاتے ہیں، اور طالبان حکومت کا ردعمل اب تک انہیں روک نہیں سکا۔
روبیو کے الفاظ کی ٹھیک ترتیب اہم ہے، اور یہ رپورٹ اسے سرخی میں سمیٹنے کے بجائے ویسے ہی رکھتی ہے۔ انہوں نے "کافی کچھ نہیں کیا" والا فیصلہ صرف اپنا ذاتی فیصلہ بنا کر پیش نہیں کیا۔ انہوں نے پاکستان کا مؤقف دہرایا، کہا کہ واشنگٹن نے اسلام آباد کی تشویش سن لی ہے، اور کہا کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ اس سے طے ہوتا ہے کہ امریکہ نے کیا وعدہ کیا ہے — اور کیا نہیں کیا: اگر کوئی نتیجہ خیز کردار موجود ہے تو اس کی پیشکش، نہ کہ کوئی نئی پالیسی کا اعلان، ڈیڈ لائن، یا کابل کے خلاف کارروائی کی دھمکی۔
روبیو نے جی 20 اجلاس میں اپنی پریس کانفرنس میں کہا: "پاکستان کو اس بات پر تشویش ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد حملے اسپانسر کیے جا رہے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا: "ان کا خیال ہے کہ طالبان نے ان حملوں کو روکنے کے لیے کافی کچھ نہیں کیا، اور پاکستان نے اس کے خلاف کارروائی کی ہے۔" پھر انہوں نے کہا: "اگر ہمارے لیے کوئی نتیجہ خیز کردار ہے تو ہم اسے ادا کریں گے۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے چاہے وہ کہیں سے بھی ہو اور کسی کے خلاف بھی ہو، جبکہ یہ تسلیم کیا کہ واشنگٹن کا طالبان سے کوئی خاص قریبی تعلق نہیں ہے۔
یہی نیا امریکی بیان ہے، اور اسے اس سے بڑا نہیں بنانا چاہیے۔ روبیو نے کسی مخصوص حملے کا نام نہیں لیا، پابندیوں، ثالثی یا فوجی اقدامات کا اعلان نہیں کیا، اور یہ نہیں کہا کہ امریکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی پر راضی ہو گیا ہے۔ انہوں نے جو کیا وہ یہ ہے کہ دنیا کی بڑی معیشتوں کے اجلاس میں کھلے عام یہ تسلیم کیا کہ پاکستان کا مرکزی شکوہ واشنگٹن میں سمجھا جاتا ہے — اور اس کردار کا امکان کھلا چھوڑا، بغیر اس کی تعریف کیے۔
تصویر: کابل کی فائل فوٹو — یہ 31 اکتوبر کی جی 20 پریس کانفرنس، مارکو روبیو، یا کسی سرحدی واقعے کی تصویر نہیں ہے۔
روبیو کے بیان کے اسی دن پاکستان کی حکومت نے بھی اس تنازع پر سخت بیان جاری کیا۔ 31 اکتوبر کو پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ طالبان قیادت اسلام آباد کو مورد الزام ٹھہراتی رہتی ہے جبکہ اس مرکزی مسئلے کو نظر انداز کرتی ہے جس سے تعلقات خراب ہوئے ہیں: افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور وہاں سے حملے روکنے میں ناکامی۔
وزارت کا یہ بیان افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی تنقید کے بعد آیا۔ مجاہد نے ہفتہ کو طالبان سے وابستہ حریت ریڈیو سے گفتگو میں کہا کہ کابل نے بار بار اختلافات مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی، اور دعویٰ کیا کہ پاکستان بات چیت سے تنازع حل نہیں کرنا چاہتا اور پرامن حل کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان کئی ملکوں کی ثالثی سے پیغامات کا تبادلہ ہوا، لیکن کشیدگی کم نہیں ہوئی۔ انہوں نے ان ملکوں کے نام نہیں بتائے اور تبادلوں کی تفصیل نہیں دی۔
