اسلام آباد: پاکستان کے 2.25 ارب ڈالر کے بیٹری منصوبے پر یکم نومبر کو دی فرائیڈے ٹائمز کے تجزیے "پاکستانز بیٹری بیٹ" کے بعد پھر بحث چھڑ گئی ہے — اور سب سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس تاریخ کو کیا نیا ہوا اور کیا نہیں۔ یکم نومبر کو نہ کوئی نئی منظوری ملی ہے، نہ کوئی نئی سرمایہ کاری ہوئی ہے، نہ پیداوار شروع ہوئی ہے۔ اصل خبر 26 اکتوبر کی ہے، جب انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو حمد علی منصور نے عرب نیوز کو بتایا تھا کہ فوجی ملکیت والی مارگلہ ہیوی انڈسٹریز لمیٹڈ نے چینی شراکت داروں اور مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ راولپنڈی ضلع کے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا میں 2.25 ارب ڈالر کا لیتھیم آئن بیٹری پلانٹ لگانے کا معاہدہ کیا ہے۔ عمارت تیار ہے، مشینیں نصب ہیں — اور پیداوار اس پالیسی کی منظوری کی منتظر ہے جو مارچ سے زیر التوا ہے۔
یہ فرق اس خبر کی جان ہے۔ پاکستان آج بیٹریاں جوڑتا ضرور ہے، لیڈ ایسڈ بیٹریاں بناتا بھی ہے، مگر لیتھیم آئن سیل کسی بڑے پیمانے پر نہیں بناتا۔ الیکٹرک گاڑیوں، سولر سسٹموں اور بیک اپ پاور کے لیے سیل اور پیک باہر سے منگوانے پڑتے ہیں۔ ٹیکسلا کا منصوبہ ایک ہی جست میں یہ خلا پُر کرنے کا دعویٰ کرتا ہے: شروع میں سالانہ 200 سے 300 میگاواٹ پیداوار، پھر 1,000 میگاواٹ سے زیادہ۔ مگر یہ دعویٰ تین غیر یقینی چیزوں پر کھڑا ہے — شراکت دار کون ہیں، پالیسی میں کیا مراعات ہوں گی، اور 2030 کی مانگ کا تخمینہ کس حد تک درست نکلے گا۔ اس رپورٹ میں تصدیق شدہ حقائق، تخمینے اور نامعلوم باتیں الگ الگ لکھی جا رہی ہیں، تاکہ قاری سرخی اور صنعت میں فرق کر سکے۔
تصدیق شدہ بنیاد مختصر ہے، اسے بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ مارگلہ ہیوی انڈسٹریز لمیٹڈ نے چینی شراکت داروں اور مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ 2.25 ارب ڈالر کے لیتھیم آئن بیٹری پلانٹ کا معاہدہ کیا ہے، جو جولائی 2026 میں طے پایا تھا۔ چینی شراکت دار کو حمد علی منصور نے صرف "چین کے اعلیٰ درجے کے مینوفیکچررز میں سے ایک" کہا ہے — نام نہیں بتایا۔ مقامی نجی سرمایہ کار کا نام بھی ظاہر نہیں ہوا، اور 2.25 ارب ڈالر میں ہر فریق کا حصہ بھی نہیں بتایا گیا۔ عرب نیوز نے مارگلہ ہیوی انڈسٹریز کے ڈیجیٹل میڈیا کے جنرل منیجر محمد امین سے رابطہ کیا تھا، جو اس وقت تبصرے کے لیے دستیاب نہیں تھے۔
منصور نے تین طبعی حقائق بتائے ہیں جو تمام رپورٹنگ میں دہرائے گئے ہیں۔ پہلا، منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈیز مکمل ہو چکی ہیں۔ دوسرا، فیکٹری کی عمارت تیار ہے اور مشینری نصب ہو چکی ہے۔ تیسرا، پالیسی کی منظوری کے بعد چھ سے آٹھ ماہ میں پیداوار شروع ہو سکتی ہے۔ یہ آخری جملہ سب سے اہم ہے: چھ سے آٹھ ماہ کی گنتی پالیسی کی منظوری سے شروع ہوگی، آج سے نہیں — اور یکم نومبر تک کسی پالیسی کی منظوری کی خبر نہیں آئی۔ اس لیے پلانٹ کو "تیار مگر غیر فعال" کہنا ہی درست ہے، "چلتا ہوا پلانٹ" کہنا غلط ہوگا۔
