معمر رانا ایک حالیہ انٹرویو میں (یہ تصویر ڈسکور پاکستان کی عدالتی رپورٹ کے ساتھ گردش میں آئی)۔ لاہور کی فیملی کورٹ نے اب ان کی اہلیہ مہناز کو خلع کی ڈگری دے دی ہے، جس سے 28 سالہ شادی ختم ہو گئی۔
لاہور کی فیملی کورٹ نے معروف فلمی اداکار معمر رانا کی اہلیہ مہناز پرویز کو خلع کی ڈگری دے دی ہے، جس کے ساتھ ان کی تقریباً 28 سالہ ازدواجی زندگی باقاعدہ ختم ہو گئی۔ سماعت کی رپورٹوں کے مطابق کیس کی سماعت لاہور کی فیملی کورٹ میں ہوئی، جہاں مہناز رانا کی جانب سے وکیل خدیجہ صدیقی نے دلائل پیش کیے۔ جج زاہد بشیر نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے مہناز کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کر دی۔ یہ شادی اکتوبر 1998 میں ہوئی تھی — اس دور میں جب معمر رانا لالی وڈ کے سب سے بڑے ہیرو تھے۔
عدالت کا یہ فیصلہ اسی انجام کی تکمیل ہے جس سے اداکار خود عوامی سطح پر ڈر رہے تھے۔ محض دو ہفتے پہلے، اکتوبر کے وسط میں، معمر رانا ایک جذباتی انٹرویو میں یہ تصدیق کر چکے تھے کہ انہوں نے عدالت کے کاغذات پر دستخط کر دیے ہیں — مگر ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ وہ یہ شادی ختم نہیں کرنا چاہتے، وہ اپنی اہلیہ اور بیٹیوں سے بہت محبت کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ ان کا گھر نہ ٹوٹے۔ اب عدالت نے خود وہ قانونی قدم اٹھا دیا ہے جس کی طرف ان دستخطوں کا اشارہ تھا۔
مقدمے کی سماعت لاہور کی فیملی کورٹ میں ہوئی — اسی شہر میں جہاں معمر رانا پیدا ہوئے اور جہاں ان کا کیریئر بنا۔ مہناز پرویز کی جانب سے ان کی وکیل خدیجہ صدیقی پیش ہوئیں اور انہوں نے عدالت کے سامنے دلائل رکھے۔ رپورٹوں کے مطابق جج زاہد بشیر نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا اور مہناز کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کر دی۔ خلع کی ڈگری سے شادی اسی تاریخ سے ختم ہو جاتی ہے۔ ڈگری کی تفصیلی تحریری شرائط سماعت کی رپورٹوں میں نہیں آئیں، اور یہ رپورٹ ان کا اندازہ نہیں لگا رہی۔
معمر رانا اپنی اہلیہ مہناز پرویز کے ساتھ (یہ تصویر ڈسکور پاکستان کی رپورٹ کے ساتھ گردش میں آئی)۔ دونوں کی شادی اکتوبر 1998 میں ہوئی تھی اور ان کی دو بیٹیاں ہیں۔
مقدمے کی بنیاد مہناز کی درخواست میں لکھی گئی باتیں ہیں، اور وہ یہاں بالکل اسی حیثیت میں بیان کی جا رہی ہیں — یعنی درخواست گزار کا عدالت کے سامنے رکھا گیا مؤقف۔ درخواست میں مہناز نے مؤقف اختیار کیا کہ اداکار شراب نوشی کے عادی ہیں اور نشے کی حالت میں وہ بیٹیوں کے سامنے انھیں گالی گلوچ اور بدسلوکی کا نشانہ بناتے تھے، جس کی وجہ سے وہ اب کسی صورت ان کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں۔ اسی بیان کردہ مؤقف پر ان کی وکیل نے مقدمہ لڑا اور عدالت نے شادی کی تحلیل کی ڈگری دے دی۔