اسلام آباد نے اس مؤقف کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کیا۔ وزارت نے کہا کہ طالبان قیادت کا رویہ گمراہ کن ہے اور وہ تعلقات خراب ہونے کی اصل وجوہات سے نمٹنے سے گریز کر رہی ہے۔ وزارت نے کہا کہ طالبان قیادت اسلام آباد کی پالیسیوں کو مورد الزام ٹھہراتی رہتی ہے جبکہ افغان سرزمین سے عسکریت پسندوں کی کارروائیاں روکنے کی اپنی ذمہ داری کو نظر انداز کرتی ہے۔
"پاکستان کا مؤقف واضح ہے: دہشت گردی ایک سرخ لکیر ہے، اور اپنے شہریوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا،" بیان میں کہا گیا۔ اس میں خبردار کیا گیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے پار عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں برداشت نہیں کرے گا جو قومی سلامتی کو خطرہ بناتی ہیں یا شہریوں کو افغانستان سے ہونے والے حملوں کے سامنے بے بس چھوڑتی ہیں۔ بیان میں پاکستان کے اس حق کی توثیق کی گئی کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق خطرات ختم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے، اور کہا گیا کہ ان خدشات سے نمٹنے کی ذمہ داری افغان طالبان حکومت پر ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ اپنے لوگوں کے تحفظ کے لیے پاکستان کے عزم کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
"پاکستان کی سلامتی کو افغان طالبان کی بے عملی، ٹال مٹول یا غلط ترجیحات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا،" بیان میں کہا گیا۔ "الزام تراشی، کھوکھلی یقین دہانیاں اور پاکستان کی پالیسیوں پر سوال اس بحران کو حل نہیں کریں گے اور نہ کابل کو اس کی ذمہ داریوں سے بری کریں گے۔" وزارت نے کہا کہ کابل کی مسلسل ناکامی معمول کے تعلقات کی راہ میں بنیادی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
دونوں 31 اکتوبر کے بیانات کو ایک ساتھ پڑھا جائے تو ایک ہی کہانی دو سمتوں سے سنائی دیتی ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ معمول کے تعلقات کی راہ میں رکاوٹ بات چیت کی کمی نہیں، بلکہ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کی کمی ہے۔ امریکہ، اپنے وزیر خارجہ کے ذریعے، کھلے عام یہ تسلیم کر رہا ہے کہ پاکستان یہی مؤقف رکھتا ہے اور واشنگٹن نے اسے سن لیا ہے۔ ان میں سے کوئی بیان اکیلا زمینی حقائق نہیں بدلتا۔ ایک ساتھ، وہ کابل پر اس بات کی سفارتی قیمت بڑھا دیتے ہیں کہ وہ ان حقائق کو ویسے ہی چھوڑے رکھے۔
روبیو کے بیانات خلا میں نہیں آئے۔ ستمبر اور اکتوبر 2026 میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات تیزی سے خراب ہوئے ہیں، جس کی بڑی وجہ اسلام آباد کا یہ الزام ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائی کرتے ہیں۔ پاکستان نے طالبان حکام سے بار بار قابل تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے — زبانی یقین دہانیاں نہیں، بلکہ ایسی کارروائی جس کی جانچ ہو سکے: گرفتاریاں، نیٹ ورکس کا خاتمہ، اور جنگجوؤں کی سرحد پار نقل و حرکت کا خاتمہ۔
ستمبر میں خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان نے سرحدی علاقوں میں محدود فضائی کارروائیاں کیں، جیسا کہ اس دور کی رپورٹنگ میں بتایا گیا۔ اس کے بعد سرحد پار ڈرون دراندازیوں کا سلسلہ چلا، جنہیں پاکستان نے مار گرانے کا دعویٰ کیا، اور مزید جوابی کارروائیاں ہوئیں۔ اکتوبر میں کرم اور لوئر جنوبی وزیرستان کے انگور اڈہ میں جھڑپیں جاری رہیں، جن میں فائرنگ کا ذمہ دار پاکستان افغان جانب کو ٹھہراتا ہے۔