اس منصوبے کے اعداد دو الگ زمروں میں ہیں: فیکٹری کی اپنی منصوبہ بند گنجائش، اور ملک کی مانگ کا تخمینہ جس پر اس کی توجیہ کھڑی ہے۔ فیکٹری کے اعداد ٹھوس ہیں — شروع میں 200 سے 300 میگاواٹ سالانہ، پھر 1,000 میگاواٹ سے زیادہ۔ مانگ کے اعداد تخمینے ہیں، اور کہیں بڑے ہیں۔ منصور کے مطابق اگر معیشت سالانہ 5 فیصد یا اس سے زیادہ بڑھے تو جون 2030 تک پاکستان میں بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کی مانگ 100,000 میگاواٹ تک پہنچ سکتی ہے۔ اگر شرح نمو 3 فیصد سے کم رہے تو یہ مانگ تقریباً 80,000 میگاواٹ ہوگی۔ اس مانگ کو پورا کرنے کے لیے چار سے پانچ بڑی فیکٹریاں درکار ہوں گی، ہر ایک تقریباً ایک سے سوا ارب ڈالر کی لاگت سے۔
ان دونوں سیٹوں کو ملا کر دیکھیں تو جوئے کی وسعت سمجھ آتی ہے۔ پوری گنجائش پر بھی ٹیکسلا کا پلانٹ 2030 کی متوقع مانگ کا چھوٹا سا حصہ پورا کرے گا — اسی لیے پالیسی میں ایک نہیں، چار فیکٹریوں کا تصور ہے: پنجاب میں لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی ڈویژنوں میں تین، اور ایک کراچی میں۔ ٹیکسلا ان میں پہلی اور سب سے آگے ہے، مگر قومی منصوبہ کسی ایک فیکٹری سے کئی گنا بڑا ہے۔ 2.25 ارب ڈالر کا حجم بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے: پاک وہیلز کے مطابق اگر یہ منصوبہ مکمل ہوا تو یہ پاکستان کی بڑی صنعتی سرمایہ کاریوں میں شمار ہوگا، جو 2019 میں چلنے والے تقریباً 2 ارب ڈالر کے چائنا پاور ہب منصوبے سے بھی بڑا ہوگا۔
مگر مانگ کا تخمینہ خود جانچ کا متقاضی ہے، کیونکہ باقی سب کچھ اسی پر منحصر ہے۔ 100,000 میگاواٹ کی پیش گوئی تین محرکات پر کھڑی ہے: الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت، سولر بجلی کی ترقی، اور گرڈ کے لیے بڑے پیمانے پر اسٹوریج۔ تینوں رجحانات حقیقی ہیں، مگر تینوں پالیسی پر منحصر ہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت آٹو پالیسی اور اس کی ٹیکس مراعات پر منحصر ہے، سولر کی ترقی نیٹ میٹرنگ اور درآمدی ڈیوٹیوں پر، اور گرڈ اسٹوریج اس پر کہ بجلی کا شعبہ واقعی اسٹوریج خریدتا ہے یا صرف اعلان کرتا ہے۔ منصور کی اپنی پیش کش اس حساسیت کو تسلیم کرتی ہے: نمو کم ہوئی تو تخمینہ بھی پانچواں حصہ کم ہو جاتا ہے۔ زیادہ تخمینے کے لیے بنائی گئی چار فیکٹریوں کو کم مانگ والی مارکیٹ میں بالکل مختلف صورت حال کا سامنا ہوگا۔
پاکستان آج تقریباً 3,000 سے 4,000 میگاواٹ کی بیٹریاں جوڑتا ہے، مگر لیتھیم آئن سیل نہیں بناتا — یہ بات پاک وہیلز کے شعبے کے جائزے میں درج ہے۔ لیڈ ایسڈ بیٹریاں ملک میں بنتی ہیں، مگر لیتھیم آئن ایک مختلف صنعت ہے: مختلف کیمسٹری، زیادہ باریک مینوفیکچرنگ، اور لیتھیم، نکل، کوبالٹ، گریفائٹ جیسے خام مال کی سپلائی چین، جو پاکستان آج پیدا نہیں کرتا۔ پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے مرتب کردہ اعداد کے مطابق، جن کا حوالہ تجارتی کوریج میں دیا گیا ہے، جنوری 2025 سے مئی 2026 کے درمیان پاکستان نے تقریباً 5.39 گیگاواٹ گھنٹے کی لیتھیم آئن بیٹریاں درآمد کیں، جن کی مالیت تقریباً 25 کروڑ 69 لاکھ ڈالر تھی۔ یہ سولر اسٹوریج، گھریلو بیک اپ، صنعتی استعمال اور الیکٹرک گاڑیوں پر مشتمل ہے، اور سولر کی ترقی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔
اس کے ساتھ ایک متوازی کوشش بھی چل رہی ہے جس کی حد سمجھنا ضروری ہے۔ پاکستان نے مقامی لیتھیم وسائل کی تلاش تیز کی ہے: آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے کہ منتخب کنوؤں سے لیے گئے 2,000 سے زیادہ زیر زمین پانی کے نمونوں کا تجزیہ کیا جائے۔ ابتدائی پائلٹ مطالعے میں سندھ کے واحد بخش-01 کنویں کے پانی میں لیتھیم کی مقدار 291 ملی گرام فی لیٹر بتائی گئی ہے۔ یہ ابتدائی نتیجہ ہے، ثابت شدہ ذخیرہ نہیں: اس سے یہ طے نہیں ہوتا کہ کتنا لیتھیم تجارتی طور پر نکالا جا سکتا ہے، یا نکالنا معاشی طور پر فائدہ مند ہوگا یا نہیں۔ اور ٹیکسلا کا پلانٹ بہرحال ایک مینوفیکچرنگ منصوبہ ہے، کان کنی کا نہیں — اس کا خام مال شروع میں باہر سے ہی آئے گا، چاہے تلاش کا پروگرام آگے کیا بھی نکالے۔
دو الگ پالیسیاں وقت کی رکاوٹ ہیں، اور انہیں گڈمڈ کرنا آسان ہے۔ پہلی، لیتھیم بیٹری مینوفیکچرنگ پالیسی خود ہے۔ حکومت کی نیشنل لیتھیم آئن بیٹری مینوفیکچرنگ پالیسی 2026 تا 2031 کا مقصد مقامی پیداوار کو سہارا دینا، سرمایہ کاری لانا اور برآمدی صنعت بنانا ہے۔ یہ مارچ 2026 میں وزارت صنعت و پیداوار کو بھیجی گئی تھی، اور تازہ ترین رپورٹوں تک اس کی منظوری زیر التوا تھی۔ اس کے بغیر ٹیکسلا کا پلانٹ ان شرائط پر تجارتی پیداوار شروع نہیں کر سکتا جن کی سرمایہ کار توقع رکھتے ہیں — اور وہ شرائط ابھی شائع ہی نہیں ہوئیں۔ یہ پالیسی باقی تین منصوبہ بند فیکٹریوں کا فریم ورک بھی ہے، اس لیے اس کی تاخیر پورے پروگرام کو روکے ہوئے ہے، صرف ایک پلانٹ کو نہیں۔
دوسری پالیسی آٹو موٹیو اینڈ آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026 تا 2031 ہے، یعنی وسیع آٹو پالیسی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اسے حال ہی میں منظور کیا ہے، مگر اسے ابھی کابینہ، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (ٹیکس مراعات پر) اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری درکار ہے۔ آئی ایم ایف کا نکتہ رسمی نہیں: الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کے لیے ٹیکس مراعات کے محصولات پر اثرات ہوں گے، اور فنڈ کا مؤقف طے کرے گا کہ حتمی پالیسی کیا دے سکتی ہے۔ بیٹری پلانٹ کے لیے آٹو پالیسی اس لیے اہم ہے کہ الیکٹرک گاڑیاں اس کی دو بڑی منڈیوں میں سے ایک ہیں، دوسری انرجی اسٹوریج ہے۔ جس مارکیٹ کے قواعد ابھی لکھے جا رہے ہوں، اس کے لیے فیکٹری بنانا ہی اصل جوا ہے۔