اس پیرے کو پڑھتے ہوئے دو باتیں الگ الگ رکھنی چاہئیں، اور یہ رپورٹ انھیں دانستہ الگ رکھتی ہے۔ پہلی بات ریکارڈ کی حقیقت ہے: فیملی کورٹ نے اہلیہ کا مقدمہ سنا اور اسے خلع دے دی۔ دوسری بات اس کی درخواست کا متن ہے — اس کے الزامات اور اس کی بیان کردہ وجوہات، جیسا کہ کارروائی کی رپورٹوں میں آیا۔ معمر رانا نے کسی شائع شدہ رپورٹ میں درخواست کے ان مخصوص الزامات کا جواب نہیں دیا؛ شادی کے بارے میں ان کے عوامی الفاظ، جو ڈگری سے پہلے کے ہیں، اگلے حصے میں ان کی اپنی زبان میں موجود ہیں۔
معمر رانا اس اکتوبر کے انٹرویو میں جس میں انہوں نے عدالتی کاغذات پر دستخط کی تصدیق کی تھی مگر کہا تھا کہ وہ شادی ختم نہیں کرنا چاہتے: ”میری عزت ہے، میری عزت رہنے دو“ (یہ تصویر ڈسکور پاکستان کی رپورٹ کے ساتھ گردش میں آئی)۔
معمر رانا نے اس شادی کے بکھرنے پر اکتوبر 2026 کے وسط میں کھل کر بات کی تھی — مزاحیہ اداکار قیصر پیا کو دیا گیا ان کا انٹرویو 14 اور 15 اکتوبر کو وسیع پیمانے پر رپورٹ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ علیحدگی کا معاملہ عدالت تک پہنچ چکا ہے اور انہوں نے وہاں کچھ دستاویزات پر دستخط بھی کیے ہیں، البتہ انھیں خود ٹھیک سے معلوم نہیں کہ وہ کاغذات تھے کیا۔ جب ان سے صاف پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے خلع کے کاغذات پر دستخط کیے ہیں، تو انہوں نے یہی دہرایا کہ انہوں نے عدالت میں کچھ کاغذات پر دستخط کیے، مگر انھیں ان کی تفصیل معلوم نہیں۔
البتہ جو بات وہ پوری وضاحت سے کہہ رہے تھے، وہ ان کی خواہش تھی: ”میری عزت ہے، میری عزت رہنے دو۔ مجھے زیادہ نہیں بولنا۔ میں بہت پیار کرتا ہوں اپنی فیملی سے۔ میں بس چاہتا ہوں یہ ختم نہ ہو۔“ انہوں نے کہا کہ وہ آج بھی اپنی اہلیہ اور بیٹیوں سے بہت محبت کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ سلح کی مدت میں معاملات بہتر ہو جائیں گے اور خاندان پھر اکٹھا ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس مشکل مرحلے میں ان کے والد، بھائی اور بھابی ان کے سہارے ہیں، جبکہ اہلیہ اور بیٹیاں فی الحال ان کے ساتھ نہیں رہ رہیں۔ اردو رپورٹوں میں ان کا یہ جملہ بھی آیا کہ وہ عدالت کے کاغذات پر دستخط کر چکے ہیں، مگر دل سے یہی دعا ہے کہ میرا گھر نہ ٹوٹے اور ہمارا رشتہ برقرار رہے۔