روبیو کے بولنے سے پہلے سب سے تازہ سرحدی واقعہ انگور اڈہ کا تھا۔ منگل 27 اکتوبر کو افغان فورسز نے انگور اڈہ کے علاقے میں پاکستانی سرحدی چوکیوں اور رہائشی علاقوں پر فائرنگ کی، جیسا کہ رپورٹنگ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا، جس میں ایک مقامی رہائشی جاں بحق اور ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے، اور دکانیں تباہ ہوئیں۔ اس واقعے نے بیانات کا ایک اور دور شروع کیا: خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے 28 اکتوبر کو کہا کہ پاکستان انگور اڈہ فائرنگ کے بعد حملے برداشت نہیں کرے گا، اور افغان طالبان سے کہا کہ پاکستان کے برداشت کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہ رکھیں۔ گورنر کا یہ بیان ان کے ایکس اکاؤنٹ پر آیا اور 28 اکتوبر کو رپورٹ ہوا، اور یہ اسی انتباہات کے سلسلے کا حصہ ہے جو 31 اکتوبر کو وزارت کے بیان پر ختم ہوا۔
تصویر: واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کی عمارت کی فائل فوٹو — روبیو نے اٹلانٹا میں جی 20 اجلاس کے میزبان کے طور پر بات کی، اس عمارت سے نہیں۔
بیان بازی سے ہٹ کر، پاکستان کا مطالبہ تین حصوں پر مشتمل ہے، اور یہ تینوں گزشتہ دو ہفتوں کے بیانات میں نظر آتے ہیں۔ پہلا، افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے — الفاظ میں نہیں، بلکہ ان گروہوں کے خلاف کارروائی سے جن کے نام پاکستان لیتا ہے، سب سے بڑھ کر ٹی ٹی پی۔ دوسرا، قابل تصدیق ضمانتیں دی جائیں: ایک ایسا طریقہ کار، تحریری طور پر طے شدہ یا عمل میں ثابت شدہ، جس سے پاکستان جانچ سکے کہ کارروائی ہوئی ہے، نہ کہ ایسی یقین دہانیوں پر بھروسہ کیا جائے جو دہرائی جاتی ہیں اور پھر، اسلام آباد کے خیال میں، پوری نہیں ہوتیں۔ تیسرا، الزام تراشی بند کی جائے: پاکستان کی وزارت نے 31 اکتوبر کو کہا کہ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کو مورد الزام ٹھہرانے سے طالبان قیادت اس ذمہ داری سے بری نہیں ہوتی کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
دوسرا نکتہ — قابل تصدیق ہونا — مذاکرات کے ہر دور میں اٹکاؤ کا باعث ہے۔ دفتر خارجہ کی 17 اکتوبر کی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی بات چیت غیر مشروط نہیں ہوگی، اور پاکستان کا واحد مطالبہ یہ ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد سرگرمیوں کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے ایک قابل تصدیق طریقہ کار ہو۔ بریفنگ میں مخلصانہ ثالثی کے لیے پاکستان کی آمادگی بھی واضح کی گئی، جبکہ اس بات کی تردید کی گئی کہ روسی ثالثی کی کوئی پہل زیر بحث ہے۔ 5 اکتوبر کو ماسکو فارمیٹ کے مذاکرات مشترکہ اعلامیے کے بغیر ختم ہوئے تھے، 2017 کے بعد پہلی بار، جب طالبان نے افغانستان کو دہشت گردی سے جوڑنے والی زبان پر اعتراض کیا — ایسی زبان جسے انہوں نے پچھلے دور میں قبول کیا تھا۔