یہ ترتیب — پہلے عمارت، پھر پالیسی — غیر معمولی ہے، اور فرائیڈے ٹائمز کے "جوئے" والے فریم کی اصل وجہ بھی یہی ہے۔ عام طور پر سرمایہ کار مراعات کا فریم ورک دیکھ کر 2.25 ارب ڈالر لگاتا ہے۔ یہاں عمارت اور مشینری پہلے موجود ہے، جس سے لگتا ہے کہ سرمایہ کاروں کو پالیسی کی آمد کا یقین ہے، یا منصوبہ کم مراعات پر بھی چل سکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں حکومت پر اب ایک مختلف دباؤ ہے: ایک تیار، نمایاں فیکٹری اس کے دستخط کی منتظر ہے۔ تاخیر منصوبے کا وقت کھاتی ہے، اور جلد بازی میں بنائی گئی پالیسی یا تو خزانے کو زیادہ مراعات دے کر نقصان پہنچائے گی، یا صنعت کو مقابلے سے محروم کر دے گی۔ اس لیے اگلی پالیسی کا اعلان بھی اتنی ہی توجہ سے پڑھا جائے گا جتنی توجہ سے اصل سرمایہ کاری کا اعلان پڑھا گیا تھا۔
اس پلانٹ کے بارے میں سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال وہی ہے جس کا جواب سب سے کم یقینی ہے: کیا پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں سستی ہوں گی؟ ایماندارانہ جواب یہ ہے کہ ممکن ہے، آہستہ آہستہ — مگر رپورٹنگ میں قیمت میں کمی کا کوئی وعدہ یا شیڈول نہیں ہے۔ منطق سیدھی ہے: بیٹری الیکٹرک گاڑی کا سب سے مہنگا جزو ہے، اور پاکستان آج درآمد شدہ سیل اور پیک پر منحصر ہے، جو ہر مرحلے پر لاگت بڑھاتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر مقامی پیداوار سے لاجسٹکس کی لاگت، تیار پیک پر ڈیوٹی اور کرنسی کا خطرہ کم ہونا چاہیے۔ یہی ہر ملک کی بیٹری صنعتی پالیسی کی بنیاد ہے۔
مگر عمل سست ہے۔ پاک وہیلز نے اسی اعلان کا جائزہ لیتے ہوئے نوٹ کیا کہ پاکستان میں اب تک فروخت کے لیے مقامی طور پر جوڑی گئی واحد مسافر الیکٹرک گاڑی ہونری ہے، جس کی قیمت 36 لاکھ روپے ہے — یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ الیکٹرک کاریں عام آدمی کی پہنچ میں آنے سے کتنی دور ہیں۔ سیل کا پلانٹ اکیلا یہ قیمت نہیں گھٹاتا: سیل کو پیک میں، پیک کو گاڑی میں ڈھالنا ہے، اور گاڑی کو چارجنگ انفرااسٹرکچر، فنانسنگ اور بعد از فروخت نیٹ ورک چاہیے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ مارگلہ ہیوی انڈسٹریز پہلے کس شعبے کو سپلائی کرے گی — رپورٹنگ میں اس کا اعلان نہیں ہوا، اور اس خبر میں اندازہ نہیں لگایا جا رہا۔ پہلے گاہک سولر اور گرڈ اسٹوریج کے خریدار بھی ہو سکتے ہیں، جہاں مانگ درآمدی اعداد میں پہلے سے نظر آ رہی ہے۔
جلد جو چیز بدلے گی وہ سپلائی کا رخ ہے۔ مقامی سیل کا ذریعہ سولر اور بیک اپ سسٹموں کے لیے درآمد شدہ پیک پر انحصار کم کرے گا، صنعتی روزگار اور تکنیکی مہارت پیدا کرے گا جو آج باہر سے خریدی جاتی ہے، اور حکومت کو اسٹوریج کے عزائم کے لیے ایک مقامی ستون دے گا۔ اس لحاظ سے پلانٹ کی اسٹریٹجک قدر پہلے سال میں گاڑیوں کی قیمت گرنے پر منحصر نہیں — بلکہ اس پر منحصر ہے کہ کیا پاکستان پہلی سیل فیکٹری کے گرد باقی ماحولیاتی نظام — پیک اسمبلی، ری سائیکلنگ، ٹیسٹنگ، ہنر مند افرادی قوت — بناتا ہے، یا فیکٹری ایک جزیرہ بن کر رہ جاتی ہے۔