جس شادی کا اختتام ہوا ہے، وہ پاکستانی سینما کے ایک خاص دور سے جڑی ہے۔ سابق پاکستانی کرکٹر شفقت رانا کے بیٹے معمر رانا نے ”دیوانے تیرے پیار کے“ سے پہچان بنائی اور 1998 میں سید نور کی ”چوڑیاں“ نے انھیں اس دور کی سب سے بڑی پنجابی فلم کا ہیرو بنا دیا۔ اسی شہرت کے عروج پر، اکتوبر 1998 میں، ان کی شادی مہناز پرویز سے ہوئی، اور اداکار کے اپنے بار بار کے بیان کے مطابق اہلیہ ہی ان کی خاندانی زندگی کا سہارا رہیں — سینکڑوں فلموں، ٹیلی وژن کی طرف منتقلی اور بعد کے مشکل برسوں میں بھی۔ جوڑے کی دو بیٹیاں ہیں، ریا اور رانیہ، جو اب بڑی ہو چکی ہیں۔ اکتوبر کی کوریج میں نقل ایک پرانے انٹرویو میں معمر رانا نے بیٹیوں سے قربت کا سہرا بھی اہلیہ ہی کے سر باندھا تھا: ”میری بیٹیوں سے میرا رشتہ جو ہے، وہ سب مہناز کی بدولت ہے۔“
یہی وجہ ہے کہ یہ خبر جب سے سامنے آئی ہے، اس انداز میں پھیلی ہے: یہ کوئی مختصر سیلیبریٹی شادی نہیں تھی بلکہ ایک مکمل کیریئر کے نشیب و فراز جھیلنے والا 28 سالہ ساتھ تھا، اور اس کا اختتام دو عوامی قسطوں میں آیا — پہلے شوہر کا اکتوبر کا جذباتی انٹرویو، جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے بمشکل سمجھ آنے والے کاغذات پر دستخط کر دیے ہیں اور انجام کے خلاف امید لگائے بیٹھے ہیں، اور اب عدالت کی ڈگری۔
لاہور ہائی کورٹ کی عمارت (فائل فوٹو، وکی میڈیا کامنز)۔ خلع کا مقدمہ لاہور کی فیملی کورٹ میں سنا گیا، جہاں جج زاہد بشیر نے اہلیہ کی وکیل کے دلائل کے بعد ڈگری جاری کی۔
خلع شادی کی وہ تحلیل ہے جو بیوی فیملی کورٹ سے اس بنیاد پر مانگتی ہے کہ وہ یہ شادی جاری نہیں رکھ سکتی۔ عدالت دونوں فریقوں کو سنتی ہے؛ جہاں مطمئن ہو جائے کہ شادی قائم نہیں رہ سکتی، وہ ڈگری جاری کر کے شادی ختم کر دیتی ہے، اور اسی ڈگری میں منسلک سوالات — جن میں حق مہر اور فوائد کی واپسی جیسے امور بھی شامل ہو سکتے ہیں — کا فیصلہ مقدمے کے حقائق کے مطابق کرتی ہے۔ اس مقدمے میں وہ شرائط سماعت کی رپورٹوں میں شائع نہیں ہوئیں، اس لیے یہاں بھی نہیں لکھی جا رہیں۔ البتہ ڈگری کا اثر واضح ہے: معمر رانا اور مہناز پرویز کی شادی عدالت کے حکم سے ختم ہو چکی ہے۔
اشاعت کے وقت تک معمر رانا یا ان کے نمائندوں کی جانب سے ڈگری پر کوئی ردعمل رپورٹ نہیں ہوا۔ ان کا آخری بیان کردہ مؤقف اکتوبر والا ہی ہے: کہ انہوں نے جذباتی حالت میں عدالتی کاغذات پر دستخط کیے، وہ اپنے خاندان سے محبت کرتے ہیں، اور انہیں امید و دعا تھی کہ یہ رشتہ نہ ٹوٹے۔ آیا وہ ڈگری پر کچھ کہیں گے یا کوئی قانونی قدم اٹھائیں گے — اس کہانی کا کھلا حصہ یہی ہے؛ اگر ایسا ہوا تو یہ رپورٹ اپ ڈیٹ کی جائے گی اور اپ ڈیٹ کی نشاندہی کی جائے گی۔ یہ خبر انگریزی میں یہاں پڑھی جا سکتی ہے، شوبز کی مزید خبریں یہاں دیکھیں، یا اردو ہوم پیج پر جائیں۔