پاکستان کا مؤقف اس بنیاد پر بھی ہے جسے وہ عالمی برادری کی اپنی نگرانی کی رپورٹیں بتاتا ہے۔ اسلام آباد نے بار بار افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی اور القاعدہ سے اس کے روابط کے بارے میں اقوام متحدہ کی نگرانی کی رپورٹوں کا حوالہ دیا ہے، اور یہ دلیل دی ہے کہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں: جو گروہ آج پاکستان پر حملے کے لیے محفوظ پناہ گاہ پاتا ہے، وہی پناہ گاہ کل دوسروں کو خطرہ بن سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کی ٹیم نے اپنی 37ویں رپورٹ میں پایا کہ افغانستان کے موجودہ حکام کئی مسلح گروہوں، خاص طور پر ٹی ٹی پی، کے لیے "سازگار ماحول" فراہم کرتے رہے، اور مشاہدہ کیا کہ ٹی ٹی پی کو طالبان کی طرف سے زیادہ آزادی اور حمایت ملی اور اس کے پاکستان پر حملے بڑھے۔ طالبان کا معیاری جواب — یہ مکمل انکار کہ افغان سرزمین پر کوئی دہشت گرد گروہ کام کرتا ہے — خود اقوام متحدہ کی نگرانی کی ٹیم نے مسترد کیا ہے، جس نے نوٹ کیا کہ طالبان کا دعویٰ کئی رکن ممالک کی انٹیلی جنس سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ تصویر یک طرفہ ہے۔ طالبان حکام کی اپنی شکایات بھی ہیں، اور مجاہد کے 31 اکتوبر کے بیانات ان کی عکاسی کرتے ہیں: کابل کا کہنا ہے کہ اس نے بار بار مذاکرات کی کوشش کی، ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہوا، اور پاکستان پرامن حل کے لیے تیار نہیں۔ طالبان اس سے پہلے یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ پورے ملک پر قابض ہیں اور اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں کہ افغان سرزمین پر غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ پاکستان کی طرف سے جو چیز غائب نہیں ہے وہ رابطہ نہیں — پاکستان چار وزرائے خارجہ کے دوروں، دفاعی اور انٹیلی جنس سطح کے مشنوں، خصوصی نمائندوں کے دوروں، سیکریٹری سطح کے اجلاسوں، مشترکہ رابطہ کمیٹی کے اجلاسوں، سینکڑوں سرحدی فلیگ میٹنگوں، احتجاجی نوٹوں اور ڈیمارشوں کے ساتھ ساتھ علمائے کرام اور قبائلی وفود کے کابل جانے اور دوحہ، استنبول، ریاض اور ارومچی کے ذریعے ثالثی کی طرف اشارہ کرتا ہے — بلکہ اس ایک مطالبے پر نتیجہ غائب ہے جو اسلام آباد کے لیے اہم ہے۔
تصویر: ننگرہار صوبے میں تورخم گیٹ کسٹمز کے علاقے کی فائل فوٹو — پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم گزرگاہوں میں سے ایک۔
روبیو کا جملہ — "اگر ہمارے لیے کوئی نتیجہ خیز کردار ہے تو ہم اسے ادا کریں گے" — جان بوجھ کر مشروط ہے، اور اسے اسی طرح پڑھنا چاہیے۔ یہ ثالثی کا وعدہ نہیں کرتا، اور یہ نہیں کہتا کہ امریکہ سے ثالثی کے لیے کہا گیا ہے۔ یہ کہتا ہے کہ واشنگٹن کسی ایسے کردار کے لیے تیار ہے اگر کوئی نتیجہ خیز کردار موجود ہو۔ اصولی طور پر اس کا مطلب خاموش سفارت کاری، پیغامات پہنچانا، یا کسی فریق پر امریکی اثر و رسوخ کا استعمال ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ عوامی بیان بھی ہو سکتا ہے: کابل کو یہ اشارہ کہ امریکہ پاکستان کی بات سن رہا ہے، اور اسلام آباد کو یہ اشارہ کہ اس کی تشویش امریکی سفارت کاری کی اعلیٰ ترین سطح پر درج ہے۔