عوامی ریکارڈ میں پانچ سوالات ابھی جواب طلب ہیں، اور ہر ایک جائزے کو بدل سکتا ہے۔ پہلا، سرمایہ کار کون ہیں؟ چینی شراکت دار کو صرف "اعلیٰ درجے کا مینوفیکچرر" کہا گیا ہے، مقامی سرمایہ کار کا نام نہیں — ناموں کے بغیر ٹیکنالوجی کی منتقلی، شراکت داروں کا ریکارڈ، یا 2.25 ارب ڈالر کی تقسیم کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ دوسرا، بیٹری پالیسی میں اصل میں کیا ہوگا؟ ٹیرف، ٹیکس چھوٹ، مقامی مواد کی شرط اور برآمدی ذمہ داریاں طے کریں گی کہ پلانٹ لاگت پر مقابلہ کرے گا یا تحفظ پر زندہ رہے گا — اور ان میں سے کوئی تفصیل ابھی عام نہیں۔
تیسرا، خام مال کہاں سے آئے گا اور کس قیمت پر؟ لیتھیم آئن سیل کی تیاری عالمی اجناس کی قیمتوں کی یرغمال ہے۔ چوتھا، خریدار کون ہوگا؟ رپورٹنگ میں کوئی آف ٹیک معاہدہ، کوئی اینکر گاہک، کوئی برآمدی کنٹریکٹ درج نہیں۔ 1,000 میگاواٹ کی فیکٹری کو سرخیوں سے پہلے خریدار چاہیے۔ پانچواں، اگر مانگ کا تخمینہ غلط نکلا تو کیا ہوگا؟ 100,000 میگاواٹ کا اعداد مسلسل تیز نمو اور تیز الیکٹرک گاڑی و سولر اپنانے پر منحصر ہے۔ اگر نمو 3 فیصد سے کم رہے تو تخمینہ خود 80,000 میگاواٹ رہ جاتا ہے — پھر بھی بڑا، مگر چار فیکٹریوں کے پروگرام کے لیے مختلف مارکیٹ۔ ان میں سے کوئی سوال منصوبے کو ناکام نہیں بناتا، مگر یہ وہ عام نامعلوم باتیں ہیں جو کسی بڑی صنعتی سرمایہ کاری کے اعلان کے مرحلے پر ہوتی ہیں — اور انہیں یہاں اسی لیے درج کیا جا رہا ہے کہ ہفتے کی کوریج میں کبھی کبھی 2.25 ارب ڈالر کو یوں پیش کیا گیا جیسے وہ پہلے سے چلتی ہوئی صنعت ہو۔ وہ نہیں ہے۔ وہ ایک معاہدہ، ایک عمارت اور تخمینوں کا مجموعہ ہے، پالیسی کا منتظر۔ سرخی اور صنعت میں یہی فرق ہے۔
چار پیش رفت بتائیں گی کہ جوا فائدہ دے رہا ہے یا نہیں۔ پہلی، بیٹری مینوفیکچرنگ پالیسی کی منظوری، اس کی مراعات کی ساخت، اور یہ کہ وہ چاروں منصوبہ بند فیکٹریوں پر محیط ہے یا صرف پہلی پر۔ دوسری، شراکت داروں کے نام اور سرمایہ کاری کی ساخت کا انکشاف — جس لمحے منصوبہ گمنام 2.25 ارب ڈالر سے ایک قابل تصدیق جوائنٹ وینچر بن جائے گا۔ تیسری، آٹو پالیسی کا کابینہ، آئی ایم ایف اور اقتصادی رابطہ کمیٹی سے گزرنا، جو اس الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ کے قواعد طے کرے گی جس کی پلانٹ خدمت کرنا چاہتا ہے۔ چوتھی، پیداوار کی گھڑی: پالیسی کی منظوری کے بعد منصور کے بتائے ہوئے چھ سے آٹھ ماہ کا وقفہ شروع ہوگا، اور پہلی تجارتی پیداوار — اس کا حجم، اس کے گاہک اور اس کی قیمت — تخمینوں کے خلاف پہلا ٹھوس ثبوت ہوگی۔
خلاصہ یہ ہے: پاکستان کے پاس بیٹری فیکٹری کی تیار عمارت ہے، نصب شدہ مشینری ہے، گمنام شراکت داروں کے ساتھ 2.25 ارب ڈالر کا دستخط شدہ معاہدہ ہے، اور مانگ کا ایک تخمینہ ہے جو نمو برقرار رہنے پر کئی ایسی فیکٹریوں کی توجیہ کرتا ہے۔ اس کے پاس ابھی بیٹری پالیسی نہیں ہے، پیداوار کی شروعات کی تاریخ نہیں ہے، اور تجارتی پیداوار میں ایک بھی مقامی طور پر بنا ہوا لیتھیم آئن سیل نہیں ہے۔ فرائیڈے ٹائمز کا اسے "جوا" کہنا درست ہے۔ داؤ قومی ہے — توانائی کی خود مختاری، صنعتی صلاحیت اور الیکٹرک گاڑیوں کی سستی — اور نتیجہ سرخی کے حجم سے کم، اس پالیسی، ان شراکت داروں اور اس مارکیٹ سے زیادہ طے ہوگا جو اس کے بعد آئیں گے۔ تازہ پلس اس خبر کو اس وقت اپ ڈیٹ کرے گا جب بیٹری پالیسی منظور ہوگی، جب شراکت داروں کے نام ظاہر ہوں گے، یا جب پیداوار شروع ہوگی۔