تصاویر پر نوٹ: مرکزی تصویر اور دونوں پورٹریٹ تصاویر معمر رانا کی اصل تصاویر ہیں — اور ایک میں جوڑا دکھائی دیتا ہے — جو ڈسکور پاکستان کی عدالتی کارروائی کی رپورٹ کے ساتھ گردش میں آئیں؛ اس صفحے کا لوگو اور متنی پٹی کاٹ دی گئی ہے۔ عدالت والی تصویر لاہور ہائی کورٹ کی عمارت کی وکی میڈیا کامنز فائل فوٹو ہے؛ مقدمہ لاہور کی فیملی کورٹ میں سنا گیا تھا، اور یہ تصویر اس سماعت کی نہیں ہے۔
عدالت نے اداکار معمر رانا کی اہلیہ مہناز پرویز کو خلع کی ڈگری دے دی ہے، جس سے ان کی شادی ختم ہو گئی۔ سماعت کی رپورٹوں کے مطابق جج زاہد بشیر نے مہناز کی وکیل خدیجہ صدیقی کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے ڈگری جاری کی۔ یہ شادی اکتوبر 1998 میں ہوئی تھی اور تقریباً 28 سال قائم رہی۔
رپورٹوں کے مطابق مہناز نے اپنی درخواست میں کہا کہ اداکار شراب نوشی کے عادی ہیں اور نشے کی حالت میں بیٹیوں کے سامنے گالی گلوچ اور بدسلوکی کا نشانہ بناتے تھے، جس کی وجہ سے وہ اب ان کے ساتھ رہنے کو کسی صورت تیار نہیں۔ یہ ان کا درخواست میں بیان کردہ مؤقف ہے، جو اس رپورٹ میں اسی نسبت کے ساتھ لکھا گیا ہے۔
دونوں کی شادی اکتوبر 1998 میں ہوئی تھی، جب معمر رانا اپنے فلمی کیریئر کے عروج پر تھے۔ ان کی دو بیٹیاں ہیں — ریا اور رانیہ — جو اب بڑی ہو چکی ہیں۔
اکتوبر 2026 کے وسط میں ایک انٹرویو میں معمر رانا نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے عدالت کے کچھ کاغذات پر دستخط کیے ہیں، لیکن ساتھ کہا تھا کہ وہ یہ شادی ختم نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے الفاظ تھے: ”میری عزت ہے، میری عزت رہنے دو۔ مجھے زیادہ نہیں بولنا۔ میں بہت پیار کرتا ہوں اپنی فیملی سے۔ میں بس چاہتا ہوں یہ ختم نہ ہو۔“ انہوں نے سلح کی امید بھی ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ اس مشکل وقت میں ان کے والد، بھائی اور بھابی ان کے ساتھ کھڑے ہیں، جبکہ اہلیہ اور بیٹیاں ان کے ساتھ نہیں رہ رہیں۔
خلع شادی کی وہ قانونی تحلیل ہے جو بیوی کی درخواست پر فیملی کورٹ دیتی ہے۔ عدالت دونوں فریقوں کو سنتی ہے، اور جب مطمئن ہو جائے کہ شادی قائم نہیں رہ سکتی تو ڈگری جاری کر کے شادی ختم کر دیتی ہے؛ حق مہر اور دیگر مالی امور کا فیصلہ بھی عدالت اسی ڈگری میں مقدمے کے حقائق کے مطابق کرتی ہے۔ اس مقدمے کی ڈگری کی تفصیلی شرائط سماعت کی رپورٹوں میں شائع نہیں ہوئیں۔
اس رپورٹ کے شائع ہونے تک نہیں۔ ڈگری سے پہلے ان کا آخری عوامی مؤقف یہی تھا کہ انہوں نے جذباتی کیفیت میں عدالتی کاغذات پر دستخط کیے اور وہ دعا کرتے ہیں کہ یہ رشتہ نہ ٹوٹے۔ اگر وہ یا ان کے نمائندے ڈگری پر کچھ کہیں گے تو یہ رپورٹ اپ ڈیٹ کی جائے گی اور اپ ڈیٹ کی نشاندہی کی جائے گی۔