اس سے زیادہ پڑھنے میں احتیاط کی وجوہات بھی ہیں۔ امریکہ کا طالبان حکومت سے کوئی قریبی تعلق نہیں ہے — روبیو نے خود یہ تسلیم کیا — اور 2021 کے انخلا کے بعد کابل میں واشنگٹن کا اثر و رسوخ محدود ہے۔ امریکہ کے افغانستان کے بارے میں اپنے الگ خدشات بھی ہیں، جن میں القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ خراسان کی موجودگی اور امریکی شہریوں کی حراست شامل ہے، جسے روبیو اس سے پہلے سخت الفاظ میں اٹھا چکے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے تنازع میں کوئی "نتیجہ خیز کردار" ان الگ امریکی مفادات سے ہم آہنگ کرنا ہوگا، اور اس حقیقت سے بھی کہ امریکہ اٹلانٹا میں جی 20 کے ایک بھرے ہوئے ایجنڈے کا انتظام کر رہا ہے، جس میں روس یوکرین جنگ سے لے کر ایران اور عالمی تجارت تک شامل ہے۔
ایک امریکی اندرونی سیاق بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ روبیو اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے میزبان کے طور پر بات کر رہے تھے، ایک وسیع پریس کانفرنس میں جس میں ایران، روس یوکرین امن مذاکرات، بعد کے جی 20 سربراہ اجلاس میں یوکرین کے صدر کی ممکنہ شرکت، اور کواڈ میں بھارت کے کردار پر بات ہوئی۔ پاکستان اور افغانستان کے بیانات اس بریفنگ کا ایک حصہ تھے، اس کا مرکزی موضوع نہیں۔ اس سیاق سے ان کی اہمیت کم نہیں ہوتی — کوئی وزیر خارجہ جی 20 پریس کانفرنس میں کسی دو طرفہ تنازع کو اتفاق سے نہیں اٹھاتا — لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ ان بیانات کو پاکستان اور افغانستان پر کوئی مخصوص امریکی پہل نہ سمجھا جائے۔ یہ ایک کثیرالجہتی اجلاس میں عوامی اعتراف ہے کہ پاکستان کا شکوہ واشنگٹن کی نظر میں ہے۔
پاکستان کے لیے ان بیانات کی قدر اس وقت سفارتی ہے، عملی نہیں۔ یہ اسلام آباد کو اپنے پیغام میں استعمال کرنے کے لیے ایک قابل حوالہ امریکی اعتراف دیتے ہیں، کابل کو خبردار کرتے ہیں کہ اس کا مؤقف خطے سے باہر بھی زیر بحث ہے، اور آگے کی سفارت کاری کے لیے ایک بنیاد بناتے ہیں: اگر پاکستان کوئی امریکی کردار چاہتا ہے تو وہ اب روبیو کے اپنے الفاظ کو اس کی تعریف مانگنے کی دعوت کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔ کابل کے لیے یہ بیانات ایک انتباہ ہیں کہ اس کی انکار کی حکمت عملی — کہ افغان سرزمین پر کوئی دہشت گرد گروہ کام نہیں کرتا — واشنگٹن میں بھی اسی طرح قبول نہیں کی جا رہی جیسی اسلام آباد میں نہیں کی جا رہی۔
مقام اس لیے اہم ہے کہ یہ تنازع کو صرف علاقائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تشویش کا معاملہ بنا دیتا ہے۔ اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس میں دنیا کی بڑی معیشتوں کے وزرائے خارجہ شریک تھے، اور میزبان کے طور پر روبیو نے اپنی پریس کانفرنس میں مختلف بحرانوں پر امریکی مؤقف پیش کیا۔ اس ماحول میں، چاہے مختصر ہی سہی، افغان سرزمین سے دہشت گردی کے بارے میں پاکستان کی تشویش اٹھانا اس مسئلے کو دو طرفہ چینل سے باہر لے آتا ہے — جہاں پاکستان اور افغانستان مہینوں سے بات کر رہے ہیں اور اتفاق نہیں کر سکے — اور اس فورم میں لے جاتا ہے جہاں چین، روس اور خلیجی ریاستیں بھی موجود ہیں اور افغان استحکام میں ان کے بھی مفادات ہیں۔