یہ راولپنڈی ضلع کے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا میں لگنے والا لیتھیم آئن بیٹری مینوفیکچرنگ پلانٹ ہے، جسے فوجی ملکیت والی مارگلہ ہیوی انڈسٹریز لمیٹڈ چینی شراکت داروں اور ایک مقامی نجی سرمایہ کار کے ساتھ لگا رہی ہے۔ 2.25 ارب ڈالر کا معاہدہ جولائی 2026 میں طے پایا تھا اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو حمد علی منصور نے اس کا انکشاف 26 اکتوبر 2026 کو کیا تھا۔ یہ پاکستان کا پہلا بڑا لیتھیم آئن سیل پلانٹ ہوگا۔
ابھی نہیں۔ منصور کے مطابق عمارت تیار ہے، مشینری نصب ہے، اور فزیبلٹی اسٹڈیز مکمل ہیں — مگر تجارتی پیداوار لیتھیم بیٹری مینوفیکچرنگ پالیسی کی منظوری کے چھ سے آٹھ ماہ بعد شروع ہو سکتی ہے۔ یہ پالیسی مارچ 2026 میں وزارت صنعت و پیداوار کو بھیجی گئی تھی اور تازہ ترین رپورٹوں تک اس کی منظوری زیر التوا تھی۔ یکم نومبر 2026 تک نہ منظوری کی خبر ہے، نہ پیداوار کی شروعات کی۔
شروع میں سالانہ تقریباً 200 سے 300 میگاواٹ، پھر منصوبہ بند سالانہ گنجائش 1,000 میگاواٹ سے زیادہ۔ یہ منصوبہ بند پیداوار ہے، نصب شدہ یا چلتی ہوئی گنجائش نہیں — اور کوریج میں یہ اعداد میگاواٹ میں ہی رپورٹ ہوئے ہیں۔
ان کے نام عام نہیں کیے گئے۔ منصور نے چینی شراکت دار کو صرف "چین کے اعلیٰ درجے کے مینوفیکچررز میں سے ایک" کہا ہے، مقامی نجی سرمایہ کار کا نام بھی نہیں بتایا، اور 2.25 ارب ڈالر کی تقسیم بھی ظاہر نہیں کی۔ عرب نیوز کی رپورٹ کے وقت مارگلہ ہیوی انڈسٹریز کے ڈیجیٹل میڈیا کے جنرل منیجر تبصرے کے لیے دستیاب نہیں تھے۔
دو۔ نیشنل لیتھیم آئن بیٹری مینوفیکچرنگ پالیسی 2026 تا 2031، جو اس پلانٹ اور لاہور، فیصل آباد اور کراچی میں تین مزید منصوبہ بند فیکٹریوں کا فریم ورک ہوگی، مارچ 2026 سے زیر التوا ہے۔ دوسری، آٹو موٹیو اینڈ آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026 تا 2031، جسے وزیراعظم شہباز شریف نے منظور کیا ہے، مگر اسے ابھی کابینہ، آئی ایم ایف (ٹیکس مراعات پر) اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری درکار ہے۔
ممکن ہے، آہستہ آہستہ — مگر قیمت میں کمی کا کوئی وعدہ یا شیڈول رپورٹنگ میں نہیں ہے۔ بیٹری گاڑی کا سب سے مہنگا جزو ہے، اس لیے مقامی سیل پیداوار سے درآمد اور لاجسٹکس کی لاگت کم ہونی چاہیے، مگر سیل کو پیک اور گاڑی میں ڈھالنا، چارجنگ انفرااسٹرکچر اور فنانسنگ بھی درکار ہے۔ پاک وہیلز کے مطابق اب تک فروخت کے لیے مقامی طور پر جوڑی گئی واحد مسافر الیکٹرک گاڑی ہونری ہے، جس کی قیمت 36 لاکھ روپے ہے — اس لیے پلانٹ کے پہلے گاہک سولر اور گرڈ اسٹوریج کے خریدار بھی ہو سکتے ہیں۔
انگریزی میں مکمل رپورٹ | ایل پی جی ہڑتال (اردو) | معیشت کی مزید خبریں | اردو ہوم پیج