یہ کثیرالجہتی تشکیل دونوں طرف کاٹتی ہے۔ روس اور چین دونوں نے کابل سے مفاہمت کی طرف قدم بڑھائے ہیں — ماسکو نے 2025 میں طالبان کو اپنی ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا اور اس کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا — جبکہ وہ سیکیورٹی تشویش جو خطے کو درپیش ہے، خاص طور پر پاکستان کو، حل نہیں ہوئی۔ 5 اکتوبر کو ماسکو فارمیٹ کا مشترکہ اعلامیہ طے نہ کر پانا اس تضاد کو ظاہر کرتا ہے: رابطے کو خود ایک کامیابی سمجھا جا رہا ہے، حالانکہ طالبان حکومت کی طرف سے قابل تصدیق انسداد دہشت گردی کے وعدے موجود نہیں۔ اس کے برعکس، روبیو کے بیانات رابطے کو کارروائی سے جوڑتے ہیں: سوال یہ نہیں کہ کابل سے بات کی جائے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ بات کرنے سے حملوں پر پابندی لگتی ہے یا نہیں۔
پاکستان کی اپنی سفارت کاری متوازی راستوں پر جاری ہے۔ اسلام آباد اسی دور میں دیگر شراکت داروں کے ساتھ بھی سرگرم سفارتی گفتگو میں رہا ہے — مثال کے طور پر سنگاپور کے ساتھ اسلام آباد میں وزرائے خارجہ کی بات چیت، جو تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے پر ہوئی — اور اس نے اپنا پیغام تمام دارالحکومتوں میں یکساں رکھنے کی کوشش کی ہے: دہشت گردی ایک سرخ لکیر ہے، معمول کے تعلقات کے لیے پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے، اور پاکستان بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے شہریوں کے تحفظ کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ روبیو کے بیانات اس پیغام کی حکمت عملی میں فٹ بیٹھتے ہیں، لیکن وہ اس دو طرفہ کام کی جگہ نہیں لیتے جو اسلام آباد اور کابل کے درمیان ابھی ہونا باقی ہے، چاہے براہ راست ہو یا ثالثوں کے ذریعے۔
تین چیزیں بتائیں گی کہ روبیو کے بیانات پریس کانفرنس کی ایک سطر سے زیادہ ہیں یا نہیں۔ پہلی، کابل کا جواب: کیا طالبان حکام روبیو کو براہ راست جواب دیتے ہیں، اپنا انکار دہراتے ہیں، یا پناہ گاہوں پر کوئی ٹھوس قدم پیش کرتے ہیں۔ ایسا جواب جو اصل مسئلے سے نمٹے — گروہوں کے نام لے کر، گرفتاریوں کا اعلان کر کے، یا تصدیقی طریقہ کار قبول کر کے — ایک تبدیلی ہوگی۔ ایسا جواب جو یہ دہرائے کہ پاکستان بات چیت کے لیے تیار نہیں، یہ تصدیق کرے گا کہ دونوں فریق ابھی بھی ایک دوسرے کی بات نہیں سن رہے۔
دوسری، اسلام آباد کی پیروی: کیا دفتر خارجہ اپنی اگلی ہفتہ وار بریفنگ میں روبیو کے بیانات کو ایک موقع سمجھتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ امریکہ کا کون سا نتیجہ خیز کردار چاہے گا — مثال کے طور پر پیغامات پہنچانا، تصدیقی طریقہ کار کی حمایت کرنا، یا کسی علاقائی فارمیٹ کی حمایت کرنا جس میں انسداد دہشت گردی کی ضمانتیں شامل ہوں۔ اگر پاکستان کے سفارت کار روبیو کے الفاظ واشنگٹن کو واپس سناتے ہیں اور تفصیل مانگتے ہیں تو یہ بیانات ایک سفارتی راستہ بن جائیں گے۔ اگر وہ انہیں صرف تعریف کے طور پر دہراتے ہیں تو وہ ایک بات چیت کا نکتہ ہی رہیں گے۔
تیسری، خود سرحد: کیا انگور اڈہ اور دیگر مقامات پر فائرنگ رکتی ہے، کوئی نیا واقعہ ہوتا ہے، اور پاکستان کے اندر ان حملوں کا سلسلہ بدلتا ہے جن کا ذمہ دار اسلام آباد افغان سرزمین کو ٹھہراتا ہے۔ سفارت کاری کا فیصلہ آخر میں اسی کسوٹی پر ہوتا ہے، پریس کانفرنسوں پر نہیں۔ پاکستان کی وزارت نے 31 اکتوبر کو کہا کہ اس کی سلامتی کو کابل کی بے عملی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا۔ آنے والے دن بتائیں گے کہ کیا کابل نے یہ انتباہ سنا، کیا واشنگٹن اپنے اعتراف کے بعد کوئی کارروائی کرتا ہے، اور کیا بیانات، فائرنگ اور جوابی کارروائی کا وہ چکر جو اکتوبر کی پہچان بنا، کسی مختلف چیز میں بدلتا ہے۔
فی الحال مصدقہ صورتحال یہ ہے۔ 31 اکتوبر 2026 کو اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کھلے عام پاکستان کا یہ خیال دہرایا کہ طالبان حکومت نے افغان سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کو روکنے کے لیے کافی کچھ نہیں کیا، کہا کہ واشنگٹن نے پاکستان کی تشویش سن لی ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے، اور کہا کہ اگر کوئی نتیجہ خیز کردار موجود ہے تو امریکہ اسے ادا کرے گا۔ اسی دن پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے اپنا بیان جاری کیا جس میں کابل کو خبردار کیا گیا کہ دہشت گردی ایک سرخ لکیر ہے، الزام تراشی طالبان قیادت کو اس کی ذمہ داریوں سے بری نہیں کرے گی، اور پاکستان بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ طالبان ترجمان نے اپنی طرف سے کہا کہ کابل نے بار بار مذاکرات کی کوشش کی ہے اور پاکستان پرامن حل کے لیے تیار نہیں۔ کوئی نئی امریکی پالیسی، ڈیڈ لائن یا ثالثی کا اعلان نہیں ہوا، اور کابل کی طرف سے کوئی رعایت رپورٹ نہیں ہوئی۔ دوسرے الفاظ میں، تنازع کو ایک امریکی آواز مل گئی ہے — لیکن ابھی کوئی امریکی حل نہیں ملا۔
اس رپورٹ کی تصاویر فائل فوٹو ہیں: تورخم کی طرف پہاڑی سڑک، کابل کا اسکائی لائن، واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کی عمارت، اور تورخم گیٹ کسٹمز کا علاقہ — اور یہ 31 اکتوبر کی جی 20 پریس کانفرنس، مارکو روبیو، یا کسی سرحدی واقعے کی تصاویر نہیں ہیں۔
31 اکتوبر 2026 کو اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا: "پاکستان کو اس بات پر تشویش ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد حملے اسپانسر کیے جا رہے ہیں۔" انہوں نے پاکستان کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا: "ان کا خیال ہے کہ طالبان نے ان حملوں کو روکنے کے لیے کافی کچھ نہیں کیا، اور پاکستان نے اس کے خلاف کارروائی کی ہے۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن نے اسلام آباد کی تشویش سن لی ہے، امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے، اور امریکہ دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے چاہے وہ کہیں سے بھی ہو اور کسی کے خلاف بھی ہو۔
نہیں۔ ان کی پیشکش مشروط تھی: "اگر ہمارے لیے کوئی نتیجہ خیز کردار ہے تو ہم اسے ادا کریں گے۔" انہوں نے یہ نہیں کہا کہ امریکہ سے ثالثی کے لیے کہا گیا ہے، نہ پابندیوں، نہ کسی ڈیڈ لائن اور نہ کسی فوجی قدم کا اعلان کیا، اور نہ کسی مخصوص حملے کا نام لیا۔ یہ بیان واشنگٹن کی طرف سے اس بات کا عوامی اعتراف ہے کہ پاکستان کا شکوہ سمجھا جا رہا ہے، کوئی نئی امریکی پالیسی یا باقاعدہ ثالثی کا آغاز نہیں۔
31 اکتوبر 2026 کو پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ طالبان قیادت اسلام آباد کو مورد الزام ٹھہراتی رہتی ہے جبکہ اس مرکزی مسئلے کو نظر انداز کرتی ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں اور وہاں سے حملے روکے نہیں جا رہے۔ وزارت نے کہا کہ دہشت گردی ایک سرخ لکیر ہے، پاکستان سرحد پار عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں برداشت نہیں کرے گا، اور پاکستان بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت نے مزید کہا کہ پاکستان کی سلامتی کو طالبان حکومت کی بے عملی، ٹال مٹول یا غلط ترجیحات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے 31 اکتوبر کو حریت ریڈیو سے گفتگو میں کہا کہ کابل نے بار بار اختلافات مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی، پاکستان بات چیت سے مسئلہ حل نہیں کرنا چاہتا اور پرامن حل کے لیے تیار نہیں، اور کئی ملکوں کی ثالثی سے پیغامات کا تبادلہ ہوا لیکن کشیدگی کم نہیں ہوئی۔ انہوں نے ان ملکوں کے نام نہیں بتائے اور تبادلوں کی تفصیل نہیں دی۔ طالبان حکام اس سے پہلے بھی یہ کہتے رہے ہیں کہ افغان سرزمین پر کوئی غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کام نہیں کر رہی۔
پاکستان کا الزام ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر گروہ افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائی کرتے ہیں، اور پاکستان قابل تصدیق کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے، نہ کہ زبانی یقین دہانیاں۔ ستمبر میں خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان نے سرحدی علاقوں میں محدود فضائی کارروائیاں کیں، پھر سرحد پار ڈرون دراندازیوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ چلا۔ اکتوبر میں کرم اور انگور اڈہ میں جھڑپیں جاری رہیں؛ 27 اکتوبر کو افغان فورسز نے انگور اڈہ میں پاکستانی سرحدی چوکیوں اور رہائشی علاقوں پر فائرنگ کی، جس میں ایک مقامی رہائشی جاں بحق اور ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے، جیسا کہ رپورٹنگ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا۔
تین چیزیں۔ پہلی، کابل کا روبیو کو جواب: کیا طالبان حکام انہیں براہ راست جواب دیتے ہیں، انکار دہراتے ہیں، یا پناہ گاہوں پر کوئی ٹھوس قدم پیش کرتے ہیں۔ دوسری، اسلام آباد کی پیروی: کیا دفتر خارجہ اپنی اگلی ہفتہ وار بریفنگ میں روبیو کے بیان کو ایک موقع سمجھ کر بتاتا ہے کہ امریکہ کا کون سا نتیجہ خیز کردار اسے قابل قبول ہوگا۔ تیسری، سرحد خود: کیا انگور اڈہ اور دیگر مقامات پر فائرنگ رکتی ہے، کوئی نیا واقعہ ہوتا ہے، اور پاکستان کے اندر ان حملوں کے سلسلے میں کوئی تبدیلی آتی ہے جن کا ذمہ دار اسلام آباد افغان سرزمین کو ٹھہراتا ہے۔ جب تک ان میں سے کوئی حرکت نہیں ہوتی، مصدقہ صورتحال یہی ہے کہ امریکہ نے اعتراف کیا ہے — ابھی کوئی امریکی حل سامنے نہیں آیا۔
انگریزی میں مکمل رپورٹ | سیاست کی مزید خبریں | اردو ہوم پیج